Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ہم بہترین امت کیوں؟

موضوع: ہم بہترین امت کیوں؟
عنوان: موضوع: ہم بہترین امت کیوں؟
تحریر: محمد جمال الدین عطاری
پیش کش: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ عطار، نیپال گنج

اللہ پاک کا لاکھ لاکھ فضل عظیم ہے کہ اس نے ہمیں اسلام جیسی نعمت سے نوازا اور مسلمان بنایا اور نعمت بالائے نعمت یہ کہ اس نے اپنے سب سے پیارے محبوب حبیب لبیب نبی آخری الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی امتی بنایاجن کو اللہ پاک نے بے شمار فضائل و کمالات اور نعمت و انعامات سے نوازا ہے۔

اس بات پر شاہد حضرت موسی علیہ السلام کا واقعہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے تورات میں پڑھا کہ ایک امتی ہوگی جن کی یہ یہ فضائل و کمالات ہیں اور ہر فضیلت کے بعد آپ علیہ السلام نے بارگاہ جل و علا میں عرض کیا کہ اےاللہ پاک! میں تورات میں ایک امت کی یہ فضیلت پاتا ہوں اس کو میری امت بنادے تو اللہ پاک نےآپ علیہ السلام سے ہر باریہی فرمایا : تلک أمۃ أحمد،اے موسی!(علیہ السلام)یہ میرے پیارے حبیب کی امتی ہے پھر اس کے بعد موسی علیہ السلام نے عرض کیا:اے اللہ پاک پھر تومجھے ان کی امتی میں ہی شامل فرمادے۔

اس واقعہ سے منور و متبین ہے کہ اللہ پاک نے ہمیں کیسی کیسی عظیم نعمت و کمالات سے نوازا ہےکہ جس کی امتی ہونے کے خواہاں حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام ہیں کہ جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے کلام کرنے کا شرف حاصل کیا۔ لیکن مقام غور و تدبر تو یہ ہےکہ جب ہم اپنے گریبان میں عمیق نظری سے غوروغوض کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات واضح طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ ہم تو اس نعمت و کمالات کے لائق ومستحق نہیں۔

لہذا ہمیں اس بات کو جاننے کی ضرورت ہے کہ اتنی انعامات و اعزازات کس وجہ ہے حاصل ہے؟؟؟ اور کن تدابیر کو اپنانے سے ہم ان انعام و کمالات کے مستحق ہوسکتے ہیں ؟ اور ہمیں اس کے لیے کیا کیاکرنا ہوگی ؟

اب تفصیلا مذکورہ سوالات پر روشنی ڈالی جاتی ہے:
(1) انعامات و اعزازات و کمالات حاصل ہونے کی وجہ؟؟
چلے اس بات کو جانتے ہیں کہ ہمیں اس اعزاز و اکرام سے کس بنا پر نوازا گیا؟تو جب ہم قرآن سے پوچھتے ہیں تو خود قرآن مجید ہمیں اس بات کی طرف رہنمائی کرتاہے کہ:

كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِؕ ۔(سورہ آل عمران:110)

ترجمہ کنز الایمان: تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پاک پر ایمان رکھتے ہو۔

اس آیت کریمہ میں غور وخوض کے بعد یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جن وجوہ کی بنیاد پر ہمیں ان انعام و اکرام سے نوازا گیاہے وہ تین ہیں:

  • نیکی کی دعوت دینا۔
  • برائی سے منع کرنا ۔
  • اللہ پاک پر ایمان رکھنا ۔

اب ہم اپنے اندر غور و فکر کریں کہ کیا یہ تینوں چیزیں ہمارے اندر موجود ہیں؟ اگر ہے تو اللہ پاک کا شکر ادا کریں اور اسی پر قائم و دائم رہنے کی سعی کریں اور اگر نہیں ہے تو اپنے اندر ان باتوں کو لازمی شامل کرنے کی ابھی سے کوشش میں لگ جائیں اور اپنے اندر اس کو جلد از جلد شامل کرلیں۔

1 . نیکی کی دعوت دینا:
اللہ پاک نے اپنے مخلوق کی اصلاح کرنے اور اس کو راہ راست دیکھانے کےلیے اپنے برگزیدہ بندوں کو مبعوث فرمایا کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام کو اپنے مخلوق کی اصلاح کے خاطر مبعوث فرمایا اور آخرمیں ہمارے پیارے نبی آخری نبی حضور احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرماکر سلسلۂ نبوۃ کو موقوف فرمادیاکہ اب کوئی نیانبی نہیں آسکتا،کیوں کہ آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :"أنا خاتم النبیین لا نبی بعدی" تو لہذا اب مخلوق کی اصلاح کے لیے کوئی نبی نہیں آئیگا۔

تو اب یہ امر بالمعروف و نھی عن المنکر کاعظیم منصب امت محمدیہ کے ذمے میں آیا۔

لہذا ہر انسان پر امت محمدیہ میں ہونے کا یہ ضروری تقاضاہے کہ جس کونیکی دعوت دے سکتا ہےانہیں نیکی کی دعوت دے اور جنہیں برائی سے منع کرسکتا انہیں ضرور منع کرے۔کیونکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاہے:کہ جب تم کسی کوبرائی کرتے دیکھو تو اس کو زبان سے روکو، اگر اس کی طاقت نہیں رکھتے تو ہاتھ سے روکو اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں رکھتے تو دل میں برا جانو۔

لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم نیکی کی دعوت دیں، لوگوں کو اللہ پاک کی عبادت کی طرف بلائیں۔ ویسےہرانسان پر اس کے منصب کے مطابق نیکی کی دعوت دینا ضروری ہے۔حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے ہرایک سے اس کے ذمہ داری اور ماتحتوں کے متعلق سوال کیا جائےگا۔ لہذا والدین سے ان کے اولاد کے متعلق سوال کیا جائےگا اور شوہر سے اس کی بیوی کے متعلق اور مؤجر سے مستأجر کے متعلق اور استاد سے اس کے شاگردوں کے متعلق اور دوست سے اس کے دوستوں کے متعلق پوچھا جائےگا،الغرض ہر ذمہ دارسے اس کی ذمہ داری کے متعلق پوچھاجائےگا۔

اب اگر ہم نیکی کی دعوت دینا چھوڑدیں گے توکل قیامت کے دن ہم سےبھی حساب لیاجائےگا کہ تم نے اپنے ماتحتوں کو طاقت و استطاعت کے باوجود نیکی کا حکم کیوں نہیں دیا اور برائی سے کیوں نہیں منع کیا؟تو کوئی جواب نہیں بن پڑےگا۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم نیکی کی دعوت کو خوب عام کریں اور اس صفت عظمیٰ کو اپنے اندر شامل کرلیں۔

2. برائی سے منع کرنا:
سابق جملہ سے یہ بات واضح و روشن ہو جاتی ہےکہ جس طرح نیکی کی دعوت دینا ضروری ہے اسی طرح برائی سے منع کرنا بھی ضروری ہے،کیوں کہ اگر ہم برائی سے منع نہیں کریں گے تو اس کا وبال ہم پر بھی آئےگا کیوں کہ ہم نے قدرت کے باوجود بھی برائی سے منع نہیں کیا۔ تو جہاں ہم پر نیکی کا حکم دینا ضروری ہے وہیں برائی سے منع کرنا بھی اہم و ضروری ہے۔

3. اللہ پاک پر ایمان لانا:
اللہ پاک کے مخلوق کی دو قسم ہیں:
1. وہ شخص ہےجو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس کے نازل کردہ تمام احکامات و ممنوعات پر ایمان لائے نیز اس کے تمام انبیائے کرام پر ایمان لائے。
2. وہ جو ان سب باتوں پر ایمان نہ رکھتا ہو یا ان میں سے کسی ایک پر ایمان نہ رکھتا ہو۔

بہترین امت کی جو تیسیری صفت بیان کی گئی وہ ہے اللہ اس کے رسول اور اس کے نازل کردہ تمام چیزوں پر صدق دل سے ایمان لانا اور یہ سب سے اہم ہے،کیوں کہ جو شخص مسلمان نہیں، اس کا نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا بھی کچھ کام کانہیں۔ لہذا بہترین امت میں وہی شخص داخل ہوسکتا ہے جو ایمان والا ہو۔

(1) ہم بہترین امت ہیں ہمیں کیساہوناچاہیے؟
(2) کن تدابیر کو اپنانے سے ہم ان انعام و کمالات کے مستحق ہوسکتے ہیں ؟
(3) اور ہمیں اس کے لیے کیا کیاکرنا ہوگی ؟

اب آییے ان امور پر روشنی ڈالی جاتی ہے:
دنیا کا اصول ہے کہ جب کوئی بندہ فیمس و مشہور ہو اور بہتر و اعلی ہو تو لوگ اس کی نقل کرنا شروع کردیتےہیں یہاں تک کہ وہ کیا سب کرتاہے اور کیا نہیں کرتا،اس کو اختیار کرنے کی کوشش کرتےہیں۔ جو اس کو پسند ہوتا ہے وہ لوگوں کا بھی پسند بن جاتا ہےاور جو اس کا ناپسند ہوتاہے وہ لوگوں کا بھی ناپسند بن جاتاہے۔

اب غور کرنا ہمیں ہےکہ اللہ پاک نے ہمیں سب سے بہتر و اعلی بنایاتوہماری عادت و اطوار ایسی ہونی چاہیےکہ غیر ہماری نقل کرے ہمارا اخلاق ایسا ہونا چاہیے کہ غیر دیکھ کر ہم جیسا بننا چاہے، ہمارا کردار ایسا ہونا چاہیے کہ غیر دیکھ کر اش اش کراٹھے اور کہنے پر مجبور ہوجایےکہ یہ کس دین سے تعلق رکھتا ہے کتنا پیارا دین ہے جس سے یہ تعلق رکھتا ہے۔

لیکن آہ افسوس!آج ہماری حالت الٹ ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ غیر ہماری نقل کرے لیکن آج ہم غیروں کی نقل کرنے لگے ہیں ہمارا کھانا پینا غیروں کی طرح ہوگیا ہے کپڑا خریدنے پہننے میں غیروں کی نقالی وغیرہ الغرض ہماری پوری زندگی غیروں کی طرح ہوگیا ہے۔ ہمیں چاہتے تھا کہ ہماری رغبت قرآن سیکھنے میں زیادہ ہو لیکن آج ہماری رغبت غیروں کا علم سیکھنے میں زیادہ ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہماری زندگی کا آئیڈیل ہمارے آقا مکی مدنی مصطفی صلی اللہ علیہ و اله وسلم ہو جس طرح نبی پاک نے اپنی پوری زندگی گزاری اسی طرح ہمیں گزارنا تھا لیکن آج ہمارا آئیڈیل غیر ہے اور ہم اس کی طرح زندگی گزر بسر کررہے ہیں اللہ پاک کی نافرمانیاں کرتے ہوئے زندگی گزار رہےہیں۔

پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی کامل مومن اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ مجھ سے اپنی جان، اپنےماں ،باپ اور تمام لوگوں سے زیادہ محبت نہ کرے۔ پتا یہ چلا کہ جب تک ہم نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ محبت نہ کریں گے اس وقت تک ہم کامل مومن نہیں ہوسکتے۔

اب ہم غور کریں کیا صرف محبت کا دعوی کرنے سے محبت ہوتی ہے یا اس کا عملی مظاہرہ بھی کرنا ہوتا ہے۔دنیا میں بھی جب کوئی کسی سے محبت کرتا ہے تو وہ ہر اس کام سے بچتا ہے جو اس کے محبوب کو ناپسند ہو اور ہر وہ کام کرتا ہے جس سے محبوب کو خوشی حاصل ہو۔ اب غور ہمیں کرنا ہے کہ کیا ہم صرف محبت کا دعوی کرتے ہیں یا حقیقی محبت کرتے ہیں؟

نبی پاک نے فرمایا:نماز میری آںکھوں کی ٹھنڈک ہے تو کیا ہم نماز پڑھ کر نبی پاک کو ٹھنڈک پہنچاتے ہیں یا نہ پڑھ کرایذا دیتے ہیں،نبی پاک نے فرمایا: علم دین حاصل کرو ماں کے گود سے لےکر قبر تک تو کیا ہم نے علم دین سیکھنے کی کوشش کی ہےیا اپنا وقت کو دوسری چیزوں میں ضائع کیاہے۔نبی پاک فرماتے ہیں:اللہ پاک جب کسی کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کو دین کی سمجھ عطا فرمادیتا ہے۔اپنی ضرورت کے مسائل کا جاننا ہم سب پر فرض ہےجس وقت جس چیز کی ضرورت ہو اس کاعلم کرنا فرض ہے علی حسب الحالت۔نبی پاک نے فرمایا: اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرو تو ہم اس پر عمل پیرا ہوتےہیں یا نہیں؟ آج کل اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جب لڑکا بڑا ہوجائے اور والدین بوڑھا تو وہ بچہ اپنے والدین کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگتا ہے پیارے نبی نے فرمایا:کہ جنت تمہاری ماں کے قدموں کے نیچے ہے اور ایک جگہ فرمایا:جن کا باپ اس راضی نہ ہو تو اللہ پاک بھی اس شخص سے راضی نہیں ہوتا۔لہذا اگر ہم جنت چاہتے ہیں تو والدین کی نافرمانی سے بچنا ہوگا اور ان کو تکلیف دینے سے بھی خود کوبچاناہوگا۔

اب ہم اپنے اندر غورو خوض شروع کریں کہ کیا ہمارے اندر وہ چیزیں موجود ہے جس کا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیایاہم صرف جھوٹا دعوائے محبت کرنے والے ہیں؟ ہمیں غور کرنے کی اشد ضرورت ہے!

بالآخر
مندرجہ بالا بیان کردہ باتوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بہترین امت میں وہی شخص شامل ہےجن کے اندر وہ سب باتیں پائی جاتی ہوں جو ماقبل میں ذکرکیاگیا۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!