Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

کوئی بھی شراب حلال نہیں اور سپریم کورٹ قاضی و مفتی نہیں (قسط: چہارم)

کوئی بھی شراب حلال نہیں اور سپریم کورٹ قاضی و مفتی نہیں (قسط: چہارم)
عنوان: کوئی بھی شراب حلال نہیں اور سپریم کورٹ قاضی و مفتی نہیں (قسط: چہارم)
تحریر: محمد ظفر الدین برکاتی
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف


مودی جی نے ہی یہ کہا ہے کہ کسی بھی ملک کے سیکولرزم کا معیار یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے اقلیتوں کے ساتھ کیسا سلوک کر رہا ہے۔ آپ خود بتائیں کہ آزاد ہند کی سب سے بڑی اقلیت مسلم سماج اور مسلم نوجوانوں کے ساتھ آپ اور آپ کی حکومت کا کیا رویہ ہے؟ ہونا تو یہ چاہئے کہ بے روزگار مسلم نوجوانوں کو آپ کی حکومت روزگار دیتی، ملازمت دیتی اور ان کے روشن مستقبل کے لئے کوئی اسکیم بناتی لیکن آپ نے ان کو جیلوں میں ڈالنے کی اسکیم بنا ڈالی! کیا خوب کہتے ہیں اور کیا خوب کرتے ہیں۔ اس وقت ایسا لگتا ہے کہ آپ کی حکومت نے تمام ایجنسیوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ گجرات کے ایک قید خانے میں اپنی قیمتی زندگی کاٹ چکے ایک عالم کی کتاب کی رونمائی نہیں ہونے دی گئی، گجرات پولیس نے اس کا اجرا نہیں کرنے دیا، کیا یہ دہشت گردی نہیں؟ یہ کون سی رواداری اور ٹولرینس ہے؟

دراصل آپ کے پرکھوں کی نگرانی میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد سے ہی دہشت گردی کا کھیل زیادہ شروع ہوا ہے، اس وقت بھی ملک میں ایسی ہی حکومت تھی، اگرچہ نام الگ تھا لیکن وہ بھی اور یہ بھی اس طرح کی دہشت گردی کو پسند کرتی ہے جس طرح کی آج جن سنگھی اور بجرنگی برپا کر رہے ہیں.. آج جتنی بڑی سچائی یہ ہے کہ ہندوستان میں کہیں بھی جہاد نہیں ہو رہا ہے بلکہ جو بھی ہو رہا ہے، وہ دہشت گردی ہے اور دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنا غلط ہے، بالکل اسی طرح تاریخی سچائی یہ ہے کہ گیتا، گائے اور گنگا کے نام پر جو بھی ہو رہا ہے، وہ دیش بھکتی اور ہندومت کی تبلیغ نہیں بلکہ انتہا پسندی، شر پسندی اور آتنک واد ہے اور آتنک واد کو ہندو مذہب سے جوڑنا غلط ہے۔

ملک کی عدالت کو بھی آپ کے زر خرید وکیلوں اور ہندو بی جے پی کی طلبہ تنظیموں نے سیاست کا اکھاڑہ بنا ڈالا ہے۔ ان وکیلوں کے ساتھ ہمیں عدالت سے بھی شکایت ہے، کیوں کہ جو بھی مسلمان دہشت گردی کے الزام میں سالوں سال بعد جیل سے رہا کیے جاتے ہیں، اس کے پیچھے جن افسران کا ہاتھ ہوتا ہے کیا اُن کو سزا نہیں دینا چاہیے؟ آخر ان کو بھی ملک مخالف سرگرمیوں کے نام پر گرفتار کیا جاتا ہے اور برسوں جیلوں میں قید رکھا جاتا ہے۔ ان کی حمایت میں کبھی زبان نہیں کھلتی اور ان کی نوکریاں بھی چھین لی جاتی ہیں انھیں دوبارہ بحال بھی نہیں کیا جاتا ہے۔ کیا کسی پر دیش دروہی کا الزام عائد کر کے جیل میں ڈال دینا اور نوکری سے برخاست کر دینا پھر بری ہونے کے بعد بھی بحال نہ کیا جانا ملک مخالف اور آئین ہند کے خلاف کام نہیں؟ دورنگی چھوڑو بھائیو! دیش دروہی کے نام پر دورنگی بند کرو۔ انصاف کا ساتھ دو، انصاف کرو، تبھی تمھیں بھی انصاف ملے گا۔ بات صاف ہے کہ دہشت گرد نہ میرا ہے اور نہ آپ کا، اکیسویں صدی میں کسی بھی مسئلے کا حل قتل و غارت گری نہیں تو پھر دہشت گرد کا مذہب کیوں دیکھتے ہیں آپ لوگ؟ انصاف کے مندر میں انصاف کے نمائندے بھی دہشت گردی اور دہشت گرد کا چہرہ اور مذہب دیکھ کر وکالت کریں گے تو پھر کیا ہوگا، سوچ کر دل بیٹھا جا رہا ہے۔ آج جتنا بھید بھاؤ اس ملک میں ہو رہا ہے وہ دھرم کی بنیاد پر ہو رہا ہے، ہماری زبان پر کچھ اور ہے اور دل میں کچھ اور ہے۔ یہ سیاسی اور قانونی منافقت ہے۔ کسی ایک کی حرکت سے پوری قوم یا مذہب کو اس کی سزا نہیں دی جا سکتی۔

مودی جی نے ہی یہ بات بھی کہی ہے کہ ہمیں ملک کو پوری دنیا میں آگے بڑھانے کے لیے مل جل کر کام کرنا ہوگا۔ جب مسلمانوں پر دہشت گردی تھوپنے کی بات آتی ہے تو میڈیا کا ہجوم ہوتا ہے لیکن جب دہشت گردی مخالف کانفرنس ہوتی ہے تو میڈیا کی کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ دہشت گردی کے پیچھے کس کا کھیل ہے، ہمیں اس کو سمجھنا اور اس کو اجاگر کرنا ہوگا۔ اور اس سچائی کو قبول کرنا ہوگا کہ مسلمانوں کے آئینی حقوق کی بات آتی ہے تو حکومت کوئی دلچسپی نہیں لیتی۔ ہمارے نوجوان دہشت گردی کے الزام سے بری ہو کر سالوں بعد باہر آتے ہیں لیکن انھیں حکومت کی طرف سے بے گناہی کا کوئی سند نہیں دی جاتی اور نہ ہی ان کی باز آباد کاری کے لیے کوئی ٹھوس اقدام کیا جاتا ہے۔ ہمیں اس چیز کو تلاش کرنا ہوگا کہ آخر دہشت گرد بنتا کیسے ہے اور کیوں بنتا ہے۔ جب تک حکومت ان چیزوں پر توجہ نہیں دے گی، دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ حکومتوں کو یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ ملک سے غریبی کے خاتمہ کے بعد دہشت گردی خود بخود ختم ہو جائے گی۔ آپ کے کابینہ کے کئی ایک وزیر بھی یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب اور رنگ نہیں ہوتا بلکہ یہ اس کا فیشن ہے۔ ہندوستان کی ترقی اس وقت ہوگی جب ہم ہر طبقہ کو لے کر ساتھ چلیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف ہماری لڑائی اس وقت ہوگی جب ہم سب لوگ ساتھ مل کر لڑیں گے۔ ملک کے تمام مذاہب کے لوگ اپنے ہیں، ہم ہندوستانی اور ہمیں کوئی نہیں بانٹ سکتا۔

اب حاجی علی کے مزار پر عورتوں کی حاضری کا مسئلہ بھی مسلمانوں کا ایک مستقل بنا دیا گیا ہے۔ نماز پنج گانہ، نماز جمعہ اور عیدین کی جماعتوں سے عورتوں کو روک دیے جانے کو بنیاد بنا کر علمائے اسلام نے یہی لکھا ہے کہ ”جلسوں اور محفلوں میں عورتوں کو شرکت کی دعوت دینے والے اس سے سبق لیں اور سوچیں کہ جب نماز کی جماعتوں اور جمعہ اور عیدین سے عورتوں کو روک دیا گیا تو جلسوں میں جانے کی اجازت کیسے ہوگی؟ پھر یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ وہاں جا کر وہ علم اور فیض کتنا حاصل کرتی ہیں، شاذ و نادر ہی کچھ عورتیں ایسی ہوں گی جو بغور عرسوں اور جلسوں میں وعظ و نصیحت کو سنیں اور عمل کی کوشش کریں ورنہ 95 فیصد بلکہ ننانوے فیصد تو جلسوں اور عرسوں کے بہانے باتیں کرنے اور تفریح کرنے جاتی ہیں۔ اس لئے عورتوں کی تعلیم و تربیت کے لئے ہمیں بھی وہی راہ اختیار کرنی ہوگی جو ہمارے اگلے بزرگوں نے اختیار کی ہے کہ ان کے شوہر، ان کے ماں باپ اور نیک محارم لوگ شرعی احکام اور ضروری دینی معلومات بہم پہنچائیں اور کچھ لوگ اپنی لڑکیوں اور بچیوں کو ایسی دینی تعلیم دیں تاکہ وہ دوسری بچیوں اور خواتین کو پردے اور شرعی احکام کی پابندی کے ساتھ دینی احکام بتائیں اور سکھائیں۔ جس طرح ماں باپ اپنی لڑکیوں گھریلو کام کاج سکھانے میں اہتمام اور توجہ اور خیر خواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں، اسی طرح دینی مسائل اور شرعی احکام کے معاملے میں بھی مادرانہ اور پدرانہ فرائض کا ثبوت دیں اور شروع ہی سے ان میں دینی مزاج پیدا کریں، دینی احکام سکھائیں، عمل کرائیں اور ضروری کتابوں کی تعلیم دلائیں تاکہ وہ بڑے ہونے کے بعد گھروں کے اندر ہی رہ کر دینی کتابوں کے مطالعہ، مذاکرہ اور شوق محنت سے اپنی معلومات میں اضافہ کریں اور شریعت پر عمل کرتے رہیں۔ بازاری عورتوں اور لیڈر مزاج شہرت کی خواہش مند عورتوں کے جھانسے میں نہ آئیں، دنیاوی جھمیلوں اور فریبی عناصر کی بھول بھلیوں میں آکر دین اسلام میں دیے گئے اپنے حقوق کے خلاف تبصرہ بازی کرنے کی غلطی نہ کریں اور بہکاوے میں آکر اجمیر شریف جانے کا یہ جواز پیش نہ کریں کہ ”وہی بلاتے ہیں جسے خواجہ بلاتے ہیں“ اس لئے کہ جب ان کو یہ صحیح مسئلہ معلوم رہے گا کہ ”روضہء رسول کی زیارت کے علاوہ کسی دوسرے مزار کی زیارت کے لئے حاضری جائز نہیں“ اور یہ ایک شرعی مسئلہ ہے اور ہمارے ان بزرگوں نے بھی اسی شریعت پر عمل کیا ہے جس شریعت کا یہ مسئلہ ہے تو پھر کسی کے بہکاوے میں نہیں آئیں گی۔

ابھی حاجی علی درگاہ (ممبئی) پر عورتوں کی حاضری کو لے کر گزشتہ چار پانچ سالوں (شاید دسمبر ۲۰۱۲ء) سے یہ مسئلہ گرم ہوا ہے کہ اس درگاہ پر عورتوں کی حاضری پر پابندی لگانا درست ہے کہ نہیں؟ عورتوں کی فلاح و بہبود کے نام پر عورتوں کے ناموس کا مذاق اڑانے والی ایک دو تنظیموں نے حاجی علی درگاہ کی انتظامیہ کے پابندی والے فیصلے کو ممبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے کہ یہ بالکل درست نہیں اور عورتوں کی آزادی ہے اور مذہب اسلام نے بزرگوں کے مزارات پر عورتوں کی حاضری سے منع نہیں کیا ہے۔ ان عورتوں نے ایک مضحکہ خیز دلیل یہ پیش کی ہے کہ جب پیغمبر اسلام کے مزار پر حاضری جائز ہے تو کسی دوسرے بزرگ کے مزار پر عورتوں کے حاضری کیوں جائز نہیں؟ اسی کو کہتے ہیں ذہنی آوارگی اور بد زبانی جسے ”اوقات سے زیادہ“ کہنے اور بولنے کی جسارت کہہ سکتے ہیں حالاں کہ یہ حق انھیں مذہب اسلام نے نہیں دیا ہے، ان کا حق تو یہ ہے کہ گھروں میں رہ کر وہ اپنے رب کا فیضان حاصل کریں، ان کا رب ان پر اس قدر مہربان ہے کہ دنیا کی ساری آسائش کا انتظام ان کے گھروں میں کر دیتا ہے لیکن انھیں شاید اپنے رب کی قدرت پر یقین نہیں، اس لئے گھروں سے باہر نکلنے کے حیلے تراش لیتی ہیں اور اپنی عصمت و حرمت کو نقصان پہنچانے والی حرکتوں اور اعمال کو دعوت دیتی ہیں اور آج پھر ان کی بیان بازیاں شروع ہو گئی ہیں۔ مسئلہ ذرا، حساس اس لئے ہے کہ مزارات پر عورتوں کی حاضری کا مسئلہ خالص دینی اور مذہبی ہونے کے ساتھ سماجی اور سیاسی ہو گیا ہے اور سیاسی لوگ بھی اس پر تبصرہ بازی کرنے میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔ ایسی صورت حال میں حاجی علی درگاہ کی انتظامیہ اور مہاراشٹر کی حکومت اور ہائی کورٹ کے درمیان ہو رہی بحث کا صحیح نتیجہ سامنے آنا چاہئے اور مزارات پر عورتوں کی حاضری کو لے کر مسلکی بحث کی جنگ میں اپنی ذہنی اور علمی توانائی صرف کرنے والوں کو بھی اس کی حمایت کرنا چاہئے کہ واقعی عورتوں کا مزارات پر جائز نہیں۔ کیوں کہ ہمارے ہندوستانی سماج میں ایک طبقہ وہ ہے جو عرس کو بہر حال جائز مانتا ہے اور ساتھ ہی عورتوں کی حاضری کو ناجائز مانتا ہے اور دوسرا طبقہ وہ ہے جو عرس کے جواز کا بالکل ہی انکاری ہے، اس لئے مذکورہ صورت حال کے حوالے سے دو مسئلے مشترک ہو گئے۔

(۱) مزارات پر عورتوں کی حاضری کے حوالے سے سبھی متفق ہیں تو سب کو انفرادی طور سے اس ناجائز روایت کے خلاف مہم چلانا چاہئے اور اجتماعی طور سے ممکن ہو تو ضرور کوشش کرنا چاہئے، ساتھ ہی جس بنیاد پر یہ حاضری ناجائز ہے، دوسری جگہوں جیسے عام محفلوں اور شادی بیاہ کی مجلسوں سے بھی اس وبا کو ختم کرنے کی مہم چلانا چاہئے کیوں کہ وہاں بھی بن سنور کر عورتیں گھر سے نکل کر جاتی ہیں، مردوں کے درمیان سے گزرتی ہیں، اپنی تصویریں کھنچواتی ہیں، ویڈیو بنواتی ہیں اور بہت سے ایسے کام کرتی ہیں جو، اسلامی شریعت میں جائز نہیں۔ اختلاط مرد و زن کی وجہ سے ہی کسی بھی جگہ عورتوں کی حاضری ممنوع ہے۔ (۲) اعراس کو جو طبقہ جائز قرار دیتا ہے اور سچائی یہ ہے کہ عرس کے جائز ہونے میں کوئی کلام نہیں ہونا چاہئے، اسے یہ خیال رکھنا چاہئے کہ عرس اگر اسلاف کی سنت ہے تو اسلاف کی سنت کے مطابق ہی منانا چاہئے اور ”ہجوم زنان، تماشائے مردمان، افعال قبیحہ، نظارۂ اجنبیہ وطوائفان رقصان و آلات مزامیر و فضول کثیرہ“ سے محفوظ و مامون رکھنا چاہئے تاکہ اسلاف کرام کے روحانی فیوض و برکات مکمل طریقے سے ہم کو مل سکیں۔

اب ایک تاریخی سچائی اور عملی شکل وصورت میں نظر آنے والی زمینی حقیقت بیان کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہندوستان میں ایک طبقہ ایسا ہے جو، صرف اپنی مجاوری چمکانے اور اپنی آمدنی کے لئے مزارات پر عورتوں کی حاضری کو ضروری کہتا ہے اور اُن کی حاضری کے پیش نظر آسانیاں بھی فراہم کرتا ہے، یہی طبقہ مصلحین کی ایک نہیں چلنے دیتا ہے۔ دوسرا طبقہ ایسا ہے مزارات پر عورتوں کی حاضری کے نام پر اہل سنت و جماعت کو بدنام کرتا ہے اور بڑی غلط بیانی بلکہ الزام تراشی کی جسارت کرتا ہے کہ مزارات پر عورتوں کا میلہ علمائے اہل سنت و جماعت کے نرم رویوں اور عرس کے جائز ہونے کا فتویٰ دینے کی وجہ سے لگتا ہے، حالاں کہ علمائے اہل سنت کے جتنے علمی مراکز ہیں جیسے بریلی، بدایوں اور مبارکپور کے اعراس میں مزارات پر عورتوں کی حاضری پر پابندی کا حال یہ ہے کہ الزام لگانے والے حضرات بھی عرس کے دنوں میں بریلی شریف (وغیرہ) میں جاکر دیکھ سکتے ہیں۔ جب کہ دوسری طرف انہی کی نگرانی اور سرپرستی میں ہونے والے ہندوستان کی بہت سی درگاہوں کے اعراس میں (گویا) عورتوں کا ہی اجتماع ہوتا ہے۔ آخر اجمیر شریف (وغیرہ) میں عرسوں اور عام دنوں میں عورتوں کی بھیڑ کا ذمے دار کون ہے؟ کیا علمائے اہل سنت یا پھر اوقاف اور عرس کی کمیٹیوں اور خواجہ صاحب درگاہ کمیٹی میں شامل عرس اور حاضری مخالف افراد اُس کے ذمہ دار ہیں؟
(حوالہ: اسلام کا نظام طلاق، ص: 303 تا 320)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!