| عنوان: | مغربی ممالک میں طلاق کا تصور |
|---|---|
| تحریر: | نیاز فتحپوری |
| پیش کش: | صوفیہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
شادی اسی وقت صحیح معنی میں شادی رہتی ہے جب تک میاں بیوی دونوں میں اتفاق قائم رہے اور جب نااتفاقی پیدا ہو تو دونوں کو علیحدہ ہو جانا چاہیے اور اس علیحدگی کو ”طلاق“ کہتے ہیں۔ اگر شوہر بیوی سے ناخوش ہو اور موافقت کی صورت باقی نہ رہے تو مرد بیوی کو علیحدہ کر دیتا ہے، یہ طلاق ہے۔ اگر مرد آوارہ ہو اور اپنی بیوی پر ظلم کرتا ہو اور بیوی مجبور ہو کر مفارقت اختیار کرے تو اسے اصطلاح میں ”خلع“ کہتے ہیں۔
ہندو دھرم شاستر میں اس قسم کا کوئی قاعدہ نہیں رکھا گیا، میاں بیوی کے تعلقات تازیست قائم رہتے ہیں۔ پہلے مسیحی اقوام میں بھی طلاق و خلع کا کوئی قاعدہ نہ تھا۔ میاں بیوی کے تعلقات تازیست ہوتے تھے۔ رفتہ رفتہ طلاق کا قاعدہ بنا لیا گیا مگر یہ قاعدہ صرف اس قدر اثر رکھتا تھا کہ میاں اور بیوی دونوں میں مفارقت کرا دے، لیکن دونوں میں سے کوئی تاحینِ حیات دوسری شادی نہیں کر سکتا تھا اور چونکہ اس کے نتائج اور بھی زیادہ خراب نکلے، اس لیے رفتہ رفتہ اب تقریباً عام اقوام و ممالک میں طلاق و خلع دونوں کا قانون بن گیا ہے۔
طلاق قدیم روم میں
قدیم روم میں دو قسم کی شادیاں ہوا کرتی تھیں:
-
عارضی: شادی کی مدت صرف ایک سال ہوتی تھی جسے اصطلاح میں (Marriage by uses) کہتے تھے۔ اس میں مرد و عورت بغیر کسی تقریب یا رسم کے تعلقات پیدا کر لیتے تھے اور یہ تعلقات سال بھر تک رہتے تھے، اگر اس دوران میں مرد و عورت کی زندگی لطف و محبت کے ساتھ بسر ہوئی تو وہ بعد انقضائے میعاد مستقل شادی کر لیتے تھے، ورنہ بغیر کسی عدالت یا پنچایت کی مداخلت کے فریقین میں خود بخود علیحدگی ہو جاتی تھی۔ (یہ طریقہ آج بھی مغربی ممالک میں رائج ہے)
-
مستقل:
قدیم ویلز میں
قدیم ویلز کو عورتوں کی شادی سے قبل و بعد بہت زیادہ آزادی حاصل ہوتی تھی۔ رہائس و برائمور جونس (Rhys & Brymor Jones) نے لکھا ہے کہ ”یہاں یہ دستورِ عام ہے کہ جب کبھی مرد یا عورت فسخِ تعلقات کرنا چاہتے ہیں تو خود بخود فریقین کی رضامندی سے علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ یہی حال آئرلینڈ میں تھا اور تعلقاتِ نکاح کا منقطع کر دینا بہت آسان تھا۔ جب عورت اپنی درخواست پر خلع حاصل کر لیتی تھی تو وہ اپنا تمام مال خواہ میکہ سے لائی ہو یا شوہر نے دیا ہو سب اپنے ساتھ لے جاتی تھی۔“
قدیم چین میں
چین میں طریقہ طلاق قدیم زمانہ سے چلا آ رہا ہے۔ اگر میاں بیوی کے مزاج میں موافقت نہیں ہوتی، اور دونوں علیحدہ ہونا چاہتے ہیں تو باہمی رضامندی سے تعلقات منقطع کر دیتے ہیں، لیکن یہ ضرور ہے کہ وہاں طلاق و خلع کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ البتہ اگر بیوی غیر وفادار ثابت ہو یا فریقین میں سے کوئی کسی کو ضررِ شدید پہنچائے تو طلاق لازمی ہو جاتی ہے۔
جاپان میں
جاپان میں جدید قانونِ دیوانی کے مطابق شادی کی اطلاع رجسٹرار کو دے دی جاتی ہے، لیکن شادی ہمیشہ فریقین کی رضامندی اور والدین یا بزرگوں کی اجازت سے ہوتی ہے۔ شادی کے سلسلہ میں احباب وغیرہ کو بھی دعوت دی جاتی ہے، لیکن قانون اس پر مجبور نہیں کرتا۔ ایسا کرنا یا نہ کرنا فریقین کی خوشی پر منحصر ہے۔
طلاق کا قاعدہ بھی وہی ہے، جو شادی کا ہے، یعنی رجسٹرار کو نوٹس دے دیا جاتا ہے کہ نکاح فسخ کر دیا جائے، لیکن اس کے لیے یہ شرط ہے کہ شوہر اور بیوی کی عمر پچیس سال سے زیادہ ہو۔ اگر فریقین کی عمر اس سے کم ہے یا کہ فسخِ نکاح کے لیے باہمی رضامندی حاصل نہیں ہو سکتی ہے تو اس کے لیے قانونی علیحدگی (Judicial Divorcy) کا قاعدہ موجود ہے۔ قانونی طلاق مختلف اسباب کی بناء پر حاصل کی جا سکتی ہے۔
ایسکیمو قوم میں
علاقہ قطبِ شمالی کی ایسکیمو (Eskimo) قوم میں معاشرتی و تمدنی لحاظ سے مرد و زن دونوں برابر ہیں۔ شادی بیاہ میں قطعی آزادی ہے اور اسی طرح فریقین میں بھی بدمزگی پیدا نہیں ہونے پاتی۔
فرانس میں
فرانس میں جب قانونی طلاق ہوتی ہے، تو عورت کو درجۂ مساوات دیا جاتا ہے، سخت تکلیف کی صورت میں طلاق باآسانی حاصل ہو جاتی ہے۔ (لیکن ناموافقت کا عذر بہت کم سنا جاتا ہے۔) علاوہ ازیں جج کو اختیار ہے کہ فریقین کو علیحدگی میں لے جا کر سمجھائے اور اگر فریقین رضامند نہ ہوں تو عدالت میں کھلم کھلا سماعتِ مقدمہ کیے بغیر طلاق کی ڈگری دے دے، لیکن اب فرانس میں زیادہ تر رجحان یہ ہو رہا ہے کہ باہمی رضامندی سے طلاق ہو جایا کرے اور عدالت میں رسوائی نہ ہو۔
جرمنی میں
ریاستِ پروشیا میں 1900ء سے بیشتر طلاق کے متعلق یہ قاعدہ جاری تھا کہ فریقین خود خاموشی سے قطع تعلق کر لیا کرتے تھے، لیکن 1900ء میں جدید قانون جاری ہوا۔ اس کی رو سے اگر شوہر یا بیوی ایک دوسرے کو چھوڑ کر بھاگ جائے یا فریقین میں سے کوئی پاگل ہو جائے تو طلاق باآسانی مل جاتی ہے، لیکن دوسری صورتوں میں بہت مشکلات پیدا کر دی گئی ہیں۔
روس میں
1907ء سے پہلے روس میں طلاق کا حاصل کرنا سخت دشوار تھا، لیکن بعد ازاں فریقین کے لیے یہ سہولت کر دی گئی کہ اگر نباہ نہ ہو سکے تو دونوں باہمی رضامندی سے علیحدہ ہو جائیں، اگر سال بھر علیحدہ رہ کر وہ پھر رضامند ہو جائیں تو دوبارہ نکاح کر لیں، لیکن جب سے روس میں بالشویت قائم ہوئی ہے، شادی اور علیحدگی دونوں بہت آسان ہو گئی ہیں۔
انگلستان میں
ازدواج و طلاق کے مسئلہ میں انگلستان کا قانون فرانس اور امریکہ سے بہت گرا ہوا ہے۔ 1857ء میں ایک قانون پاس ہوا تھا، جس میں زن و مرد کو برابر کا درجہ نہیں دیا گیا تھا، یعنی عورت اگر غیر وفادار ثابت ہو تو شوہر طلاق حاصل کر سکتا تھا، لیکن اگر شوہر اسی جرم کا مرتکب ہو تو بیوی طلاق حاصل نہ کر سکتی تھی۔ عورت اسی صورت میں طلاق حاصل کر سکتی تھی کہ شوہر اس پر ظلم و ستم کرے یا اسے چھوڑ کر بھاگ جائے۔ ابتدا میں لفظ ”ظلم و ستم“ کا مفہوم محض ضررِ جسمانی تک محدود تھا، لیکن بعد میں اسے وسعت دے دی گئی، یعنی اب اس میں ایسی باتیں بھی شامل ہیں جن سے بیوی کی طبیعت کو رنج یا صدمہ پہنچے۔ علاوہ ازیں شوہر کی سردمہری اور غفلت بھی ”ظلم“ میں داخل سمجھی جاتی ہیں۔
امریکہ
امریکہ میں خواہ مدعی خاوند ہو یا بیوی، بدسلوکی کا عذر فسخِ نکاح کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے، مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ جن باتوں کو ”بدسلوکی یا خلافِ انسانیت“ کہا جاتا ہے، وہ نہایت ہی معمولی باتیں ہوتی ہیں۔ مثلاً اگر بیوی شوہر کے کوٹ یا کسی اور کپڑے میں بٹن نہ ٹانکے تو یہ بھی بدسلوکی سمجھی جائے گی یا میاں اگر اپنے پاؤں کے ناخن نہ تراشے تو اس عذر کو بھی کافی سمجھا جائے گا، اور طلاق ہو جائے گی۔ ایک بار کسی عورت نے دعویٰ کیا کہ جب سے ہماری شادی ہوئی ہے اس وقت سے اب تک میرا شوہر کبھی گاڑی میں بٹھا کر سیر کو نہیں لے گیا۔ چنانچہ اس کا یہ فعل خلافِ انسانیت قرار دیا گیا اور طلاق کی ڈگری دے دی گئی۔
سوئیٹزرلینڈ میں
اگر میاں بیوی کے درمیان ناموافقت ہو جائے تو دو سال کے لیے طلاق حاصل کی جا سکتی ہے۔
ناروے میں
قانونِ طلاق بہت آسان ہے۔
رومانیہ میں
باہمی رضامندی کے ساتھ علیحدگی ہو سکتی ہے بشرطیکہ ماں باپ اپنے مال کا نصف حصہ بچوں کو دے دیں۔
