| عنوان: | معراج کی مقدس رات اور دیگر ضروری مسائل |
|---|---|
| تحریر: | مفتی بدر عالم مصباحی |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
شبِ معراج میں ذکرِ الٰہی و ذکرِ رسول
علما نے لکھا ہے کہ شبِ معراج شبِ قدر سے بھی افضل ہے۔ تفسیر روح المعانی میں ہے:
وهي على ما نقل الفیری عن الجمهور افضل الليالي حتى ليلة القدر مطلقاً. (۷/۸)
اور شبِ معراج کی تاریخ کون سی ہے، اس میں مختلف اقوال ہیں، مگر راجح قول یہی ہے کہ رجب کی ستائیسویں شب ہے۔ تفسیر روح المعانی میں ہے:
انه ﷺ بات ليلة السابع والعشرين من رجب كما سبق في بيت ام ھاني بنت أبي طالب۔ (۵ / ۱۰۶)
جمہور کا اس پر اتفاق ہے کہ شبِ معراج شبِ قدر سے بھی افضل ہے، تو اس رات میں اگر ذکرِ الٰہی، ذکرِ رسول اور واقعۂ معراج بیان کیا جائے تو اس میں قباحت کیا ہے؟ قباحت وہی محسوس کرے گا جس کو اسلام سے کوئی تعلق نہ ہو۔ خود سرکارِ دو عالم ﷺ جب رات کے حصے میں عرشِ الٰہی پر تشریف لے گئے اور واپس آئے تو حضرت ام ہانی سے پورا واقعۂ معراج بیان فرمایا، تو اگر علماے حق بھی اس رات میں واقعۂ معراج بیان کریں تو یہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہوئی، اسے بدعت کہنا جہالت اور شرارت ہے۔ تفسیر روح المعانی میں ہے:
ان رسول الله ﷺ لما رجع من ليلة قص القصة على أم هاني. (۵ / ۱۲۵)
جائز و ممنوع
شریعت کا قاعدہ کلیہ ہے: "الأصل في الأشياء الإباحة" اشیا میں اصل اباحت ہے۔ لہٰذا ممنوع و ناجائز وہی کام ہوں گے جس کو رسول اللہ ﷺ نے منع کر دیا ہو۔ اگر منع ثابت نہ ہو تو اسے ممنوع و ناجائز نہیں کہا جا سکتا، ناجائز و ممنوع ہونے کا مدار اس پر نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا یا صحابہ نے نہیں کیا، ورنہ بہت سارے کام ممنوع و ناجائز ہو جائیں گے؛ مثلاً:
صرف و نحو کی کتابیں، اردو کی کتابیں، فقہ و اصولِ فقہ کی کتابیں، فصاحت و بلاغت کی کتابیں پڑھنا، پڑھانا، رسول اللہ ﷺ یا صحابہ نے کبھی نہیں پڑھا نہ پڑھایا۔ یہ سب ناجائز و ممنوع ہونا چاہیے، حالانکہ سب کے نزدیک جائز و مباح ہیں۔
تخت لگا کر کرسی پر بیٹھ کر مائک سے وعظ و نصیحت کرنا، رسول اللہ ﷺ یا صحابہ نے کبھی اس طرح وعظ و نصیحت نہیں کیا، آج سبھی کرتے ہیں۔ اسے بھی ناجائز و ممنوع ہو جانا چاہیے۔
اسلامی محفلوں کا افتتاح تلاوتِ قرآنِ مجید سے کرنا، پھر تقریر و وعظ کے لیے اناؤنسری کرنا، رسول اللہ ﷺ یا صحابہ نے ایسا نہیں کیا۔ اسے بھی بدعت و ممنوع ہو جانا چاہیے۔
تبلیغ کے نام پر مسجدوں میں قیام، وہیں پر کھانا پکانا، یہ بھی رسول اللہ ﷺ و صحابہ نے نہیں کیا۔
فقہی سیمینار کرنا، مدارسِ اسلامیہ میں سلور جبلی، گولڈن جبلی منانا، جشنِ صد سالہ منانا، یہ سب کام نہ رسول اللہ ﷺ نے کیا نہ صحابہ نے کیا، نہ تابعین نے کیا، یہ سب ناجائز و ممنوع ہو جانا چاہیے۔
مدارس میں کلاس شروع ہونے سے پہلے بچوں سے حمد، دعا، سلام کے اشعار پڑھوانا، یہ سب کام رسول اللہ ﷺ یا صحابہ نے کبھی نہیں کیا، یہ بھی ناجائز و ممنوع ہونا چاہیے۔
مساجد میں یا گھروں میں بعدِ نمازِ فجر یا بعدِ نمازِ عصر تلاوتِ قرآنِ مجید یا ذکرِ الٰہی کے لیے التزام کرنا، رسول اللہ ﷺ یا صحابہ نے کبھی اس کا التزام نہیں کیا، یہ سب بدعت و ناجائز ہونا چاہیے۔
مدارسِ عربیہ میں دستار بندی اور ختمِ بخاری کے جلسے نہ رسول اللہ ﷺ نے کیے، نہ صحابہ نے کیے اور نہ ہی ان کا حکم دیا۔
مذکورہ بالا امور کو نہ رسول اللہ ﷺ نے کیا نہ حکم دیا، نہ صحابہ نے کبھی کیا، لیکن مسلمانوں میں عام طور سے رائج ہیں، کوئی مسلمان ان امور کو نہ بدعت سمجھتا ہے نہ ناجائز و ممنوع، سب ان امور کو جائز سمجھ کر کرتے ہیں۔ جائز کے ساتھ ان امور کو دین کا حصہ قرار देकर ہی کیا جاتا ہے، ان امور کو کوئی مسلمان دین سے جدا نہیں مانتا، سب انہیں دین کا حصہ مان کر انجام دیتے ہیں۔ اگر جماعتِ توحیدیہ کی مانیں تو پوری دنیا کے مسلمان اور وہ خود بھی بدعتی و گمراہ قرار پائیں گے۔
شبِ معراج میں اہل حق کیا کرتے ہیں؟
شبِ معراج میں اہل حق وعظ و نصیحت کی محافل منعقد کرتے ہیں، بعدِ نمازِ عشا نفلی نمازیں پڑھते ہیں، ذکر و دعا کرتے ہیں۔ شبِ معراج یا اس جیسی متبرک دوسری راتوں میں مساجد میں یا کسی میدان میں ذکرِ الٰہی و ذکرِ رسول کی محفلیں منعقد کر کے اس کی طرف راغب کرنے کی جدوجہد کی جاتی ہے۔ ان امورِ حسنہ کو بدعتِ سیئہ کہنا اور قبیح سمجھنا کسی بھی مسلمان کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔ شبِ قدر، شبِ برات، شبِ معراج، شبِ بارہ ربیع النور میں مسلمان ان راتوں کی عظمت و برکت کا تصور کر کے ذکر و دعا میں مصروف رہتے ہیں، اور کم از کم ان عظیم بابرکت راتوں میں تو مسلم نوجوان لہو و لعب سے دور رہ کر ذکرِ خدا میں لگ جائیں، انہی نیک مقاصد کے پیشِ نظر مسلمانوں میں رجب شریف کی محفلیں منعقد کرنے کا رواج ہے۔ شیطان کے چیلوں کو الجھن ہونے لگی، فوراً اس کو بند کرنے کے لیے اشتہار بازی شروع کر دی، ذکر سے روکنے کی تحریک شیطانی حرکت ہے، مسلمان اس پر ہرگز توجہ نہ دیں۔
ذکر روکے، فضل کاٹے، نقص کا جویاں رہے
پھر کہے مردک کہ ہوں امت رسول اللہ کی
احادیثِ مبارکہ میں صلوٰۃ اللیل اور قیام اللیل کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے، عام مسلمانوں کو عام طور پر اس کی توفیق نصیب نہیں ہوتی ہے۔ متبرک اور عظیم راتوں میں اہتمام کرنے سے بہت سے مسلمانوں کو صلوٰۃ اللیل ادا کرنے کی توفیق مل جاتی ہے۔ حدیث کی مشہور کتاب صحیح مسلم شریف میں ہے:
أفضل الصلوة بعد الفريضة صلوة الليل۔ (ص: ۵۵)
فقہ حنفی کی معتمد و مستند کتاب رد المحتار میں ہے:
هذا يفيد أن هذه السنة تحصل بعد صلوة العشاء قبل النوم۔ (۴۶۷/۲)
صلوٰۃ اللیل یعنی بعدِ نمازِ عشا نفلی نمازوں میں رات گزاری جائے، یہ سعادت عام طور سے عام مسلمانوں کو نصیب نہیں ہو پاتی ہے، اسی سعادت کو حاصل کرنے کے لیے متبرک راتوں میں مسلمان اہتمام کرتے ہیں اور مساجد میں، میدانوں میں، گھروں پر صلوٰۃ اللیل کی ترکیب بناتے ہیں، پھر بہت سے مسلمان صلوٰۃ اللیل کے برکات سے فیض یاب ہو جاتے ہیں۔
قیام اللیل یہ ہے کہ بعدِ نمازِ عشا نفلی نمازوں میں، ذکر و دعا میں، تلاوتِ قرآن میں اور احادیثِ مصطفیٰ ﷺ کی قرات و سماعت میں اور نبی ﷺ کی بارگاہ میں صلوٰۃ و سلام پیش کرنے میں رات گزاری جائے۔ قیام اللیل کی بھی سعادت حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں نے متبرک راتوں کا انتخاب کر رکھا ہے۔ قیام اللیل کے متعلق علامہ شامی نے اپنے حاشیہ رد المحتار میں تحریر فرمایا:
و يحصل القيام، بالصلاة نفلاً فرادى من غير عدد مخصوص ، وبقراءة القرآن والأحاديث وسماعها وبالتسبيح، والصلوة والسلام على النبي ﷺ الحاصل ذلك معظم الليل۔ (۴۶۹/۲)
مسئلہ شرعیہ
متبرک راتوں میں جو نفلی نمازیں پڑھی جائیں، بہتر یہ ہے کہ تنہا تنہا پڑھی جائیں، جماعت سے نہ پڑھی جائیں، اس لیے کہ نفل نماز اعلان کے ساتھ باجماعت پڑھना مکروہِ تنزیہی اور خلافِ اولیٰ ہے۔ در مختار میں ہے:
ولا التطوع بجماعة خارج رمضان أى يكره ذلك لو على سبيل التداعي اعنى بأن يقتدى أربعة بواحدة ولا خلاف في صحة الاقتداء إذ لا مانع۔ (۵۰۰/۲)
اسی کے تحت علامہ شامی علیہ الرحمہ نے اپنے حاشیہ رد المحتار میں تحریر فرمایا ہے:
والنفل بالجماعة غير مستحب لأنه لم تفعله الصحابة في غير رمضان وهو كالصريح في أنها كراهة تنزية۔ (۵۰۰/۲)
مسلمانوں کا عمل
رجب کی پہلی شب، شبِ جمعہ، شبِ عیدین، شبِ برات، شبِ قدر، شبِ معراج میں بعض مقامات پر مسلمان باجماعت نمازِ نفل، صلوٰۃ التسبیح کا اہتمام کرتے ہیں۔ بعض فقہا نے مطلقاً ان راتوں میں بھی باجماعت نمازِ نفل کو ناجائز و مکروہ اور بدعت تک لکھا ہے، لیکن جن احادیث کی بنا پر فقہا نے اس کو بدعت و ناجائز کہا ہے، محدثین نے ان احادیث کو موضوع یعنی گڑھی ہوئی حدیث بتایا ہے۔ علامہ شامی علیہ الرحمہ نے حاشیہ رد المحتار میں تحریر فرمایا:
قلت وقد صرح بذلك في البزازية كما سيذكره الشارح أخر الباب وقد بسط الكلام عليها شارح المنية وصرح بأن ماروى فيها باطل وموضوع وبسط الكلام خصوصاً في الحلية وللعلامة نورالدين المقدسي فيها تصنيف حسن سماه، ”روح الراغب عن صلوة الرغائب“ أحاط فيها بغالب كلام المتقدمين والمتأخرين من علماء المذاهب الأربعة۔ (۴۷۰/۲)
فیصلہ
سال کی چند بابرکت راتوں میں مسلمان اگر باجماعت نفلی نمازوں کا اہتمام کریں تو منع کرنے میں غلو اور شدت نہیں کرنا چاہیے، مسئلہ شرعیہ بتا دیا جائے اور بس۔ اس لیے کہ اگر اس میں مواظبت نہ ہو، یعنی باجماعت نمازِ نفل پڑھنے پر لوگ مسلسل عادت نہ بنائیں، بلکہ کبھی ایسا کر لیتے ہیں تو کوئی حرج نہیں۔ شامی میں ہے:
الظاهر أن الجماعة فيه غير مستحبة ثم إن كان ذلك أحياناً كما فعل عمر كان مباحاً غير مكروه و إن كان على سبيل المواظبة كان بدعة مكروهة لأنه خلاف التوارث۔ (۵۰۰/۲)
۲۶/۲۷ رجب کا روزہ
نفلی روزہ رکھنا جائز ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ اکیلا ایک روزہ نہ رکھے، بلکہ دو روزے رکھے؛ ۲۷ رجب کا بھی روزہ نفلی روزہ ہے، اسے رکھنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ثواب ہی ثواب ہے، البتہ دو رکھے؛ 26 و 27 کو رکھے یا 27 و 28 کو رکھے، یہی طریقہ بہتر ہے۔ اگر کسی نے ایک ہی روزہ رکھا جب بھی کوئی حرج نہیں، وہ بھی مستحقِ اجر و ثواب ہے۔ بدائع الصنائع میں ہے:
ويكره صوم يوم السبت بانفرادہ لانہ تشبہ بالیهود وکره بعضهم صوم يوم الجمعة بانفراده وكذا صوم يوم الاثنين والخميس۔ (۲۱۸/۲)
ہاں، ان روزوں کو ہزاری یا لکھی روزہ کہنا یعنی اس روزے پر ایک ہزار روزے یا ایک لاکھ روزے کا ثواب ملے گا، شرعاً اس کی کوئی اصل نہیں۔ پروردگارِ عالم جلّ مجدہ کی عنایت پر ہے، وہ عطا فرمانا چاہے تو ایک لاکھ روزے کا ثواب کیا بلکہ کروڑوں روزے کا ثواب عطا فرما سکتا ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
