| عنوان: | امام احمد رضا اور اذکار و ادعیہ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفی قادری |
| پیش کش: | عائشہ امجدی کشمیر |
ذکر و دعا ایک تعارف
اسلام بلاشبہ آسمانی، آفاقی اور آخری دین ہے، جس کی ضوفشانیاں صبح قیامت تک جاری و ساری رہیں گی، اور اس کے عالمگیر اصول رہتی دنیا تک فریضہ رہنمائی ادا کرتے رہیں گے۔ ہماری معاشی و معاشرتی، سماجی و ملی اور جسمانی و روحانی جملہ مشکلات کا مداوا اس دین فطرت کے اندر بتمام و کمال موجود ہے۔ اور اللہ و رسول کی تعلیمات و ہدایات زندگی کے ہر موڑ پر ہماری بہترین رہنما ہیں۔ ان ہدایات ربانی سے ہم نے جب بھی منہ موڑا اور طریق مصطفی سے روگردانی کی تو ذلت و خواری ہمارا مقدر بنی اور طرح طرح کی مشکلات سے ہمیں دو چار ہونا پڑا۔
دعا کی اہمیت
دعا کی اسلام میں بے پناہ اہمیت ہے۔ دعا ایک مکمل اور پختہ وسیلہ ہے۔ دعا بندے کا اپنے مولا سے بہترین رابطہ ہے۔ یہ نہ صرف مومن کا ہتھیار بلکہ خود مستقل عبادت بھی ہے۔ یوں تو ہر مخلوق، انسان کی اک اک سانس اور دنیا کی جملہ نعمتیں خالق کائنات کی رحمت و عنایت ہی کی بدولت ہیں، مگر مشکل اور پریشانی کے وقت میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی توجہ اور رحمت خاص دعا و مناجات کے ذریعہ ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ عالمی منظر نامہ پر نگاہ رکھنے والوں کو معلوم ہوگا کہ آج مغربی دنیا میں خودکشی کا رجحان بلائے بے درماں کی مانند اسی لیے بڑھتا چلا جا رہا ہے کہ ان کے پاس ظاہری جملہ اسلحے ہونے کے باوجود دعا کا باطنی اور حقیقی اسلحہ موجود نہیں، جس کے باعث حوادث روزگار سے بیزار ہو کر اور شدائد زندگی سے دب کر آئے دن وہ وادی ہلاکت میں اترتے نظر آ رہے ہیں، مگر ایک مومن پر جب رنج و الم کا بادل منڈلاتا ہے، اور آفات و بلیات اس پر حملہ آور ہوتی ہیں تو وہ دعا و مناجات کا سہارا لے کر مصائب و آلام کے گرداب سے بحفاظت باہر نکل آتا ہے۔
دعا ہمارے ارادوں، آرزوؤں اور خواہشوں میں قوت و توانائی پیدا کرتی، اور راہ عمل میں پیش آنے والی مشکلات اور رنج و آلام کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دعا سے چونکہ دل کو طمانیت و سکون کی دولت نصیب ہوتی ہے؛ اس لیے بیماری ہو یا بے قراری اہل ایمان ہر حال میں اللہ رحمن و رحیم کے سامنے ہی دست بہ دعا ہوتے ہیں۔ یہ پکار دل کی گہرائیوں سے آپ ہی آپ نکلتی ہے اور پھر یہ مشکلات میں چارہ گر دوست، بیماری میں دردمند ماہر طبیب اور درد سے کراہتے انسانوں کے لیے مہربان نرس کی مرکز توجہ بن جاتی ہے؛ اور حقیقی مشکل کشا، حاجت روا، اور شفا رسا تو وہی قادر مطلق ہے۔ گویا اللہ پر بھروسے اور سہارے کے بغیر نہ تو کوئی معالج معالج رہتا ہے اور نہ کوئی چارہ گر چارہ گر۔ علاج اور شفا کے لیے اللہ تعالیٰ پر بھروسے اور اس کی اعانت کی اسی قدر ضرورت ہوتی ہے جتنی کہ دوا اور مادی تدابیر کی۔
مختصر یہ کہ اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے ہمیں ہر لمحہ اور ہر موڑ پر ذکر و دعا کا درس دیا ہے۔ گھر سے نکلیں تو دعا، بازار جائیں تو دعا، سواری پر سوار ہوں تو دعا، شہر میں داخل ہوں تو دعا، پانی پیئیں تو دعا، کھانا کھانے سے فارغ ہوں تو دعا، مسجد میں داخل ہوں تو دعا اور نماز تو دعاؤں کا مجموعہ ہے ہی۔ مسجد سے باہر نکلیں تو دعا، لباس پہنیں تو دعا، غرض یہ کہ دین اسلام نے انسان کو کسی بھی موڑ پر اکیلا اور بے سہارا نہیں چھوڑا، ہر مقام پر ذکر و دعا کی تلقین کی ہے۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم ہمہ وقت دعا و مناجات اور ذکر الہی میں مشغول و مصروف رہیں کہ اسی میں دارین کی کامیابی کا راز پنہاں ہے۔
