| عنوان: | حجۃ الاسلام کی صحافتی خدمات ماہنامہ یادگارِ رضا کے حوالے سے (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی عبد الرحیم نشتر فاروقی |
| پیش کش: | فاطمہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
دینِ متین کی تبلیغ و ترسیل کے تین طریقے مشہور و معروف ہیں: تقریر، تدریس اور تحریر! ان میں سے ہر ایک کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، تاہم تحریر کا اثر دیرپا ہونے کے ساتھ ساتھ ہمہ گیر بھی ہوتا ہے، اس کے ذریعہ نسلاً بعد نسل اور عصرِ ابعد عصر دعوت و تبلیغ کی خدمت انجام دی جا سکتی ہے، کسی بھی مذہب و ملت کی آفاقی ترقی میں اس کی حمایت میں لکھی گئی تحریروں اور کتابوں کا بڑا ہی اہم رول ہوتا ہے، ہر دور میں اس کی اہمیت مسلم رہی ہے، دنیا کا کوئی بھی دانش مند اس کی افادیت سے انکار نہیں کر سکتا، اس کی ازبس اہمیت کا اندازہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری برکاتی بریلوی قدس سرہ العزیز کے اس قول سے بھی لگایا جا سکتا ہے:
“حمایتِ مذہب اور ردِّ بد مذہباں میں مفید کتب و رسائل مصنفوں کو نذرانے دے کر تصنیف کرائے جائیں۔ آپ کے مذہبی اخبار شائع ہوں اور وقتاً فوقتاً ہر قسم کے حمایتِ مذہب میں مضامین تمام ملک میں بقیمت و بلا قیمت روزانہ یا کم سے کم ہفتہ وار پہنچتے رہیں۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 12، ص: 134]
امامِ اہل سنت کے اس ارشاد سے یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ تحریر چاہے کتب و رسائل کی شکل میں ہو، پمفلٹ اور پرچوں کی صورت ہو یا اخبارات و جرائد کے پیکر میں، کماحقہ تبلیغ و ترویج اس کے بغیر ممکن نہیں ہر تحریر کا اپنا ایک خاص مقصد و محور اور ایک مخصوص پس منظر ہوتا ہے، جو حالات اس تحریر کے محرک و داعی ہوتے ہیں جب تک وہ برقرار رہتے ہیں، تب تک اس کی اہمیت کا ستارہ بامِ عروج پر ہوتا ہے اور جیسے ہی حالات کروٹ بدلتے ہیں، وہ تحریر بھی اپنی اہمیت وافادیت کھو دیتی ہے۔
یعنی کچھ تحریریں وقتی حالات کے پیشِ نظر معرضِ وجود میں آتی ہیں، اس لیے ان کی اثر پذیری بھی ایک خاص وقت تک محدود رہتی ہے جبکہ کچھ تحریریں ایسی سدا بہار ہوتی ہیں جو اگرچہ کسی خاص مقتضائے وقت کے بطن سے جنم لیتی ہیں لیکن ان کا دائرہٴ اثر صدیوں تک محیط رہتا ہے، جن کی اہمیت وافادیت کی بھینی بھینی خوشبو زمان ومکان کی سرحدیں پھلانگ کر صدیوں تک انسانیت کے مشامِ جاں کو معطر و مستفید کرتی رہتی ہے، انھیں حالات کے کسی بھی تناظر میں دیکھا جائے اور زندگی کے کسی بھی موڑ پر ملاحظہ کیا جائے، ایسا لگتا ہے گویا یہ تحریریں انھیں حالات واوقات کو سامنے رکھ کر سپردِ قلم کی گئیں ہیں۔
مختصر یہ کہ تحریر کی اہمیت وافادیت صدیوں تک برقرار اور فیض بار رہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ علمائے کرام اور مبلغینِ اسلام نے دیگر طرقِ تبلیغ کے ساتھ ساتھ تحریر کو بھی ایک مؤثر ذریعہٴ تبلیغ کے طور پر اپنایا اور اس سلسلے میں کتب ورسائل کا ایک بڑا ذخیرہ ہمیں عطا فرمایا ہے۔
حجۃ الاسلام نے تقریر، تدریس اور تحریر یعنی تینوں طرقِ تبلیغ بروئے کار لا کر مذہب و ملت کی ترویج واشاعت کا فریضہ انجام دیا ہے، جہاں آپ نے اپنی تقریرِ پُر تنویر سے ہزاروں گم گشتگانِ راہ کو صراطِ مستقیم پر گامزن فرمایا اور قلب و جگر میں بس جانے والی اپنی تدریس سے ہزاروں علما و فضلا پیدا کر کے قوم و ملت کے حوالے کیے، وہیں اپنی معرکۃ الآراء اور دل نشیں تحریر کے ذریعہ اسلامیانِ ہند کے ایمان و اسلام کی حفاظت و صیانت کا بے مثل کارنامہ انجام دیا ہے، آپ کے فتاویٰ، آپ کے کتب و رسائل اور آپ کی نظم و نثر کے مطالعہ سے یہ حقیقت واشگاف ہو جاتی ہے کہ آپ تحریری اور صحافتی میدان کے بھی شہسوار ہیں۔
1375ھ میں آپ کی زیر سرپرستی “ماہنامہ یادگارِ رضا” بریلی شریف کا اجرا ہوا، جس کی ادارت کی ذمہ داری حضرت علامہ مفتی قاضی احسان الحق صاحب نعیمی کو تفویض کی گئی، اس رسالہ کا پہلا شمارہ ربیع الاول شریف کے مبارک و مسعود مہینے میں منصۂ شہود پر آیا۔
یادگارِ رضا کے افتتاحی شمارے کو منظرِ عام پر لانے کے لیے ماہِ ربیع الاول شریف کا انتخاب کر کے ذمہ دارانِ ادارہ نے یہ پیغام دے دیا کہ جس طرح اس بابرکت مہینے میں اس خاکدانِ گیتی پر رونق افروز ہونے والے محسنِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو کفر و شرک، جنگ و جدال اور جہالت و رذالت سے نجات عطا فرما کر امن و آشتی کا گہوارہ بنا دیا، اسی طرح یہ رسالہ بھی احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کا فریضہ انجام دینے کے لیے ظہور پذیر ہوا ہے۔
یادگارِ رضا کے دوام و بقا کے لیے حضور حجۃ الاسلام نے فی البدیہہ یہ چار مصرعے فصیح و بلیغ عربی میں ارشاد فرمائے جو “کلماتِ طیبات” کے عنوان سے رسالہ کے صفحہ نمبر 2 پر اشاعت پذیر ہوئے:
هَامًّا مُبَسْمِلًا وَّمُحَمِّدًا لَّا وَّمُسَبِّحًا جَلًّا وَّمُهَلِّلًا
وَمُحَمِّدًا وَّمُصَلِّيًا وَّمُسَلِّمًا لِّمَا وَّمُحَوْقِلًا
وَمُجَعْلِفًا وَّمُدَمِّعًا وَّمُطَلِّبًا قَاهَا مُجَلِّلَةً
رَضْوِيَّةً حَسَنَاتِهَا بَرَكَاتِهَا فَتَقَبَّلَا
نیز آپ کے شہزادۂ اکبر مفسرِ اعظم حضرت علامہ مفتی ابراہیم رضا خاں قادری برکاتی بریلوی قدس سرہ العزیز نے “خیر مقدم” کے عنوان سے ایک شاہکار نظم قلم بند فرمائی، یہ نظم بھی پہلے شمارے کے صفحہ نمبر 2 پر ہی موجود ہے:
مجلہ کہ ایدوں بدیساں برآمد
بایزد کہ ارمانِ ارماں برآمد
بعلمِ کلام آمدہ ماتریدی
بفقہِ حنفی چوں نعماں برآمد
بہ بزمِ روایت زانوارِ سنت
بمصباحِ مشکوٰۃِ ایماں برآمد
صلائے تعرّف صدائے تصوّف
بگوشِ حقیقت نیوشاں برآمد
نشیدِ حجازی بہ گلبانگِ بلبل
سرودے زگلبانگِ مستاں برآمد
بشعر و سخن بلبلے خوشنوا
بصحنِ گلستاں غزل خواں برآمد
زلازل دراجداثِ نجدی فتادہ
زاجسادِ وہابیہ جاں برآمد
خوشانسخہ از اشاراتِ حکمت
شفائے دل و راحتِ جاں برآمد
بیادِ رضا یادگارِ رضا
تسلی دہِ دردِ ہجراں برآمد
ابراہیم چوں خرد را داد جنبش
غریو از ہر برے نیستاں برآمد
رسالہ ملاحظہ فرما کر حضور ملک العلماء حضرت علامہ مفتی سید محمد ظفر الدین بہاری علیہ رحمۃ الباری نے ان الفاظ میں اپنے تاثرات کا اظہار فرمایا:
“مکرمی جناب نواب سعید احمد خاں صاحب ناظم جماعت مبارکہ زید مجدہم! السلام علیکم! رسالہ مبارکہ ‘یادگارِ رضا’ کے مطالعہ سے مشرف ہوا، جس درجہ قابلِ قدر کام کی طرف جناب نے توجہ فرمائی، بیان سے باہر ہے۔ جزاکم اللہ تعالیٰ، مولیٰ تعالیٰ اس رسالہ کو مسلمانوں خصوصاً سنیوں خصوصاً رضویوں کے لیے مفید بنائے اور ان کے دلوں کو اس کی خریداری و مطالعہ کی طرف مائل کرے، آمین۔” [یادگارِ رضا، جمادی الاخریٰ 1345ھ، ص: 28]
رسالے کے مضامین کی نوعیت کیا ہوگی، قلم کار کیسے ہوں گے، اس کا علمی منہج اور اس کی اخلاقی روش کیا ہوگی؟ اس تعلق سے یادگارِ رضا کے اولین شمارے کے قانونی صفحہ پر ‘اغراض و مقاصدِ رسالہ’ کے ضمن میں یہ الفاظ درج ہیں:
“اسلام کی حمایت، مذہبِ اہل سنت کی نصرت، مخالفین کے جواب، مسلمانوں کی مذہبی، اخلاقی، معاشرتی اصلاح۔” [ص: 1]
پھر “خصوصیات” کے ذیل میں یوں تحریر ہے:
-
مضامین معتمدین علمائے اہل سنت اور بہترین اہل قلم کے درج کیے جائیں گے۔
-
زبان کے حسن و لطافت کا خاص لحاظ رہے گا۔
-
ہر مسئلہ پر سنجیدگی اور متانت سے محققانہ بحثیں ہوں گی۔
-
مبالغہ اور افراط و تفریط سے اجتناب لازم ہو گا۔ [ص: 1]
اس اجمالی وضاحت سے رسالہ کے پاکیزہ مقاصد اور اس کے اعلیٰ ترین معیار کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے، مزید مدیرِ رسالہ حضرت علامہ قاضی احسان الحق صاحب نعیمی اپنے پہلے اداریے میں رسالہ کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے رقم طراز ہیں:
“اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کلامِ مبارک کا کتب و رسائل کی شکل میں شائع کرنا اور طلب گاروں تک پہنچانا، یہ کام تو آج تک جماعت (رضائے مصطفےٰ) انجام دے رہی ہے مگر آستانہٴ مبارکہ کی اطلاعات اور امامِ اہل سنت اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی زندگی کے پاکیزہ حالات جو رضویوں کے لیے راحتِ روح اور تسکینِ قلب ہیں، ان کا کوئی انتظام نہ تھا۔”
“اس فقیر نے اس کا احساس کیا اور چاہا کہ ایک ایسا سلسلہ قائم کیا جائے جس سے وابستگانِ دامنِ اعلیٰ حضرت قدس سرہ دور افتادگی میں بھی آستانہ کے حالات سے بے خبر نہ رہیں، مسلسل طور پر ماہ بہ ماہ ان کو یہاں کے حالات کی اطلاع مل جایا کرے اور آستانہٴ مبارکہ سے ایک ماہوار رسالہ پہنچ کر ان کی تسکین خاطر کرے، مہینہ بھر تک اس سے اپنے آقا کے دیار کی خبروں کے مزے لیا کریں اور محبت کی نگاہوں سے دیکھا کریں، عقیدت کے جذبات سے سینوں پر رکھا کریں، شوق کے عالم میں زبانِ حال سے پوچھا کریں: اے نامہٴ محبوب تو کس کی یادگار ہے، کہاں سے چلا ہے، کیا دل آویز خوشبوؤں میں بسا ہے، کیسی روح افزا تجلیاں لایا ہے، کس کی خبریں سناتا ہے، تیرے پاس کیسے کیسے انمول موتی ہیں، اسلامی حمایت کے لیے تیرے دست و بازو کیسے چست ہیں، خدمتِ دین میں تیری کمر کس مضبوطی سے بندھی ہے، اے میدان کے مرد! دین کے حامی! میری آنکھوں میں آ، دل میں سما، تو میرا رفیقِ جان ہے، محبوب (اہلِ) ایمان ہے۔”
“شاباش خدا تجھے زندہ سلامت رکھے، دن دونی رات چوگنی ترقی ہو، تو ٹوٹے دل کا سہارا ہے بے کس کا انیس ہے، مرحبا مرحبا، ایک عاشق، محبوب کی خبر لانے والے کی جو قدر کرتا ہے، کاغذ کے صفحات پر اس کا پورا نقشہ کھینچا نہیں جاسکتا ہے، میری اس خدمت کی قدر دانی وہی لوگ کرسکیں گے جن کا دل اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دامنِ کرم سے بندھا ہوا ہے۔”
“آستانہ کی حاضری کے زمانہ میں بہترین خدمت جو میں کرسکتا ہوں اور نفیس ترین ہدیہ جو رضوی احباب کی خدمت میں پیش کرتا ہوں وہ یہ ماہوار رسالہ یادگارِ رضا ہے، مجھ سے جو ہوسکا، میں نے اپنی خدمت انجام دی، جماعت مبارکہ نے اپنی سعیِ بے دریغ خرچ کی آپ کو آپ کے آقا کی خدمت سے بہرہ مند ہونے کے لیے زرِ کثیر صرف کیا، اب آپ کی ہمت ہے، آپ کا حوصلہ ہے، آپ کی اولوالعزمی ہے، آپ کے جذباتِ محبت کو دیکھنا ہے کس عظمت و احترام سے، کس قدر دانی اور محبت سے، کس خاطر و مدارت، کس اخلاص و عقیدت سے آپ ایسے پیارے مہمان کی میزبانی کرتے ہیں۔” [ص: 4، 5]
