Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حضور محدثِ کبیر اکابرین کی نظر میں|محمد کمال الدین قادری امجدی

حضور محدثِ کبیر اکابرین کی نظر میں
عنوان: حضور محدثِ کبیر اکابرین کی نظر میں
تحریر: محمد کمال الدین قادری امجدی
پیش کش: عرشیہ بانو عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

گردشِ ایام سے افقِ کائنات پر کچھ ایسی مایہ ناز اور یکتائے روزگار شخصیات جلوہ بار ہوئی ہیں، جن کے علمی، فکری اور عملی کارنامے تاریخِ انسانیت کے لیے اصول و رہنما اور آنے والی نسلوں کے لیے لائقِ فخر اور قابلِ تقلید ثابت ہوئے ہیں۔ انہی پاک طینت، خوب سیرت، بلند ہمت ذواتِ قدسیہ میں ایک ذات ہم کو ایسی بھی ملتی ہے جس نے ایک عالم کو اپنے علم و عمل کی نورانیت سے منور کر رکھا ہے، ہزاروں تشنگانِ علومِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کی علمی پیاس کو بجھا چکی ہے، ہزاروں کی بجھا رہی ہے، اور ہزاروں اس چشمۂ صافی سے سیراب ہونے کے لیے ماہیِ بے آب کی طرح اب بھی تڑپ رہے ہیں۔ میری مراد میدانِ علم و فن کے تاجدار، معقولات و منقولات کے بحرِ ذخار، نابغۂ روزگار، مرجعِ علماء، پاکی، بالغ نظری، اصابتِ فکری اور محققانہ صلاحیت جیسی تمام خصوصیات ایک عالم کو تابندہ کیے رہتی ہیں، اور اتنے اعلیٰ مقام انہیں نصیب ہوئے کہ زمانہ کے اکابر اور خود ان کے شیوخ و اساتذہ نے ان کی ناز برداریاں اٹھائیں۔ اہلسنت کے شیخِ طریقت، خلیفۂ حضور مفتی اعظم ہند و حضور مجاہدِ ملت، زینتِ مسندِ افتاء، رونقِ خانقاہ و درس گاہ، منکسر المزاج، سادہ طبیعت، نیک سرشت، اخلاص و اخلاق میں یگانۂ روزگار، رئیس المدرسین، محبوب الواعظین، وارثِ علومِ نبویہ، پیشوائے اہلِ یقین، مقتدائے اربابِ دین، بے حد ذہین و فطین، سلطان الاساتذہ، رئیس المناظرین، امیر المومنین فی الحدیث، شہزادہ و جانشینِ حضور صدر الشریعہ، نائب قاضی القضاۃ فی الہند حضور محدثِ کبیر حضرت علامہ مفتی محمد ضیاء المصطفیٰ قادری امجدی دامت برکاتہم العالیہ بانی و سربراہِ جامعہ امجدیہ رضویہ و کلیۃ البنات الامجدیہ گھوسی شریف ضلع مئو یوپی کی ذاتِ اقدس ہے۔

آپ کی علمی رفعتوں اور فکری بلندیوں کا اعتراف محض چند افراد تک محدود نہیں، بلکہ اہل علم و دانش کی ایک وسیع دنیا آپ کی عظمت کی گواہ ہے۔ آپ کے شیوخِ کرام، اساتذۂ عظام اور معاصرین و تلامذہ نے جس محبت، خلوص اور اعتماد کے ساتھ آپ کی صلاحیتوں کو سراہا ہے، وہ دراصل آپ کے علمی مقام کی روشن دلیل ہے۔

یہ وہ سعادت ہے جو ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی کہ اس کے کارناموں کی تصدیق اہلِ نظر کی زبانوں سے ہو اور اس کی شخصیت اہلِ دل کے قلوب میں جگہ بنالے۔ عالمِ اسلام کی پاکیزہ اور صاحبِ دل ہستیاں جب آپ کے اوصافِ حمیدہ کا تذکرہ کرتی ہیں اور آپ کی مدح و ثنا میں اپنے تاثرات پیش کرتی ہیں تو یہ دراصل اللہ رب العزت کی ایک خاص عطا اور قبولیت کی علامت ہے۔ ایسے لوگ ہی زمانے میں چراغِ راہ بنتے ہیں جن کی ذات علم، عمل اور اخلاص کا حسین امتزاج ہو۔ حضور محدثِ کبیر دامت برکاتہم العالیہ کے تعلق سے رہبرانِ شریعت و طریقت اور دانشورانِ قوم و ملت نے جو گراں قدر تاثرات پیش کیے ہیں، وہ اپنی جگہ ایک مکمل خزانہ ہیں۔ مختلف علمی و روحانی مجالس اور اجلاس میں علماء و مشائخ کا والہانہ انداز میں آپ کا تذکرہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کی ذات محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک ادارہ، ایک فکر اور ایک تحریک کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان تمام تاثرات کو قلمبند کرنا یقیناً ممکن نہیں، کیونکہ یہ محبتیں الفاظ کی حدود سے کہیں وسیع ہوتی ہیں۔

تاثراتِ شیوخِ اسلام

(1) صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ

میرا یہ بچہ (محدثِ کبیر) آئندہ بہت بڑا عالم ہوگا۔ [حیاتِ حافظِ ملت]

(2) استاذ الاساتذہ جلالۃ العلم حافظِ ملت علامہ عبدالعزیز صاحب قبلہ محدثِ مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ

ایک بار مولانا سید عبدالحق اعظمی رحمۃ اللہ علیہ سے محدثِ کبیر کی ذہانت کو سراہتے ہوئے فرمایا انہیں تنہا امورِ عامہ پڑھانے میں اتنی خوشی حاصل ہوتی ہے کہ سو طلبہ بھی ہوتے تو وہ خوشی نہ ہوتی۔ [حیاتِ حافظِ ملت]

اکثر حافظِ ملت فرمایا کرتے تھے میں نے جو کچھ بھی حضرت صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کیا وہ سب ضیاء المصطفیٰ کو دے دیا۔ [حیاتِ حافظِ ملت]

اشرفیہ میں تقریر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا، میں مولوی ضیاء المصطفیٰ کو اپنی جگہ مقرر کرتا ہوں اور آج سے یہی میری ساری کتابوں کا درس دیں گے۔ [سہ ماہی امجدیہ جولائی تا ستمبر 2004ء]

ایک بار فرمایا، میں نے مولوی ضیاء المصطفیٰ کو اشرفیہ کے لیے بلایا ہے ان کی تنخواہ میں زیادہ اضافہ تو نہیں البتہ اپنی تنخواہ دے کر ان میں اضافہ کر سکتا ہوں لیکن ان کو یہاں سے جانا نہیں ہے۔ اور اکثر فرمایا کرتے تھے، میں نے مولوی ضیاء المصطفیٰ کو اپنی جگہ رکھا ہے، اور یہ بھی فرماتے کہ جتنے امور مجھ سے متعلق ہیں وہ سب میں نے ضیاء المصطفیٰ کے سپرد کر دیے۔ [سہ ماہی امجدیہ جولائی تا ستمبر 2004ء]

محدثِ کبیر فرماتے ہیں: مجھے اکثر حافظِ ملت تنبیہ فرماتے، سنو اگر علم شربت کی طرح پلانے کا ہوتا تو اس کا گلاس سب سے پہلے میں تم کو دیتا۔

محدثِ کبیر جامعہ اشرفیہ بغرضِ تدریس مبارک پور حاضر ہوئے تو ایک صاحب نے کہا کہ فی الحال ان کو کسی اور ادارے میں بھیج دیا جائے، حافظِ ملت نے پر جلال انداز میں فرمایا: کیا کہا آپ نے؟ ضیاء المصطفیٰ کو میں نے اشرفیہ کے لیے بلایا ہے اور وہ یہی رہیں گے کسی کی مخالفت سے ان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا وہ بڑھتے رہیں گے۔

الجامعۃ الاشرفیہ عربی یونیورسٹی کے جشنِ تاسیس کے موقع پر حافظِ ملت نے ابنائے قدیم کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: آج تک میں نے کوئی کاغذی اخبار و اشتہار تو شائع نہیں کیا (مفتی شریف الحق امجدی، بحر العلوم عبد المنان اعظمی، محدثِ کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) البتہ یہ ہیں اشرفیہ کے وہ زندہ جاوید اخبارات و اشتہارات جنہیں ہم نے بڑے اہتمام کے ساتھ خونِ جگر کی سرخیوں سے شائع کیا ہے۔ کاغذی اخبارات و اشتہارات ردی کی ٹوکریوں میں یا گندی نالیوں میں ڈال دیے جاتے ہیں یا پھاڑ کر راستوں میں بکھیر دیے جاتے ہیں، قدموں کے تلے پامال ہو جاتے ہیں لیکن یہ وہ اخبارات و اشتہارات ہیں جو نہ کسی کے پھاڑنے سے پھٹ سکتے ہیں، نہ راہوں میں ڈالے جا سکتے ہیں اور نہ باد و باراں کی یورشوں سے معدوم ہو سکتے ہیں۔ عام کاغذی اخبارات و اشتہارات اپنے عارضی وجود کے ساتھ وقتی افادیت ہی کے حامل ہوتے ہیں لیکن یہ میرے شائع کردہ اخبارات و اشتہارات تو اپنے قیمتی وجود سے اور پھر اپنے تلامذہ کے تسلسل و توسط سے رہتی دنیا تک خلقِ خدا کے لیے صحیح معلومات کا ذریعہ اور رشد و ہدایت کا وسیلہ بنے رہیں گے، فالحمد للہ علی ذالک۔ [حافظِ ملت نمبر 210 / روایت ڈاکٹر خلیل اعظمی گھوسی شریف]

(3) محدثِ اعظم پاکستان علامہ مفتی سردار احمد رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں

ضیغم اہلِ سنت حضرت علامہ حسن علی رضوی میلسی دام ظلہ العالی فرماتے ہیں کہ محدثِ اعظم نے اپنے متعدد خطوط میں محدثِ کبیر کی ذہانت کو سراہتے ہوئے کہا: “عزیزم ضیاء المصطفیٰ صاحب بہت ذہین ہیں”۔ [حیاتِ محدثِ کبیر، ص: 239]

(4) مجاہدِ ملت رئیس ادارہ علامہ حبیب الرحمن عباسی رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں

صدر الشریعہ مفتی امجد علی صاحب نے خلافت وغیرہ جو کچھ مجھے عطا کیا وہ سب میں نے ان کے صاحبزادے ضیاء المصطفیٰ کو دیا۔ [سہ ماہی امجدیہ گھوسی اپریل تا جون 2005ء]

جو کچھ کلمہ عام ہے اس میں سب شامل ہو گیا۔ ایک اللہ کے ولی نے دوسرے اللہ کے ولی کو کیا کیا دیا، جانے والا جانے، لینے والا جانے، ہما اور شما کو کیا خبر۔

(5) رئیس القلم علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں

حضرت موصوف (محدثِ کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری) حدیث و فقہ میں اپنے عظیم المرتبت باپ کی قابل فخر یادگار ہیں۔ سند کے ساتھ صحیحین کی سیکڑوں حدیثیں انہیں ازبر یاد ہیں۔ اس وقت اپنے معاصرین میں علمی تبحر، قوتِ حافظہ، نکتہ رسی، علم و فن کی جامعیت، درس و تدریس اور خطابت و مناظرہ میں وہ اپنا ہمسر نہیں رکھتے۔ [مقدمہ بر ضیاء النحو]

(6) شارحِ بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں

محدثِ کبیر کا علمِ حدیث میں کوئی مقابل نہیں وہ تمام علوم و فنون میں یکتائے روزگار بلکہ منفرد حیثیت کے حامل ہیں۔ [حیاتِ محدثِ کبیر]

یہ کسی ایسے فاضل شخص کا قول نہیں جس نے دورہ میں بخاری شریف پڑھی ہو پھر کبھی کھولی بھی نہ ہو بلکہ یہ اس کا فرمانِ عالیشان ہے جو خود شارحِ بخاری ہے جو فنِ حدیث کے اسرار و رموز سے واقف ہے جو خود نائب فقیہِ اعظم ہند ہے۔

(7) جانشینِ مفتیِ اعظم، جگر گوشہ مفسرِ اعظم، حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں

حضور محدثِ کبیر علامہ مفتی ضیاء المصطفیٰ قادری رضوی امجدی جو اس زمانے میں تنہا ایک فرد نہیں بلکہ اپنے آپ میں وہ شخص ایک انجمن ہے مسلکِ اہلسنت و الجماعت کا حقیقی نقیب اور مبلغ اس زمانے میں جو ہے وہ ضیاء المصطفیٰ قادری ہے۔

(8) امام النحو علامہ غلام جیلانی میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں

اس وقت معاصرین میں خصوصاً اہلِ حدیث مع اسماء الرجال اور عموماً جملہ علوم میں آپ کا ہم پایہ ملنا دشوار ہے۔ [روایت مفتی جمال مصطفیٰ قادری]

(9) ضیغمِ اہلسنت حضرت علامہ حسن علی میلسی پاکستان کی نظر میں

ہماری آئندہ نسلوں کو ان کے اتباع اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے سے ہر گام ہر مقام پر فتح و نصرت کی کامیابی و کامرانی کا مژدہ جانفزا ملے گا، ماشاء اللہ محدثِ کبیر نے طاہر القادری پاکستانی ندوہ کے بانی کو لرزہ بر اندام و درماندہ بنا کر رکھ دیا اسے شکست فاش دی۔

(10) خطیبِ یورپ و ایشیا حضرت علامہ قمر الزماں اعظمی دام ظلہ العالی کی نظر میں

لندن میں خطاب کے دوران علامہ قمر الزماں اعظمی نے فرمایا برصغیر میں حضور صدر الشریعہ واحد وہ عالم ہیں جن کے بچے، بچیاں عالم اور عالمات ہوئی ہیں ان میں موجودہ عصر میں حضور محدثِ کبیر دامت برکاتہم العالیہ مظہرِ صدر الشریعہ ہیں۔ [سہ ماہی امجدیہ جنوری تا مارچ 2010ء]

(11) مفتی نظام الدین صاحب صدر مفتی جامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کی نظر میں

مجلسِ شرعی کے فقہی سیمینار میں تمام مندوبین و علماء و اساتذہ اشرفیہ کے سامنے بارہا کہا: “محدثِ کبیر مسائلِ شرعیہ کی تنقیح کے بادشاہ ہیں”۔ [روایت مفتی جمال مصطفیٰ قادری]

(12) مناظرِ اسلام حضرت مفتی محمد امان الرب صدر شعبہ افتاء جامعۃ مینائیہ و قاضیِ شرع ضلع گونڈہ کی نظر میں

عام لوگوں کا رجحان یہ ہے کہ اس قحط الرجال کے دور میں جو مردِ میدان اٹھ جاتا ہے اس کا میدان سنسان ہو جاتا ہے مگر محدثِ کبیر اپنے باپ کے میدانِ حدیث و فقہ میں ماہر شہ سوار کی طرح تیز گام نظر آرہے ہیں، اس قربِ قیامت کے ماحول میں آپ کی ذات اس شعر کے مصداقِ اتم ہے:

یہ غنیمت ہے کہ فروزاں ہیں ابھی چند چراغ
اٹھتے ہوئے بازار سے اور کیا چاہتے ہو

[حضور محدثِ کبیر اربابِ فکر و دانش کی نظر میں، ص: 137]

(13) آقائے گلزارِ ملت حضرت مولانا سید محمد گلزار اسماعیلی واسطی دام ظلہ العالی کی نظر میں

سوپ تو سوپ چھلنی بھی بولے، حضور محدثِ کبیر پر لب کشائی ہو جائے، جسم میں جتنے بال ہیں بولنے والے کے اتنے تو پیر زادگان کو پیر کامل بنا کر چھوڑ دیے ہیں۔ میری دو آنکھیں ہیں ایک آنکھ کا نام حضور تاج الشریعہ اور دوسری کا نام محدثِ کبیر ہے۔

یہ چند جھلکیاں دراصل اُس بحرِ علم و فضل کی صرف ایک بوند ہیں، جن سے اہل نظر بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حضور محدثِ کبیر اطال اللہ عمرہ کی ذات گرامی کس قدر بلند و بالا اور فیضانِ علم و عرفان کا سرچشمہ ہے۔ بے شک آپ کی حیاتِ طیبہ، علمِ حدیث کی خدمت، اور دینِ متین کے لیے شب و روز کی محنتیں رہتی دنیا تک چراغِ راہ بنی رہیں گی۔

آپ کی ذات نہ صرف علم کا مینار ہے بلکہ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سچی نسبتِ اہل سنت کا جیتا جاگتا نمونہ بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے اکابرینِ امت کی صحبت اور دعائیں کسی عظیم نعمت سے کم نہیں ہوتیں۔ ان کی نگاہِ کرم دلوں کو زندہ کرتی ہے، اور ان کی تعلیمات ایمان کو تازگی عطا کرتی ہیں۔ جو بھی ان کے درِ علم سے وابستہ ہوا، وہ یقیناً محرومی سے نکل کر دولتِ علم و معرفت سے مالا مال ہو گیا۔

بارگاہِ ربِ قدیر میں عاجزانہ دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ حضور محدثِ کبیر کے فیوض و برکات کو تاقیامت جاری و ساری رکھے، ہمیں ان کے علمِ نافع، اخلاص، اور اتباعِ سنت سے بھرپور حصہ عطا فرمائے، اور ان کا سایہِ شفقت ہم سب اہل سنت و الجماعت پر ہمیشہ سلامت رکھے۔ آمین بجاہ سید کونین صلی اللہ علیہ وسلم [ماہنامہ فخرِ بہار، ص: 78 تا 83]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!