Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حیات و خدمات: حضور فخرِ بہار حضرت علامہ مفتی غلام رسول حشمتی (قسط اول)

حیات و خدمات: حضور فخرِ بہار حضرت علامہ مفتی غلام رسول حشمتی (قسط اول)
عنوان: حیات و خدمات: حضور فخرِ بہار حضرت علامہ مفتی غلام رسول حشمتی (قسط اول)
تحریر: محمد فرحان رضا قادری ازہری
پیش کش: صوفیہ خاتون
منجانب: امجدى گلوبل اکیڈمی


تاریخِ اسلام ایسے بے شمار عظیم المرتبت نفوس سے مزین ہے جن کے علمی، دینی اور اصلاحی کارنامے رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے۔ انہی درخشاں شخصیات میں ایک نام پیرِ طریقت، مناظرِ اہل سنت، خطیبِ ملت، ناشرِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، خلیفۂ حضور مفتیِ اعظم ہند، استاذ العلماء، صوفی باصفا، حضور فخرِ بہار حضرت علامہ و مولانا مفتی غلام رسول حشمتی رحمۃ اللہ علیہ (مفتیِ اعظم کٹیہار) کا بھی ہے۔ ذیل میں آپ کی حیاتِ طیبہ کے چند نمایاں گوشوں کا مختصر تذکرہ پیش کیا جاتا ہے۔

ولادتِ باسعادت اور سفرِ تعلیم

آپ کی ولادتِ باسعادت ۱۹۳۰ء میں صوبۂ بہار کے ضلع کٹیہار کے ایک گاؤں مدھورا میں ہوئی۔

میرے جدِ کریم حضور فخرِ بہار خلیفۂ مفتیِ اعظم ہند حضرت علامہ و مولانا مفتی غلام رسول حشمتی رحمۃ اللہ علیہ اپنے دور کے جلیل القدر عالمِ ربانی تھے۔ آپ نے تقریباً چھ سال تک منظرِ اسلام میں تعلیم حاصل کی اور وہیں سے دستارِ فضیلت سے سرفراز ہوئے۔

زمانۂ طالب علمی ہی میں آپ کو اسی ادارے میں تدریسی خدمات انجام دینے کا موقع ملا، اور یہ سعادت بھی نصیب ہوئی کہ آپ نے حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کو پڑھایا۔ برصغیر پاک و ہند کی بے شمار درسگاہیں آج بھی آپ کے تلامذہ اور مستفیدین سے فیض یاب ہیں۔

عبادت و ریاضت اور مفتیِ اعظم ہند کی بشارت

آپ عبادت و ریاضت کے پیکر تھے۔ سفر ہو یا حضر، پوری زندگی نمازِ پنجگانہ کی پابندی فرمائی۔ کبھی نماز قضا نہ ہونے دیتے۔ خصوصاً سفر میں نماز کا اہتمام نہایت دشوار ہوتا ہے، مگر آپ تمام عمر اس سنتِ عظیم پر استقامت کے ساتھ قائم رہے۔

ایک مرتبہ حضور مفتیِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ، حضرت شاہ یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا:
"جناب مفتی غلام رسول صاحب آپ کے پروگرام میں تشریف لا رہے ہیں، آپ انہیں اپنی خلافت و اجازت عطا فرمائیں۔"

مزید ارشاد فرمایا: "ان کی ذات سے دین و ملت کی عظیم خدمت ہوگی، مخلوقِ خدا کو ان سے بے شمار فیوض حاصل ہوں گے، ان کی نگاہِ کرم سے لاکھوں گمراہ انسان دینِ حق پر قائم ہوں گے، اور یہ فیض کا ایک عظیم دریا بہائیں گے۔"

تصنیفی خدمات اور اساتذۂ کرام

حضرت مفتی غلام رسول حشمتی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی بے شمار مصروفیات کے باوجود مختلف موضوعات پر متعدد کتابیں تصنیف فرمائیں جو آپ کی علمی وسعت، فقہی بصیرت اور تحقیقی مہارت کا روشن ثبوت ہیں۔ ان تصانیف پر مزید کام جاری ہے، اور ان شاء اللہ مستقبلِ قریب میں وہ منظرِ عام پر آئیں گی۔

آپ عالمِ باعمل، صوفیِ باصفا، متقی، عاشقِ رسول اور فدائے اعلیٰ حضرت تھے۔ آپ نے جن اکابرِ علماء سے کسبِ فیض کیا، ان میں خصوصیت کے ساتھ درج ذیل حضرات شامل ہیں:
(۱)۔ حضور مفتیِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ
(۲)۔ شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ شاہ حامد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ
(۳)۔ مفتی سید افضل حسین مونگیری رحمۃ اللہ علیہ
(۴)۔ علامہ ریحانِ ملت رحمۃ اللہ علیہ
(۵)۔ محدثِ احسان علی مظفر پوری رحمۃ اللہ علیہ

فتویٰ نویسی، افتاء اور درس و تدریس

حضرت فخرِ بہار رحمۃ اللہ علیہ کی فتاویٰ نویسی بھی خدمتِ دین و ملت کا ایک عظیم باب ہے۔ آپ کے فتاویٰ نے بے شمار مسلمانوں کو دینی مسائل میں صحیح رہنمائی فراہم کی اور انہیں صراطِ مستقیم پر استقامت عطا کی۔ آپ نے حضور مفتیِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کے سایۂ کرم میں افتاء کی باقاعدہ تربیت حاصل کی اور اس فن میں کمال پیدا فرمایا۔ فراغت کے بعد اپنے وطن مدھورا، ضلع کٹیہار (بہار) واپس تشریف لائے اور دینی خدمات میں مصروف ہو گئے۔

آپ نے جامعہ لطیفیہ بحر العلوم کٹیہار میں تقریباً سولہ سال تک تدریسی خدمات انجام دیں اور طویل عرصہ صدر المدرسین کے منصب پر فائز رہے۔ ابتدائی درجات سے لے کر دورۂ فضیلت تک علوم و فنون کی بے شمار کتابیں پڑھائیں۔ ہزاروں طلبۂ علومِ نبویہ نے آپ سے فیض حاصل کیا۔ یہ وہی عظیم ادارہ ہے جہاں شاگردِ اعلیٰ حضرت حضرت ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری، حضرت علامہ سلیمان اور حضرت علامہ غلام یاسین رحمۃ اللہ علیہ جیسی جلیل القدر شخصیات بھی تدریسی خدمات انجام دے چکی ہیں۔

زہد و تقویٰ اور بیعت و خلافت

آپ نہایت متقی، پرہیزگار اور عبادت گزار شخصیت تھے۔ تدریس، افتاء اور تبلیغی مصروفیات سے فارغ ہوتے تو ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن اور درودِ پاک کے ورد میں مشغول ہو جاتے۔

آپ نے خلیفۂ اعلیٰ حضرت، شیرِ بیشۂ اہل سنت حضرت علامہ حشمت علی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی۔
اجازت و خلافت: تاجدارِ اہل سنت، حضور مفتیِ اعظم ہند حضرت مصطفیٰ رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو خلافت و جانشینی سے سرفراز فرمایا۔ حضرت شاہ یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے بھی آپ کو اپنا خلیفہ و جانشین مقرر فرمایا۔ اس کے علاوہ آپ کو متعدد اکابر علماء و مشائخ سے اجازت و خلافت حاصل تھی۔

علوم و فنون میں مہارت اور اکابرِ اہل سنت کی نظر میں

آپ درج ذیل علوم و فنون میں مہارت رکھتے تھے: علم القرآن، تفسیر، عقائد، حدیث، اصولِ حدیث، تخریجِ حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، ادب، نحو، صرف، منطق، اسماء الرجال، ریاضی، فلسفہ، عملیات، معانی، بیان، بلاغت اور تجوید وغیرہ۔

اکابر کی آراء:
(۱)۔ حضور مفتیِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو اپنا خلیفہ و جانشین مقرر فرمایا。
(۲)۔ حضرت شاہ یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی علمی و روحانی عظمت کا اعتراف کیا۔
(۳)۔ سید اشرف الاولیاء رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو "علم و عرفان کا دریا" قرار دیا۔
(۴)۔ صوفی اسلم رحمۃ اللہ علیہ آپ کے علم و عمل کے معترف تھے۔
(۵)۔ ریحانِ ملت رحمۃ اللہ علیہ آپ کو "محسنِ سنیت" فرمایا کرتے تھے۔
(۶)۔ تاج السنہ حضرت توصیف رضا خان صاحب نے آپ کو ملت کا مخلص رہنما قرار دیا۔

مسلکِ اعلیٰ حضرت کے سچے مبلغ اور علمی خدمات

آپ نے مسلکِ اعلیٰ حضرت کی ترویج و اشاعت کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ روایت ہے کہ جامعہ ازہر مصر سے آپ کو تدریسی خدمات کے لیے دعوت نامہ موصول ہوا، مگر آپ نے فرمایا:
"مجھے کہیں نہیں جانا، مجھے اپنے علاقے میں رہ کر دینِ اسلام اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کی خدمت کرنی ہے۔"
یہی اخلاص آپ کی کامیابی کا راز تھا۔

حضرت فخرِ بہار رحمۃ اللہ علیہ ایک بلند پایہ خطیب، قادر الکلام ادیب، جلیل القدر عالم اور بے مثال داعیِ اسلام تھے۔ دینِ متین کی اشاعت، ناموسِ مصطفیٰ ﷺ کا تحفظ اور ملتِ اسلامیہ کی اصلاح و فلاح آپ کی زندگی کا نصب العین تھا۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اسلام کی سربلندی اور اہل سنت کی ترویج میں صرف کر دی اور اسی راہ میں سرخرو ہو کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوئے۔

آپ ایک عظیم مدرس اور ماہر معلم تھے۔ علومِ دینیہ کی اہم کتابیں خود پڑھاتے اور اس انداز سے پڑھاتے کہ طلبہ علم حاصل کرنے میں فخر محسوس کرتے۔ آپ کی تدریسی مہارت اور علمی وقار کو دیکھ کر دور دراز علاقوں سے طلبہ حصولِ علم کے لیے حاضر ہوتے تھے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!