| عنوان: | حجۃ الاسلام کی صحافتی خدمات ماہنامہ یادگارِ رضا کے حوالے سے (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی عبد الرحیم نشتر فاروقی |
| پیش کش: | فاطمہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
حضرت قاضی صاحب علیہ الرحمہ کی زیرِ ادارت دنیائے صحافت میں قدم رکھنے والے اس رسالے کی “بچپنے کی پھبن” دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے، اپنے وقت کے مایہ ناز اہل قلم نے اپنے قلمی رشحات سے اس کی آبیاری کی، معتبر اہل فن نے اپنے فن پاروں سے اس کی زلفیں سنواریں اور قابل ترین صاحبان علم و دانش نے اپنی بصیرت افروز زرنگاری سے اس کی نوک پلک درست کی۔
اس رسالے کے مستقل قلم کاروں اور کالم نگاروں میں حجۃ الاسلام، مفتی اعظم ہند، صدر الافاضل، ملک العلماء، برہان ملت، استاذ زمن، مفسر اعظم ہند، حضرت علامہ سید اولادِ رسول سید محمد میاں مارہروی، حضرت علامہ قاضی احسان الحق نعیمی، حضرت علامہ مفتی ابوالمعانی محمد ابرار حسن صدیقی تلہریا، حضرت مولانا ابو الفرح محمد علی آنولوی، حضرت مولانا تقدس علی خاں بریلوی، نبیرۂ حافظ الملک حضرت مولانا نواب وحید احمد خاں بریلوی ایل ایل بی، حضرت مولانا عبد العزیز خاں، حضرت مولانا عرفان علی بسل پوری، حضرت مولانا ہدایت یار خاں قیس رام پوری، حضرت مولانا محمود جان جام جودھپوری، ابو الحسنات حضرت مولانا حکیم سید محمد احمد الوری، حضرت مولانا ابوالبرکات سید محمد فضل شاہ جلال پوری، حضرت مولانا مفتی ابوالمساکین محمد ضیاء الدین پیلی بھیتی، حضرت مولانا محمد شمس الدین اشرفی کچھوچھوی، حضرت مولانا سید حبیب احمد مدنی تلہری ایڈیٹر: المجدد بریلی شریف، حضرت مولانا مفتی حبیب الرحمن صاحب بدایونی، حضرت مولانا عنایت محمد خاں غوری فیروزپوری، نواب حامد علی خاں اشرفی بریلوی، حضرت مولانا سید محمد آصف کانپوری، حضرت مولانا لطیف الدین صاحب فرنگی محلی، حضرت مولانا عبدالمجید صاحب مالیگاؤں، عالی جناب بدرالدین صاحب گوجرانوالہ پاکستان جیسے حامیانِ اسلام، صاحبانِ فکر و فن اور دانشورانِ قوم و ملت شامل تھے۔
حضرت قاضی صاحب کی زیرِ ادارت یادگارِ رضا کے صرف تین شمارے ہی منظرِ عام پر آئے تھے کہ کسی ناگزیر صورتِ حال کے سبب آپ اس کی ادارت سے سبکدوش ہو گئے، اس کے بعد ماہِ جمادی الثانی 1345ھ میں یہ رسالہ ابوالمعانی حضرت علامہ مفتی محمد ابرار الحسن صدیقی صاحب تلہری کی زیرِ ادارت آ گیا جبکہ نائب مدیر کی حیثیت سے حضرت علامہ ابوالفرح محمد علی حامدی آنولوی کی خدمات حاصل کی گئیں، حضرت صدیقی صاحب اپنے پہلے اداریے میں یوں رقم طراز ہیں:
“مجھ سے پیشتر یادگارِ رضا کی قلمی خدمات کے لیے محترمی حضرت مولانا قاضی احسان الحق صاحب نعیمی مدظلہ کا انتخاب ہوا تھا، بلکہ یادگارِ رضا کا افتتاح انھیں کے دستِ ادارت سے ہوا، قاضی صاحب کے عہد میں یادگارِ رضا نے اپنی جو حیثیت قائم کی اور انھوں نے یادگارِ رضا کو جس سطح تک پہنچایا اور اپنا دورِ ادارت جس خوش اسلوبی سے پورا کیا، یہ جملہ امور اربابِ نظر پر مخفی نہیں، میرے نزدیک قاضی صاحب کا یہ کمال ہی قابلِ تحسین ہے کہ وہ گویا یادگارِ رضا کو اوجِ کمال تک اس زمانہٴ قلیل میں نہ پہنچا سکے مگر یہ کام بھی کیا کم ہے کہ انھوں نے اس کی فضائے ارتقا کو زوال پذیر نہ ہونے دیا، اس حقیقت کا اعتراف قرینِ انصاف ہے کہ قاضی صاحب کو یادگارِ رضا سے خلوص اور اس کی خدمات کی انجام دہی میں گونہ دلچسپی تھی، ان کی دلی تمنا تھی کہ وہ جلد از جلد یادگارِ رضا کو معراج ارتقاء پر گامزن دیکھتے مگر افسوس کہ ان کی یہ آرزو دائرہٴ تمنا سے نکل کر سرگرمِ عمل نہ ہو پائی تھی کہ دفعتاً ان کے ذاتی اور خاندانی علائق نیز ان کی علالت نے ان کو مجبور کر دیا، ان میں اس ودیعت کی باربرداری کی تاب نہ رہی، اِدھر تو ان کی مجبوریوں نے ان کو اس اہم اور ضروری خدمت سے بے نیاز کیا اور اُدھر کاتبِ قدرت نے ان پر حکمِ معذوری نافذ فرما دیا، یہ زمانہ یادگارِ رضا کے لیے نہایت ہی نازک اور پُرآشوب تھا اور اس کو خدماتِ قلمی کی سخت احتیاج! بالآخر اربابِ حل و عقد نے مجھ کم مایہ اور قلیل البضاعت کو اس گنجینہٴ علم و خرد کا کلید بردار بنایا اور ودیعتِ ادارت میرے سپرد کر دی۔” [ص: 3، 4]
مدیرِ ثانی حضرت علامہ ابوالمعانی محمد ابرار حسن صدیقی تلہری علیہ الرحمہ ایک بالغ نظر اہل قلم اور نبض شناس صحافی تھے، آپ کی نوکِ قلم سے نکلے اس ادبی شہ پارے کو ملاحظہ فرمائیے اور یہ اندازہ لگائیے کہ رسالہ کا ادبی معیار کس بامِ عروج پر فائز تھا:
“اے گل! اور اے پھول! یہ تیری نرم نرم پتیاں، تیرا ہلکا ہلکا رنگ، تیری بھینی بھینی خوشبو مجھے مست و سرشار کیے دیتی ہے، اُف تیری نرم نرم نازک پتیوں میں کس بلا کی رعنائی ہے، تیرا ہلکا ہلکا رنگ کس قدر جاذبِ روح ہے، تیری بھینی بھینی اور دل فریب خوشبو کس درجہ مشام نواز ہے، اے مجسمہٴ حسن! اے رعنا گل! تجھے دیکھ کر مجھ پر ایک کیف سا طاری ہے، میرا دل وجد کرتا ہے اور میرے جذباتِ معنوی میں ایک تلاطم برپا ہے، میں تجھے دیکھتا ہوں اور میرا طاؤسِ روح فرطِ ذوق میں رقصاں ہے، اے نوائے باصرہ نوازِ گل اور اے شامہ نواز پھول! آ آ اور میری مشام نوازی کر، آ اے گل! اپنی مشک باریوں، اپنی عطر بیزیوں اور اپنی عنبر افشانیوں سے میری مرتعش روح کو سکونِ مطلق کی نویدِ جاں فزا دے۔”
“اے سبز پتوں میں منہ چھپانے والے گل! اور اے سبز چلمن کی آڑ سے جھانکنے والے پھول! آ آ میرے سامنے بے حجابانہ آ اور مجھے محرومِ طرب نہ رکھ، تیری ہر ہر جنبش کی وجد آفریں کیفیات مجھے تڑپا رہی ہیں، تو اے شاخِ پر خار پر صبا کے جھونکوں سے عالمِ کیف میں لوٹنے والے پھول! کہیں نوکِ خار تیرے لطیف اور نازک جسم کو مجروح نہ کر دے۔”
“آ آ اے گل آ میں تجھے اپنے غنچۂ دل میں رکھ لوں لیکن او گل! تو گریۂ شبنم پر کھل کھلا کر نہ ہنس اور مجھ وارفتۂ حسنِ صنعت کو خندۂ دندانِ نما سے وقفِ اضطراب نہ کر، اے پیارے اور اے خوشنما گل! تو اپنے اس وقت کو یاد کر جب کہ تو اسرارِ قدرت کا ایک سربستہ غنچہ تھا، تو پیکرِ حیا تھا، تیرے تبسم میں دوشیزگی کی ایک شان تھی اور تو خود ایک دوشیزہ تھا، دیکھ او خودنما گل! مجھے ڈر ہے کہ کہیں تیرا خندۂ بیجا تیری ساری رعنائیوں کو پامالِ فنا نہ کر دے۔” [یادگارِ رضا، جمادی الاولیٰ 1345ھ، ص: 3]
یہ رسالہ بیک وقت مذہبی بھی تھا اور ادبی بھی، تاریخی بھی تھا اور معاشرتی بھی، اس کے مضامین مذہبی تقدس، تاریخی موشگافی، معاشرتی خوشبو اور ادبی چاشنی سے لبریز ہوا کرتے تھے، اس کے مضامین حسنِ انتخاب کا بے مثل نمونہ ہوتے تھے، اس کے ہر مضمون پر مدیر کی مدبرانہ، ناقدانہ اور ذمہ دارانہ نظر ہوتی تھی۔
ایک موقع پر اراکین جماعتِ رضائے مصطفےٰ یادگارِ رضا کی طرف برادرانِ اہل سنت کی توجہ مبذول کراتے ہوئے لکھتے ہیں:
“جماعتِ رضائے مصطفےٰ بریلی کے صدر دفتر سے رسالہ یادگارِ رضا زیر سرپرستی حضور حجۃ الاسلام حضرت مولانا مولوی مفتی شاہ محمد حامد رضا خان صاحب قادری سجادہ نشین آستانہ رضویہ ہر قمری ماہ کی ابتدائی تاریخوں میں شائع ہوتا ہے، کارپردازانِ رسالہ نے یادگارِ رضا کو حسنِ ظاہری سے عروسِ نو بنانے میں سعیِ بلیغ کے صرف میں کوتاہی نہیں کی، یادگارِ رضا میں اکابرِ علمائے کرام اور مشاہیرِ قوم کے بلند پایہ مضامین شائع ہوتے ہیں جو دینی، مذہبی، تمدنی، معاشرتی، اقتصادی، اخلاقی معلومات سے بھرپور ہوتے ہیں۔”
“لکھائی، چھپائی اور کاغذ نہایت عمدہ اور دیدہ زیب ہے، سرورق پر مدینہ طیبہ کا عکس نقشہ رسالہ کی رونق دوبالا کرتا ہے، سالانہ چندہ مبلغ 3 روپے ہے، ہم اپنے تمام حضراتِ اہل سنت ناظرینِ کرام سے سفارش کرتے ہیں کہ وہ اپنے ترجمان کی خریداری سے جماعتِ رضائے مصطفےٰ بریلی کی حوصلہ افزائی فرمائیں۔” [ہفت روزہ دبدبہ سکندری رام پور، بابت 6 اگست 1928ء، نمبر 7، جلد 66، ص: 15]
یادگارِ رضا نے ایک ایسے حوصلہ شکن ماحول میں اپنی آنکھیں کھولیں، جس ماحول میں اکثر رسالے زمانے کی بے اعتنائیوں کے زخم کھا کھا کر دم توڑ دیتے ہیں، یہ امام احمد رضا کی زندہ کرامت اور حجۃ الاسلام کی فیض بار سرپرستی کا کرشمہ ہی تھا کہ ایسے صبر آزما اور سخت ترین حالات میں یادگارِ رضا نے جنم لے کر نہ صرف اپنی زندگی بچائی بلکہ نت نئی ترقی کی شاہراہوں طے کرتے ہوئے بامِ عروج پر اوجِ ثریا سے آنکھیں بھی چار کیں۔
چنانچہ یادگارِ رضا کے مدیرِ دوم ابوالمعالی حضرت علامہ مفتی ابرار حسن تلہری قدس سرہ العزیز اپنے ایک اداریے میں یوں رقم طراز ہیں:
“اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ یادگارِ رضا نے جس وقت سے اس خاکدانِ عالم میں قدم رکھا اس وقت سے لے کر اس وقت تک بلا کسی ناگوار تعویق و تاخیر کے برابر دور افروز ہے اور عالمِ امکان کی تشنہ سرور محافل و مجالس میں قابلِ ستائش اور غیر معمولی استقلال کے ساتھ اپنی صہبا چکاں اور کیف آگیں مضامین سے اربابِ ذوق کو دعوتِ طرب دے رہا ہے، اس موقع پر اس حقیقت کا اظہار بے جا نہ ہوگا کہ اس مجلۂ علمی کو جن جن صبر آزما اور حوصلہ شکن حوادث سے دوچار ہونا پڑا، اس پر جیسے جیسے بادِ مخالف کے جھونکے آئے، بجلیاں گریں، ان ناخوشگوار اثرات کی شعلہ فشانیوں اور آتش سامانیوں سے اس نونہالِ علمی کے قلبِ نازک کا متاثر ہوکر اس کی مستانہ خرامی کا کچھ زمانہ کے لیے محوِ سکون ہو جانا کچھ مستبعد نہ تھا مگر اس گلشنِ عالم کے مالک و خالق کے ابحارِ کرم کی تموج آفرینیوں کے صدقے کہ جن کی لا تعداد آبیاریوں نے اس نہالِ نو دمیدہ میں روح نو پھونک کر نہ صرف اس زمانۂ قلیل میں اس کو فضائے ارتقا کی جانب مائل پرواز کرکے سطحِ ارتقا پر محوِ جلوہ آرائی کیا بلکہ اس کی متزلزل میخ و بنیاد کو وہ استحکام بخشا کہ اب بتوفیقِ تعالیٰ یادگارِ رضا ان ناخوش گوار بادِ مخالف کے جھونکوں کو موجِ صبا تصور کر کے ان کے ساتھ خوش فعلیاں کرنے کے لیے تیار ہے۔”
“یہ امر یادگارِ رضا کے لیے مایۂ صد نازش و افتخار ہے کہ ہنگامِ آغاز سے اس وقت تک باوجود یہ کہ ناظرینِ یادگارِ رضا میں اربابِ ذوق اور اہل علم حضرات کی کمی نہیں مگر پھر بھی ہندوستان کے کسی گوشہ اور کسی چپہ سے یادگارِ رضا کی کسی بے اعتنائی کی آواز نہ اٹھی۔”
“یہ حقیقت محتاجِ بیان نہیں کہ یادگارِ رضا کا یہ دورِ حیات انتہائی صبر آزما اور سخت ترین دور تھا نیز بمقتضائے کم سنی و کم عمری جس طرح کہ ایک کم سن مگر مشاہدِ رعنا سے کہ ادائے استغنا جس کے حسنِ خداداد کی ایک جزوِ لاینفک ہو، اگرچہ اس مجسمۂ رعنائی کی بدرسیما پیشانی پر قلمِ قدرت نے حرفِ وفا منقوش ہی کیوں نہ فرما دیا ہو، مگر حرماں نصیب اربابِ وفا کو ایک محدود زمانہ تک محرومِ طرب رکھ کر آتشِ ہجر میں شعلۂ اشتیاق بھڑکانے اور ان کی ساری توجیہات کو اپنے اندر جذب کر کے عقدِ موانست مستحکم کرنے کی خاطر ارتکابِ بے اعتنائی ایک امر لازمی ہے۔”
“اس طرح یادگارِ رضا سے کسی بے اعتنائی کا صدور قرینِ عقل اور ممکن الوقوع تھا مگر یہ امتیازِ خصوصی یادگارِ رضا اور صرف یادگارِ رضا ہی کو حاصل ہے کہ اس مجسمۂ وفا نے اس کم سنی میں اس حوصلہ شکن اور سخت ترین دورِ حیات میں ارتکابِ بے اعتنائی کے بدنما داغ سے اپنے دامن کو ملوث نہ ہونے دیا اور اہل ذوق کو ایک لمحہ کے لیے بھی محرومِ طرب نہ رکھا، یادگارِ رضا کی اس دل کش ادا نے نہ صرف ان حضرات ہی کے قلوب کو دعوتِ تسخیر نہ دی کہ جن کو یادگارِ رضا سے گونہ تعلق ہے اور جن کی خدمت میں یادگارِ رضا کو ہر ماہ باریابی کا فخر حاصل ہے بلکہ اس کی دل فریب اور جاذبِ توجہ ادا پر اغیار و احباب بھی بے اختیار لوٹ گئے۔” [یادگارِ رضا بریلی شریف، بابت ماہِ محرم الحرام 1346ھ، نمبر 11، جلد 1، ص: 3، 4]
