| عنوان: | امام احمد رضا اور ترجمہ قرآن (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ ڈاکٹر غلام زرقانی قادری |
| پیش کش: | مصباح صدف |
| منجانب: | مدرسۃ الفاطمہ قادریہ للبنات گلبرگہ شریف |
عام مترجمینِ قرآن نے نبی کا ترجمہ نہیں کیا ہے بلکہ اسے یوں ہی رہنے دیا ہے، فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ ناقابلِ انکار دلائل و شواہد کی بنیاد پر بخوبی علم رکھتے تھے کہ اللہ رب العزت نے اپنے حبیب سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو علمِ غیب عطا فرمایا ہے، اس لیے موقع کی مناسبت سے اس ثابت شدہ عقیدے کی وضاحت کرنے کے لیے آپ نے لفظ “نبی” کے لغوی مفہوم کی وضاحت کر دی ہے۔
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا [سورۃ الأحزاب: 1]
اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) اللہ کا یوں ہی خوف رکھنا اور کافروں اور منافقوں کی نہ سننا، بے شک اللہ علم و حکمت والا ہے۔ [کنز الایمان، ص: 605]
آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں کہ فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ نے ترجمہ قرآن کرتے ہوئے علمِ غیبِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے علمائے اہلِ سنت کے موقف کی ترجمانی کی ہے، اور وہ بھی نہایت ہی آسان لب و لہجے اور اختصار کے ساتھ۔ ویسے تو متذکرہ موضوع پر دلائل و براہین کے انبار پیش کیے جا سکتے ہیں، تاہم اس طرح کنز الایمان سے متعلق زیرِ بحث موضوع سے بہت دور نکل جانے کا خطرہ درپیش ہے، اس لیے صرف ایک حدیث لکھ کر آگے بڑھنا چاہتا ہوں۔
عَنْ أَبِي زَيْدٍ يَعْنِي عَمْرَو بْنَ أَخْطَبَ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرُ، فَنَزَلَ فَصَلَّى، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَأَخْبَرَنَا بِمَا كَانَ وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ، فَأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا [صحيح مسلم، باب: 19، حديث: 54]
حضرت ابو زید یعنی عمرو بن اخطب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی اور منبر پر رونق افروز ہو کر ہمارے سامنے تقریر فرمائی یہاں تک کہ نمازِ ظہر کا وقت ہو گیا، پھر آپ منبر سے تشریف لائے اور نماز پڑھائی۔ اس کے بعد آپ پھر منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور تقریر فرمائی یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا۔ پھر منبر سے تشریف لائے اور نمازِ عصر پڑھائی۔ اس کے بعد پھر منبر پر تشریف لے گئے اور تقریر فرمائی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ اس طرح آپ نے دورانِ خطابت جو کچھ ہو چکا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے، تمام واقعات کی خبر ہمیں دے دی۔ اب ہمارے درمیان سب سے بڑا عالم وہ ہے، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی باتیں زیادہ یاد ہیں۔
اس پس منظر میں یہ آیتِ کریمہ بھی دیکھیے!
وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ [سورۃ التكوير: 24]
اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں۔ [کنزالایمان، ص: 558]
اب یقین آیا کہ فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ نے “النبی” کا ترجمہ خود ساختہ فکر کی بنیاد پر نہیں کیا ہے، بلکہ اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک ثابت شدہ عقیدے کی خوبصورت ترجمانی کی ہے۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے احوال و کوائف مشاہدہ فرماتے ہیں تاکہ قیامت کے دن بارگاہِ الٰہی میں گواہی دیں۔
امام احمد رضا رضی اللہ عنہ نے اسے نہایت ہی وضاحت کے ساتھ اپنے ترجمے میں ذکر کر دیا ہے۔
إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا [سورۃ الفتح: 8]
بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا۔ [کنزالایمان، ص: 749]
حضور پر نور سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نور ہیں، تاہم وہ ہمارے درمیان لباسِ بشری میں تشریف لائے۔ فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ نے اس ثابت شدہ عقیدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا ہی خوب ترجمہ کیا ہے۔
قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ [سورۃ المائدة: 15]
بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب۔ [کنز الایمان، ص: 160]
خیال رہے کہ یہاں کتاب سے مراد قرآن کریم ہے اور نور سے مراد رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہے۔ بعض مفسرینِ قرآن نے نور اور کتاب، دونوں سے قرآن کریم مراد لیا ہے تاہم یہ درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ اللہ رب العزت نے لفظ نور اور کتاب کے درمیان “واو” ذکر کیا ہے، جو اپنے دونوں طرف کے مذکورہ الفاظ کے درمیان مغایرت کو چاہتا ہے۔ یعنی یہ ضروری ہے کہ دونوں سے مراد ایک نہ ہو، بلکہ علیحدہ علیحدہ ہو۔ فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ نے متذکرہ آیتِ کریمہ کا ترجمہ کرتے ہوئے دونوں کو علیحدہ کرنے کے لیے “واو” سے پہلے والے حصے کو مکمل جملہ بنا دیا ہے، تاکہ مفہوم پوری طرح اجالے میں آ جائے۔
انبیائے کرام کے حوالے سے دلائل و براہین کی روشنی میں یہ ثابت شدہ عقیدہ ہے کہ وہ معصوم ہیں، نیز عقلی پیمانے پر بھی ان سے گناہوں کے امکانات خلافِ تصور ہیں۔ وہ اس طرح کہ اللہ رب العزت نے ہمیں انبیائے کرام کی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم دیا ہے۔ اب اگر ان سے گناہ متصور ہوں، تو یہ لازم آئے گا کہ ہم ان کے ذریعے ہونے والے گناہوں میں بھی ان کی اطاعت کریں اور یہ بات قطعی ناممکن ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں گناہوں کے ارتکاب کی ہدایت دے۔
اس پس منظر میں یہ آیتِ کریمہ دیکھیے:
لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ [سورۃ الفتح: 2]
عام اردو مترجمین نے متذکرہ آیتِ کریمہ کا ترجمہ کرتے ہوئے گناہ کی نسبت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی ہے مثال کے طور پر مولوی محمد میمن جونا گڑھی لکھتے ہیں:
تاکہ جو کچھ تیرے گناہ کیے ہوئے اور جو پیچھے رہے، سب کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔ [ترجمہ قرآن: مولوی محمد میمن جونا گڑھی، ج: 5، ص: 36، نور محمد کارخانہ تجارت کراچی]
مولوی وحید الدین خاں لکھتے ہیں:
تاکہ تمہاری اگلی پچھلی خطائیں معاف کرے۔ [تذکر القرآن: مولوی وحید الدین خان، ج: 2، ص: 592، فضلی سنز لمیٹڈ کراچی، 1982ء]
مولوی شبیر عثمانی لکھتے ہیں:
تاکہ معاف کرے تجھ کو اللہ جو آگے ہو چکے تیرے گناہ اور جو پیچھے رہے۔ [تفسیر عثمانی: مولوی شبیر عثمانی، ص: 678، بلال پبلشرز اردو بازار، لاہور]
اب آئیے فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے زر نگار قلم کی جولانی ملاحظہ فرمائیے:
تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے۔ [کنز الایمان، ص: 716]
بارگاہِ الٰہی میں شفاعت کے حوالے سے یہ آیتِ کریمہ ملاحظہ فرمائیں:
وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ [سورۃ البقرة: 48]
متذکرہ آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے مولوی محمود الحسن لکھتے ہیں:
اور قبول نہ ہو اس کی طرف سے سفارش۔ [تفسیر عثمانی، ص: 10]
اور مولوی مودودی لکھتے ہیں:
نہ کسی کی طرف سے سفارش قبول ہو گی۔ [تفہیم القرآن، ج: 1، ص: 74]
مولوی اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں:
اور نہ کسی شخص کی طرف سے کوئی سفارش قبول ہو سکتی ہے۔ [بیان القرآن، ص: 17]
متذکرہ تراجم سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں کسی کی سفارش قبول نہیں کی جائے گی، جب کہ یہ ثابت شدہ عقیدہ ہے کہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں انبیائے کرام، اولیائے عظام، حفاظ اور شہدائے اسلام حتیٰ کہ اسقاطِ حمل کے نتیجے میں ناتمام بچے بھی شفاعت کریں گے۔ اس حوالے سے قرآن کریم کی یہ آیتِ کریمہ دیکھیے:
وَلَا يَمْلِكُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ الشَّفَاعَةَ إِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ [سورۃ الزخرف: 86]
آپ ملاحظہ کر رہے ہیں کہ پچھلی آیتِ کریمہ کے مطلق ترجمے سے جو قباحت لازم آ رہی ہے، وہ یہ ہے کہ ناقابلِ انکار دلائل و شواہد اور مستند مصادر و مراجع کی روشنی میں ثابت شدہ عقیدۂ شفاعت کی روح بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اب آئیے ذرا دیکھیے کہ فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کی قلمی جولانیوں نے کس طرح قرآن کریم کو تناقضات کی زد سے بھی بچا لیا ہے اور عقیدۂ شفاعت کی نفی سے بھی:
اور نہ کافر کے لیے کوئی شفاعت مانی جائے گی۔ [کنز الایمان، ص: 13]
ادب و احترام
اطاعت اور احترام کے درمیان بڑا گہرا رشتہ ہے۔ جس کی اطاعت مقصود ہو، اس کے حوالے سے ادب و احترام نہ ہو تو اطاعت کا حق ادا نہیں ہو سکتا، یہ بات کہنے کی نہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری مطلوبِ اسلام ہے۔ اس کے بغیر نہ تو دنیا بہتر بنائی جا سکتی ہے اور نہ ہی اخروی نجات و فلاح کی امید کی جا سکتی ہے۔
اس پہلو سے جب ہم کنزالایمان پر نگاہ ڈالتے ہیں، تو پورے یقین و شوق کے ساتھ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ قرآن کریم کے اردو مترجمین کے درمیان ممتاز ہیں۔ انہوں نے ترجمہ کرتے ہوئے خالقِ کائنات کا ادب و احترام بھی ملحوظ رکھا ہے اور سرکارِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ مقدسہ کی تعظیم و توقیر بھی پیشِ نگاہ رکھی ہے۔ لگے ہاتھوں دو چار مثالیں دیکھتے چلیے۔
اللہ رب العزت کفار و مشرکین کی ریشہ دوانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:
وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ [سورۃ آل عمران: 54]
یہاں پر اللہ رب العزت نے جو لفظ کفار و مشرکین کی ریشہ دوانیوں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال کیا ہے، بعینہ اسی لفظ کا استعمال اپنے لیے بھی کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ بارگاہِ الٰہی کے آداب سے واقف نہیں ہیں، انہوں نے صرف الفاظ و بیان پر نگاہ کرتے ہوئے ایسے الفاظ میں متذکرہ آیتِ کریمہ کا ترجمہ کیا ہے، جو نہایت ہی تشویشناک ہے۔ ذوقِ سماعت سے معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کی عبارت پڑھنے سے پہلے چند تراجم پر سرسری نگاہ ڈال لیجیے۔
مولوی شاہ رفیع الدین نے یوں ترجمہ کیا ہے:
اور مکر کیا انہوں نے اور مکر کیا اللہ نے اور اللہ بہتر ہے مکر کرنے والوں کا۔ [رفیع الشان: شاہ رفیع الدین، ص: 200، تاج کمپنی کراچی]
مولوی شاہ عبد القادر نے اس طرح لکھا ہے:
اور فریب کیا کافروں نے اور فریب کیا اللہ نے اور اللہ کا داؤ سب سے بہتر ہے۔ [ترجمہ قرآن، ص: 53]
مولوی ڈپٹی نذیر احمد نے ترجمہ کرتے ہوئے کہا:
اور وہ چال چلے اور خدا بھی (عیسیٰ کو بچانے کے لیے) چال چلا اور خدا خوب چال چلنے والا ہے۔ [غرائب القرآن، ص: 81، ڈپٹی نذیر احمد دہلوی، مطبع قاسمی، دہلی]
اب آئیے متذکرہ آیتِ کریمہ کا ترجمہ فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کی تسنیم و کوثر میں دھلی ہوئی پاکیزہ زبان میں سماعت کیجیے:
اور کافروں نے مکر کیا اور اللہ نے ان کے ہلاک کی خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ سب سے بہتر چھپی تدبیر والا ہے۔ [کنز الایمان، ص: 83]
ماتھے کی آنکھوں سے پڑھیے اور محسوس کیجیے کہ فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے بارگاہِ الٰہی کے آداب بجا لاتے ہوئے کس قدر خوبصورت لب و لہجے میں ترجمہ کیا ہے۔ اور خیال رہے کہ یہ صرف خوبصورت لب و لہجے میں ترجمہ ہی نہیں ہے، بلکہ امہاتِ تفاسیر کے آئینے میں قرآن کریم کے واقعی مفہوم کی وضاحت بھی ہے۔
اسی پس منظر میں ایک اور آیتِ کریمہ ملاحظہ فرمائیے:
إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ [سورۃ النساء: 142]
مولوی وحید الزماں نے متذکرہ آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
منافق سمجھتے ہیں کہ (وہ) اللہ کو فریب دیتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ اللہ ان کو فریب دے رہا ہے۔ [تبویب القرآن: مولوی وحید الزمان، ص: 448، ادارہ محمدیہ لاہور]
مولوی محمود الحسن دیوبندی نے کچھ اس طرح کہا ہے:
البتہ منافق دغا بازی کرتے ہیں اللہ سے اور وہ ہی ان کو دھوکہ دے گا۔ [تفسیر عثمانی، ص: 132]
مولوی ابوالاعلی مودودی لکھتے ہیں:
یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں، حالانکہ درحقیقت اللہ ہی نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ [تفہیم القرآن، ج: اول، ص: 277]
مولوی فیروز الدین روحی کہتے ہیں:
بے شک منافق چال چلتے ہیں اللہ سے اور وہی ان سے چال چلنے والا ہے۔ [ترجمہ قرآن: مولوی فیروز الدین روحی، ص: 159، فیروز سنز لمیٹڈ، لاہور]
یہ بات کہنے کی نہیں کہ دھوکہ و فریب کسی بھی معاشرے میں مستحسن نہیں سمجھا جاتا ہے، بلکہ اسے عزت و وقار، تہذیب و تمدن اور تقویٰ و پرہیزگاری کے صریح خلاف شمار کیا جاتا ہے۔ سوچتا ہوں تو دماغ پھٹنے لگتا ہے کہ متذکرہ بالا سارے مترجمین نے دن کے اجالے میں کس طرح فریب کی نسبت خالقِ کائنات کی طرف کی ہے؟
اب ذرا فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے لب و لہجے میں متذکرہ آیت کا ترجمہ ملاحظہ کیجیے:
بے شک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کر کے مارے گا۔ [کنزالایمان، ص: 147]
عام مترجمین نے انبیائے کرام کی شان میں گستاخانہ لب و لہجے تک روا رکھے ہیں۔ مثال کے لیے یہ آیتِ کریمہ پڑھیے۔ جس میں حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے اپنے والدِ گرامی حضرت یعقوب علیہ السلام سے مخاطب ہونے کی تصویر کھینچی گئی ہے۔
قَالُوا تَاللَّهِ إِنَّكَ لَفِي ضَلَالِكَ الْقَدِيمِ [سورۃ یوسف: 95]
مولوی وحید الزماں متذکرہ آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وہ کہنے لگے خدا کی قسم تو تو اسی اپنے خبط میں ہے۔ [تبویب القرآن: مولوی وحید الزمان، ص: 842]
مولوی ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:
گھر کے لوگ بولے خدا کی قسم آپ ابھی تک اپنے اسی پرانے خبط میں پڑے ہوئے ہیں۔ [تفہیم القرآن، ج: 2، ص: 429]
مولوی فیروز الدین روحی لکھتے ہیں:
وہ کہنے لگے قسم اللہ کی تو تو البتہ اپنی پرانی بھول میں ہے۔ [ترجمہ قرآن، ص: 392]
مولوی امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:
لوگ بولے کہ خدا کی قسم آپ ابھی تک اپنے پرانے خبط میں مبتلا ہیں۔ [تدبر القرآن: مولوی امین احسن اصلاحی، ج: 2، ص: 481، مکتبہ مرکزی انجمن خدام القرآن، پاکستان]
آپ ماتھے کی آنکھ سے ایک معزز رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہنے والے جملے کا ترجمہ ملاحظہ فرما رہے ہیں، جو نہایت ہی بازاری اور ادب و احترام سے کوسوں دور ہے۔ خیال رہے کہ یہ وہ بات ہے، جو بیٹے اپنے والدِ گرامی سے کر رہے ہیں، کیا یہ ممکن ہے کہ ایک بیٹا اپنے باپ کے لیے خبطی، خبط میں پڑے، پرانی بھول میں جیسے الفاظ استعمال کرے؟ متذکرہ مترجمین نے ایک لمحے کے لیے یہ بھی نہ سوچا کہ جو لفظ ہم آپس میں ایک دوسرے کے لیے استعمال کرنے سے گریز کرتے ہیں، وہ ایک نبی معظم کے لیے اور وہ بھی بیٹوں کی طرف سے باپ کے لیے کیوں کر روا سمجھا جا سکتا ہے؟
بہر کیف، آئیے فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کی مؤدب فکر کے انوار ملاحظہ فرمائیے:
بیٹے بولے، خدا کی قسم، آپ اپنی اسی پرانی خود رفتگی میں ہیں۔ [کنز الایمان، ص: 349]
زیرِ بحث حوالے سے ایک مثال اور ملاحظہ فرمائیں!
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوا [سورۃ البقرة: 104]
آگے بڑھنے سے پہلے متذکرہ آیتِ کریمہ کا ترجمہ دوسرے مترجمین کی زبان سے سماعت کر لیجیے، تاکہ فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے ترجمے میں ادب و احترام کی نزاکت کا لطف باآسانی محسوس کر سکیں۔
مولوی ڈپٹی نذیر احمد لکھتے ہیں:
مسلمانو! (پیغمبر کے ساتھ) راعنا کہہ کر خطاب نہ کیا کرو۔ بلکہ انظرنا کہا کرو اور (دھیان لگا کر) سنتے رہا کرو۔ [غرائب القرآن، ص: 24]
مولوی محمود حسن دیوبندی کہتے ہیں:
اے ایمان والو تم نہ کہو راعنا اور کہو انظرنا اور سنتے رہو۔ [تفسیر عثمانی ص: 20]
مولوی ابوالاعلی مودودی لکھتے ہیں:
اے ایمان لانے والو راعنا نہ کہا کرو، بلکہ انظرنا کہو اور توجہ سے بات کو سنو۔ [تفہیم القرآن، ج: 1، ص: 100]
اب ذرا فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے مؤدب قلم کی جولانی ملاحظہ فرمائیے:
اے ایمان والو، راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو۔ [کنز الایمان، ص: 24]
اسلوب بیان
اسلوبِ بیان دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک تحریری اور دوسرا تقریری۔ دونوں طرح کے اسالیب میں فرق ہوتا ہے۔ تحریری بیان میں بہت حد تک جملے باہم مربوط ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے جڑتے ہوئے مفہوم ادا کرتے ہیں، جب کہ تقریری اسلوب میں سامعین کی رعایت سے بات کی جاتی ہے اور موقع کی مناسبت سے ارسالِ مفہوم ہوتا ہے، اس لیے یہاں جملوں میں ارتباط نہیں ہوتے۔ اس پس منظر میں جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ قرآن کریم کہیں تو براہِ راست مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہے اور کہیں بظاہر خطاب آپ سے ہے، تاہم مقصودِ بیان میں مخاطب ملتِ اسلامیہ اور صحابہ کرام ہیں۔ کہیں قصص و روایات بیان کیے جا رہے ہیں، کہیں دعوتِ غور و فکر دی جا رہی ہے، کہیں شرعی ضابطے بیان کیے جا رہے ہیں، کہیں غیروں کی مذمت کی جا رہی ہے، کہیں دردناک عذاب کی ہولناک تصویر کھینچی جا رہی ہے اور کہیں جنت کی آسائش و راحت کے جلوے دکھائے جا رہے ہیں۔ اس لیے نہ تو قرآن کریم کے اسلوب کو تحریری کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی تقریری، بلکہ سچی بات یہ ہے کہ یہ اپنے جداگانہ اسلوبِ بیان میں روئے زمین پر پائے جانے والے تمام سرمایۂ علم و حکمت کے درمیان ممتاز دکھائی دیتا ہے۔
قرآن کریم کے اسلوبِ بیان کی یکتائی متقاضی ہے کہ ترجمے میں بھی کما حقہ نہ سہی، کسی حد تک جداگانہ اسلوب کی جھلک دکھائی دے۔ اس پس منظر میں جب ہم دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اردو مترجمین میں سے بعض آیتِ کریمہ کے لفظی ترجمے سے آگے نہیں بڑھے اور بعض ایسے بھی ہیں، جنہوں نے ترجمۂ قرآن کو تحریری اسلوب میں ڈھالنے کی کوشش کی اور بے جا اضافہ کرنے پر مجبور ہو گئے۔
مثال کے طور پر یہ آیتِ کریمہ نگاہوں کے سامنے رکھیے:
وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِي الْمَوْتَى وَأَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ [سورۃ الحج: 5-7]
یہاں دو مثالیں دیکھیے:
الف: مولوی سید شبیر احمد لکھتے ہیں:
اور دیکھتے ہو تم، زمین کو کہ سوکھی پڑی ہے۔ پھر جوں ہی برساتے ہیں ہم اس پر پانی تو وہ لہلہا اٹھتی ہے اور پھولنے لگتی ہے اور اگاتی ہے ہر قسم کی خوش منظر نباتات۔ یہ سب اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور وہی زندہ کرتا ہے مردوں کو۔ اور یقیناً وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور یہ کہ قیامت ضرور آئے گی نہیں کوئی شک اس کے آنے میں اور یہ کہ اللہ اٹھائے گا انہیں جو جا چکے ہیں قبروں میں۔ [اردو ترجمہ: مولوی شبیر احمد، ص: 568، 569، پاکستان]
متذکرہ بالا ترجمہ قرآن میں آپ واضح طور پر محسوس کریں گے کہ زبان میں سلاست و روانی مفقود ہے، جو اردو زبان سے محظوظ ہونے والے طبقے کے ذوقِ سلیم پر شاق گزرتا ہے اور آہستہ آہستہ قرآن فہمی کے مقاصد ہی فوت ہو جاتے ہیں۔
ب: مولوی اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں:
اور اے مخاطب، تو زمین کو دیکھتا ہے کہ خشک ہے، پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی خوشنما نباتات اگاتی ہے۔ یہ اس سبب سے ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہستی میں کامل ہے اور وہی بے جانوں میں جان ڈالتا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ اور قیامت آنے والی ہے، اس میں ذرا شبہ نہیں اور اللہ تعالیٰ قبر والوں کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ [بیان القرآن، ص: 697]
آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہاں آیتِ کریمہ کے ترجمے کو تحریری اسلوب میں ڈھالنے کی وجہ سے بے جا اضافے بھی ہوئے ہیں اور کمیاں بھی رہ گئی ہیں۔ ترجمے میں “زوج” یعنی جوڑے کے مفہوم کے اظہار کے لیے کوئی لفظ موجود نہیں ہے۔ آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے برحق ہونے کو کسی خاص پہلو میں مقید نہیں کیا گیا ہے، جب کہ ترجمے میں لفظ “ہستی” کے اضافے سے مفہوم منحصر ہو کر رہ گیا ہے۔ پھر لفظ “قبر والوں” سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بات کسی خاص قوم کے حوالے سے ہو رہی ہے، جنہیں قبر والوں سے موسوم کیا گیا ہے، جیسا کہ سورۂ کہف میں غار والے اور سورۂ بروج میں اصحابِ اخدود سورۂ اعراف میں اصحابِ سبت وغیرہ کا ذکر ہے، جب کہ مفہومِ قرآنی یہ نہیں ہے۔
اب اسے کنز الایمان کے نپے تلے اسلوب میں سنیے:
اور تو زمین کو دیکھے مرجھائی ہوئی، مگر جب ہم نے اس پر پانی اتارا تروتازہ ہوئی اور ابھر آئی اور ہر رونق دار جوڑا اگا لائی۔ یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور یہ کہ وہ مردے جلائے گا اور یہ کہ وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ اور اس لیے کہ قیامت آنے والی ہے، اس میں کچھ شک نہیں اور یہ کہ اللہ اٹھائے گا انہیں جو قبروں میں ہیں۔ [کنز الایمان، ص: 482]
متذکرہ آیت کے پہلے حصے میں لفظ خشک ہے، جس کے بعد کی حالت دکھانے کے لیے “تروتازہ” کی تعبیر نہایت ہی پرکشش ہے اور خوبصورت ہے۔ نیز “اللہ ہی حق ہے” بلاشبہ قرآنی اسلوب کی بہترین ترجمانی ہے۔ اور پھر “اللہ اٹھائے گا انہیں، جو قبروں میں ہیں” کی عبارت صاف بتا رہی ہے کہ یہاں گفتگو کسی خاص قوم سے نہیں ہو رہی ہے، بلکہ ہر وہ شخص جو قبر میں ہے، اس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ دوبارہ زندہ ہو جائے گا، ٹھیک اسی طرح جیسے ہمارے آئے دن کے مشاہدے میں ہے کہ ایک مردہ زمین دوبارہ سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے۔
حضرت لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو کی ہوئی نصیحت قرآن کریم کے الفاظ میں یوں ہے:
يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ [سورۃ لقمان: 17-19]
فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ ترجمہ کرتے ہیں:
اے میرے بیٹے نماز برپا رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کر اور جو افتاد تجھ پر پڑے، اس پر صبر کر بے شک یہ ہمت کے کام ہیں۔ اور کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسار کج نہ کر اور زمین پر اتراتا نہ چل، بے شک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اتراتا فخر کرتا۔ اور میانہ چال چل اور اپنی آواز کچھ پست کر، بے شک سب آوازوں میں بری آواز گدھے کی۔ [کنز الایمان، ص: 598]
زبان میں سلاست و روانی کے جلوے محسوس کیجیے۔ یہ اسلوبِ بیان نہ تو پورے طور پر تقریری کہے جانے کے قابل ہے اور نہ ہی تحریری، بلکہ اسے میں قرآنی اسلوبِ بیان کہوں تو بے جا نہ ہوگا۔ متذکرہ بالا ترجمہ پورے طور پر مربوط بھی ہے اور اس میں کوئی بے جا اضافہ بھی نہیں ہے۔ اسے کہتے ہیں فنِ تعبیر و بیان پر یکتائے روزگار قدرت جو خال خال ہی کسی کے حصے میں آتی ہے۔
صوتی نغمگی
ادنیٰ شک و شبہ نہیں کہ قرآن مقدس صوتی نغمگی کے اعتبار سے بھی یکتائے روزگار ہے۔ خوبصورت لب و لہجے میں لحن کے ساتھ تلاوتِ قرآن کی آواز سے دلوں میں سکون و اطمینان کی وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے، جو الفاظ و بیان کی تعبیر میں نہیں سما سکتی۔ اس پر مستزاد یہ ہے کہ یہ لطف اسے بھی حاصل ہوتا ہے، جو عربی زبان سے واقف ہے اور پورے طور پر قرآن کے اسرار و رموز سمجھ رہا ہے اور اسے بھی، جو عربی زبان کے ایک لفظ کا مطلب بھی نہیں سمجھ رہا ہے۔ ویسے تو قرآن کی صوتی نغمگی بھی معجزہ ہے اور اس کی ترجمانی کسی دوسری زبان میں نہیں کی جا سکتی تاہم یہ کہنا حقیقت سے قریب تر ہے کہ فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ نے ترجمۂ قرآن کرتے ہوئے صوتی نغمگی برقرار رکھنے کی سنجیدہ کوشش کی ہے اور بہت حد تک وہ اس میں کامیاب بھی رہے ہیں۔ لگے ہاتھوں ایک دو مثالیں سماعت کر لیں۔
الف: سورۂ تکویر کی یہ آیاتِ قرآنیہ پڑھیے:
إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا النُّجُومُ انْكَدَرَتْ وَإِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ وَإِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتْ وَإِذَا الْجَحِيمُ سُعِّرَتْ وَإِذَا الْجَنَّةُ أُزْلِفَتْ عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا أَحْضَرَتْ فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِ الْكُنَّسِ وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ [سورۃ التكوير: 1-18]
امام احمد رضا فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ ترجمہ کرتے ہیں:
جب دھوپ لپیٹی جائے۔ اور جب تارے جھڑ پڑیں۔ اور جب پہاڑ چلائے جائیں۔ اور جب تھکی اونٹنیاں چھوٹی پھریں۔ اور جب وحشی جانور جمع کیے جائیں۔ اور جب سمندر سلگائے جائیں۔ اور جب جانوں کے جوڑ ملیں۔ اور جب زندہ دبائی ہوئی سے پوچھا جائے۔ کس خطا پر ماری گئی۔ اور جب نامۂ اعمال کھولے جائیں۔ اور جب آسمان جگہ سے کھینچ لیا جائے۔ اور جب جہنم بھڑکایا جائے۔ اور جب جنت پاس لائی جائے۔ ہر جان کو معلوم ہو جائے گا جو حاضر لائی۔ تو قسم ہے ان کی جو الٹے پھریں۔ سیدھے چلیں تھم رہیں۔ اور رات کی جب پیٹھ دے۔ اور صبح کی جب دم لے۔ [کنز الایمان، ص: 854]
یہاں یہ نکتہ بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا، جس کی طرف پروفیسر دلاور خاں نے اشارہ کیا ہے۔ موصوف اپنے ایک مقالے میں رقمطراز ہیں:
ادبی پہلو کی ایک اور جہت سے اس ترجمے کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان میں محاورات کا استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً الٹے پھرنا، پیٹھ دینا اور دم لینا۔ ان محاورات کے استعمال سے الفاظ کے معنی بھی ہو گئے اور مہارت کا تسلسل بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔ آپ نے الفاظ اور محاورے کے حسین امتزاج سے ترجمے کے حسن کو دوبالا کر دیا۔ [معارف رضا، شمارہ نومبر 2012، ص: 7]
ب: سورۂ نازعات سے ایک اور مثال دیکھیے:
وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا وَالسَّابِحَاتِ سَبْحًا فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ أَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ [سورۃ النازعات: 1-9]
قسم ان کی سختی سے جان کھینچیں۔ اور نرمی سے بند کھولیں، اور آسانی سے پیریں۔ پھر آگے بڑھ کر جلد پہنچیں۔ پھر کام کی تدبیریں کریں۔ کہ کافروں پر ضرور عذاب ہوگا جس دن تھرتھرائے گی تھرتھرانے والی۔ اس کے پیچھے آئے گی آنے والی۔ کتنے دل اس دن دھڑکتے ہوں گے۔ آنکھ اوپر نہ اٹھا سکیں گے۔ [کنز الایمان، ص: 850]
جاری...
