Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

تاثراتِ علمائے اہلِ سنت

تاثراتِ علمائے اہلِ سنت
عنوان: تاثراتِ علمائے اہلِ سنت
تحریر: مولانا جنید احمد مصباحی
پیش کش: عرشیہ بانو عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

حضرت مفتی عبدالرحیم اکبری، صدر المدرسین، جامعہ صدیقیہ، سوجاشریف، راجستھان

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم۔ مجلسِ شرعی، جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے ۲۳ ویں فقہی سیمینار کی کامیابی نہ صرف طلبہ و اساتذہ اور اراکین بلکہ تمام مندوبین و شرکاء کے لیے صدہا خوشیوں کی باعث ہے، اس وقت بحمدہ تعالیٰ اہلِ سنت و جماعت میں اشرفیہ کو وہ امتیازی شان حاصل ہے جس کی مثال کمیاب ہے۔ علامہ ارشد القادری نے افسوس کے ساتھ لکھا تھا کہ کاش اداروں کے ذمہ داران شعبہ افتاء کو ذیلی درجہ نہ دے کر مستقل شعبہ بناتے جس سے اہلِ سنت و جماعت کو بڑی قوت و طاقت ملتی۔ الحمد للہ مجلسِ شرعی آج اپنے فقہی سیمینار سے ان کی روح پر فتوح کو خوش کر رہی ہے، جس کے ذریعہ نہ صرف یہاں کے طلبہ و اساتذہ بلکہ پورے ملک کے علماء کی تربیت کی جا رہی ہے۔

یہ ناچیز بانی جامعہ صدیقیہ سوجاشریف حضور پیرِ طریقت علامہ الحاج سید غلام حسین شاہ جیلانی مدظلہ العالی کے حکم سے تین سال سے سیمینار میں حاضری دے رہا ہے، سوجاشریف کے اساتذہ مقالات کے مواد جمع کرنے میں شامل رہتے ہیں، جس سے شوق و مطالعہ کو مہمیز لگتی ہے، جمود و تعطل ختم ہوتا ہے وہیں انہیں سیمینار کے فیصلوں کا شدت سے انتظار رہتا ہے، فیصلہ دیکھ کر اپنی اصلاح کرنے اور آئندہ احتیاط برتنے کے لیے مستعد ہوتے ہیں۔ بحث و تمحیص کے مابین دیکھا کہ کسی سے خطا بھی ہو جاتی ہے تو ایسی اصلاح اس طرح سے کر دی جاتی ہے کہ نہ تو اس کے دل کو ٹھیس پہنچتی ہے اور نہ ہی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور آئندہ کے لیے اصلاح بھی ہو جاتی ہے۔

جامعہ اشرفیہ کی تعلیم کی دھوم ہر جگہ مچی ہوئی ہے اور دیگر تمام ادارے مصباحی مدرسین رکھ کر فخر محسوس کرتے ہیں، مگر یہاں اگر دو سال سے دیکھا کہ نہ صرف تعلیم بلکہ تربیت پر بھی مکمل توجہ ہے۔ طلبہ کی پانچ گانہ نماز کی پابندی اور ادب و احترام، شور و غل سے پرہیز، راہ چلتے ہر ایک کو سلام، ان امور نے اس احقر کو بے پناہ مسرور کیا اور اسے محض اور محض فیضانِ حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ والرضوان سمجھا۔

اس تصور سے بھی لطف آتا ہے کہ الحمد للہ صدیقیہ و اکبری علماء جنہوں نے خاندانِ لونی شریف سے فیض پایا، محدثِ اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد رحمہ اللہ تعالیٰ صاحب کے شاگرد علامہ عبدالحق ذیشانی شاگرد ہیں اور مصباحی علماء کو حضور حافظ ملت رحمہ اللہ تعالیٰ کی شاگردی کا شرف حاصل ہے اور یہ دونوں بزرگ حضور صدر الشریعہ کے پروردہ ہیں۔ مولا تعالیٰ اس روحانی رشتے کو مزید بار آور کرے اور ترقی بخشے۔ آمین۔ آخر میں جامعہ کے طلبہ و اساتذہ خصوصاً حضور سرکار علامہ سید غلام حسین شاہ جیلانی کی جانب سے تمام اراکین، اساتذہ، مندوبین اور شرکاء کو سلام عرض ہے۔ فقط والسلام

حضرت مفتی عبد المنان کلیمی، مراد آباد

مجلسِ شرعی جامعہ اشرفیہ مبارک پور کا یہ فقہی سیمینار سیدی و مرشدی جلالۃ العلم حضور حافظ ملت کے خواب کی تعبیر ہے۔ میں اس موقع پر شارح بخاری حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ کو بھی یاد کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جن کی کدو کاوش سے یہ سیمینار آج تک منعقد ہو رہا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ حضرت علامہ محمد احمد مصباحی فاضلِ جلیل حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین رضوی مصباحی اور ان کے رفقاء احباب نے مل کر اس حسین خواب کی تعبیر کو قوم و ملت اور جماعت اہلِ سنت کے درمیان پیش کیا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ وقت کی اہم ضرورت تھی، جس کو مجلسِ شرعی کے پلیٹ فارم سے الجامعۃ الاشرفیہ پیش کر رہا ہے اور اس کی سرپرستی حضرت عزیز ملت قبلہ فرمارہے ہیں جو شاہِ زادہ حضور حافظ ملت اور الجامعۃ الاشرفیہ کے سربراہ ہیں۔ بلا شبہ اس وقت وہ جماعت اہلِ سنت کی آبرو ہیں۔ ہماری طرف سے ان بزرگوں کی بارگاہ میں خراج عقیدت و محبت پیش ہے اور جہاں اور لوگ اس محفل سے اکتساب فیض کر رہے ہیں، یہ ناچیز بھی اس سے اکتساب فیض کر رہا ہے۔ وما علینا الا البلاغ۔

حضرت مولانا منظور احمد خاں عزیزی، سلطان پور

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم۔ الجامعۃ الاشرفیہ میں مجلسِ شرعی کا قیام جلالۃ العلم مرشد گرامی حضور حافظ ملت کے فیوض و برکات کا نتیجہ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ایسا صاحبِ زادہ اور سجادہ عطا فرمایا کہ ویسے تو بہت سے لوگ بڑے باپ کے بیٹے ہیں، لیکن عزیزِ ملت شاہ زادہ حافظ ملت لوگوں میں منفرد اور ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے اقبال نے کہا تھا: "یقیناً جو پسر باپ کی میراث کا صحیح مستحق ہوتا ہے، اس کے یہی اوصاف ہوتے ہیں۔"

حضرت مولانا فیض الحق اعظمی، صدر المدرسین مدرسہ فیض العلوم، محمد آباد، مئو

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم۔ حضرات علمائے کرام و طالبانِ علومِ نبوت، یہ فقہی سیمینار ہے جس کی بحثیں یہاں پر علمائے کرام سے سنیں اور طلبہ نے بھی ان کو بڑی دل چسپی کے ساتھ سماعت فرمایا۔ یہ صرف اس زمانے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ یہ ہر زمانے کی ضرورت ہے اور امامِ اعظم رضی اللہ عنہ نے فقہاء کی ایک ٹیم بنا کر ہمیں یہ درس دیا کہ نوازل و حوادث یعنی پیش آنے والے مسائل کے تعلق سے ہر دم اور ہر موقع پر سیمینار ہوا۔ قرآن مجید میں ہر خشک و تر کا علم موجود ہے اور حضور ﷺ نے اس کو بیان فرما دیا ہے، لیکن قرآن مجید سے اس کو نکالنا، احادیث سے اس کو اخذ کرنا اور فقہائے کرام نے اس سے جو استنباط کیا ہے اس اصول سے منطبق کرنا، یہ ہمارے اوپر لازم و ضروری ہے۔ سرکار نے ارشاد فرمایا: الحلال بین والحرام بین و بینہما مشتبہات، حلال ظاہر ہے، حرام ظاہر ہے اور ان کے درمیان جو مشتبہ چیزیں ہیں ان کو اکثر لوگ نہیں جانتے۔

زمانہ ترقی کر رہا ہے، لوگ اپنے مفاد کے لیے طرح طرح کے کاروبار، طرح طرح کی مصنوعات مارکیٹ میں لا رہے ہیں۔ عوام اس کو حلال سمجھ کر بے دریغ اس میں پڑے چلے جا رہے ہیں۔ ہم علماء پر یہ فرض ہے کہ ہم ان کو حلال و حرام بتائیں، اس میں کوتاہی یا جو بھی مسئلہ سامنے آئے، یہ نہیں کہ ہم اپنے گھر بیٹھتے رہیں، کہ ہم تک آئے گا تو ہم دیکھیں گے۔ بلکہ امتِ مسلمہ کی صحیح خیر خواہی یہ ہے کہ ہم ہر نئے پیش آنے والے مسئلے کو دیکھیں اور پھر اس کو صحیح اصول و ضوابط سے منطبق کر کے اس کے حرام و حلال کو عوام الناس تک پہنچائیں، سرکار کو اپنی امت کی خیر خواہی سب سے زیادہ عزیز تھی۔

مجلسِ شرعی الجامعۃ الاشرفیہ کے تحت جو سیمینار ہو رہے ہیں ان کے ذریعہ امتِ مسلمہ کی صحیح رہ نمائی ہو رہی ہے اور بہت سے پیچیدہ مسائل حل ہو رہے ہیں، میں بھی اس سیمینار کی محفل میں علما کی بحثیں سن کر استفادہ کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دارین کی سعادتوں سے نوازے اور علمائے اہلِ سنت کی محنتوں کو قبول فرمائے۔ آمین۔

حضرت مولانا نصیر احمد صاحب قبلہ مصباحی، استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ حضرات جامعہ اشرفیہ کا یہ تئیسواں فقہی سیمینار ہے جس میں ہم اور آپ موجود ہیں۔ بہت پہلے سے ان سیمیناروں کے ذریعہ بہت اہم اور مشکل مسائل حل ہوتے ہیں اور اس سے ہم سب کو فائدہ ہوتا ہے اور عوام کو بھی اس سے بہت فائدہ پہنچتا ہے اس لیے ہماری دلی خواہش ہے کہ جامعہ اشرفیہ کا یہ فقہی سیمینار ہمیشہ اسی طرح منعقد ہوتا رہے اور آپ حضرات اس میں تشریف لائیں اور اپنے علمی شہ پاروں سے ہم سب کو مستفیض ہونے کا موقع عنایت فرمائیں۔ اللہ سب کو دارین کی سعادتوں سے شادکام فرمائے۔

حضرت مولانا نسیم احمد قادری گھوسی

اس سیمینار میں شریک ہو کر مجھے بڑی خوشی ہوئی اور یہاں کی گفتگو سے میں محظوظ ہوا۔ آپ حضرات بہت ہی قابلِ قدر ہیں اس لیے کہ وقت اور حالات کے تقاضے کے مطابق آپ حضرات تحقیق کر کے مسائل کا حل نکالتے ہیں۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔ اپنے طلبہ سے میں یہی امید رکھوں گا کہ وہ بھی آئندہ اس کے لیے تیار ہو جائیں۔

حضرت مولانا محمد عبد المہین نعمانی، مہتمم دار العلوم قادریہ چریا کوٹ، مئو

نحمدہ و نصلی علی حبیبہ الکریم۔ اما بعد! اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء۔ برادرانِ اسلام، اکابر علماء، عزیز طلبہ، اساتذہ، یہ کوئی کہنے کی بات نہیں ہے کہ اس فقہی سیمینار کی کیا اہمیت ہے۔ اس سے پوری قوم کو تو فائدہ پہنچتا ہی ہے، علمائے کرام اور طلبائے عظام کو جو فائدہ پہنچتا ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔ کوئی کتنا ہی بڑا قابل ہو، جب ایسی محفلوں میں بیٹھتا ہے تو یقیناً اس کے سامنے نئے گوشے آتے ہیں۔ سال بھر کے مطالعے اور تحقیق میں جو باتیں سامنے نہیں آتیں ان سے کہیں زیادہ فوائد ان چند محفلوں میں حاصل ہو جاتے ہیں اور ان ہی سیمیناروں کے فیض سے ہم لوگوں کو بہتر سے بہتر جواب دینے میں کامیابی ہو جاتے ہیں۔

بہت سی باتیں جو گہرے مطالعے کے بعد حاصل ہوتی ہیں، یہاں بہت آسانی سے حاصل ہو جاتی ہیں۔ نئے مسائل پر جو فیصلے ہوتے ہیں قوم اسے تسلیم کرتی ہے۔ کچھ لوگ تو ضدی اور ہٹ دھرم ہوتے ہیں وہ حرام و حلال کی تمیز سے بے پروا ہوتے ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق عمل کرتے ہیں، لیکن کثیر تعداد اہلِ ایمان کی آج بھی ایسی ہے کہ ان فیصلوں سے ان کو خوشی ہوتی ہے اور وہ ان فیصلوں سے اپنے عمل کی اصلاح کرتے ہیں۔ گویا اصلاحِ معاشرہ کی یہ بہت بڑی کوشش ہے۔ ہمیں وقار، ادب، سفید گی کا دامن بہرحال تھامے رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اس سیمینار کے فیوض و برکات سے ہمیں اور پوری قوم کو متمتع فرمائے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین۔

حضرت علامہ یسین اختر مصباحی بانی و مہتمم، دار القلم، دہلی

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم۔ مجلسِ شرعی مبارک پور کا یہ تئیسواں فقہی سیمینار بحسن و خوبی انجام پذیر ہوا، متعدد مسائل سہ روزہ سیمینار میں بحث و تحقیق کے بعد حل کیے گئے، اس کے لیے مجلسِ شرعی مبارک پور کے سرپرست، صدر، ناظم اور جملہ مندوبین کرام پوری ملت و جماعت کی طرف سے مستحقِ تبریک و مبارک باد ہیں۔ میرا وجدان کہہ رہا ہے کہ حافظ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کی روح مبارک سے سرشار ہو رہی ہوگی کہ میرا لگایا ہوا باغ پھل پھول رہا ہے اور حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان کی روح مبارک بھی خوشی سے جھوم رہی ہوگی کہ میں نے اپنے ایک شاگرد حافظ عبدالعزیز کو جس خدمت کے لیے مامور کیا تھا وہ خدمت ہر لحاظ سے انجام دی جارہی ہے اور فقہی اعتبار سے بھی میری وراثت یہاں کے فضلاء اور علماء ان کے ذریعہ سے دوسرے حضرات تک منتقل ہو رہی ہے۔ یہیں تک نہیں بلکہ امام ابو حنیفہ ہند امام احمد رضا قادری بریلوی کی روحِ مبارک بھی خوش ہو رہی ہوگی کہ جو میرے ماننے والے اساتذہ و اکابر فقہ کی خدمت کر رہے ہیں اور میرا فقہی شاہکار اردو زبان میں فتاویٰ رضویہ اور عربی زبان میں جلد الممتاز جنہوں نے شائع کرکے دنیا میں عام کیا، انہوں نے اس کی صرف نشر و اشاعت ہی نہیں بلکہ دنیا کو اس کا مطلب بھی سمجھایا اور بتایا اور سمجھا رہے ہیں اور آگے نظر جاتی ہے تو سراج الامۃ کاشف الغمہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی روح مبارک بھی مسرت سے سرشار ہوگی کہ میرے مدون اور مرتب کیے ہوئے فقہ حنفی کی کتنی عظیم خدمت انجام دی جارہی ہے اور میں نے جو طریقہ وضع کیا تھا مسائل کے استنباط و استخراج کے سلسلے میں کہ اختتامی طور پر بیٹھ کر کوئی فیصلہ لیا جائے وہ آج بھی زندہ ہے۔ آپ حضرات کو معلوم ہوگا کہ تقریباً چالیس تلامذہ کا نامِ عظیم کسی مسئلہ کی تحقیق فرماتے تھے اور کسی نتیجے تک پہنچتے تھے۔

ہم مقلد ہیں اجتہاد تو نہیں کر سکتے، مگر تحقیق مسائل کی اجازت ہے تو تحقیق مسائل کا بھی کام اور خدمت یہاں انجام دی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں فتاویٰ رضویہ جلد اول میں اعلیٰ حضرت کا جو بہت جامع مانع رسالہ ہے اعلیٰ الاعلام، میرا حسنِ ظن ہے کہ آپ سب نے اس کا مطالعہ کیا ہوگا، یا پیش کرنے اور اگر کوئی چھوٹ گیا ہو تو اگلے سیمینار تک باضابطہ اس کا مطالعہ کرلے گا۔

تحقیقِ احکام کے ساتھ ساتھ تبدیلیِ احکام کا بھی اس میں ذکر ہے، اصول فقہ کے طور پر، بے شمار مسائل ایسے ہوتے ہیں کہ حالات و ظروف کے اعتبار سے کسی حاجت و ضرورت اور تبدیلیِ علت کی وجہ سے ان کے احکام میں تبدیلی ہو جاتی ہے تو تحقیقِ مسائل ہو یا تبدیلیِ احکام و مسائل، یہ خدمت بھی انجام دی جارہی ہے۔ اور یہ خدمات اصولِ فقہ اور فتاویٰ رضویہ کے مطابق ہیں، زیادہ گفتگو نہ کرکے میں ایک آخری بات کہوں گا کہ الحمد للہ یہ طلبہ جو بڑے ذوق و شوق کے ساتھ سیمینار کی بحث و تحقیق کو سن رہے ہیں، یہ اپنی زبانِ حال سے اپنے اس جذبے کا اظہار کر رہے ہیں کہ انشاء اللہ آپ سب حضرات کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ہم بھی اپنے آنے والے دور میں یہی خدمت انجام دیں گے یعنی صاف و صریح الفاظ میں کہا جائے تو یہ ہم آپ کو یقین دلارہے ہیں کہ جو پرچم آپ حضرات نے اٹھایا ہے، ہم اسے جھکنے نہیں دیں گے اور جیسے جیسے آپ حضرات کی جگہ خالی ہوتی جائے گی ہم آپ کی جگہ پر کرتے جائیں گے۔ اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو اور انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین۔

حضرت مولانا محمد ادریس بستوی، نائب ناظم جامعہ اشرفیہ، مبارک پور

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم۔ حضورِ عزیزِ ملت اور یہاں تشریف فرما علمائے ملتِ اسلامیہ، یہ تئیسواں فقہی سیمینار بحسن و خوبی انجام پذیر ہوا، شاید کچھ لوگوں کو اس احساس ہے کہ جتنے نئے مسائل آپ حل کرتے ہیں ان سے کئی گنا زیادہ مسائل ہاتھ بندھے آپ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ موجودہ دور میں بہت سارے مسائل آپ کے سامنے ہیں جن کا فقہی جواب آپ کو تلاش کرنا ہے، اس لیے جتنی بھی آپ نے کوشش کی اور مسائل حل کیے اس کے لیے آپ سب لائقِ مبارک باد ہیں، مگر ضرورت کا احساس کرتے ہوئے مسائل کا جو انبار اس وقت لگتا جا رہا ہے اسی کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اللہ نے جو صلاحیتیں آپ حضرات کو عطا فرمائی ہیں، اگر ان کو بروئے کار لائیں تو سال میں جو مسائل آتے ہیں اور ماضی کے جو مسائل اب تک حل نہیں ہو سکے ہیں وہ بھی اللہ کے کرم سے حل ہو سکتے ہیں، اس لیے میری مودبانہ گزارش یہ ہے کہ آپ صرف تین دن نہیں بلکہ پورے سال ایک گھنٹہ، آدھا گھنٹہ اور موقع ملے تو کبھی پورا دن ان مسائل پر غور کرتے رہیں، ان کو قلم بند کرتے رہیں تاکہ قوم کی رہ نمائی ہو سکے۔

الحمد للہ الجامعۃ الاشرفیہ کا ہر قدم پورے استحکام کے ساتھ اٹھتا ہے، اس کے جو شعبے ہیں وہ ترقی کی طرف گام زن ہیں اور اس کے فقہی سیمینار نے تو صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں دھوم مچا رکھی ہے۔ کیا آپ کے لیے یہ خوش آئند بات نہیں ہے کہ یہ فقہی سیمینار وسیع تر ہوتا جا رہا ہے تاکہ امتِ مسلمہ کی صحیح رہ نمائی ہو سکے۔ یہاں کا ادنیٰ خادم ہونے کی حیثیت سے میں بھی تمام مہمانوں کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین۔

مرشدِ طریقت حضرت عزیز ملت علامہ عبد الحفیظ عزیزی دام ظلہ، سربراہِ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم۔ نہایت خوشی و مسرت کا موقع ہے کہ ۲۳ واں فقہی سیمینار بڑی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ آپ حضرات کی تشریف آوری ہمارے لیے باعثِ مسرت ہے۔ ہم آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے ہماری دعوتِ قبول کی اور یہاں آکر ہمارے حوصلوں کو قوت بخشی۔ مل بیٹھ کر کوئی کام ہوتا ہے تو اس سے قوت حاصل ہوتی ہے۔ یہ ہمارے بزرگوں کا بھی دستور رہا ہے۔ فقہی سیمینار جن مقاصد کے لیے بھی منعقد ہوتا ہے ان میں ہم لوگوں کو کافی حد تک کامیابی حاصل ہوتی ہے اور انشاء اللہ ہوتی رہے گی۔ یہ کام آپ کے تعاون کے بغیر نہایت مشکل تھا، ہم اللہ کی بارگاہ میں مانگی ہیں کہ اللہ آپ کے علم میں برکت عطا فرمائے اور جزائے خیر بھی دے۔

حالاتِ حاضرہ کے تعلق سے آپ نے ہمارے صدرِ محترم سے ساعت کر ہی لیا ہے۔ اب اس کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آج دنیا کے جو حالات ہیں ہم سے زیادہ آپ اخبار و رسائل وغیرہ کے ذریعہ پڑھتے اور دیکھتے رہتے ہیں۔ بہر حال ہمیں ان کا سامنا کرنا ہے اور اپنے اندرونی حالات کا بھی سامنا کرنا ہے۔ ہمیں مجلسِ شرعی کے اس کام کو آگے بڑھاتے رہنا ہے، جس کے لیے آپ حضرات کے تعاون کی سخت ضرورت ہے۔ ہمیں امید ہے کہ جس طرح آپ نے اب تک ہمارا ساتھ دیا ہے اسی طریقے سے آگے بھی ہمارے دوش بدوش رہ کر ہمارے حوصلوں کو بڑھاتے رہیں گے۔

بہت سے لوگوں کا ہمیں شکریہ بھی ادا کرنا ہے۔ خصوصیت کے ساتھ خانقاہِ حبیبیہ اسراریہ کا۔ ایک مرتبہ میں اس خانقاہ کے پروگرام میں گیا تھا ماشاء اللہ وہاں کے لوگ مخلص بھی ہیں اور مہمان نواز بھی۔ مولانا احمد رضا صاحب نے آئندہ خانقاہِ حبیبیہ میں یہ سیمینار منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ سیمینار تو یہاں آئندہ بھی ہوگا لیکن ان کا جزوی تعاون اس سال بھی شامل ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ہمارے کچھ مخلصین کا بھی کافی تعاون ہمارے ساتھ ہے بلکہ بقیہ جملہ اخراجات انہوں نے ہی برداشت کیے۔ گذشتہ سال بھی ان کا تعاون تھا اور اس سال بھی ان کا تعاون ہے۔ آپ حضرات دعا فرمائیں کہ اللہ ان کو نظر بد سے بچائے اور اللہ عزوجل ان سب کی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین۔

حضرت مولانا محمد احمد مصباحی اور حضرت مفتی محمد نظام الدین صاحب یہ دونوں حضرات ہی اس مجلس کو لے کر چل رہے ہیں۔ ہم تو ان کی اتباع اور پیروی میں لگے ہیں۔ یہ حضرات جیسا کہہ دیتے ہیں ہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ ہم نے علامہ ارشد القادری علیہ الرحمۃ سے کہا تھا کہ حضرت ہمارے شارح بخاری کو سمجھائیں کہ یہ سیمینار کے لیے تیار ہوں۔ ہم سے جو کچھ ہو سکا انتظام ہو سکے گا کریں گے۔ آج ماشاء اللہ آپ کی دعاؤں سے یہ سیمینار ترقی کی جانب گام زن ہے۔ میں ایک بار پھر آپ حضرات کا شکر گزار ہوں اور درخواست کرتا ہوں کہ اگر سفر میں کسی طرح کی کوئی پریشانی ہوئی ہو تو معاف فرمائیں۔ یقینا سفر میں بہت تکلیفیں اٹھانی پڑتی ہیں۔ ہم بھی سفر کرتے ہیں، جانتے ہیں۔ مگر آپ سے معافی کے امیدوار ہیں۔ اللہ ہم سب کو توفیق خیر سے نوازے۔ آمین

(ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور جنوری 2026 , صفحہ 61 تا 64)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!