| عنوان: | علم کی اہمیت |
|---|---|
| تحریر: | محمد عارف رضا قادری امجدی |
| پیش کش: | جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی |
فَتَعٰلَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّۚ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضٰىٰ إِلَيْكَ وَحْيُهُٗۖ وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا[سورۃ طٰہٰ: 114]
ترجمۂ کنزالعرفان: تو وہ اللہ بہت بلند ہے جو سچا بادشاہ ہے اور آپ کی طرف قرآن کی وحی کے ختم ہونے سے پہلے قرآن میں جلدی نہ کرو اور عرض کرو: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔
ارشاد فرمایا کہ وہ اللہ عزوجل بہت بلند ہے جو سچا بادشاہ اور اصل مالک ہے اور تمام بادشاہ اس کے محتاج ہیں اور اے حبیب! صلی اللہ علیہ وسلم، آپ اپنی طرف قرآن کی وحی کے ختم ہونے سے پہلے قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کریں۔ اس کا شانِ نزول یہ ہے کہ جب حضرت جبریل علیہ السلام قرآنِ کریم لے کر نازل ہوتے تھے تو سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ ساتھ پڑھتے تھے اور جلدی کرتے تھے تاکہ خوب یاد ہو جائے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ اے حبیب! صلی اللہ علیہ وسلم، آپ یاد کرنے کی مشقت نہ اٹھائیں۔ سورۂ قیامہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو جمع کرنے اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر جاری کرنے کا خود ذمہ لے کر آپ کی اور زیادہ تسلی فرما دی ۔
{وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا: اور عرض کرو: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو علم میں اضافے کی دعا مانگنے کی تعلیم دی، اس سے معلوم ہوا کہ علم سے کبھی سیر نہیں ہونا چاہیے بلکہ مزید علم کی طلب میں رہنا چاہیے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ علم کی حرص اچھی چیز ہے، جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوق میں سب سے بڑے عالم ہیں مگر انہیں حکم دیا گیا کہ زیادتی علم کی دعا مانگو۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کا علم ہمیشہ ترقی میں ہے۔
قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ[سورۃ البقرة: 32]
ترجمۂ کنز الایمان: بولے پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا بے شک تو ہی علم و حکمت والا ہے۔
{لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا: ہمیں صرف اتنا علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھا دیا۔} حضرت آدم علیہ السلام کے علمی فضل و کمال کو دیکھ کر فرشتوں نے بارگاہِ الہی میں اپنے عجز کا اعتراف کیا اور اس بات کا اظہار کیا کہ ان کا سوال اعتراض کرنے کے لیے نہ تھا بلکہ حکمت معلوم کرنے کے لیے تھا اور اب انہیں انسان کی فضیلت اور اس کی پیدائش کی حکمت معلوم ہو گئی جس کو وہ پہلے نہ جانتے تھے۔ اس آیت سے انسان کی شرافت اور علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف تعلیم کی نسبت کرنا صحیح ہے اگرچہ اس کو معلم نہ کہا جائے گا کیونکہ معلم پیشہ ور تعلیم دینے والے کو کہتے ہیں۔
عالم کا گناہ زیادہ خطرناک ہے
حضرت زیاد بن حدیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “کیا جانتے ہو کہ اسلام کو کیا چیز ڈھاتی (یعنی اسلام کی عزت لوگوں کے دل سے دور کرتی) ہے؟” میں نے کہا: نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “اسلام کو عالم کی لغزش، منافق کا قرآن میں جھگڑنا اور گمراہ کن سرداروں کی حکومت تباہ کرے گی۔”[سنن الدارمي، رقم الحديث: 214]
اس حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خاں نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “جب علما آرام طلبی کی بنا پر کوتاہیاں شروع کر دیں، مسائل کی تحقیق میں کوشش نہ کریں اور غلط مسئلے بیان کریں، بے دین علما کی شکل میں نمودار ہو جائیں، بدعتوں کو سنتیں قرار دیں، قرآن کریم کو اپنی رائے کے مطابق بنائیں اور گمراہ لوگوں کے حاکم بنیں اور لوگوں کو اپنی اطاعت پر مجبور کریں تب اسلام کی ہیبت دلوں سے نکل جائے گی جیسا کہ آج ہو رہا ہے۔ بعض نے فرمایا کہ عالم کی لغزش سے مراد ان کا فسق و فجور میں مبتلا ہو جانا ہے۔”[مرآة المناجيح، ج: 1، ص: 211، تحت رقم الحديث: 250]
علمِ غیب سے متعلق 10 احادیث
-
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا، اس نے اپنا دستِ قدرت میرے کندھوں کے درمیان رکھا، میرے سینے میں اس کی ٹھنڈک محسوس ہوئی، اسی وقت ہر چیز مجھ پر روشن ہو گئی اور میں نے سب کچھ پہچان لیا۔”[سنن الترمذي، رقم الحديث: 3246]
-
سنن ترمذی میں ہی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی روایت میں ہے کہ “جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب میرے علم میں آ گیا۔۔”[سنن الترمذي، رقم الحديث: 3244]
-
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “بے شک میرے سامنے اللہ عزوجل نے دنیا اٹھا لی ہے اور میں اسے اور جو کچھ اس میں قیامت تک ہونے والا ہے سب کچھ ایسے دیکھ رہا ہوں جیسے اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں، اس روشنی کے سبب جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے روشن فرمائی جیسے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پہلے انبیاء علیہم السلام کے لیے روشن کی تھی۔”[حلية الأولياء، رقم الحديث: 7979]
-
حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “گزشتہ رات مجھ پر میری امت اس حجرے کے پاس میرے سامنے پیش کی گئی، بے شک میں ان کے ہر شخص کو اس سے زیادہ پہچانتا ہوں جیسا تم میں کوئی اپنے ساتھی کو پہچانتا ہے۔”[المعجم الكبير، رقم الحديث: 3054]
-
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں میں کھڑے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مخلوق کی پیدائش سے بتانا شروع کیا حتیٰ کہ جنتی اپنے منازل پر جنت میں داخل ہو گئے اور جہنمی اپنے ٹھکانے پر جہنم میں پہنچ گئے۔ جس نے اس بیان کو یاد رکھا اس نے یاد رکھا جو بھول گیا سو بھول گیا۔[صحيح البخاري, رقم الحديث: 3192]
-
مسلم شریف میں حضرت عمرو بن اخطب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک دن حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ فجر سے غروبِ آفتاب تک خطبہ ارشاد فرمایا، بیچ میں ظہر و عصر کی نمازوں کے علاوہ کچھ کام نہ کیا اس میں وہ سب کچھ ہم سے بیان فرما دیا جو کچھ قیامت تک ہونے والا تھا اور ہم میں زیادہ علم والا وہ ہے جسے زیادہ یاد رہا۔[صحيح مسلم، رقم الحديث: 2892]
-
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابو بکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم بھی تھے، ناگاہ پہاڑ لرزنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: “اے احد! ٹھہر جا کہ تجھ پر ایک نبی اور ایک صدیق اور دو شهید ہیں۔”[صحيح البخاري، رقم الحديث: 3675]
-
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوۂ بدر سے ایک دن پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اہل بدر کے گرنے یعنی مرنے کی جگہیں دکھائیں اور فرمایا: “کل فلاں شخص کے گرنے یعنی مرنے کی یہ جگہ ہے۔” حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا: جو نشان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کے لیے لگایا تھا وہ اسی پر گرا۔[صحيح مسلم، رقم الحديث: 2873]
-
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سرکارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم دو ایسی قبروں کے پاس سے گزرے جن میں عذاب ہو رہا تھا تو ارشاد فرمایا: “انہیں عذاب ہو رہا ہے اور ان کو عذاب کسی ایسی شے کی وجہ سے نہیں دیا جا رہا جس سے بچنا بہت مشکل ہو، ایک تو پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کیا کرتا تھا۔”[صحيح البخاري، رقم الحديث: 218]
-
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: صلح حدیبیہ سے واپسی پر ایک جگہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے اونٹ منتشر ہو گئے، سب اپنے اپنے اونٹ واپس لے آئے لیکن حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی نہ ملی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ “وہاں سے اونٹنی لے آؤ”، تو میں نے اونٹنی کو اسی حال میں پکڑ لیا جیسا مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔[المعجم الكبير، رقم الحديث: 10548]
تنبیہ
۱۔ احکام شریعت کا علم حاصل کرنے کے لیے افتا ایک لازمی اور ضروری امر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:
فَسْـَٔلُوْۤا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ[سورۃ النحل: 43]
اگر تم نہیں جانتے ہو تو جاننے والوں یعنی اہل علم سے پوچھ لو۔
اس سے معلوم ہوا کہ ایک طبقہ ملت کا ایسا ہو گا جسے علمِ دین پر عبور حاصل نہ ہو گا اور ایک طبقہ ایسا ہو گا جو صاحبِ علم وفضل ہو گا اور اسے علمِ دین میں بصیرت حاصل ہو گی چونکہ ہر مسلمان کے لیے وہی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کا پسندیدہ راستہ ہے اس لیے ہر شخص کو اپنا ہر عمل اسلام کے احکام کے مطابق رکھنا چاہیے اور اگر کسی کو کسی معاملہ میں شریعت کا حکم معلوم نہیں ہے تو اسے اہل علم کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور ان سے سوال کر کے حکم شرعی معلوم کرنا چاہیے اسی اصول کے مطابق زمانۂ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے آج تک مسلمانوں کا یہی طریقہ رہا ہے کہ اگر انہیں کسی چیز کے جواز یا عدم جواز کا علم نہیں ہے تو انہوں نے بلا تأمل اہل علم سے اس کا حکمِ شرعی معلوم کر لیا ہے ہر زمانہ میں لوگ علمائے شریعت کی طرف مسائل شرعیہ کا علم حاصل کرنے کے لیے رجوع کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ دارالافتاء کا قیام عمل میں آیا اور اب وہ یہ خدمت انجام دے رہے ہیں۔
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:
إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ
بے شک علما ہی انبیاء کے وارث ہیں۔ انبیاء کی وراثت درہم و دینار نہیں ہوتی ان کی وراثت تو علم الہی اور علمِ دین ہے تو جو اسے پا لے گا وہ علم کا بڑا حصہ پا لے گا۔[بہار شریعت، ج: 3، حصہ: 19]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “علاماتِ قیامت میں سے یہ ہے کہ (دینی) علم اٹھ جائے گا اور جہل ہی جہل ظاہر ہو جائے گا۔ اور (علانیہ) شراب پی جائے گی اور زنا پھیل جائے گا۔”[صحيح البخاري]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ علاماتِ قیامت میں سے یہ ہے کہ علم (دین) کم ہو جائے گا۔ جہل ظاہر ہو جائے گا۔ زنا بکثرت ہو گا۔ عورتیں بڑھ جائیں گی اور مرد کم ہو جائیں گے۔ حتیٰ کہ 50 عورتوں کا نگران صرف ایک مرد رہ جائے گا۔[صحيح البخاري]
اللہ ربّ العزت ہمیں کہنے سننے سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
