| عنوان: | تفریحی مواقع اور ہماری اخلاقی قدریں (قسط: اوّل) |
|---|---|
| تحریر: | توفیق حسن برکاتی |
| پیش کش: | زہرہ یاسمین |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
اخلاقی قدروں کی تباہی: اسباب و علاج
”اخلاقیات“ سے مراد انسان کے ظاہر و باطن کی ہم آہنگی اور اس کی عادات و اطوار کی وہ شفافیت ہے جو اسے انسانیت کے بلند مقام پر فائز کرتی ہے۔ مکارمِ اخلاق کی تکمیل و تشکیل اور کردار و عمل کی تطہیر و تنظیف اخلاقیات کے زمرے میں آتی ہے۔ دنیا کا ہر مسلمان ہی نہیں، ہر انسان کو ان کا پابند رہنا لازمی ہے، چاہے وہ جس میدان میں قدم جمائے ہوئے ہو، یا جس راہ کا راہی ہو۔ پیغمبرِ اعظم محمد رسول اللہ ﷺ کی پاکیزہ زندگی میں یہ حقیقتیں پوری توانائی کے ساتھ جلوہ گر ہیں اور یہی معارف ہمیں سننِ مصطفیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام میں نظر آتے ہیں، بلکہ یہ چیز تو بعثت کے مقاصد میں شمار کی جاتی ہے۔ حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا گیا: بعثت لاتمم مکارم الاخلاق، یعنی میں اس لیے بھیجا گیا تاکہ مکارمِ اخلاق کو اس کے کمال تک پہنچاؤں۔
قرآن مجید نے بھی آقا ﷺ کی یہ صفت بیان کی ہے کہ یہ رسول تمہارے ظاہر و باطن کا تزکیہ کرتا ہے، دلوں کا زنگ دور کرتا ہے، تمہیں انسانیت کی اعلیٰ قدروں سے آشنا کرتا ہے، یہ نبی مزکیٰ ہے، مربی ہے، معلم ہے، رحم و کرم کا مجسمہ ہے، محبت و رافت کا علمبردار ہے، حسنِ کردار و عمل کا نمونہ ہے، یہ اخلاقِ عظیم کا بلند مرتبہ رکھتا ہے۔ یہی حکمِ شریعت ہے، یہی طرزِ طریقت ہے۔ صحابہ کی جماعت کو متحدہ قوتِ اخلاقیات کی انہی تعلیمات نے بخشی تھی، یہی امتِ محمدیہ کا شعار اور زندہ قوم کی علامت ہے۔
اخلاقی قدروں کا پاس و لحاظ نہ رکھا جائے تو زندگی اجیرن بن جائے، ماحول مکدر ہو جائے، طبیعت میں ہر لمحہ اشتعال کی کیفیت رہے اور ہر آن بے چینی ہمارے دامن سے چمٹی رہے۔ یہ قدریں دلوں کو جوڑتی ہیں، لوگوں کو آپ سے قریب کرتی ہیں، انسانی سرشت کو اطمینان بخشتی ہیں۔
تاریخِ اسلامی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جب تک ہم ان قدروں کی محافظت کرتے رہے، ہمارے کردار و عمل میں روحانیت موجود رہی، دنیا ہم سے بہت قریب رہی، وہ ہماری سنتی تھی اور ہم اس کے غم کا مداوا کرتے تھے، صوفیا کی حیات میں یہ صداقتیں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔ مگر مادیت کے سیلاب نے انسانوں کو خود غرض بنا دیا ہے، ٹیکنالوجی کے طوفان نے ان قدروں کے شیش محل کو چکنا چور کر دیا ہے، اب نہ کرداروں میں حسن دکھائی دیتا ہے اور نہ اخلاقی رنگ۔ بس وہ انسان ہیں اور دنیا کی تیز دوڑ میں انہیں صرف بھاگنا ہے اور بھاگنا ہے، انہیں اس سے مطلب نہیں کہ ہماری ٹھوکر سے کوئی زخمی تو نہیں ہو رہا ہے، کسی کی راہ مسدود ہو رہی ہے، کسی کی زندگی کی ڈور ٹوٹ رہی ہے۔ اس جرم میں عام کے ساتھ ساتھ بہت سے ایسے خاص افراد بھی ملوث ہیں، جنہیں یا تو وہ مصلحت کا نام دیتے ہیں یا اسے اپنی چالاکی سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ سراسر غلط فہمی ہے اور کچھ نہیں۔
ہم ذیل میں چند معاملات کی نشان دہی کر رہے ہیں جہاں یہ اخلاقی قدریں پامال ہو رہی ہیں، لیکن ہم ان پر بالکل بھی توجہ نہیں دیتے یا جان کر انجان بن جاتے ہیں، اور یہ غلط روش نہ صرف ہمارا نقصان کروا رہی ہے بلکہ اس سے ہمارا دین بھی بدنام ہو رہا ہے۔
اخلاقی قدروں کے زوال میں موجودہ تفریحی ذرائع اور عیش و نشاط کے مقامات بھی افسوس ناک کردار ادا کر رہے ہیں۔ پارک، ڈراما، سنیما اور سوشل میڈیا میں خاص طور سے فیس بک اس معاملے میں دو قدم آگے ہے۔
حقوق کی پامالی
ہر فرد جہاں حقوق اللہ کی ادائیگی کا پابند ہے، حقوق العباد کا تحفظ بھی اس پر لازمی ہے۔ اس میں رشتوں کا لحاظ، درجوں کا پاس، عہدوں کا خیال، اور ذمے داریوں کا احساس بھی شامل ہے، کیوں کہ اس کے بغیر نہ صلہ رحمی کا ماحول بن سکتا ہے اور نہ ہی اچھا معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ مگر ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم ان تمام امور میں بے حد آزاد خیال اور سست رو واقع ہو رہے ہیں، رشتوں کی شکست و ریخت، عہدوں کا بیجا استعمال، ذمے داریوں سے فرار، بڑوں کے اکرام سے روگردانی ہمارے مسلم معاشرے کی کریہ شکلیں ہیں، جہاں قدم قدم پر حق تلفی کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ مختلف امور میں ہماری ناانصافیاں بھی حقوق کی پامالی کا سبب بن رہی ہیں اور ہم مختار بن کر یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ رشتوں کی ڈور اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ اس کے ٹوٹنے میں تھوڑا بھی وقت نہیں لگتا، پل بھر میں کون کیا بک جائے؟ کس کا شیشہ دل چکنا چور ہو جائے؟ کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ دل زخمی ہو رہا ہے ہونے دو، دوریاں بڑھ رہی ہیں بڑھنے دو۔ ایسے ہی مواقع پر ہمارا دشمن اپنا کام بنا لیتا ہے اور ہم کفِ افسوس ملتے رہ جات ہیں، یا مردہ ضمیری کے خول میں اتنے اندر تک بند رہتے ہیں کہ بسا اوقات اس کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
خیانت
یہ ایک ایسا مرض ہے جو انسان کو غلاظت کا رسیا اور نفرت کا مجسمہ بنا دیتا ہے۔ اس بیماری کی سرانڈ سے اعتماد کی فضا بدبو دار اور یقین کا آئینہ کرچیوں میں تبدیل ہو جاتا ہے، اس کے برعکس امانت افراد کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے، ایک دوسرے کے دکھ درد میں شرکت کا سبب بنتی ہے۔ حالانکہ یہ سب کو معلوم ہے کہ امین ہونا محبوب ہونے کی دلیل ہے، جہاں نفرت کی دیواریں نہیں ہوتیں، اعتماد کی فضا خوش گوار ہوتی ہے اور یقین کا سورج نصف النہار پر ہوتا ہے۔ خیانتوں کے جرائم اس قدر ہیبت ناک اور ظالمانہ ہیں کہ ان کی نحوست اور بربریت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ مشاہدہ ہے کہ قرضوں میں ڈوبی ہوئی زندگیاں سسک سسک کر جی رہی ہیں۔ یہ خیانت ہی تو ہے کہ کسی نے آپ پر بھروسہ کرتے ہوئے آپ کی امداد کی کہ بعد میں آپ اسے وہ سرمایہ ادا کر دیں گے، مگر آپ کی مجبوری، کاہلی یا غبن کی نیت نے آپ کو ایسا کرنے سے باز رکھا۔ ایسا کر کے آپ نے اس کا اعتماد بھی توڑا اور اس کے ساتھ دغا بھی کی، یہ سب اخلاقی قدروں کا زوال ہی تو ہے۔
غلط فہمی
اس بیماری کا تو کہنا ہی کیا! اس میں خاص و عام سب گرفتار ہیں، جسے دیکھو کسی سے بدظن ہے، کسی نے آپ کو یہ بتا دیا ہے کہ فلاں آپ کے بارے میں یہ کہتا یا سوچتا ہے۔ اب ہونا تو یہ چاہیے کہ آپ بذاتِ خود یہ معاملہ اسی شخص سے حل کریں، اس سے ملاقات کر کے اس چیز کی تحقیق کر لیں تاکہ اسے بھی اور آپ کو بھی معاملے کی تہہ تک پہنچਣਾ آسان ہو جائے اور غلط فہمیاں دور ہوں۔ مگر ایسا کم ہوتا ہے، ہم اس مرض کے جراثیم کو اتنی غذا فراہم کرتے ہیں کہ یہ ناسور بن جاتا ہے اور اس کے بعد مر مر کے جینا اور جی جی کے مرنا اس کی عادت بن جاتی ہے۔
