| عنوان: | ہندوستان کی مسلمانی ہی نہیں، جمہوریت بھی خطرے میں ہے؟ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
(5) اسلام اور پیغمبرِ اسلام کی توہین کے مقدمات بڑھ رہے ہیں اور اسی تناسب سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات سرد پڑ رہے ہیں۔ ماضی قریب میں ایسی دسیوں مثالیں ملتی ہیں جب گستاخانِ رسول کے خلاف کوئی خاطر خواہ احتجاج تک نہیں ہوئے اور یہ ایمانی حرارت کی پیمائش کا وہ انداز ہے جو دشمن کے لیے کامیابی اور ہمارے لیے ناکامی کی حتمی دلیل ہوتا ہے۔ کیوں کہ خدا نخواستہ جس دن توہینِ رسالت برداشت کا ضمیر بن چکا ہوگا، وہ دن اس ملک میں اسلام کی روح کے خاتمے کا دن ہو گا۔
واضح رہے کہ اس توہین سے ہماری مراد ہالینڈ کے کارٹون یا عالمی مقدمات نہیں، انڈیا میں سوشل میڈیا کی سرگرمیاں ہیں۔ حالات پر نظر رکھنے والے آسانی سے اس بات کے ثبوت جٹا سکتے ہیں۔ خاکم بدہن! آج کوئی شام ایسی نہیں ہوتی جب ہندوستان کی طول طویل سرحدوں میں کوئی گستاخی نہ ہو رہی ہو لیکن یہ کس قدر افسوس ناک حقیقت ہے کہ ہر صبح ایسی نہیں ہوتی جب ایسے دریدہ دہنوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا رہی ہو۔ صورتِ حال اتنی نازک ہے کہ چند مخصوص ٹیلی ویژنوں کے اینکر، بھگوا تنظیموں کے پرچارک اور چند مذہبی غنڈوں کے غول اسی کے لیے وقف ہیں۔
مسلمانوں نے اس کا بڑا علاج یہ سمجھا ہے کہ ایسے لوگوں سے آنکھیں موند لی ہیں۔ ایسے چینل دیکھتے نہیں، ایسے اخبار پڑھتے نہیں اور سوشل میڈیا پر ایسے لوگوں کو فالو نہیں کرتے۔ ظاہر ہے یہ شتر مرغی انداز جیسے کوئی مستحکم علاج نہیں، ویسے ہی غیرت مندی بھی نہیں۔
بدقسمتی کہیے کہ جس وقت اس مضمون کا ابتدائی حصہ زیرِ تحریر تھا، بڑی کھاٹو، ضلع ناگور کے ایک بھگوا غنڈے نے شانِ رسالت پناہ میں بڑی بدتمیزی کی، کھنکھنہ تھانہ ضلع ناگور میں ہمارے بڑے بھائی عمران خان نے اس کے خلاف ایف آئی آر کروائی لیکن پہلے تو تھانیدار نے دفعہ 153 کی بجائے دفعہ 151 میں مقدمہ درج کیا اور پھر دو دن کے بعد کورٹ سے اسے ضمانت مل گئی لیکن مبارک باد کے مستحق ہیں علاقے کے مسلمان جنہوں نے اسے انجام تک پہنچانے کے لیے بات آگے بڑھائی اور ابھی مجرم ناگور جیل میں ہے۔
(6) اسلام مخالف مواد کی ترسیل آسان بنائی جا رہی ہے۔ کچھ ٹی وی چینل مستقل یہ کام کر رہے ہیں جن کا ردِ عمل ہمارے یہاں یوٹیوب چینل تک سے نہیں ہو رہا ہے۔ اس کا سائنٹفک نتیجہ یہ ہوگا کہ کل تک جو دشمن بنا کسی مضبوط دلیل کے اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کرتا تھا، اب اعداد و شمار کے ساتھ مدلل لہجے میں بات کرے گا اور صاف کہے گا: فلاں سروے میں پایا گیا کہ 85 فیصد مسلمان بلاتکاری ہوتے ہیں اور یہ بلاتکار 96 فیصد غیر مسلم بچیوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔
مشہور بھگوا چینل زی ٹی وی پر 14 مارچ 2018 سے "عشق سبحان اللہ" نامی ایک سیریل چل رہا ہے۔ جس میں مسلم عورتوں کو ذہنی طور پر اسلام سے باغی بنانے کی ہر سازش کی جاتی ہے۔ سنیچر، اتوار کو چھوڑ کر ہفتے میں پانچ دن چل رہے اس سیریل میں طلاق، عورتوں کی مسجدوں میں حاضری اور دیگر نسوانی مسائل سمیت درجنوں مشکوک مسائل زیرِ بحث لائے گئے اور ہر مسئلے میں دو طرفہ کام کیا گیا مثلاً: مسئلہ طلاق میں بڑی چابک دستی اور خاموشی کے ساتھ مسلم عورتوں کو یہ دماغ دیا گیا کہ بصورتِ طلاق انہیں اپنے شوہروں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے کیسے دھکیلنا ہے اور کس طرح کچہریوں میں رسوا کرنا ہے جبکہ ٹھیک اسی وقت مسلم مردوں کو یہ ذہن دیا گیا کہ انہیں اپنی بیویوں کو کن ذہنی اذیتوں کے ساتھ طلاق دینا ہے اور کس طرح مشقِ ستم بنانا ہے۔
بمبئی سے رضا اکیڈمی کے علاوہ شاید پورے ملک میں اس سیریل کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہوا اور جو ہوا اس کا بھی حشر نہیں معلوم، بہرحال چینل آج بھی چل رہا ہے اور زہر اب بھی پھیلایا جا رہا ہے، مسلمانوں کی مایوسی بڑھ رہی ہے اور غیروں کے ذہن میں اسلام کے خلاف تشدد سوا ہو رہا ہے۔
چند روز قبل ایک کم عمر طالبِ علم آیا اور پوچھنے لگا: اسلام میں ہر ظلم کا شکار عورت کو کیوں بنایا جاتا ہے؟ بظاہر ہے سوال چونکانے والا تھا، ذرا تفصیل طلب کی تو بتانے لگا: میری باجی "عشق سبحان اللہ" دیکھتی ہیں، یہ اعتراضات دراصل انہیں کے ہیں۔ بڑی تاکید سے منع کرتے ہوئے سمجھایا: بابو! باجی سے کہو: یہ بڑا خطرناک سیریل ہے، اس سے گریز کرے۔ چند دنوں بعد نتیجہ معلوم کیا تو کہنے لگا: وہ یہ سیریل چھوڑ نہیں سکتیں، اس سے ان کی معلومات میں بڑا اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ وہ نازک صورتِ حال ہے جس کے متعلق ہم سے بازپرس ہوگی۔ ہمیں حالات کا گہرا تجزیہ کرکے دشمنانِ اسلام کی ہر سازش کا ترکی بہ ترکی جواب دینا ہوگا کیوں کہ اب تبلیغِ اسلام کا طریقہ درس گاہ سجانے، محراب کو مزین کرنے، مسندِ افتا کی شان بڑھانے، عمامہ باندھ لینے اور مسواک کر لینے کی سنتوں تک محدود نہیں رہا، بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے، ہمیں بھی تبدیل ہونا ہوگا اور فروعی مسائل کو بھلا کر بہت کچھ تبدیل کرنا ہوگا۔
