Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور علم اصول فقہ (قسط پنجم)

امام احمد رضا اور علم اصول فقہ (قسط پنجم)
عنوان: امام احمد رضا اور علم اصول فقہ (قسط پنجم)
تحریر: حضرت مولانا مفتی محمد شمشاد حسین بدایونی
پیش کش: صبرین فاطمہ رضویہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

امام احمد رضا اور اصول فقہ:
تمہیدی کلمات

مجدد اعظم امام احمد رضا قدس سرہ کی دینی و ملی اور علمی و فکری خدمات کی اشاعت کا دائرہ جوں جوں بڑھ رہا ہے ، ان کی حیات کے مختلف اور متنوع گوشے نکھر کر سامنے آرہے ہیں ۔ آج کی صورت حال یہ ہے کہ کوئی اسلامی محقق تحقیق و ریسرچ کے لیے جس موضوع کا انتخاب کرتا ہے، سچائی یہ ہے کہ اجمال یا تفصیل کے ساتھ قابل قدر مواد، امام موصوف کی تصنیفات میں انہیں ضرور مل جاتا ہے۔ میدان علم وفن میں بطور خاص علم فقہ وفتاوی اور اصول سے مجدد موصوف کی جو گہری وابستگی تھی اس کے قابل دید مظاہر ان کے مجموعہ فتاوی اور فقہی کتب و رسائل میں بخوبی دیکھے اور پڑھے جا سکتے ہیں۔ اور یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امام احمد رضا مولی عزوجل کی عطا اور رسول اللہ کے طفیل اس عظیم خیر و بھلائی سے متصف تھے جس کا ذکر حدیث پاک میں بایں مفہوم آیا ہے جس کے ساتھ اللہ عزوجل خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کا فقیہ بنا دیتا ہے ۔ ہم ذیل میں اصول فقہ کے تعلق سے امام احمد رضا کے بعض افادات پیش کرتے ہیں :

امام احمد رضا اور احکام شرعیہ کی تقسیم

ایک ایسے موضوع پر امام اہل سنت کا رنگ اجتہاد ملاحظہ فرمائیے جس کا تعلق فقہ کے اصول و قواعد سے ہے، ان نادر تحقیقات کو دیکھنے اور ان کی گہرائی و گیرائی کا جائزہ لینے کے بعد یہ کہنا پڑتا ہے ع بسیار خوباں دیدہ ام لیکن تو چیزے دیگری ۔

احکام شرعیہ کی تقسیم میں علمائے اصولیین اور فقہائے معتمدین کے چار اقوال ملتے ہیں۔

قول اول: احکام شرعیہ کی پانچ قسمیں ہیں: (۱) واجب۔ (۲) مندوب (۳) مکروه (۴) حرام (۵) مباح

قول ثانی: احکام شرعیہ کی سات قسمیں ہیں : (۱) فرض (۲)واجب (۳) مندوب (۴) مباح (۶) مکروہ تحریمی (۵) حرام (۷) مکروہ تنزیہی ۔
ان دونوں اقوال کا ذکر کتب اصول میں بکثرت ملتا ہے صاحب مسلم الثبوت نے بھی ان دونوں کا ذکر کیا ہے۔

قول ثالث : بعض حضرات نے قدرے تبدیلی کے ساتھ ساتوں قسموں کو یوں بیان فرمایا۔
(۱) فرض (۲) واجب (۳) سنت (۴) نفل (۵) حرام (۶) مکروہ (۷) مباح۔
صدر الشریعہ نے " متن تنقیح “ میں اس کو رکھا اور مرقاة الوصول میں مولی خسرونے اور فصول البدائع میں شمس الدین محمد ابن حمزہ فقاری نے ان کی پیروی کی۔

قول رابع : احکام شرعیہ کی نو قسمیں ہیں: (۱) فرض (۲) واجب (۳) سنت ہدیٰ (سنت موکدہ) (۴) سنت زائدہ غیر موکدہ (۵) نقل (۶) حرام (۷) مکروہ تحریمی (۸) مکروہ تنزیہی (۹) مباح
صاحب فصول البدائع علامہ شمس الدین محمد ابن حمزه فقاری نے اپنے کلام کے آخر میں اسے صراحتہ ذکر کیا اور صدر الشریعہ نے توضیح میں اس کا شارہ دیا۔

مذکورہ بالا چاروں تقسیم میں سے ہر ایک میں اصولی اعتبار سے کچھ نہ کچھ کمی یا خلل موجود ہے ، چنانچہ اس کی نشاندہی کرتے ہوئے امام احمد رضا رقم طراز ہیں:

"اقول: تقسیم اول میں کمال اجمال اور مذہب شافعی سے الیق ہونے کے علاوہ صحت مقابلہ اس پر بنی کہ ہر مندوب کا ترک مکروہ ہو "وقد علمت أنه خلاف التحقیق" نیز سنت و مندوب میں فرق نہ کرنا مذہب حنفی و شافعی کسی کے مطابق نہیں یہی دونوں کی تقسیم دوم میں بھی ہیں سوم و چہارم میں عدم مقابلہ بدیہی کہ سوم میں جانب فعل چار چیزیں ہیں اور جانب ترک دو، چہارم میں جانب فعل پانچ ہیں اور جانب ترک تین پھر جانب ترک بسط اقسام کر کے تصحیح مقابلہ کیجئے تو اسی مقابلہ نقل و کراہت سے چارہ نہیں مگر بتوفیق اللہ تعالیٰ تحقیق فقیر سب خللوں سے پاک ہے، اس نے ظاہر کیا کہ بلکہ احکام گیارہ ہیں۔ پانچ جانب فعل میں ممتاز (فرض، واجب، سنت مؤکدہ، غیر مؤکدہ، مستحب، اور پانچ جانب ترک میں متصاعداً خلاف اولیٰ، مکروہ تنزیہی، اسات، مکروہ تحریمی، حرام، جن میں میزان مقابلہ اپنے کمال اعتدال پر ہے کہ ہر ایک اپنے نظیر کا مقابل ہے اور سب کے بیچ میں گیارہواں مباح خالص۔"

اپنی اس نادر و نایاب تحقیق کا تذکرہ اور اس پر مسرت کا اظہار ان الفاظ میں فرماتے ہیں:
"اس تقریر منیر کو حفظ کر لیجئے کہ ان سطور کے غیر میں نہ ملے گی اور ہزارہا مسائل میں کام دے گی اور صدہا عقدوں کو حل کرے گی کلمات اس کے موافق، مخالف سب طرح کے ملیں گے مگر بحمد اللہ تعالیٰ حق اس سے متجاوز نہیں فقیر طمع رکھتا ہے کہ اگر حضور سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حضور یہ تقریر عرض کی جاتی ضرور ارشاد فرماتے کہ یہ عطر مذہب و طراز مہذب ہے۔ والحمد للہ رب العالمین۔"

اس تنقیح و تقریر سے معلوم ہوا کہ امام احمد رضا نے احکام شرعیہ کی کل گیارہ قسمیں نکالی ہیں:
(۱) فرض (۲) واجب (۳) سنت مؤکدہ (۴) سنت غیر مؤکدہ (۵) مستحب (۶) خلاف اولیٰ (۷) مکروہ تنزیہی۔ (۸) اساءت (۹) مکروہ تحریمی (۱۰) حرام (۱۱) مباح۔

بلکہ کچھ اور تفصیل کیجئے تو کل پندرہ قسمیں نکل آتی ہیں:
(۱) فرض اعتقادی (۲) فرض عملی (۳) واجب اعتقادی (۴) واجب عملی (۵) سنت مؤکدہ (۶) سنت غیر مؤکدہ (۷) مستحب (۸) خلاف اولیٰ (۹) مکروہ تنزیہی (۱۰) اساءت (۱۱) مکروہ تحریمی اعتقادی (۱۲) مکروہ تحریمی عملی (۱۳) حرام اعتقادی (۱۴) حرام عملی (۱۵) مباح۔

ذیل میں ہر ایک کی جامع ومانع تعریف لکھی جاتی ہے اس کے بعد احکام لکھے جائیں گے۔ ان تعریفات میں سے کچھ فتاویٰ رضویہ کی تصریحات سے ماخوذ ہیں اور کچھ اس کے اشارات و ابحاث سے اخذ کر کے اپنے الفاظ میں بیان کی گئی ہیں۔

فرض اعتقادی: مجتہد جس شئی کی طلب جزمی حتمی کا اذعان کرے اور وہ اذعان بدرجہ یقین بالمعنی الاعم والاخص ہو اس کو فرض اعتقادی کہتے ہیں پھر فرض اعتقادی کی دو قسمیں ہیں (۱) ضروریات دین (۲) غیر ضروریات دین۔
ضروریات دین: وہ امور جن کا دین سے ہونا خواص کو معلوم ہو اور ان عوام کو بھی جو دین میں مشغولیت اور علمائے دین سے علمی تعلق رکھتے ہوں۔
غیر ضروریات دین: وہ یقینیات و قطعیات جو اس حد تک معروف نہ ہوں۔
فرض عملی: دلائل شرعیہ کی بنیاد پر مجتہد کو جس شئی کی طلب جزمی میں اصلاً شبہ نہ ہو۔ یعنی اگر مجتہد کی نظر میں وہ شئی کسی عمل میں فرض ہو تو بے اس کے وہ عمل باطل محض ہو۔ اور مستقل مطلوب ہے تو اس کے بغیر ذمہ سے بری نہ ہونے پر اسے جزم ہو۔
واجب اعتقادی: مجتہد جس شئی کی طلب جزمی حتمی کا اذعان کرے، مگر یہ اذعان بدرجہ یقین بالمعنی الاعم والاخص نہ ہو بلکہ اسے صرف ظن غالب ہو تو واجب اعتقادی کہلاتا ہے۔
واجب عملی: بنظر دلائل شرعیہ جس چیز کی طلب جزمی ہے، نظر مجتہد میں وہ جزمی نہیں، بلکہ اس میں شبہ ہے اور جس شئی میں وہ واجب ہے اس کے بغیر وہ شئی باطل نہیں بلکہ اس میں حکم صحت حاصل ہے اور اس کے بغیر ذمہ سے بری ہونا محتمل ہے۔
سنت مؤکدہ: جس فعل کی طلب جزمی نہ ہو مگر اس کی تاکید رسول سے ثابت ہو اور کبھی احیاناً ترک بھی ہوا ہو۔
سنت غیر مؤکدہ: مجتہد کے نزدیک جو کام سنت تو ہو مگر اس کی تاکید ثابت نہ ہو
مستحب: مجتہد کے نزدیک جس کے کرنے کی طلب تر غیبی ہو
مباح: مجتہد کے نزدیک جس کا کرنا نہ کرنا دونوں برابر ہو۔
حرام اعتقادی: مجتہد کے نزدیک جس شئی سے باز رہنے کی طلب حتمی یقینی بالمعنی الاعم والآخص ہو۔ حرام اعتقادی کی دو قسمیں ہیں: (۱) ضروریات دین (۲) غیر ضروریات دین۔
حرام عملی: دلائل شرعیہ کی بنا پر مجتہد کو جس شئی سے باز رہنے کی طلب جزمی ہو، اس میں اصلاح نہ ہو، یعنی اگر مجتہد کی نظر میں وہ شئی کسی عمل میں حرام ہو تو اس کی موجودگی میں وہ شئی باطل محض اور مستقل حرام ہو تو اس سے اجتناب کے بغیر ذمہ سے بری ذمہ نہ ہو۔
مکروہ تحریمی اعتقادی: مجتہد جس سے باز رہنے کی طلب جزمی کا اذعان تو کرے مگر یہ اذعان یقین بالمعنی الاعم والآخص کی حد تک نہ ہو، بلکہ اسے خوب ظن غالب ہو۔
مکروہ تحریمی عملی: وہ شئی جس سے باز رہنے کی طلب جزمی ہے مگر نظر مجتہد میں وہ جزمی نہیں بلکہ اس میں شبہ ہے یعنی اگر وہ شئی کسی عمل میں مکروہ تحریمی ہے تو وہ عمل اس شئی کی موجودگی میں باطل نہیں اور مستقل مکروہ ہے تو اس سے اجتناب کے بغیر ذمہ سے بری ہونا محتمل ہے۔
اساءت: مجتہد کے نزدیک جس سے باز رہنے کی طلب جزمی نہ ہو، مگر اس کی تاکید ثابت ہو۔
مکروہ تنزیہی: مجتہد کے نزدیک جس سے باز رہنے کی طلب غیر جزمی ہو، مگر اس کی تاکید نہ ہو۔
خلاف اولیٰ: مجتہد کے نزدیک جس سے باز رہنے کی طلب غیر جزمی محض ترغیب کے طور پر ہو۔

احکام:
(۱) فرض: ترک عادی ہو یا نادر قطعی طور پر موجب استحقاق عذاب ہے۔
(۲) واجب: ترک عادی ہو یا نادر مطلقاً موجب استحقاق عذاب ہے مگر اس میں قطعیت نہیں ہوتی۔
(۳) سنت مؤکدہ: ترک عادی پر عذاب اور نادر پر عتاب۔
(۴) سنت غیر مؤکدہ: عادی ہو یا نادر مطلقاً مورث عتاب۔
(۵) مستحب، مندوب، ادب: عادی ہو یا نادر مطلقاً عذاب و عتاب کچھ نہ ہو۔

یوں ہی جانب ترک میں:
(۱) حرام: اس کا فعل (کرنا) عادی ہو یا نادر قطعی طور پر موجب استحقاق عذاب ہو۔
(۲) مکروہ تحریمی: اس کا فعل (کرنا) عادی ہو یا نادر مطلقاً موجب استحقاق عذاب ہو مگر اس میں قطعیت نہیں ہوتی۔
(۳) اساءت: (یہ کراہت تنزیہی سے افحش اور تحریمی سے اخف ہے) فعل عادی پر عذاب اور نادر پر عتاب۔
(۴) کراہت تنزیہی: عادی ہو یا نادر مطلقاً مورث عتاب۔
(۵) خلاف اولیٰ: عادی و نادر کسی پر عذاب و عتاب کچھ نہ ہو۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!