Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ہندوستان کی مسلمانی ہی نہیں، جمہوریت بھی خطرے میں ہے؟ (قسط: سوم)|مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی

ہندوستان کی مسلمانی ہی نہیں، جمہوریت بھی خطرے میں ہے؟ (قسط: سوم)
عنوان: ہندوستان کی مسلمانی ہی نہیں، جمہوریت بھی خطرے میں ہے؟ (قسط: سوم)
تحریر: مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

(7) ہندوستان کے ایک خاص طبقے کو حقِ انتخاب سے محروم کیا جا رہا ہے۔ نہ صرف یہ کہ جن کی عمریں انتخاب کو پہنچ چکی ہیں، ان کی ووٹر آئی ڈی بنائی نہیں جا رہی ہیں بلکہ پلاننگ کے ساتھ ایک خاص طبقے کی ووٹر آئی ڈی روکی جا رہی ہیں اور اس طرح گویا ایک جمہوری ملک کے باشندوں سے ان کا بنیادی اور سب سے ضروری حق چھینا جا رہا ہے۔

یہ سلوک اس طبقے کے ساتھ کیا جا رہا ہے جو بھگوا دھاری پارٹی کا حامی نہیں ہے یا جہاں سے اس پارٹی کو ووٹ ملنے کی توقعات نہیں۔ ایک سروے کے مطابق ملک کی ایک چوتھائی آبادی کے ساتھ یہ سلوک کیا جا رہا ہے، اگر یہ بات درست ہے تو سچ مچ یہ اہلِ ہند کے لیے بڑا لمحۂ فکریہ ہے کیوں کہ یہ ڈائریکٹ ہندوستان کی جمہوریت پر سب سے بڑی چوٹ ہے۔

(8) ہندوستان کے لیے نہ ہندو نئے ہیں اور نہ مسلمان لیکن صدیوں سے رہ رہی ان دو قوموں کے درمیان منافرت کی جو فضا اس وقت بنی ہوئی ہے، تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ یہ مسموم فضا صرف دو مذہب کے ماننے والوں کے درمیان دوری کا سبب ہی نہیں، اس سے ملک کی ترقی بھی غیر معمولی طور پر متاثر ہوتی ہے جو کسی جمہوری ملک کے حق میں زہرِ ہلاہل ہے۔ اس وقت یہ منافرت جتنی بڑھ چکی ہے، اس خلیج کو پاٹنے میں کئی دہائیاں درکار ہوں گی جبکہ ابھی بھی پاٹنے والا کوئی نہیں، بڑھانے والے بہت ہیں۔ یہ بات سب سے زیادہ مسلمانوں کے حق میں گھاتک ہے کیوں کہ ان کا حریف اکثریت میں ہے، مضبوط ہے، مسلح ہے اور یہ اقلیت میں ہونے کے ساتھ کمزور بھی ہیں اور نہتے بھی، غیر منظم بھی ہیں اور غیر تربیت یافتہ بھی، حالات ناآشنا بھی ہیں اور جذباتی بھی۔ یعنی خدا نخواستہ اگر حالات دیگرگوں ہو جائیں تو ان کے پاس سلیقے کی چوبیں بھی دستیاب نہ ہوں گی اور زخم خوردنی کے علاوہ ان کے پاس کوئی آپشن نہیں ہو گا۔

(9) ملک کی جمہوریت پر ایک شرم ناک داغ یہاں کے میڈیا ہاؤسز کا بک جانا ہے۔ حالیہ دنوں میں وائرل کوبرا پوسٹ نے جس طرح میڈیا ہاؤسز کے بکنے کی صورتِ حال پیش کی، انتہائی تشویش ناک ہے۔

(10) آسام کے لاکھوں لوگوں کو جس طرح غیر ہندوستانی قرار دیا گیا ہے، تاریخ میں نادرِ مثال ہے۔ اس نازک گھڑی میں ان بے سہاروں کا سہارا بننا نہ صرف ہمارا انسانی اور اخلاقی فرض ہے بلکہ ہندوستان کی کئی دہائیاں پرانی دوستی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوں اور ان کے حق کے لیے قانونی چارہ جوئی کرنے سے مایوس نہ ہوں۔

(11) ہمارے خلاف لو جہاد ہو رہا ہے۔ چند سال قبل مسلم نوجوانوں کے خلاف ایک ہوا بنائی گئی کہ یہ لو جہاد کرتے ہیں یعنی دوسرے مذہب کی عورتوں کو اپنی محبتوں کا اسیر بنا کر ان سے شادی رچاتے ہیں اور یہ ان کا جہاد ہے، دراصل وہ ایک ماحول سازی تھی جس کا مقصد مسلم عورتوں کے خلاف دفاع کے نام پر ایک مورچہ کھولنا تھا۔ یہ کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ آزاد بھارت میں چند غنڈوں نے میڈیا میں منہ بھر بھر کے بیانات دیے: ہم مسلم عورتوں کو اپنے دامِ فریب میں لانے کے لیے محبت کے پانسے ڈالیں گے اور ایسا کرنے والے اپنے نوجوانوں کو جان و مال کا تحفظ دیں گے۔ یہ بیان اب زمین پر اتر چکا ہے لیکن شکوہ تو ان غیرت سے محروم مسلمانوں سے ہونا چاہیے جنہوں نے ایسے زہریلے بیانات پڑھے بھی اور سنے بھی لیکن گھروں میں جوان بہو، بیٹیوں کے ہوتے ہوئے آج تک پردہ داری کا ماحول نہیں بنایا اور اب آئے دن کھلی رسوائیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ وہ خطرناک زہر ہے جو نسلوں میں سرایت کر گیا تو اس کا اثر ختم کرتے صدیاں لگیں گی۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!