| عنوان: | حالات اور خیالات |
|---|---|
| تحریر: | مولانا ابو رجب محمد آصف عطاری مدنی |
| پیش کش: | فاطمہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
ایک مضبوط جسامت کا دراز قد شخص کہیں جا رہا تھا۔ ایسے میں کسی نے پیچھے سے اس کے ٹخنوں پر لاٹھی ماری۔ اس کی حالت بری ہو گئی وہ یہ خیال کر کے آگ بگولہ ہو گیا کہ یہ جرأت کس احمق نے کی ہے، وہ گھونسا تانے پیچھے کی طرف مڑا لیکن یہ دیکھ کر اس کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا کہ اس کے پیچھے ایک اندھا شخص تھا جو اپنی لاٹھی کی مدد سے راستہ ٹٹول کر چل رہا تھا اسی دوران اس کی لاٹھی پہلوان نما شخص کے ٹخنوں سے جا لگی تھی۔
آپ نے دیکھا کہ کس طرح لاٹھی لگنے نے لمبے چوڑے شخص کی حالت تبدیل کر دی جس سے اس کے خیالات مشتعل ہوئے لیکن جب اس نے لاٹھی مارنے والے کو اندھا پایا تو اس کے خیالات تبدیل ہو گئے جس سے اس کی جسمانی و ذہنی حالت بھی تبدیل ہو گئی۔ یقیناً حالات اور خیالات دونوں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ حالات بدلنے کے ساتھ خیالات بدل جاتے ہیں اور خیالات بدل لیے جائیں تو حالات بدل جاتے ہیں کیونکہ خیال ہی عمل کو جنم دیتا ہے، ہم جو سوچتے ہیں، وہی کرتے ہیں۔ جیسے کسی کی ملازمت یا کاروبار ختم ہو جائے اور آمدنی کا متبادل ذریعہ نہ بن سکے تو وہ پریشان خیالی کا شکار ہو جاتا ہے کہ گھر کا کرایہ، گیس بجلی کے بل، بچوں کی فیس کیسے ادا ہوگی؟ گھر کا راشن کہاں سے آئے گا؟ یہ خیالات اس کی ذہنی و جسمانی حالت کو کمزور کر دیتے ہیں، وہ خود کو ناکام شخص سمجھنے لگتا ہے۔ اگر یہی شخص اپنے خیالات تبدیل کر لے کہ ایک در بند ہوتا ہے تو 100 در کھل جاتے ہیں، محنت، کوشش اور لگن سے اپنے حالات بدل سکتا ہوں اور دعا کو اپنا ہتھیار بنائے، نیت پر خلوص رکھے، اللہ پر توکل رکھے، اسی سے کامیابی کی امید رکھے، مرضی کا کام یا معاوضہ نہیں ملتا تو فی الحال جو کام اور معاوضہ ملے اسی کو قبول کر لے اور مزید کی کوشش جاری رکھے تو ان شاء اللہ اس کے حالات بدلنا شروع ہو جائیں گے۔
قارئین! جو لوگ اپنے حالات تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئے پہلے انہوں نے اپنے خیالات بدلے پھر عملی قدم اٹھائے۔ بہت سے لوگ پہلے غربت کی چکی میں پس رہے تھے لیکن آج خوشحال ہیں۔ اگر آپ بھی اپنے حالات بدلنا چاہتے ہیں تو اپنے خیالات بدل کر دیکھیے۔ حالات مختلف قسم کے ہوتے ہیں، چنانچہ سب سے پہلے یہ دیکھ لیجیے کہ آپ اپنے کس نوعیت کے حالات کو بدلنا چاہتے ہیں، دنیوی یا اخروی؟ یہ دنیا عارضی ختم ہو جانے والی اور آخرت پائیدار اور کبھی ختم نہ ہونے والی ہے، اس لیے ہمیں اخروی زندگی کی بہتری کو ترجیح دینی چاہیے۔ بہت سے نوجوان اللہ اور رسول کی نافرمانی والے کاموں میں مصروف تھے آج لوگ ان کے نیک ہونے کی گواہی دیتے ہیں ان سے دعا کرواتے ہیں۔ ایسی سوچ رکھنے والوں کو رحمتِ الٰہی اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ چنانچہ بنی اسرائیل کا ایک شخص جس نے 99 قتل کیے تھے ایک راہب کے پاس پہنچا اور پوچھا: کیا میرے جیسے مجرم کے لیے کوئی توبہ کی گنجائش ہے؟ راہب نے اسے مایوس کر دیا تو اُس نے راہب کو بھی قتل کر ڈالا۔ مگر پھر نادم ہو کر توبہ کا طریقہ لوگوں سے پوچھتا پھرا۔ آخر کسی نے کہا کہ فلاں قصبہ میں چلے جاؤ (وہاں اللہ کا ایک ولی ہے وہ تمہاری رہنمائی کرے گا)۔ چنانچہ وہ اُس کی طرف چل دیا مگر راستے میں بیمار ہو گیا۔ جب قریبِ المَرْگ ہوا تو اس نے اپنا سینہ اُس قصبہ کی طرف کر دیا اور فوت ہو گیا۔ اب اس کو لے جانے کے بارے میں رَحمت و عذاب کے فرشتوں میں اختلاف ہوا۔ اللہ پاک نے میّت اور قصبہ کے درمیان والے حصّۂ زمین کو سمٹ کر میّت کے قریب ہو جانے کا حُکم فرمایا اور جدھر سے وہ چلا تھا اور جہاں پہنچ کر فوت ہوا تھا اُس درمیانی فاصلے کو مزید طویل ہو جانے کا حُکم فرمایا۔ پھر پیمائش کا حُکم فرمایا تو وہ جس قصبہ کی طرف جا رہا تھا اُس سے ایک بالِشت قریب پایا گیا اور اللہ کریم نے اُس کی مغفرت فرما دی۔ (بخاری، 2/466، حدیث: 3470)
خیالات بدلنے کے طریقے
-
اچھی صحبت اختیار کیجیے: رحمتِ عالمیان صلَّی اللہ علیہ والہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اچھے اور برے مصاحب کی مثال، مُشک اٹھانے والے اور بھٹی جھونکنے والے کی طرح ہے، کستوری اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی، جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی۔ (مسلم، ص 1084، حدیث: 6692)
-
مطالعہ کیجیے: اچھی کتابوں کا مطالعہ کیجیے کیونکہ یہ بہترین رفیق ہیں جو جہالت کے اندھیرے مٹا کر علم کی روشنی پھیلاتی ہیں۔
-
غور و فکر کیجیے: مثبت نتائج کے لیے غور و فکر کیجیے۔ غیر ضروری سوچوں سے پیچھا چھڑائیے کیونکہ ہمارا ذہن زمین کی طرح ہوتا ہے۔ اگر ہم نے اس میں اناج یا پھل نہ اگائے تو اس میں بے کار جھاڑیاں اور گھاس پھونس اگنے لگے گا۔
-
اپنے خیالات کو مثبت رکھیے: مثبت خیالات پُر سکون اور کامیاب زندگی کا باعث بنتے ہیں۔ جبکہ منفی خیالات مایوسی اور سستی پیدا کرتے ہیں، وسوسوں کا شکار کرتے ہیں بعض اوقات خود کشی تک لے جاتے ہیں۔ منفی خیالات بھی حالات بدل تو دیتے ہیں لیکن انجام بہت برا ہوتا ہے۔
-
تصوراتی مشق کیجیے: تصوراتی مشق کے ذریعے خیالات کو تبدیل کیجیے، مثلاً مسلسل ناکام ہونے والے اسٹوڈنٹ کے پہلے خیالات یہ ہوتے ہیں کہ میں ایک کمزور اسٹوڈنٹ ہوں، میں آسان سا سبق بھی نہیں سمجھ سکتا، اس لیے میں امتحان میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہی اسٹوڈنٹ اگر اپنے خیالات تبدیل کر لے کہ دوسرے طلبہ کی طرح اللہ پاک نے مجھے بھی صلاحیتیں دی ہیں اگر میں بھی محنت اور لگن سے پڑھوں تو کامیابی کی منزل تک پہنچ سکتا ہوں۔ ان خیالات کے تحت وہ ایک کامیاب اسٹوڈنٹ بن گیا۔
طویل عرصے تک بے روزگار رہنے والے کے پرانے خیالات کچھ یوں ہوتے ہیں کہ سب کو نوکریاں مل جاتی ہیں لیکن مجھے ریجیکٹ کر دیا جاتا ہے۔ اب میں کہیں انٹرویو دینے نہیں جاؤں گا۔ پھر اس کے خیالات تبدیل ہوئے کہ مجھے اپنی صلاحیتوں کو جدید زمانے کے مطابق بہتر کرنا چاہیے، نوکری دینے والے جو تقاضا کرتے ہیں مجھے ویسا بننا چاہیے۔ اپنے بدلے ہوئے خیالات کے مطابق اس نے نئے کورس کیے، نیٹ ورک بنایا، اپنی CV کو بہتر بنایا اور ایک اچھی جاب حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
اسی طرح طویل بیماری کاٹنے والا، کاروبار میں ناکام رہنے والا اور گھریلو جھگڑوں کا شکار رہنے والا شخص بھی اپنے خیالات تبدیل کر کے حالات تبدیل کر سکتا ہے۔
