| عنوان: | خلافتِ راشدہ میں ظاہری اور باطنی کی تقسیم: رافضیت کا چور دروازہ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی فداء المصطفیٰ قادری مصباحی، اتر دیناج پور، بنگال |
خلافتِ راشدہ بلاشبہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابتِ مطلقہ ہے۔ یعنی ہر خلیفۂ راشد اپنے عہد میں جس طرح ظاہری امور میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب تھے، بعینہٖ اسی طرح باطنی امور میں بھی آپ کے نائب و خلیفہ تھے۔ جس طرح وہ اسلامی سلطنت کے ظاہری نظام کے حاکم تھے، اسی طرح روحانی و باطنی نظام کے بھی امین و نگہبان تھے۔
یہ سلسلہ اس وقت تک برقرار رہا جب تک خلافتِ راشدہ اپنی اصل ہیئت پر قائم رہی۔ لیکن جونہی خلافت، ملوکیت میں تبدیل ہوئی تو ظاہری اور باطنی قیادت ایک دوسرے سے جدا ہو گئی۔ خلیفۂ ظاہر نے ریاست اور معاشرے کے ظاہری امور سنبھال لیے، جبکہ خلیفۂ باطن پر امت کی روحانی تربیت، ولایت اور باطنی رہنمائی کی ذمہ داری آ گئی۔
اس تقسیم کے بعد بلاشبہ خلیفۂ باطن، خلفائے ظواہر سے درجے میں افضل قرار پاتے ہیں؛ کیونکہ ان کی خلافت، خلافتِ ولایت و روحانیت تھی، جبکہ خلفائے ظواہر کی حکومت، خلافتِ راشدہ نہیں بلکہ ملوکیت و سلطنت تھی۔ اگرچہ ان کے ادوار میں اسلام کا ظاہری نظام باقی تھا، لیکن خلافتِ راشدہ کی وہ جامع حیثیت برقرار نہ رہی جس میں ظاہر و باطن دونوں یکجا تھے۔ اس دور میں امت کی حقیقی روحانی رہنمائی ان نفوسِ قدسیہ کے سپرد ہوئی جنہیں خلافتِ باطن عطا ہوئی تھی۔
اسی بنا پر صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ جس طرح سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ امت کے پہلے خلیفۂ راشد ہوئے، اسی طرح آپ ہی امت میں سب سے پہلے مقامِ غوثیتِ کبریٰ پر بھی فائز ہوئے۔ یعنی ظاہری اور باطنی دونوں سلطنتیں آپ ہی کے سپرد ہوئیں۔
چونکہ ہر غوث کے دو وزیر ہوتے ہیں، اس لیے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھی دو وزراء تھے: وزیرِ چپ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور وزیرِ راست سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ پھر جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسندِ خلافت پر متمکن ہوئے تو مقامِ غوثیتِ کبریٰ بھی آپ ہی کے سپرد ہوا، اور آپ کے دو وزراء حضرت عثمان غنی اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہوئے۔ علیٰ ہذا القیاس یہ سلسلہ حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت تک جاری رہا۔
جب حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خلافت سے دست برداری فرمائی تو خلافتِ راشدہ کی مقررہ مدت مکمل ہو گئی، اور اس کے بعد ملوکیت کا آغاز ہوا۔ اسی مرحلے پر اللہ رب العزت نے خلافتِ باطن، یعنی مقامِ غوثیتِ کبریٰ، کو خلافتِ ظاہر سے جدا فرما دیا، اور یہ منصب اہلِ بیتِ اطہار کے سپرد ہو گیا۔
چنانچہ یہ خلافتِ باطن حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت امام حسین، پھر حضرت امام زین العابدین، حضرت امام محمد باقر، حضرت امام جعفر صادق، حضرت امام موسیٰ کاظم، حضرت امام علی رضا، حضرت امام محمد تقی، حضرت امام علی نقی اور حضرت امام حسن عسکری رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین تک منتقل ہوتی رہی۔ پھر حضرت امام حسن عسکری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد یہ عظیم منصب سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطا ہوا، اور آپ کے بعد قربِ قیامت میں یہی منصب سیدنا امام مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سپرد ہوگا۔
مذکورہ بالا تفصیل سے واضح ہو گیا کہ خلافتِ ظاہر اور خلافتِ باطن، خلافتِ راشدہ کے پورے دور میں ایک ہی شخصیت کے پاس جمع تھیں، اور حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد یہ دونوں منصب الگ ہو گئے۔
لہٰذا اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ صرف ظاہری یا سیاسی خلیفہ تھے، جیسا کہ آج کل بعض نام نہاد محققین اور بیمار ذہنیت رکھنے والے ڈاکٹروں کی نوپید جماعت کا دعویٰ ہے، تو یہ محض ایک دعویٰ بلا دلیل ہے۔ بلکہ یہ شریعتِ محمدیہ پر افتراء اور درپردہ روافض کے موقف کو تقویت پہنچانے کی ایک مذموم کوشش ہے۔
کیونکہ بہت سے روافض بھی یہی نظریہ پیش کرتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک جو خلافت رہی، وہ صرف سیاسی خلافت تھی، جبکہ حقیقی، روحانی اور خلافتِ کبریٰ ہمیشہ سے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھی، اور آپ کے بعد آپ کی اولاد میں منتقل ہوتی رہی۔
لہٰذا آج اگر کوئی شخص اسی نظریے کی علم برداری کرتا ہے، خواہ وہ اپنے آپ کو اہلِ سنت سے کہلائے یا اہلِ بیت سے، بلاشبہ وہ تفضیلی و رافضی فکر کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے اور اہلِ سنت کے اندر رافضیت کا ایک چور دروازہ کھول رہا ہے۔ ایسے ملت فروش عناصر کی بروقت گرفت ہونی چاہیے اور اہلِ سنت کی عوام کو ان کے افکار و نظریات سے باخبر کرنا ضروری ہے، تاکہ امت اس فکری انتشار اور عقیدے کی اس تحریف سے محفوظ رہ سکے۔ (جاری)
