| عنوان: | امام احمد رضا اور تقابل ادیان (قسط: چودہویں) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفی قادری |
| پیش کش: | عرشیہ بانو عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ نے اپنے رسالے "باب العقائد والکلام" (فتاویٰ رضویہ، جلد 15) میں اس فلسفیانہ اور عقائدی گتھی کو نہایت احسن انداز میں سلجھایا ہے کہ آیا کفار اللہ تعالیٰ کو جانتے ہیں یا نہیں۔ آپ کا استدلال اس حقیقت پر مبنی ہے کہ "خدا کو ماننا" اور "خدا کو جاننا" دو الگ الگ باتیں ہیں۔ محض کسی ہستی کا نام لے لینا یا اسے خالق مان لینا "معرفتِ الٰہی" کے لیے کافی نہیں، جب تک کہ اس کی ذات و صفات کو ان کے حقیقی اور لائقِ شان مفہوم میں تسلیم نہ کیا جائے۔
محدثِ بریلوی کے اس استدلال کے کلیدی نکات مندرجہ ذیل ہیں:
- جہلِ باللہ کی حقیقت: آپ کے نزدیک کفر کا اصل مفہوم ہی "اللہ سے ناواقفیت" ہے۔ جو لوگ خدا کو ماننے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن اس کی صفاتِ کمالیہ کا انکار کرتے ہیں یا اس کی ذات میں نقائص (مثلِ انسان، اولاد، یا شرکاء) کو ثابت کرتے ہیں، وہ دراصل اپنے ہی گھڑے ہوئے ایک فرضی تصور کو "خدا" کہہ رہے ہیں۔ ان کا یہ "گھڑا ہوا خدا" وہی ہے جس کا قرآن نے رد کیا ہے۔
- ایجاب و سلب کا ضابطہ: امام احمد رضا نے بڑی باریکی سے سمجھایا ہے کہ اگر کوئی شخص زبان سے تو "انسان" کہے مگر اس کی تعریف "حیوانِ صاہل" (گھوڑا) کے ساتھ کر دے، تو وہ حقیقت میں انسان کو نہیں جانتا۔ اسی طرح جو کفار خدا کو مانتے تو ہیں لیکن اس کی ذات میں نقص نکالتے ہیں یا اسے مخلوق کے مماثل ٹھہراتے ہیں، وہ اپنی زبان سے "اللہ" تو کہتے ہیں مگر دل میں کسی اور چیز کو معبود سمجھے ہوئے ہیں۔
- دہریوں اور مشرکین کا موازنہ: آپ نے ثابت کیا کہ دہریے (Atheists) اور گمراہ مذاہب کے پیروکار عقیدے کے باب میں برابر ہیں۔ دہریے وجودِ باری تعالیٰ کا سرے سے انکار کر کے گنہگار ہوئے، جبکہ دیگر مذاہب نے اپنے اوہام اور خواہشاتِ نفسانی سے ایک "مجسم یا محدود" خدا تراش کر اسے اللہ کا نام دے دیا۔ دونوں ہی حقیقی ربِ کریم کی معرفت سے محروم ہیں۔
نتیجۂ فکر
چودہویں قسط کے اس علمی جائزے میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تقابلِ ادیان میں امام احمد رضا بریلوی کا منہج صرف دوسرے مذاہب کی غلطیوں کو گنوانا نہیں تھا، بلکہ ایک مضبوط عقلی و منطقی بنیاد فراہم کرنا تھا جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ "اللہ کو جاننا" اسی وقت ممکن ہے جب اس کی ذات کو تمام عیوب سے پاک، واحد، اور بے مثل مانا جائے۔ آپ کا یہ علمی شاہکار ثابت کرتا ہے کہ ایمان صرف زبانی اقرار کا نام نہیں، بلکہ اس ذاتِ اقدس کی حقیقی معرفت کا نام ہے جس کے لیے کائنات کا ہر ذرہ گواہی دے رہا ہے۔
