Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

داڑھی کا شرعی حکم: قرآن و سنت اور ائمہ اربعہ کی روشنی میں|فردان رضا حامدی

داڑھی کا شرعی حکم: قرآن و سنت اور ائمہ اربعہ کی روشنی میں
عنوان: داڑھی کا شرعی حکم: قرآن و سنت اور ائمہ اربعہ کی روشنی میں
تحریر: فردان رضا حامدی

اسلام ایک کامل و جامع دین ہے جو زندگی کے ہر شعبے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ دین صرف عبادات کا نام نہیں، بلکہ ظاہر و باطن دونوں کی اصلاح کا مجموعہ ہے۔ انہی ظاہری حسن میں سے ایک عظیم حسن داڑھی ہے، جو نبی کریم ﷺ، انبیاء کرام علیہم السلام، صحابۂ عظام اور اولیاءِ امت کی پہچان رہی ہے۔ افسوس کہ آج کے دور میں کچھ لوگ اس مسئلے کو معمولی سمجھتے ہیں، حالانکہ فقہاء کرام نے اس پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔

داڑھی کا مفہوم

لغوی معنی: عربی میں داڑھی کے لیے لفظ "لحیہ" استعمال ہوتا ہے، جس کا معنی ہے ٹھوڑی اور گالوں پر اگنے والے بال۔
اصطلاحی معنی: فقہی اعتبار سے داڑھی وہ بال ہیں جو ٹھوڑی اور گالوں پر اگتے ہیں، جنہیں شریعت نے بڑھانے کا حکم دیا ہے۔

قرآنی استنباط

قرآنِ کریم میں حضرت ہارون علیہ السلام کے واقعے (سورہ طہٰ: 94) میں داڑھی پکڑنے کا ذکر ہے، جس سے اشارۃً ثابت ہوتا ہے کہ ان کی داڑھی ہاتھ سے پکڑی جا سکتی تھی، جو تب ہی ممکن ہے جب وہ کم از کم ایک مشت ہو۔ نیز سورہ اسراء اور سورہ تغابن کے تحت مفسرین نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو داڑھی سے زینت بخشی ہے۔

احادیثِ نبویہ

رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "مونچھیں کترواؤ، داڑھیاں بڑھنے دو اور مجوسیوں کی مخالفت کرو!" [مسلم شریف]۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں بخاری شریف میں ہے کہ آپ حج یا عمرہ کے وقت داڑھی کو مٹھی میں پکڑ کر زائد بالوں کو کاٹ دیا کرتے تھے۔ احادیث سے ثابت ہے کہ داڑھی کی شرعی مقدار ایک مشت ہے۔

ائمہ اربعہ کا موقف

  • مذہبِ شافعی: داڑھی بڑھانا اسلامی طریقہ ہے، اسے کاٹنا مکروہ ہے۔ جمہور کے نزدیک اسے حال پر چھوڑ دینا اولیٰ ہے۔
  • مذہبِ مالکی: داڑھی بڑھانا اور حد سے بڑھی ہوئی (ایک مشت سے زائد) کو کاٹنا زینت ہے۔ داڑھی مونڈنا حرام ہے۔
  • مذہبِ حنبلی: داڑھی بڑھانے کا حکم ہے، اس لیے افضل یہی ہے کہ نہ کاٹی جائے، ہاں ایک مشت سے زائد ہو تو کاٹنے میں حرج نہیں۔
  • مذہبِ حنفی: امام اعظم ابوحنیفہؒ اور فقہائے احناف کے نزدیک داڑھی کو ایک مُٹّھی رکھنا واجب ہے۔ ایک مشت سے کم کرنا کسی کے نزدیک جائز نہیں اور یہ عمل مکروہِ تحریمی ہے۔

خلاصہ

تمام دلائل، احادیثِ نبویہ، اقوالِ صحابہ اور فقہاءِ کرام کی آراء سامنے رکھنے کے بعد خلاصہ یہ ہے کہ داڑھی کو ایک مُٹّھی رکھنا واجب ہے۔ یہ حکم محض فقہی مسئلہ نہیں، بلکہ سنتِ رسول ﷺ اور مسلمان کی ظاہری پہچان ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سنتِ رسول ﷺ کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!