Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حیات و خدمات: حضور فخرِ بہار حضرت علامہ مفتی غلام رسول حشمتی (قسط دوم)

حیات و خدمات: حضور فخرِ بہار حضرت علامہ مفتی غلام رسول حشمتی (قسط دوم)
عنوان: حیات و خدمات: حضور فخرِ بہار حضرت علامہ مفتی غلام رسول حشمتی (قسط دوم)
تحریر: محمد فرحان رضا قادری ازہری
پیش کش: صوفیہ خاتون
منجانب: امجدى گلوبل اکیڈمی


ممتاز تلامذہ اور اولادِ امجاد

آپ کے فیض یافتہ تلامذہ کی فہرست طویل ہے، جن میں چند ممتاز نام درج ذیل ہیں:
(۱) سرکار تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی اختر رضا خان رحمۃ اللہ علیہ، (۲) صوفی ملت علامہ یٰسین رحمۃ اللہ علیہ، (۳) مفتی غلام غوث رضا مرکزی، (۴) علامہ مفتی مظفر حسین رحمۃ اللہ علیہ، (۵) مولانا محمد محسن رحمۃ اللہ علیہ، (۶) علامہ شہریار رضا قادری، (۷) علامہ مسعود عالم، (۸) حکیم ملت علامہ احسن رضا قادری، (۹) مولانا شفیق الرحمن، (۱۰) مولانا علیم الدین، (۱۱) مولانا اصغر علی۔

آپ کی اولادِ امجاد میں چار صاحبزادے (مولانا مسعود رضا رضوی، مولانا احسن رضا قادری، ڈاکٹر محمد محسن رضا، ڈاکٹر نجم رضا) اور چار صاحبزادیاں شامل تھیں۔

مسلکِ اعلیٰ حضرت کے لیے قربانی اور جامعہ کا قیام

جامعہ لطیفیہ بحر العلوم میں آپ صدر مدرس کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے اور ملازمت مدرسہ بورڈ سے ملحق تھی، مگر جب کچھ ذمہ داران نے مسلکِ اعلیٰ حضرت کے فروغ میں رکاوٹیں کھڑی کیں، تو آپ نے بلا جھجھک سرکاری ملازمت کو خیرباد کہہ دیا۔ حضور چاند پور فاتحِ وبشالی حضرت شاہ یوسف اور حضور مفتیِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کی اجازت سے آپ نے کٹیہار میں "جامعہ رضویہ تیغیہ روح العلوم" کی بنیاد رکھی، جہاں سے علماء اور مبلغین کی بڑی تعداد تیار ہوئی۔ اس ادارے کی ترقی میں آپ کے دامادِ اکبر حضرت مولانا ابراہیم رضا صاحب کی خدمات بھی ناقابلِ فراموش ہیں۔

سیرت و کردار اور عشقِ رسول ﷺ

آپ اپنے مرشد حضور مفتیِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کے سچے مظہر تھے۔ آپ کی زندگی میں عبادات، تقویٰ اور سنتِ نبوی کی اتباع نمایاں تھی۔ آپ کو سرکارِ مدینہ ﷺ سے والہانہ عشق تھا جس کے صلے میں آپ کو چھ مرتبہ خواب میں حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کی خدمتِ خلق کا دائرہ اپنے محبین اور مخالفین تک پھیلا ہوا تھا، جس کا مقصد لوگوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح تھا۔

روحانی نسبت، مناظرہ اور کرامات

آپ کو خانوادۂ رضویہ اور حضور غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ سے خاص نسبت تھی، جس کا عملی مظاہرہ گیارہویں شریف کے اہتمام اور عرسِ اکابر کے انعقاد کی صورت میں ہوتا تھا۔ آپ ایک عظیم مناظرِ اہل سنت تھے، جنہوں نے پچاس برس سے زائد عرصہ تائیدِ حق اور ابطالِ باطل میں گزارا۔ آپ کی زندگی میں سنتِ مصطفیٰ ﷺ کی استقامت ہی آپ کی سب سے بڑی کرامت تھی، اس کے علاوہ بھی آپ کو اولاد کی بشارت، مریضوں کو شفا اور غیب کی مدد جیسی کرامات سے نوازا گیا تھا۔

حضور ریحانِ ملت رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات اور وصال

ایک یادگار واقعہ یہ ہے کہ جب حضور ریحانِ ملت رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو منظرِ اسلام بریلی شریف واپس چلنے کی دعوت دی تو آپ نے نہایت دردمندی سے فرمایا: "اگر میں بریلی چلا گیا تو میرا یہ چمن اُجڑ جائے گا اور سیمانچل میں باطل فکر مضبوط ہو جائے گی۔" یہ سن کر حضور ریحانِ ملت نے آپ کی دینی غیرت کو تسلیم کیا اور مدرسے کے لیے دعائیں فرمائیں۔

آپ کا وصال ۲۵ محرم الحرام کو تقریباً ۷۰ سال کی عمر میں ہوا، آپ نماز کے منتظر تھے کہ خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ آج آپ کا مزارِ پُر انوار جامعہ روح العلوم، اسلام پور، کٹیہار میں مرجعِ خلائق ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!