| عنوان: | نکاح کب سنت، واجب، فرض، مکروہ اور حرام ہوتا ہے؟ |
|---|---|
| تحریر: | محمد عارف رضا قادری امجدی |
| پیش کش: | جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی |
رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اَلنِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِیْ فَمَنْ لَمْ یَعْمَلْ بِسُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ یعنی نکاح میری سنّت ہے تو جس نے میری سنّت پر عمل نہ کیا وہ مجھ سے نہیں۔ حکیم الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ اس طرح کی احادیث کی وضاحت میں فرماتے ہیں: "یعنی ہماری جماعت سے یا ہمارے طریقہ والوں سے یا ہمارے پیاروں سے نہیں یا ہم اس سے بیزار ہیں، وہ ہمارے مقبول لوگوں میں سے نہیں، یہ مطلب نہیں کہ وہ ہماری اُمت یا ہماری ملت سے نہیں کیونکہ گناہ سے انسان کافر نہیں ہوتا۔"
شادی کب ہونی چاہیے؟
لڑکے یا لڑکی کی شادی کس عمر میں ہوجانی چاہیے؟ اس کا انحصار ہمارے معاشرے میں فیملی بیک گراؤنڈ، سوشل اسٹیٹس، ایجوکیشن، معاشی حالات، رسم و رواج اور مختلف نظریات پر ہوتا ہے۔ اس لیے اس سوال کے آپ کو طرح طرح کے جوابات ملیں گے۔ اسلامی نقطۂ نظر یہ ہے کہ ہمیں اپنی رائے کو فوقیت دینے کے بجائے اسلامی احکامات کو ترجیح دینی چاہیے۔
چنانچہ نکاح کرنا کبھی فرض، کبھی واجب، کبھی سنت مؤکدہ، کبھی مکروہ اور بعض اوقات حرام بھی ہوتا ہے۔ اسلامی احکامات کی مستند کتاب ”بہارِ شریعت“ (جلد 2، صفحہ 4-5) پر صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
سُنّتِ مؤکدہ: اعتدال کی حالت میں (یعنی نہ شہوت کا بہت زیادہ غلبہ ہو نہ عِنین ہو) اور مَہر و نفقہ پر قدرت بھی ہو تو نکاح ”سُنّتِ مؤکدہ“ ہے۔ اس پر اَڑا رہنا گناہ ہے۔ اگر حرام سے بچنا یا اتباعِ سُنّت و تعمیلِ حکم یا اولاد حاصل ہونا مقصود ہے تو ثواب پائے گا، اور اگر محض لذّت یا قضائے شہوت منظور ہو تو ثواب نہیں۔
واجب: شہوت کا اتنا غلبہ ہو کہ نکاح نہ کرے تو اندیشۂ زنا ہے اور مہر و نفقہ کی قدرت رکھتا ہو، یا اجنبی عورت کی طرف نگاہ اُٹھنے سے خود کو روک نہ سکتا ہو یا معاذ اللہ ہاتھ سے کام لینا پڑے گا تو نکاح ”واجب“ ہے۔
فرض: یہ یقین ہو کہ نکاح نہ کرنے میں زنا واقع ہو جائے گا تو نکاح ”فرض“ ہے۔
مکروہ: اگر یہ اندیشہ ہے کہ نکاح کریگا تو نان نفقہ نہ دے سکے گا یا ضروری حقوق پورا نہ کرسکے گا تو نکاح ”مکروہ“ ہے۔
حرام: اگر ان باتوں (نان نفقہ نہ دے سکنے) کا یقین ہو تو نکاح کرنا ”حرام“ ہے، اگرچہ اس صورت میں بھی نکاح شرعاً ہو جائے گا۔
معلوم ہوا کہ نکاح کا حکم سب کے لیے ایک نہیں ہے، اور غور طلب بات یہ ہے کہ خاندان کے بڑے اکثر کیفیت و حالت پر غور کیے بغیر خود ہی فیصلہ کر لیتے ہیں، حالانکہ لڑکا یا لڑکی اپنی کیفیت بہتر جانتے ہیں۔
شادی کے لیے ضروری امور
اسلامی احکامات سے پتا چلتا ہے کہ شادی کے لیے لڑکے کو کم از کم تین چیزیں پوری کرنی ہیں:
- حق مہر: کم از کم مقدار دس درہم (تقریباً 30 گرام 618 ملی گرام چاندی) ہے۔ اس سے زیادہ جتنا چاہیں رکھ سکتے ہیں۔
- نان و نفقہ: اس میں کھانا، رہائش، موسم کے اعتبار سے سال میں دو جوڑے کپڑے، برتن، بستر اور ضروری سامان شامل ہے۔
- بیوی کے حقوق: اس میں بستر کا حق، حسنِ سلوک، محارم سے ملنے کی اجازت، بیمار پرسی، ضروری سامانِ آرائش اور مرد کا خود صاف ستھرا رہنا شامل ہے۔
والدین اور سرپرستوں کے لیے مشورہ
والدین یا فیملی کے بڑوں سے درخواست ہے کہ اپنے متعلقین میں نگاہ دوڑائیں، جن کی شادی میں تاخیر ہوتی دکھائی دے ان میں کچھ ایسے بھی ہوں گے جو اپنے دل کی بات نہیں کہہ پا رہے۔ کوشش کر کے ان کی جلد شادی کروائیے۔ اس کے فائدے ہیں کہ اچھے رشتے ہاتھ سے نکلنے کا رنج نہیں رہتا اور اولاد وقت پر اپنی نئی زندگی شروع کر سکتی ہے۔
دعا: اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگی قرآنِ کریم اور سنتِ رسول ﷺ کے مطابق گزارنے، اپنے احکام پر عمل کرنے، گناہوں سے بچنے اور ہر معاملے میں شریعتِ مطہرہ کی پیروی کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین بجاہِ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔
