Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حجۃ الاسلام کی صحافتی خدمات ماہنامہ یادگارِ رضا کے حوالے سے (قسط: سوم)|مفتی عبدالرحیم نشتر فاروقی

حجۃ الاسلام کی صحافتی خدمات ماہنامہ یادگارِ رضا کے حوالے سے (قسط: سوم)
عنوان: حجۃ الاسلام کی صحافتی خدمات ماہنامہ یادگارِ رضا کے حوالے سے (قسط: سوم)
تحریر: مفتی عبد الرحیم نشتر فاروقی
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

یادگارِ رضا کے مضامین گواہ ہیں کہ اس نے اپنے دور کے ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور مذہبِ اسلام پر ہونے والے اہل باطل کے حملوں کا منہ توڑ جواب دیا، چنانچہ جب شردھانند آریہ اور دیانند آریہ نے اسلام، قرآن اور مسلمانوں پر اعتراضات کا طوفانی حملہ کیا تو یادگارِ رضا نے “دیانند آریہ، ستیارتھ پرکاش کے قرآنِ پاک پر اعتراض اور ان کے جواب” جیسے مضامین کے ذریعہ ان کا ردِ بلیغ کیا اور جب قربانی اور گوشت خوری پر حملہ ہوا تو “اسلام اور قربانی، انسانی فطرت اور گوشت خوری” جیسے حقائق پر مبنی مضامین کے ذریعہ یادگارِ رضا نے اسلام کا دفاع کیا اور جب اسلام پر یہ الزام عائد کیا جانے لگا کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہے تو یادگارِ رضا نے “اسلام اور تلوار” جیسے بصیرت افروز مضامین کے ذریعہ اس باطل الزام کی تردید کی، حتیٰ کہ جب مسئلہ کفو پر غیر تو غیر اپنوں نے واویلا کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہا تو یادگارِ رضا نے باضابطہ “مومن نمبر” کے ذریعہ احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کا اہم فریضہ انجام دیا۔

ذیل میں ہم یادگارِ رضا کے اس “مومن نمبر” کا تعارف جو ہفت روزہ دبدبۂ سکندری رام پور میں شائع ہوا تھا نقل کرتے ہیں:

“یوں تو اخبارات ورسائل کے خاص نمبر شائع ہو ہو کر برابر ملک وقوم کے سامنے آتے رہتے ہیں مگر ان میں ایسے مفید اور کارآمد مضامین کا عنصر کمی کے ساتھ پایا جاتا ہے کہ جس سے ملک وقوم کافی فائدہ حاصل کر سکے، مومن نمبر میں جس مسئلہ پر (یعنی کفو پر) قلم اٹھایا گیا ہے یہ ایسا مسئلہ ہے کہ جملہ مسلم اقوام کے ہر ہر فرد پر واجب ہے کہ اس سے واقفیت حاصل کرے، اس لیے کہ تاوقتیکہ اس مسئلہ کا شادی بیاہ کے معاملہ میں کافی لحاظ نہ کیا جائے، شادی خانہ بربادی کا باعث ہو جاتی ہے، مسلمانوں کی ساری قومیں زمانۂ قدیم سے لے کر اس وقت تک اس مسئلۂ شرعی پر سختی کے ساتھ عمل کرتی چلی آ رہی ہیں مگر آج کل اس مسئلۂ شرعی کی نہایت شدومد کے ساتھ مخالفت کی جا رہی ہے اور خصوصاً ہمارے مومن بھائی (یعنی جامہ باف حضرات) کا قدم میدانِ مخالفت میں نہایت سرعت کے ساتھ اٹھ رہا ہے، اس لیے کہ انہیں اس غلط فہمی میں مبتلا کیا گیا ہے کہ تمہیں علمائے اسلام شیخ، سید، مغل، پٹھان کا کفو نہیں قرار دیتے اور اپنے فتاویٰ میں رذیل وذلیل لکھتے ہیں، ہم جملہ مسلم اقوام سے عموماً اور اپنے مومن بھائیوں خصوصاً اپیل کرتے ہیں کہ وہ مومن نمبر کا ضرور مطالعہ کریں، ان کو اس مسئلہ میں جس قدر غلط فہمی اور شکوک پیدا ہو گئے ہیں، وہ سب رفع ہو جائیں گے، مومن نمبر میں مسئلۂ کفو پر کافی روشنی ڈالی گئی ہے، مومن نمبر کے صفحات اکابر علماء کے مضامین سے مزین کیے گئے ہیں، اپنے کفو میں شادی بیاہ کرنے میں جو حکمتیں ہیں ان کو ظاہر کیا گیا ہے، غیر کفو میں نکاح کرنے سے جو برے نتائج پیدا ہوتے ہیں، ان کا ثبوت دیا گیا ہے، مومن نمبر میں مولوی سید سلیمان صاحب ندوی کے رسالہ ‘کفو’ کا زبردست رد ہے، ہمارے مومن بھائیوں کو اس مسئلہ میں علمائے حقانی کی جانب سے جو غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں، ان کے تسلی بخش جوابات دیے گئے ہیں، اس مسئلہ کی مخالفت میں مخالفین کے علماء و ائمہ خود حضور سید والاصلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر جو افتراءات جڑے ہیں، ان کا شافی جواب ہے۔” [ہفت روزہ دبدبہ سکندری، رام پور، 18 فروری 1929ء، جلد 66، ص: 7]

مومن نمبر کے گہرے مطالعہ کے بعد ہفت روزہ دبدبہ سکندری، رام پور کے مبصر اپنے تبصرہ میں یوں تحریر فرماتے ہیں:

“الحمد للہ جناب ابوالمعانی مولانا مولوی منشی محمد ابرار حسین صاحب صدیقی تلہری مدیر رسالہ یادگارِ رضا بریلی کے سعیِ جمیلہ سے رسالہ یادگارِ رضا کا خصوصی نمبر بنام ‘مومن نمبر’ شائع ہو گیا ہے، ہم نے اس نمبر کو نہایت دلچسپی سے پڑھا، جہاں تک ہماری رائے ہے، یہ نمبر علمی و فقہی معلومات کا گنجینہ ہے، فاضل مدیر نے کاغذ اور لکھائی و چھپائی کے اعتبار سے ہر طرح دیدہ زیب بنانے کی بلیغ کوشش کی ہے اور اس کے اوراق کو اکابر علمائے اسلام کے نہایت دلچسپ، مفید اور کارآمد مضامین سے مزین کیا گیا ہے، مومن نمبر میں مسئلۂ کفو پر خصوصیت سے قلم اٹھایا گیا ہے، آج ہندوستان کی بعض قومیں جو مسئلہ کفو کی مخالفت کر رہی ہیں، وہ حقیقتاً شریعتِ طاہرہ کو پیٹھ دے رہی ہیں، یہ مسئلہ جس کا فیصلہ حضراتِ ائمہ و علماء مدتوں پیشتر فرما چکے تھے آج پھر (اسے) معرکۃ الآراء بنایا جا رہا ہے، اس لیے خصوصیت سے اس کی کافی معلومات حاصل کرنا تمام مسلم اقوام پر لازم ہے، مومن نمبر میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ کفائت کا شرعاً، عقلاً اور عرفاً ہر طرح اعتبار لازم ہے، اس مسئلہ کفائت پر جس دل نشیں اور دلچسپ پیرایہ و انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے وہ قابلِ دید و شنید ہے جس کا اسلوبِ بیان نہایت ہی مؤثر و دلکش ہے، جامعہ باف اصحاب میں مسئلہ کفائت کے ضمن میں جو غلط فہمیاں شریعت و علمائے شریعت کی طرف سے پیدا کر دی گئی ہیں، مومن نمبر میں ان سب کا بالکلیہ ازالہ کر دیا گیا ہے، مومن نمبر میں حالاتِ افغانستان پر بھی شرعی نقطۂ نظر سے زبردست تبصرہ کیا گیا ہے، امان اللہ خاں اور بچہ سقا کا حکم بتایا گیا ہے، امان اللہ خاں پر الزامِ کفر اور بچہ سقا کی بغاوت اور یہ کہ بچہ سقا حکومت و جہاں بانی کا اہل ہے یا نہیں، ان امور پر کافی روشنی ڈالی گئی ہے، اس مضمون کا مسلمانوں کے لیے مطالعہ کرنا بے حد ضروری ہے، اخباروں کی کورانہ تقلید سے بچیں اور حقیقت رس بنیں۔” [ہفت روزہ دبدبۂ سکندری، رام پور، فروری 1929ء، نمبر 40، جلد 66، ص: 7]

یادگارِ رضا کے دو کامیاب خصوصی نمبر بھی شائع ہوئے، ایک “کانگریس نمبر” اور دوسرا “مومن نمبر”، کانگریس نمبر کے مطالعہ سے اس کا اصلی چہرہ سامنے آ جائے گا کہ اس کی تحریکات نے ہندوستان کو فائدہ پہنچایا یا نقصان؟ کانگریس مسلمانوں کے لیے قومی و مذہبی اعتبار سے مہلک ہے یا مفید؟ کانگریس میں مسلمانوں کو شرکت کرنا چاہیے یا نہیں؟ ان سارے سوالوں کا جواب آپ کو یادگارِ رضا کے کانگریس نمبر میں مل جائے گا۔

اس نمبر میں ممتاز العلماء حضرت علامہ مفتی اولادِ رسول سید محمد میاں صاحب مارہروی قدس سرہ کا مضمون “کانگریس کی بخیہ دری”، حضور مفتیِ اعظم ہند حضرت علامہ مفتی مصطفیٰ رضا خاں قادری بریلوی قدس سرہ کا مضمون “کانگریسی پٹھوؤں کی داستانِ دلریش”، ابوالمعانی حضرت علامہ مفتی ابرار حسن صدیقی صاحب تلہری کا مضمون “کانگریس کی حقیقت اور اس کی تحریکات”، اور مصورِ جذبات حضرت علامہ سید حبیب احمد صاحب تلہری کا مضمون “کانگریس اور مسلمان” شامل ہے۔

مذکورہ سطور سے جہاں یہ امر واضح ہوتا ہے کہ یادگارِ رضا نے باطل کے ہر اعتراض کا منہ توڑ جواب اور ہر طاغوتی حملہ کا مردانہ وار دفاع کرتے ہوئے اسلامیانِ ہند کی صحیح رہنمائی کی، وہیں حجۃ الاسلام کی قائدانہ صلاحیت، صحافتی ذوق اور مفکرانہ عظمت کا پتہ چلتا ہے، آپ کے پاس ہر ملی و مذہبی، سیاسی و سماجی، معاشی و اقتصادی مرض کا تیر بہدف تریاق موجود تھا، چنانچہ جب مذہب و ملت کو عملی تریاق کی ضرورت پڑی تو آپ نے جماعتِ رضائے مصطفےٰ کے ذریعہ عملی محاذ قائم فرما کر بروقت درپیش مسائل و امراض کا میجر آپریشن کیا اور جب قلمی و تحریری معرکہ کی حاجت پیش آئی تو آپ نے یادگارِ رضا کے قلمی و صحافتی محاذ کے ذریعہ وقت کے اٹھنے والے ہر سوال کا مسکت شرعی اور سیاسی جواب دیا۔

راقم نے اس تابناک اور شہرۂ آفاق صحافتی کیرئیر کے حامل جریدے کے چند مجلدات کے سبزہ زارِ صحن سے نوع بنوع عطر بیز مقالات و مضامین کے ترو تازہ گلدستوں کو تراش خراش کر “مقالات یادگارِ رضا” کے نام سے ایک ایسا چمن سجایا ہے جس میں ہر طرف رنگ برنگ کے مسحور کن اور فرحت بخش گل بوٹے مہک رہے ہیں، جس کی سیر کرنے والا کوئی بھی اپنے ذوق طبع کے مطابق جانفزا اور خوشنما گلوں کی گل چینی سے خود کو مدمست و سرشار کر سکتا ہے۔

مقالات یادگارِ رضا کے جدید و قدیم پیرایۂ بیان اور اس کے حسین طرزِ نگارش کی سحر انگیزی لاشعوری طور پر قاری کے ذہن و فکر کو مسحور و متاثر کرتی ہے، اس کے تحقیقی مواد جہاں اہل ذوق کو طبعی تسکین فراہم کرتے ہیں وہیں اس کے تقریری مواد طلبائے مدارس اسلامیہ کو اپنی جانب راغب کرتے ہیں، یعنی اس میں عام قارئین کے ساتھ ساتھ طلبہ کے لیے بھی بہت کچھ ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!