| عنوان: | خیارِ طلاق پر سوالیہ نشان (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا یٰسین اختر مصباحی |
| پیش کش: | عرشیہ بانو عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
طلاق کو حدیث میں “أَبْغَضُ الْمُبَاحَاتِ إِلَى اللّٰهِ الطَّلَاقُ” کہا گیا ہے کہ اللہ کے یہاں طلاق جائز چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ چیز ہے اور بلا کسی ضروری سبب کے طلاق دینا سخت ممنوع اور اللہ کی ناراضگی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
اختیارِ طلاق کا ناجائز استعمال اور بیک وقت تین طلاقیں دینا ممنوع و گناہ ہونے کے باوجود نافذ اس لیے ہوتا ہے کہ طلاق ایک تلوار جیسی چیز ہے۔ وہ تلوار ہر حال میں اپنا اثر دکھائے گی۔ چاہے اس سے کسی بے گناہ کو مارا جائے، چاہے کسی مجرم و غدار پر اس سے وار کیا جائے۔
رہ گئی بات اس کے غلط استعمال کے سزا کی تو یقیناً سزا ملے گی لیکن اہل ایمان کا عقیدہ ہے کہ کچھ اعمال کی سزا دنیا میں اور کچھ اعمال کی سزا آخرت میں ملے گی۔ ہر سزا دنیا میں ہی مل جائے یہ کوئی ضروری نہیں۔
تین طلاق کو ایک طلاق ماننے پر اصرار سے بھی بات کچھ زیادہ آگے نہیں بڑھتی ہے۔ طلاق تو واقع ہو ہی جاتی ہے۔ دو یا تین نہیں تو ایک ہی سہی، اور پھر عدت گزر جائے تو میاں بیوی کا رشتہ ٹوٹ ہی جاتا ہے۔
اسی طرح عمومی رواج اگرچہ یہی ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے۔ بیوی کو اپنے آپ کو طلاق دینے کا رواج نہیں ہے، لیکن اگر کسی بیوی نے یہ اختیار اپنے شوہر کی رضامندی سے پالیا اور پھر اس نے اس اختیار کا ناجائز استعمال کیا تو پھر بات پلٹ کر وہیں آجاتی ہے جہاں آج ہے اور جس کے خلاف اس وقت شب و روز ہنگامہ کیا جا رہا ہے۔
اصل نشانہ تین طلاق نہیں بلکہ مرد کا اختیارِ طلاق ہے جس کا کبھی کبھی دبی زبان سے اظہار بھی کر دیا جاتا ہے۔ چونکہ اختیارِ طلاق کے مسئلہ میں کسی مسلم حلقہ و فرقہ کی طرف سے کوئی تائید و حمایت نہیں مل پاتی ہے، اس لیے اسے چھیڑنے سے پرہیز کیا جاتا ہے اور تین طلاق کے مسئلہ میں کچھ مسلم دانشوروں اور غیر مقلدین کی طرف سے تائید و حمایت حاصل ہو جاتی ہے، اس لیے اسے سرِفہرست رکھا جاتا ہے۔ اس حقیقت کو اہل بصیرت خوب اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
نکاح و طلاق کے احکام و مسائل فقہی کتابوں میں پوری تفصیل کے ساتھ ملتے ہیں جن کا لوگ عموماً مطالعہ نہیں کرتے۔ البتہ تبصرہ کرنے سے نہیں چوکتے کہ نکاح و طلاق کے احکام و مسائل کو مدون مرتب کر دینا چاہیے۔ انہیں کون سمجھائے کہ صدیوں پہلے ان کی ترتیب و تدوین کا کام ہو چکا ہے تو اب انہیں کیا مرتب و مدون کیا جائے؟
شریعتِ اسلامیہ نے جس صراحت و وضاحت سے احکام و مسائلِ نکاح و طلاق بتلائے ہیں ان کا عشر عشیر بھی کسی دوسرے مذہب و دھرم میں نہیں ملتا۔ اس کا اعتراف دنیا کے ہر خطہ کے وہ انصاف پسند اصحابِ علم کرتے ہیں جنہوں نے فقہی کتابوں کا کچھ بھی مطالعہ کر لیا ہے۔
علمائے کرام کی یہ ذمہ داری ضرور ہے کہ وہ مسلمانوں کو شریعت کے مسائل سے آگاہ کرتے رہیں۔ ساتھ ہی دیگر خواص و عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ مسائلِ شریعت کو مذہبی کتابوں میں پڑھتے اور ان پر عمل کرتے رہیں۔ زندگی کے بے شمار کاموں کو دیکھنے سننے کے لیے ان کے پاس وقت ہے اور مذہبی کتابیں پڑھنے یا علمائے کرام سے پوچھنے کا وقت نہیں۔
یہ کوئی معقول بات نہیں اور نہ ہی اسے کوئی عذر مانا جا سکتا ہے۔
مسلم دانشوروں کو چاہیے کہ اپنی عقل و فکر کو اپنے قابو میں رکھیں اور اسلام دشمن عناصر کے پروپیگنڈہ کا شکار نہ ہوں۔ ان کو ذہنی و فکری سکون دائرۂ شریعت میں رہ کر ہی حاصل ہوگا۔ آوارہ فکری و آزاد خیالی، ان کے کسی درد کا کوئی علاج اور کوئی مداوا نہ اس وقت ہے اور نہ آئندہ ہو سکتی ہے۔
ذہن و فکر میں وسوسے و خطرات کا پیدا ہونا قابلِ فہم بات سمجھی جا سکتی ہے مگر ان کا اطمینان بخش جواب اور حل پیش کیے جانے کے بعد بھی اپنی بات پر بضد رہنا، یہ منفی طرزِ فکر اور کج فہمی بلکہ بد نیتی کی علامت ہے اور جس کے اندر بھی ایسی علامت پائی جائے، اسے اپنے آپ پر، اپنے خیال پر، اپنے شعور پر اور اپنے پورے رویہ پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور اپنے علاج و اصلاح کی بھی سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے۔
عَنْ ثَوْبَانَ رضي اللہ عنه أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ۔ [سنن الترمذي، رقم الحديث: 1187، ص: 310، بيروت]
ترجمہ: جو عورت بلا وجہ اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔ [اسلام کا نظامِ طلاق، ص: 237 تا 244]
