| عنوان: | فیس بک، پارک سے زیادہ خطرناک اور تفریحی ذریعہ |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد عطاء النبی حسینی مصباحی |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
فیس بک، پارک سے زیادہ خطرناک اور تفریحی ذریعہ
تفریح فرحت حاصل کرنے اور جسم و روح کو مسرت پہنچانے کو کہتے ہیں، اور شرعی حدود میں رہ کر اپنے جسم و روح کو فرحت و انبساط کے سامان فراہم کرنے کی نہ شریعت میں ممانعت ہے اور نہ دینِ اسلام میں یہ معیوب ہے۔ کیوں کہ اس تفریح کے ذریعہ جسم و روح کا کسل اور طبعی ملال دور ہو کر دوبارہ طبیعت میں نشاط، چستی، حوصلہ، ہمت اور امنگ پیدا ہوتی ہے اور تفریح انسان کو ایک بار پھر پوری خوش دلی کے ساتھ زندگی کے مقاصد کی طرف پیش قدمی میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ اسی لیے قرآن کریم میں بھی سیر و تفریح کا حکم دیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعے تخلیق کائنات کا مشاہدہ اور قدرتِ الٰہی کا نظارہ کیا جا سکے، چنانچہ ارشادِ ربانی ہے:
قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّهُ يُنْشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
یعنی (اے محبوب ﷺ!) تم فرماؤ: زمین میں سفر کر کے دیکھو، اللہ کیونکر تخلیق بناتا ہے، پھر اللہ دوسری اٹھان اٹھاتا ہے، بیشک اللہ سب کچھ کر سکتا ہے۔
اور اسی سیر و سیاحت اور تفریح کی برکت سے اس حکمِ خداوندی پر عمل آسان سے آسان تر ہو جاتا ہے:
أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ
تو کیا اونٹ کو نہیں دیکھتے کیسا بنایا گیا، اور آسمان کو کیسا اونچا کیا گیا، اور پہاڑوں کو کیسے قائم کیا گیا، اور زمین کو کیسے بچھایا گیا۔
اور اللہ کے رسول ﷺ نے بھی حدیثِ پاک میں فرحت و انبساط اور مسرت و شادمانی کے حصول کا حکم دیا۔ چنانچہ آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:
روحوا القلوب ساعة فساعة. (الجامع الصغیر، حدیث: ۴۴۸۴)
یعنی دلوں کو وقتاً فوقتاً خوش کرتے رہا کرو۔
लेकिन آج سیر اور تفریح کا صرف نام رہ گیا ہے اور اس میں شریعت کے تقاضوں کا پاس و لحاظ نہیں رہا، جس کے سبب انسان تفریح کے لیے نکلتا تو ضرور ہے لیکن دانستہ یا غیر دانستہ طور پر اس میں شریعتِ اسلامیہ کی تعلیمات کا جس بے دردی سے خون کیا جاتا ہے اور اخلاقی قدروں کے جس بے رحمی سے پرخچے اڑائے جاتے ہیں، کسی پر پوشیدہ نہیں۔ ہمارے تفریحی مقامات بھی پہلے سے بہت حد تک مختلف ہو گئے ہیں۔ پہلے تفریح کے لیے متبرک مقامات، مقدس جگہوں اور تاریخی مکانات کا انتخاب ہوتا تھا، لیکن آج ہماری پسند نہ بابرکت جگہیں ہوتی ہیں اور نہ تاریخی مقامات، بلکہ آج تفریح کے لیے ہماری نظر اکثر دو چیزوں پر ہوتی ہے:
پارک، باغ، باغیچہ (Garden)
سوشل میڈیا، جس میں اول درجہ ”فیس بک“ کو حاصل ہے، پھر ”واٹس ایپ“ کو، اس کے بعد ”ٹیلیگرام“ وغیرہ کو۔
दोनों مقامات بذاتِ خود صحیح ہیں اور اگر ان کا استعمال صحیح انداز میں اور ان سے لطف اندوزی ضرورت پر اور ضرورت بھر ہو اور ساتھ ہی ان حدود میں رہ کر کیا جائے تو کسی حد تک ٹھیک ہے۔
سب سے پہلی چیز جو دورانِ تفریح پیشِ نظر رہنی چاہیے، وہ ہے حیا۔
دورانِ تفریح اسراف و تبذیر سے اجتناب، خواہ اسراف و تبذیر روپے میں ہو، گفتگو میں ہو یا وقت میں ہو۔
شریعت کے بنیادی مقاصد نظر انداز نہ ہوں۔
इन तीनों حدود को پیشِ نظر رکھ کر ہم تفریحی مقامات کا جائزہ لیتے ہیں تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا है कि آج ہمارے ملک، شہر، گاؤں، علاقے، معاشرے اور تہذیب و تمدن میں تفریح کا جو رواج رائج ہو گیا ہے، اس نے تفریح اور تفریحی مقامات پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ان مقامات میں سے پارک کو ہی دیکھ لیں، جس کا حال دن بہ دن بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے، کیوں کہ آج وہاں جانا گناہوں کو دعوت دینے کے برابر ہے، اور وہ اس طرح کہ اب شاید ہی کوئی ایسا گارڈن یا پارک ملے جہاں بے پردگی اور عریانیت اپنے شباب پر نہ ہو، جس سے ایک سادہ ذہن رکھنے والا انسان بھی ذہنی کشمکش کا شکار ہو جاتا ہے اور بدنگاہی و بدنظری کی تباہی میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ حالاں کہ قرآن پاک میں نگاہیں نیچی رکھ کر اس جیسے تباہ کن کاموں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ ارشادِ ربانی ہے:
قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَٰلِكَ أَزْكٰی لَهُمْ
یعنی مسلمان مردوں کو حکم دو: اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے۔
اور حدیثِ پاک میں تو بدنگاہی کی لذتِ بے لذت سے لطف اٹھانے والے کو لعنت کا طوق پہنایا گیا ہے، چنانچہ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ ”السنن الكبرى“ میں نقل فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لعن الله الناظر والمنظور إليه
یعنی اللہ تعالیٰ بدنظری کرنے اور بدنظری کے لیے خود کو پیش کرنے والے پر لعنت فرمائے۔
फिर اگر توفیقِ الٰہی سے اس وبال سے محفوظ بھی ہو جائے تو خود کو بلند بانگ آواز میں گفتگو سے حقوقِ عامہ کے تلف کی آفت استقبال کے لیے کھڑی نظر آتی ہے، جب کہ حقیقی مسلمان کی ایک علامت یہ ہے کہ:
المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده
یعنی حقیقی مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں۔
اور بلند و بالا آواز بھی اس فخریہ انداز میں ہوتی ہے کہ ہر لمحہ قہقہہ سے ماحول حیرت و استعجاب کا منظر پیش کرتا ہے، لیکن اے کاش! اس وقت امام طبرانی کی ”المعجم الصغیر“ کی اس حدیث کو حاشیۂ خیال پر لاتے:
القهقهة من الشيطان والتبسم من الله تعالى
یعنی قہقہہ شیطان کی طرف سے ہے اور مسکرانا اللہ عزوجل کی طرف سے ہے۔
फिर ऐसे مقامات پر پہنچ کر ہم نہ جانے کیوں اور کس مقصد کے تحت اس قدر دریا دلی سے کام لیتے ہیں کہ اللہ کی پناہ! بلکہ یوں کہا جائے تو بجا ہوگا کہ ان مواقع پر ہم اخراجات کی فکر کی بجائے دکھاوے کی فکر میں لگ جاتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ برآمد ہوتا ہے کہ ہم اسراف کی حد میں داخل نہیں، بلکہ اسراف کی حد کو توڑتے چلے جاتے ہیں جو عموماً کسی انسان کو اور خصوصاً مسلمان کو زیب نہیں دیتا:
وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ
یعنی اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو، بیشک حد سے بڑھنے والوں کو وہ پسند نہیں فرماتا۔
پارک (Garden) سے زیادہ خطرناک اور تباہ کن تفریحی مقام عصرِ حاضر میں ”فیس بک“ ہے، جسے گھریلو تفریحی مقام کے نام سے بھی یاد کیا جا سکتا ہے۔ اس فیس بک نے اتنا فائدہ تو ضرور پہنچایا کہ گھر بیٹھے تفریح کا سامان فراہم کر دیا، لیکن نقصان اتنا پہنچایا کہ اللہ کی پناہ! اور ہنوز یہ سلسلہ بد جاری ہے اور زور و شور سے جاری ہے۔ اس مقامِ تفریح کا سب سے چھوٹا لیکن بھاری بھرکم خسارے کا پہلو یہ ہے کہ اس میں آپ کے ارادے کے بغیر کسی بھی وقت حیا سوز اور عریانیت کو فروغ دینے والی تصاویر یا ویڈیوز نگاہوں کے سامنے تباہ کن جلوے بکھیرنے لگتی ہیں، جس سے بچنا نہایت مشکل ہوتا ہے اور اگر کوئی اس وبا سے حفاظت کے دائرے میں رہا بھی تو وقت جیسی عظیم اور اتنی قیمتی نعمت، جس کے ایک لمحے کی کوئی شخص قیمت نہیں ادا کر سکتا اور نہ اسے واپس لا سکتا ہے، بے دریغ ضیاع میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ حالاں کہ ایک مسلمان کا یہ شیوہ ہرگز نہیں کہ وہ اپنے وقتِ عزیز سے غفلت کا شکار ہوتا رہے، اسی طرف اللہ کے رسول ﷺ نے بھی اپنے اس ارشاد میں اشارہ فرمایا:
نعمتان مغبون فيهما كثير من الناس: الصحة والفراغ
یعنی دو نعمتوں کے بارے میں اکثر لوگ غفلت کے شکار ہیں: (1) صحت (2) فرصت کے اوقات۔
اور فیس بک میں انہماک کا عالم ایسا ہوتا ہے کہ بعض دفعہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ انسان اپنا مقصدِ تخلیق ”نماز“ جیسی سب سے اہم اور افضل عبادت سے بھی غافل اور بے بہرہ ہو جاتا ہے اور ترکِ نماز کر کے گناہِ عظیم اور ناراضگیِ الٰہی کے اسباب مہیا کرتا ہے۔ حالاں کہ نماز کے ترک پر اتنی سخت وعید ہے کہ اللہ اللہ! رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ آقا ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:
من ترك الصلاة متعمدا كتب اسمه على باب النار ممن يدخلها
یعنی جس نے قصداً نماز چھوڑی، جہنم کے دروازے پر اس کا نام لکھ دیا جاتا ہے جس سے وہ داخل ہوگا۔
اور تہدید بھرا یہ فرمانِ نبوی ﷺ تو اس سے بھی کہیں زیادہ سخت ہے کہ:
العهد الذي بيننا وبينهم الصلاة فمن تركها فقد كفر
یعنی ہمارے اور ان (کافروں) کے مابین (فرق کرنے والا) عہد نماز ہے، سو جس نے نماز چھوڑی، اس نے کفر کیا۔
ہاں، فیس بک پر ایک اور اخلاقیات سوز سلسلہ چل پڑا ہے، جس میں علمائے اہل سنت کی پگڑیاں اچھالنے کی بزعمِ خویش سعیِ بلیغ ورنہ سعیِ ناکام کی جا رہی ہے اور اس کے لیے علمائے اہل سنت کے مابین ہوئے فروعی اختلافات کا خوب خوب استعمال کیا جا رہا ہے، جس کا سب سے بڑا خسارہ یہ ہو رہا ہے کہ ہماری نسلِ نو اور سادہ لوح مسلمان علما سے متنفر ہوتے جا رہے ہیں، علمائے اہل سنت سے عقیدت و محبت کو ہر لمحہ ذبح کیا جا رہا ہے، اور علمائے اہل سنت پر عوام کا اعتماد کمزور تر ہوتا جا رہا ہے اور ان کی عزت اور حقوق کو بلا تامل پامال کیا جا رہا ہے، لیکن اپنی عاقبت کی ایسے لوگوں کو کچھ بھی فکر نہیں ہے، حالاں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے علما کی شان بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
ليس منا من لم يجل كبيرنا ويرحم صغيرنا ويعرف لعالمنا حقّه
وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے بڑے کی تعظیم نہیں کرتا، اور ہمارے چھوٹے پر مہربانی نہیں کرتا، اور ہمارے عالم کا حق نہیں پہچانتا۔
ان مذکورہ باتوں کو ذہن میں رکھ کر کوئی شخص خود اپنے آپ سے سوال کرے کہ کیا کسی عورت کی بدنگاہی و بدنظری کرنا اخلاق کا حصہ ہے؟ دوسروں کی تکلیف کا باعث بننا تہذیب و تمدن ہے؟ حقوقِ عامہ کی عدم رعایت کا کوئی اخلاقی تعلق ہے؟ علمائے اہل سنت کی تعظیم و توقیر کی بجائے تحقیر و تذلیل اچھے اخلاق و کردار کی پہچان ہے؟؟؟ اگر اخلاق و ادب سے کچھ بھی تعلق ہوگا تو وہ شخص یہی کہے گا کہ نہیں، نہیں اور نہیں! اس میں اور اخلاق و ادب میں زمین و آسمان کا فرق ہے، اور یہ اخلاقی قدروں کی بلندی نہیں بلکہ پستی کا سبب ہے۔
