| عنوان: | حجاب صرف لباس نہیں بلکہ کردار ہے |
|---|---|
| تحریر: | بنت مفتی مظفر حسین مصباحی |
| پیش کش: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حجاب صرف لباس نہیں بلکہ کردار ہے
خالقِ کائنات نے عورتوں کی عزت و عصمت کی حفاظت اور اس کی اہمیت کے لیے حجاب کا حکم دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذٰلِكَ أَدْنٰى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُورًا رَحِيمًا
ترجمہ: اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے اوپر ڈالے رکھیں، یہ اس سے زیادہ نزدیک ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو وہ ستائی نہ جائیں گی اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (سورۃ الاحزاب: ۵۹)
یقیناً حجاب کا حکم اللہ ربّ العزّت کی طرف سے ہمارے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ ہم خواہ کسی ویران کوہستان میں ہوں یا پُر ہجوم شاہراہ پر، حجاب ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ایک مضبوط محافظ ہمارے ساتھ ہے۔ یہی محافظ ہمیں تحفظ، وقار، خود اعتمادی اور بے خوفی عطا کرتا ہے۔
یقیناً اب تک تو حجاب اپنانے والی خواتین کو باحیا اور عزت دار تسلیم کیا جاتا رہا، ایسی خواتین کو معاشرہ عزت و پاکیزگی کی علامت سمجھتا رہا؛ مگر افسوس! قوم کی بعض نادان بیٹیوں نے اس عظیم نعمت کی اصل روح کو فراموش کر دیا۔ انہوں نے حجاب کو اطاعتِ الٰہی اور حفاظتِ عفت کا ذریعہ بنانے کے بجائے محض اپنی شناخت چھپانے کا پردہ بنا لیا، تاکہ گناہوں کی راہوں میں بے خوف چل سکیں، اور غیروں کے ہاتھوں اپنی عزت و عصمت کو پامال کراتی رہیں۔
تو جان لیں کہ جو حجاب انسان کو گناہ سے نہ روک سکے وہ صرف لباس ہے؛ حقیقی حجاب نہیں اور یہ بھی یاد رکھیں کہ حجاب کی حقیقت صرف لباس نہیں بلکہ یہ ایک کردار ہے۔
تاریخ کے سنہرے اوراق سے ذرا اسے اور گہرائی کے ساتھ سمجھیں تو یوں معلوم ہوگا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا اپنی حیاتِ طیبہ کو پردے سے اس طرح مزین کرنا، یوں ہی میدانِ کربلا میں حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا سخت ترین حالات میں بھی اپنے حجاب کی حفاظت کرنا، اور حضرت امِ خلاد رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیٹے کی شہادت کی خبر سننے کے باوجود بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں باحجاب حاضر ہونا، پھر کسی کے اس سوال پر کہ: ”آپ نے ابھی بھی اپنے چہرے پر نقاب ڈال رکھا ہے؟“ یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمانا کہ: ”میں نے بیٹا ضرور کھویا ہے مگر حیا ہرگز نہیں!“ اسی طرح پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد صحابیاتِ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہن کا فوراً اپنی چادروں کو پھاڑ کر اپنے مکمل سروں اور چہروں کو ڈھانپ لینا ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ حجاب صرف لباس نہیں بلکہ کردار ہے۔
لہٰذا اے قوم کی بیٹیو! حجاب کی اصل روح کو مجروح نہ ہونے دیں۔ یہ ہماری صالحات کی عظیم وراثت ہے، جسے انہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی سنبھالے رکھا، تاکہ اس کے ذریعے ہماری عزت و عفت اور شناخت محفوظ رہ سکے۔
یاد رکھیں پیاری بہنوں! یہ حجاب ربِّ کریم کی رحمت کا حسین حصار ہے۔ اس حصار کے دامن میں عزت، سکون اور پاکیزگی ہے؛ جبکہ اس سے تجاوز دنیا و آخرت میں رسوائی کا سبب ہے۔
اللہ تعالیٰ قومِ مسلم کی بیٹیوں کو حجاب کی حقیقی روح سمجھنے، اس پر استقامت کے ساتھ عمل کرنے، اور اپنی حیا و عفت کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
