Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

کیا کاسمیٹکس واقعی نقصان دہ ہیں؟|ڈاکٹر امِ فرح

حفظانِ صحت: کیا کاسمیٹکس واقعی نقصان دہ ہیں؟
عنوان: حفظانِ صحت: کیا کاسمیٹکس واقعی نقصان دہ ہیں؟
تحریر: ڈاکٹر امِ فرح، ایم ڈی (ڈرمیٹولوجی)
پیش کش: محمد شہید حسین عطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ عطار نیپال گنج، نیپال

خوبصورتی کا حصول اور اپنی ظاہری شخصیت کو پرکشش بنانا انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ قدیم زمانے میں جڑی بوٹیوں اور قدرتی روغن سے شروع ہونے والا یہ سفر آج ایک ایسی عالمی صنعت کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں ہر روز ہزاروں نئی مصنوعات بازار میں متعارف کرائی جاتی ہیں۔ چاہے وہ صبح کا فیس واش ہو، دھوپ سے بچاؤ کی سن اسکرین ہو یا شام کی کسی تقریب کے لیے بھاری میک اپ، کاسمیٹکس ہماری زندگی کا اٹوٹ انگ بن چکے ہیں۔ لیکن اس چمک دمک کے پیچھے ایک خاموش سوال ہمیشہ سر اٹھاتا ہے: ”کیا یہ کیمیکل ہمیں بیمار کر رہے ہیں؟“

ایک ماہرِ جلد (Dermatologist) کی حیثیت سے میں نے محسوس کیا ہے کہ لوگ یا تو ان مصنوعات کے بارے میں ضرورت سے زیادہ خوفزدہ ہیں یا پھر بالکل لاپرواہ، حقیقت ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کہیں چھپی ہوئی ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اس غلط فہمی کو دور کرنا ہو گا کہ کیمیکل ہمیشہ کوئی بری چیز ہوتی ہے۔ سائنسی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو کائنات کی ہر شے، یہاں تک کہ وہ پانی جو ہم پیتے ہیں اور وہ ہوا جس میں ہم سانس لیتے ہیں، کیمیکلز پر مشتمل ہے۔ جب ہم کسی کریم کی بوتل پر لکھے طویل اور مشکل نام پڑھتے ہیں، تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ زہر ہے۔ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ کیمیکل کا ہونا نہیں بلکہ اس کی مقدار (Dosage) اور اس کا استعمال ہے۔ ایک معیاری کمپنی جب کوئی پروڈکٹ تیار کرتی ہے، تو وہ ان اجزاء کو ایک خاص اور محفوظ تناسب میں رکھتی ہے۔ تاہم، جب ہم ایک ہی وقت میں دس مختلف قسم کی مصنوعات استعمال کرتے ہیں، تو ان اجزاء کی مجموعی مقدار بڑھ جاتی ہے، جو جلد کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

ہارمونل نظام پر اثرات: افسانہ یا حقیقت؟

حالیہ برسوں میں ایک اصطلاح بہت مشہور ہوئی ہے: اینڈوکرائن ڈسرپٹرز (Endocrine Disruptors)۔ یہ وہ مادے ہیں جو ہمارے جسم کے ہارمونز (جو میٹابولزم، نشوونما اور تولیدی نظام کو کنٹرول کرتے ہیں) کی نقل کر سکتے ہیں یا ان کے کام میں مداخلت کر سکتے ہیں۔

تحقیقات بتاتی ہیں کہ کچھ کیمیکلز جیسے ”پیرابینز“ اور تھالیٹس میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ انسانی ہارمون ایسٹروجن کی مشابہت اختیار کر لیں۔ لیکن یہاں ایک بڑا سوال موجود ہے۔ لیبارٹری میں کسی چوہے کو ان کیمیکلز کی بھاری مقدار کھلانا ایک الگ بات ہے، اور ایک انسان کا اپنی جلد پر تھوڑی سی کریم لگانا بالکل الگ۔ انسانی جلد ایک بہت ہی مضبوط ڈھال ہے جو ہر چیز کو خون میں جذب نہیں ہونے دیتی۔ لہٰذا، عام استعمال میں ان مصنوعات سے ہارمونز کے بگڑنے کا خطرہ بہت ہی کم ہوتا ہے، لیکن حاملہ خواتین اور چھوٹے بچوں کے معاملے میں احتیاط کی ضرورت بہرحال رہتی ہے۔

آئیے اب ہم ان اجزاء پر بات کرتے ہیں جو اکثر بحث کا موضوع بنتے ہیں:

  1. پیرابینز (Parabens): یہ وہ اجزاء ہیں جو کاسمیٹکس کو جراثیم اور کائی سے بچاتے ہیں۔ ان کے بغیر آپ کی کریم چند ہی دنوں میں سڑ سکتی ہے۔ اگرچہ ان پر بہت تنقید ہوتی ہے، لیکن سائنسی ماہرین کے مطابق ان کی وہ مقدار جو کاسمیٹکس میں استعمال ہوتی ہے، عام طور پر محفوظ ہے۔

  2. تھالیٹس (Phthalates): یہ عام طور پر خوشبوؤں اور نیل پالش میں پائے جاتے ہیں۔ یہ پلاسٹک کو لچکدار بنانے اور خوشبو کو دیرپا رکھنے کے کام آتے ہیں۔ کچھ ماہرین ان کے حوالے سے زیادہ فکر مند رہتے ہیں، اسی لیے اب بازار میں “Phthalate-free” مصنوعات کی مانگ بڑھ رہی ہے۔

  3. خوشبو (Fragrance): یہ کاسمیٹکس کا سب سے خطرناک پہلو ثابت ہو سکتا ہے۔ خوشبو کے پردے میں کمپنیاں سینکڑوں کیمیکلز چھپا سکتی ہیں۔ یہ الرجی، خارش، چھینکوں اور یہاں تک کہ سانس کے مسائل کی سب سے بڑی وجہ بنتی ہے۔

  4. ہیوی میٹلز (Heavy Metals): کچھ سستی لپ اسٹکس اور آئی لائنرز میں سیسہ (Lead) یا آرسینک کی معمولی مقدار پائی جا سکتی ہے۔ اگرچہ یہ مقدار بہت کم ہوتی ہے، لیکن چونکہ لپ اسٹک پیٹ میں جانے کا خدشہ ہوتا ہے، اس لیے ہمیشہ مستند برانڈز کا انتخاب ضروری ہے۔

لیئرنگ کا رجحان:

آج کل 10 سٹیپ اسکن کیئر روٹین کا بڑا چرچا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ جتنے زیادہ سیرم اور کریمیں لگائیں گے، جلد اتنی ہی جوان رہے گی۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ تصور کریں کہ آپ کی جلد ایک اسپنج کی طرح ہے، اس کی جذب کرنے کی ایک حد ہے۔ جب آپ کلینزر، ٹونر، تین قسم کے سیرم، موئسچرائزر، آئی کریم اور سن اسکرین کی تہیں چڑھاتے ہیں، تو جلد کا قدرتی دفاعی نظام (Skin Barrier) کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں:

  1. کاسمیٹک ایکنی (Cosmetic Acne): مسام بند ہونے سے دانے نکلنا۔

  2. رنگت کا غیر یکساں ہونا: مختلف کیمیکلز کا آپس میں ری ایکشن ہو کر جلد پر دھبے ڈال دینا۔

  3. حساسیت: جلد کا اتنا نازک ہو جانا کہ عام پانی لگنے پر بھی جلن ہو۔

کون سی مصنوعات زیادہ حساس ہیں؟

ہمیں ان چیزوں پر زیادہ توجہ دینی چاہیے جو ہماری جلد پر زیادہ دیر رہتی ہیں۔ مثلاً:

  1. فاؤنڈیشن اور بی بی کریم: یہ سارا دن چہرے پر رہتی ہیں اور مساموں میں جذب ہوتی ہیں۔

  2. ہیئر ڈائی: بالوں کے رنگوں میں موجود پی پی ڈی (PPD) شدید الرجی پیدا کر سکتا ہے۔

  3. لانگ لاسٹنگ لپ اسٹک: یہ جلد کو خشک کر سکتی ہیں اور ان کے اجزاء معدے تک پہنچ سکتے ہیں۔

اس کے برعکس، فیس واش یا شیمپو جلد پر صرف چند سیکنڈ کے لیے رہتے ہیں، اس لیے ان کا نقصان دہ اثر کم ہوتا ہے۔

محفوظ رہنے کا راستہ:

ایک ماہرِ جلد کے طور پر میں اپنے قارئین کو درج ذیل مشورے دوں گی:

  1. سادگی اپنائیں (Minimalism): اپنی روٹین سادہ رکھیں۔ معیاری پروڈکٹس کا استعمال کریں۔

  2. لیبل پڑھنے کی عادت ڈالیں: اگر آپ کی جلد حساس ہے تو ایسی مصنوعات تلاش کریں جن پر “Fragrance-free” لکھا ہو۔ یاد رکھیں “Hypoallergenic”، “Unscented” اور “Fragrance-free” میں فرق ہوتا ہے، کبھی کبھی بو چھپانے کے لیے بھی کیمیکلز ڈالے جاتے ہیں۔

  3. پیچ ٹیسٹ کی اہمیت (Patch Test): کوئی بھی مہنگی پروڈکٹ خریدنے کے بعد اسے براہِ راست چہرے پر نہ لگائیں۔ پہلے اپنی کلائی یا کان کے پیچھے تھوڑی مقدار لگائیں اور 24 گھنٹے انتظار کریں۔ اگر سرخی یا خارش نہ ہو، تبھی اسے استعمال کریں۔

  4. سن اسکرین پر سمجھوتہ نہ کریں: کاسمیٹک کیمیکلز سے ہونے والا نقصان سورج کی شعاعوں (UV Rays) سے ہونے والے نقصان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ سورج قبل از وقت بڑھاپے اور کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے روزانہ سن اسکرین لگائیں۔

  5. صفائی نصف ایمان اور پوری صحت ہے: کبھی بھی میک اپ کے ساتھ نہ سوئیں۔ رات کے وقت ہماری جلد خود کو مرمت (Repair) کرتی ہے۔ اگر مسام بند ہوں گے تو جلد بوڑھی اور بے جان ہو جائے گی۔

کیا “نیچرل” ہمیشہ بہتر ہے؟

یہ ایک بہت بڑا مغالطہ ہے۔ زہریلی آئیوی (Poison Ivy) بھی قدرتی ہے، لیکن وہ جلد کو جلا دیتی ہے۔ اسی طرح لیموں کا رس یا میٹھا سوڈا براہِ راست چہرے پر لگانا جلد کو مستقل نقصان پہنچا سکتا ہے۔ “نیچرل” کا مطلب ہمیشہ محفوظ نہیں ہوتا۔ سائنسی طور پر تیار کردہ مصنوعات زیادہ قابلِ بھروسہ ہوتی ہیں کیونکہ ان کی ٹیسٹنگ لیبارٹریز میں ہوتی ہے۔

اس میں شک نہیں کہ کاسمیٹکس ہماری زندگی کو خوبصورت بناتے ہیں اور ان سے مکمل دوری نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی ضروری۔ اصل ضرورت شعور اور اعتدال کی ہے۔ اگر آپ معیاری مصنوعات کا انتخاب کرتے ہیں، اپنی جلد کی ضرورت کو سمجھتے ہیں اور اسے کیمیکلز کے بوجھ تلے نہیں دباتے، تو کاسمیٹکس آپ کے دوست ہیں، دشمن نہیں۔

اگر آپ اپنی جلد کے حوالے سے کسی خاص مسئلے کا شکار ہیں یا اپنی اسکن کیئر روٹین ترتیب دینا چاہتے ہیں، تو کسی مستند ماہرِ جلد سے رجوع کریں۔ آپ کی جلد آپ کے جسم کا سب سے بڑا عضو ہے، اس کی قدر کریں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!