Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور اذکار و ادعیہ (قسط: دوم)|فیضان المصطفی قادری

امام احمد رضا اور اذکار و ادعیہ (قسط: دوم)
عنوان: امام احمد رضا اور اذکار و ادعیہ (قسط: دوم)
تحریر: فیضان المصطفی قادری
پیش کش: عائشہ امجدی کشمیر

امام احمد رضا اور اذکار و ادعیہ

ذکر عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معانی یاد کرنا، کسی شے کو بار بار ذہن میں لانا، کسی چیز کو دہرانا اور دل و زبان سے یاد کرنا ہیں۔ ذکر الہی سے مراد یاد الہی ہے۔ ذکر کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ ہر وقت اور ہر حالت میں، اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے اپنے معبود حقیقی کو یاد رکھے اور اس کی یاد سے کبھی غفلت نہ برتے۔ ذکر الہی انوار و برکات کی کنجی، بصیرت کا آغاز اور تماشا گاہ ہستی کی جلوہ آرائیوں کا اقرار ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ذکر الہی خالق حقیقی سے گہرا تعلق و ربط استوار کر دیتا ہے۔ نیز ذکر اللہ ہی وہ راستہ اور دروازہ ہے جس کے ذریعے ایک بندہ بارگاہ الہی تک بآسانی رسائی حاصل کر لیتا ہے۔

ارشاد ربانی ہے:

وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ [سورۃ عنکبوت: 45]

اور یقین کرو کہ اللہ کا ذکر ہر چیز سے بزرگ تر ہے۔

ذکر الہی ہر عبادت کی اصل ہے۔ تمام جنوں اور انسانوں کی تخلیق کا مقصد عبادت الہی ہے اور تمام عبادات کا مقصود اصلی یاد الہی ہے۔ اگر آپ غور و فکر سے کام لیں تو معلوم ہوگا کہ کوئی عبادت اور کوئی نیکی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی یاد سے خالی نہیں۔ ذرا دیکھیں کہ سب سے پہلی فرض عبادت نماز کا بھی یہی مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کو دوام حاصل ہو اور وہ ہمہ وقت جاری رہے۔ یوں ہی نفسانی خواہشات کو مقررہ وقت کے لیے روکے رکھنے کا نام روزہ ہے۔ جس کا مقصد دل کو ذکر الہی کی طرف راغب کرنا ہے۔ روزہ نفس انسانی میں پاکیزگی پیدا کرتا ہے اور دل کی زمین کو ہموار کرتا ہے تا کہ اس میں یاد الہی کا ظہور و نفوذ ہو۔

مختصر یہ کہ ذکر و دعا مسلمانوں کے مضبوط قلعے ہیں، جن کی بدولت انسان نفسانی خواہشات، اور دلوں کی کجی سے محفوظ رہتا ہے، نیز ان کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے، شیطانی تسلط کا زور ٹوٹتا ہے، بے لگام خواہشات کا خاتمہ ہوتا ہے اور دلوں کو روحانیت و طمانیت کا نور حاصل ہوتا ہے۔ انسانی اصلاح، تزکیہ نفس اور تقوی و للہیت کے دوام و استحکام کے لیے کتاب و سنت میں ذکر اور مسنون ادعیہ کی خاص تاکید ہے۔

ذکر و دعا کے موضوع پر اہم کتب

اسی اہمیت کے پیش نظر ائمہ محدثین اور علمائے سلف نے اذکار و ادعیہ کے ابواب کتب احادیث میں باقاعدگی سے قائم کیے ہیں اور اذکار و اوراد کے حصول کی آسانی کے لیے نیز مختلف مواقع پر پڑھی جانے والی دعاؤں کے لیے الگ الگ تصانیف بھی یادگار چھوڑی ہیں، جن میں درج ذیل کتابیں شہرہ آفاق ہیں:

ابن السنی کی عمل الیوم واللیلۃ، امام نووی کی الاذکار، امام جزری کی حصن حصین، امام سیوطی کی مجربات امام سیوطی، اور امام قسطلانی کی لوامع الانوار فی الادعیہ والاذکار۔

ان میں امام ابوزکریا محی الدین نووی کی الاذکار بہت مفصل ہے، جس کا پورا نام حليۃ الابرار وشعار الاخيار وتلخيص الدعوات والاذكار المستحبۃ بالليل والنھار ہے۔ جس میں دعا و اذکار کے تعلق سے اہم مباحث اور تفصیلات درج ہیں۔ لیکن امام محمد بن یوسف الجزری کی تصنیف حصن حصین عوام الناس میں سب سے مشہور ہوئی۔

امام احمد رضا اور اذکار و ادعیہ

مصنف اعظم امام احمد رضا محدث بریلوی نمبر کی طرف سے مجھے جو عنوان ملا وہ تھا امام احمد رضا اور اذکار و ادعیہ۔ یہ موضوع میرے مذاق کے لیے بہت موزوں اور دل پسند تھا؛ اس لیے میں نے چاہا کہ اس عنوان پر مختلف جہتوں سے گفتگو کی جائے؛ چنانچہ میں نے اس کے لیے تین رخ متعین کیے:

  1. پہلا رخ: امام احمد رضا کی عملی زندگی میں ذکر و دعا کی اہمیت یعنی امام احمد رضا کی زندگی ذکر و دعا سے کس طرح عبارت دکھائی دیتی ہے، اور انھیں بازار دنیا میں ذکر و دعا میں مشغولیت اختیار کر کے لمحے لمحے کی قیمت وصول کرنے کی کیسی فکر ہے!۔ نیز دعا پر ان کا اعتماد و اعتقاد کتنا اعلیٰ اور پختہ تھا۔

  2. دوسرا رخ: امام احمد رضا کے اذکار و اعمال یعنی اعلیٰ حضرت نے مختلف مواقع کے لیے کیا وظائف و معارف عطا کیے ہیں، اور متعدد امراض سے بچنے کے لیے کیسے کیسے اوراد و اعمال تعلیم فرمائے ہیں۔

  3. تیسرا رخ: ذکر و دعا سے متعلق امام احمد رضا کی تحریری خدمات یعنی ذکر و دعا کی اہمیت و عظمت کے تعلق سے آپ کی تحریری خدمات کیا ہیں۔

زیر نظر مقالے میں انھیں تینوں جہتوں پر اختصار کے ساتھ روشنی ڈالنے کی مقدور بھر کوشش کی جائے گی۔

امام احمد رضا کی عملی زندگی میں ذکر و دعا

شیخ الاسلام والمسلمین، مجدد اعظم امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ العزیز کی ذاتی سیرت کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ آپ سنت و شریعت کے کس قدر پابند تھے، اللہ و رسول کے ارشادات کی تعمیل میں کتنے چوبند تھے، دینی فضا استوار کرنے اور اسلامی افکار کو فروغ دینے میں آپ کو کتنی دلچسپی تھی، اور خود آپ کی زندگی کا لمحہ لمحہ اعمال صالحہ اور ذکر و دعا کی خوشبوؤں سے کس طرح مالا مال تھا۔ الوظیفۃ الکریمہ آپ کے مرتبہ اذکار و ادعیہ کا ایک پیش بہا خزانہ ہے جو مختصر ہونے کے باوجود بڑا بافیض و پُر تاثیر ہے۔ یہ سارے وظائف اور دعائیں آپ کے ورد میں تھیں۔ لکھنے والے نے یہاں تک لکھا کہ اگر کوئی مسلمان ان دعاؤں کو روزانہ ورد میں رکھے تو یقیناً ولی ہو جائے۔ اور جو زبان سے کہہ دے وہی ہو کر رہے۔ گویا اعلیٰ حضرت نے ذکر و دعا کی اہمیت و عظمت کو بعد میں عالم آشکار کیا، پہلے خود کو ان کی برکات و فتوحات سے مستفیض و مستنیر فرمایا۔ اس سلسلے میں دو ایک واقعات ذکر کر دینا خالی از فائدہ نہ ہوگا، تا کہ دعوی بلا دلیل نہ رہ جائے، نیز ان سے بآسانی اندازہ لگایا جاسکے گا کہ امام احمد رضا کا ماثور دعاؤں پر اعتماد و اعتقاد کس درجے کا تھا!

دعا کی برکت نے وبائے طاعون سے بچالیا

ملفوظ شریف جلد اول میں ہے کہ ایک صاحب نے اعلیٰ حضرت کی دعوت کی۔ جب کھانا سامنے آیا تو دیکھا کہ حلوائیوں کی بنی ہوئی پوریاں کچوریاں ہیں، جنھیں اعلیٰ حضرت طبعاً ناپسند فرماتے تھے؛ مگر صرف اس لیے کہ صاحب خانہ کی دل آزاری نہ ہو جائے آپ نے انھیں تناول فرما لیا، پھر اس کے بعد کیا ہوا، صاحب الملفوظ کی زبانی سنتے ہیں:

(پوریاں کباب کھانے کے بعد) اسی دن مسوڑوں میں ورم ہو گیا اور اتنا بڑھا کہ حلق اور منہ بالکل بند ہو گیا، مشکل سے تھوڑا دودھ حلق سے اتارتا اور اسی پر اکتفا کرتا، بات بالکل نہ کر سکتا تھا جو کچھ کسی سے کہنا ہوتا لکھ دیتا۔ بخار بہت شدید تھا اور کان سے پیچھے گلٹیاں (نکل آئی تھیں)۔ میرے منجھلے بھائی مرحوم ایک طبیب کو لائے، ان دنوں بریلی میں طاعون بہ شدت تھا۔ ان صاحب نے بغور دیکھ کر سات آٹھ مرتبہ کہا: یہ وہی ہے، وہی ہے، وہی ہے یعنی طاعون۔ میں بالکل کلام نہ کر سکتا تھا؛ اس لیے انھیں جواب نہ دے سکا، حالاں کہ میں خوب جانتا تھا کہ یہ غلط کہہ رہے ہیں۔ نہ مجھے طاعون ہے نہ ان شاء اللہ العزیز کبھی ہوگا؛ اس لیے کہ میں نے طاعون زدہ کو دیکھ کر بارہا وہ دعا پڑھ لی ہے جسے حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی بلا رسیدہ کو دیکھ کر یہ دعا پڑھ لے گا اس بلا سے محفوظ رہے گا۔ وہ دعا یہ ہے:

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا

جن جن امراض کے مریضوں، جن جن بلاؤں کے مبتلاؤں کو دیکھ کر میں نے اسے پڑھا بحمدہ تعالیٰ آج تک ان سب سے محفوظ ہوں، اور بعونہ تعالیٰ ہمیشہ محفوظ رہوں گا۔

آشوب چشم سے حفاظت

البتہ ایک بار اسے پڑھنے کا مجھے افسوس ہے۔ (ہوا یوں کہ) مجھے نوعمری میں اکثر آشوب چشم ہو جاتا اور بوجہ حدت مزاج بہت تکلیف دیتا تھا، انیس سال کی عمر ہوگی کہ رام پور جاتے ہوئے ایک شخص کو رمد چشم میں مبتلا دیکھ کر یہ دعا پڑھی، جب سے اب تک آشوب چشم پھر نہ ہوا۔ اسی زمانے میں صرف دو مرتبہ ایسا ہوا کہ ایک آنکھ کچھ دکھتی ہوئی معلوم ہوئی، دو چار دن بعد وہ صاف ہوگئی۔ دوسری دکھی پھر وہ بھی صاف ہوگئی، مگر درد، کھٹک، سرخی، کوئی تکلیف اصلاً کسی قسم کی نہیں۔ افسوس اس لیے کہ حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث ہے کہ تین بیماریوں کو مکروہ نہ رکھو: زکام کہ اس کی وجہ سے بہت سی بیماریوں کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ کھجلی کہ اس سے امراض جلدیہ جذام وغیرہ کا انسداد ہو جاتا ہے۔ اور آشوب چشم نابینائی کو دفع کرتا ہے۔ چنانچہ اس دعا کی برکت سے یہ تو جاتا رہا۔ (ہاں) ایک اور مرض پیش آیا۔

جمادی الاول 1300ھ میں بعض مہم تصانیف کے سبب ایک مہینہ کامل باریک خط کی کتابیں شبانہ روز علی الاتصال دیکھنا ہوا، گرمی کا موسم تھا، دن کو اندر کے دالان میں کتاب دیکھتا اور لکھتا۔ اٹھائیسواں سال تھا، آنکھوں نے اندھیرے کا خیال نہ کیا۔ ایک روز شدت گرمی کے باعث دوپہر کو لکھتے لکھتے نہایا، سر پر پانی پڑتے ہی معلوم ہوا کہ کوئی چیز دماغ سے داہنی آنکھ میں اتر آئی، بائیں آنکھ بند کر کے داہنی سے دیکھا تو وسط شے مرئی میں ایک سیاہ حلقہ نظر آیا، اس کے نیچے شے کا جتنا حصہ ہوا وہ ناصاف اور دبا ہوا معلوم ہوتا۔

یہاں اس زمانے میں ایک ڈاکٹر علاج چشم میں بہت سر بر آوردہ تھا، سینڈرسن یا اینڈرسن کچھ ایسا ہی نام تھا۔ میرے استاد جناب بیگ صاحب رحمہ اللہ علیہ نے اصرار فرمایا کہ اسے آنکھ دکھائی جائے، علاج کرنے نہ کرنے کا اختیار ہے۔ ڈاکٹر نے اندھیرے کمرے میں صرف آنکھ پر روشنی ڈال کر آلات سے بہت دیر تک بغور دیکھا اور کہا کثرت کتاب بینی سے کچھ پیوست آگئی ہے، پندرہ دن کتاب نہ دیکھو۔ (مگر پندرہ دن تو بہت دور رہا) مجھ سے پندرہ گھڑی بھی کتاب نہ چھوٹ سکی۔

حکیم سید مولوی اشفاق حسین سہسوانی ڈپٹی کلکٹر بھی طبابت کرتے تھے اور فقیر کے مہربان تھے، فرمایا مقدمہ نزول آب ہے، بیس برس بعد (خدا ناکردہ) پانی اتر آئے گا۔ میں نے التفات نہ کیا اور ایک نزول آب والے کو دیکھ کر وہی دعا پڑھ لی اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پاک پر مطمئن ہو گیا۔

1316ھ میں ایک اور حاذق طبیب کے سامنے ذکر ہوا، بغور دیکھ کر کہا: چار برس بعد (خدانخواستہ) پانی اتر آئے گا، ان کا حساب ڈپٹی صاحب کے حساب سے بالکل موافق آیا، انھوں نے بیس برس کہے تھے، انھوں نے سولہ برس بعد چار کہے، مجھے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر وہ اعتماد نہ تھا کہ طبیبوں کے کہنے سے معاذ اللہ متزلزل ہو جاتا۔ الحمد للہ کہ بیس درکنار تیس برس سے زائد گزر چکے ہیں اور وہ حلقہ ذرہ بھر نہ بڑھا، نہ بعونہ تعالیٰ بڑھے، نہ میں نے کتاب بینی میں کبھی کمی کی، نہ ان شاء اللہ کمی کروں۔ یہ میں نے اس لیے بیان کیا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائم و باقی معجزات سے ہے جو آج تک آنکھوں دیکھے جا رہے ہیں اور قیامت تک اہل ایمان مشاہدہ کریں گے۔ [الملفوظ: 1/ 15، 16 مطبوعہ قادری کتاب گھر، بریلی]

دعاؤں نے طوفان کا رخ موڑ دیا

دعاؤں پر بھرپور اعتماد اور فرمان پیمبر پر کامل اعتقاد کا کچھ اسی انداز کا ایک واقعہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ کو اس وقت پیش آیا جب آپ پہلی بار حج بیت اللہ کی ادائیگی کے لیے اپنے والدین کریمین کے ساتھ حرمین شریفین تشریف لے گئے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

پہلی بار کی حاضری والدین ماجدین رحمہ اللہ علیہما کے ہم رکاب تھی، اس وقت مجھے تیئیسواں سال تھا، واپسی میں تین دن طوفان شدید رہا تھا، اس کی تفصیل میں بہت طول ہے، (حتی کہ) لوگوں نے کفن پہن لیے تھے۔ حضرت والدہ ماجدہ کا اضطراب دیکھ کر ان کی تسکین کے لیے بے ساختہ میری زبان سے نکلا کہ آپ اطمینان رکھیں، خدا کی قسم یہ جہاز نہ ڈوبے گا۔ یہ قسم میں نے حدیث ہی کے اطمینان پر کھائی تھی، جس میں کشتی پر سوار ہوتے وقت غرق سے حفاظت کی دعا ارشاد ہوئی ہے۔ میں نے وہ دعا پڑھ لی تھی، لہذا حدیث کے وعدۂ صادقہ پر مطمئن تھا، پھر بھی قسم کے نکل جانے سے خود مجھے اندیشہ ہوا اور معا حدیث یاد آئی:

مَنْ يَتَأَلَّ عَلَى اللَّهِ يُكَذِّبْهُ

حضرت عزت کی طرف رجوع کی، اور سرکار رسالت سے مدد مانگی۔ الحمد للہ کہ وہ مخالف ہوا کہ تین دن سے بہ شدت چل رہی تھی، دو گھڑی میں بالکل موقوف ہوگئی اور جہاز نے نجات پائی۔ [الملفوظ: 201 مطبوعہ قادری کتاب گھر، بریلی]

ان واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اعلیٰ حضرت کا دعاؤں پر بھروسہ اور احادیث مصطفی پر اعتقاد کس قدر پختہ تھا! اور یقیناً جب اعتماد و اعتقاد اس درجے کا ہو تو پھر اترنے والی بلائیں خود گرفتار بلا ہو جایا کرتی ہیں، اور طوفان آگے بڑھ کر کشتی کو ساحل مقصود سے ہمکنار کر دیا کرتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت کا یہ عمل بلاشبہہ اس معروف حدیث کے موافق تھا جس میں سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

ادْعُوا اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَةِ [سنن ترمذی: 12/ 444، مسند احمد بن حنبل: 2/ 77، حدیث: 6655]

یعنی اللہ سے دعا مانگا کرو، اس حال میں کہ تمھیں قبولیت کا مکمل یقین ہو۔ یہاں غور طلب امر یہ ہے کہ لفظ موقنون استعمال ہوا ہے جو لفظ ایقان سے بنا ہے اور ایقان عربی زبان میں یقین کے اس اعلیٰ ترین درجے کو کہتے ہیں جہاں شک و شبہہ کی ادنی سی گنجائش بھی نہ ہو۔ قبولیت کے اس یقین کی بنیاد یہ ہے کہ اللہ رب العزت کے خزانے میں ہر چیز وافر مقدار میں موجود ہے۔ ساری مخلوقات کو دے کر بھی اس کے خزانے میں ایک ذرہ بھر کمی نہیں آتی؛ چنانچہ حدیث قدسی ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِي فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ [سنن ترمذی: 9/ 396 حدیث: 2683، مستدرک حاکم: 17/ 468 حدیث: 7714]

یعنی اے میرے بندو! اگر تمھارے سب اگلے پچھلے، جن و انس ایک میدان میں جمع ہو جائیں اور سب مجھ سے مانگیں اور میں ان میں سے ہر ایک کا سوال پورا کر دوں تو یہ دینا میرے خزانے میں کمی نہیں کرے گا مگر اتنی جتنی کہ سمندر میں ڈبونے سے سوئی سمندر کے پانی میں کمی کرے گی۔

ایک طرف تو اس کے خزانے بھرے ہوئے ہیں اور دوسری طرف وہ ذات اپنے بندوں کے ساتھ حد درجہ مہربان اور قدردان ہے؛ چنانچہ بندوں کے اٹھے ہوئے ہاتھ واپس لوٹانا اس کی بندہ پروری کو گوارا ہی نہیں ہے۔ جیسا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي إِذَا رَفَعَ الرَّجُلُ إِلَيْهِ يَدَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا خَائِبَتَيْنِ [مسند احمد بن حنبل: 5/ 438]

یعنی بے شک اللہ تعالیٰ حیا فرمانے والا، کرم فرمانے والا ہے۔ اسے اس بات سے حیا آتی ہے کہ بندہ اس کی طرف اپنے ہاتھ اٹھائے تو وہ انھیں خالی اور نامراد لوٹا دے۔

امام احمد رضا کے اذکار و اعمال

اب آئیے ان بعض وظائف و اعمال پر نگاہ کرتے ہیں جنھیں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے اپنے معتقدین و احباب کی فرمائش و سوال پر تجویز یا تحریر فرمائے ہیں اور جو نہایت مجرب، آزمودہ اور تیر بہدف ثابت ہوئے ہیں۔

دفع پریشانی کا مجرب عمل

ایک مرتبہ مولوی عبد الرحمن جے پوری نے دریافت کیا کہ حضور! اکثر اوقات پریشانی رہتی ہے؟ (اس کا کوئی وظیفہ عنایت فرمادیں) تو اعلیٰ حضرت نے ارشاد فرمایا کہ:

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ

کی کثرت کیا کریں۔ یہ ننانوے (99) بلاؤں کو دفع کرتی ہے، ان میں سب سے آسان تر پریشانی ہے۔ اور ساٹھ بار پڑھ کر پانی پر دم کر کے روز پی لیا کریں۔ [الملفوظ: 1/ 63 مطبوعہ قادری کتاب گھر، بریلی]

برکت رزق کی تیر بہدف دعا

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضور! آج کل میں رزق کی تنگی کی وجہ سے خاصا پریشان ہوں (کسی وظیفے کی نشان دہی فرمائیں) تو امام احمد رضا نے ارشاد فرمایا: ایک صحابی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی، دنیا نے مجھ سے پیٹھ پھیر لی، فرمایا: کیا تمھیں وہ تسبیح یاد نہیں، جو تسبیح ہے ملائکہ کی اور جس کی برکت سے روزی دی جاتی ہے۔ خلق دنیا آئے گی تیرے پاس ذلیل و خوار ہو کر، طلوع فجر کے ساتھ سو بار کہہ لیا کر:

سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ

ان صحابی کو سات دن گزرے تھے کہ خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کی، حضور! دنیا میرے پاس اس کثرت سے آئی کہ میں حیران ہوں، کہاں اٹھاؤں، کہاں رکھوں۔ اس تسبیح کا آپ بھی دور رکھیں حتی الامکان طلوع صبح صادق کے ساتھ ہو؛ ورنہ صبح سے پہلے۔ جماعت قائم ہو جائے تو اس میں شریک ہو کر بعد کو عدد پورا کیجیے اور جس دن قبل نماز بھی نہ ہو سکے تو خیر طلوع شمس سے پہلے۔ [الملفوظ: 1/ 64 مطبوعہ قادری کتاب گھر، بریلی]

یوں ہی ایک اور صاحب نے قلت آمدنی اور کثرت اہل و عیال کی شکایت کی تو آپ نے (انھیں ایک تیر بہدف وظیفہ عنایت کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا:

يَا مُسَبِّبَ الْأَسْبَابِ

پانچ سو (500) بار، اول و آخر گیارہ گیارہ بار درود شریف، بعد نماز عشاء قبلہ رو، باوضو، ننگے سر ایسی جگہ کہ جہاں سر اور آسمان کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو، یہاں تک کہ سر پر ٹوپی بھی نہ ہو پڑھا کرو۔ [الملفوظ: 2/ 61 مطبوعہ قادری کتاب گھر، بریلی]

ادائے قرض کا ایک مجرب وظیفہ

ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور! میں آج کل بہت پریشان ہوں، گزر اوقات مشکل سے ہوتی ہے، قرض دار بہت ہو گیا ہوں۔ اعلی حضرت نے ارشاد فرمایا:

اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ

ہر نماز کے بعد گیارہ گیارہ بار اور صبح و شام سو سو بار، روزانہ اول و آخر درود شریف۔ اسی دعا کی نسبت مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا کہ اگر تجھ پر مثل پہاڑ کے بھی قرض ہوگا تو اسے ادا کر دے گا۔ [الملفوظ: 4/ 6 مطبوعہ قادری کتاب گھر، بریلی]

خاتمہ بالخیر کے لیے دعائیں

ضلع ہوشنگ آباد کے رہنے والے ایک صاحب نے اعلیٰ حضرت سے پوچھا کہ خاتمہ بالخیر کے لیے کچھ دعائیں ارشاد فرمادیں تو آپ نے ان کی تعلیم و ہدایت کے لیے فرمایا: اکتالیس بار صبح کو:

يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ

اول و آخر درود شریف، نیز سوتے وقت اپنے سب اوراد کے بعد سورہ کافرون روزانہ پڑھ لیا کیجیے۔ اس کے بعد کلام وغیرہ نہ کیجیے، ہاں! اگر ضرورت ہو تو کلام کرنے کے بعد سورہ کافرون تلاوت کر لیں کہ خاتمہ اسی پر ہو، ان شاء اللہ تعالیٰ خاتمہ ایمان پر ہو گا اور تین بار صبح اور تین بار شام اس دعا کا اوراد رکھیں:

اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا نَعْلَمُهُ وَنَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا نَعْلَمُهُ [الملفوظ: 2/ 103، 104، مطبوعہ قادری کتاب گھر، بریلی]

دفع بخار کا عمل

ایک صاحب نے کسی مریض کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا کہ اسے بے حد بخار ہے۔ (اگر کوئی عمل ہو تو ارشاد فرمائیں) اس پر اعلیٰ حضرت نے فرمایا: بے حد بخار کے تو یہ معنی ہیں کہ اس کی انتہا ہی نہیں، اور کبھی اترے گا ہی نہیں، کوستے تو آپ خود ہیں (پھر فرمایا) سورۂ مجادلہ شریف جو اٹھائیسویں پارے کی پہلی سورت ہے، بعد عصر تین مرتبہ پڑھ کر پانی پر دم کر کے پلائے۔ [الملفوظ: 1/ 3 مطبوعہ قادری کتاب گھر، بریلی]

لقوہ کا اثر دور کرنے کا عمل

ایک صاحب کے رخسار پر لقوہ کا اثر ہو گیا تھا۔ انھوں نے حاضر ہو کر حضور والا سے دعائے خیر چاہی، تو ارشاد فرمایا: لوہے کے پتر پر سورہ زلزال شریف کندہ کرا لیجیے اور اسے دیکھتے رہا کیجیے۔ [الملفوظ: 4/ 38 مطبوعہ قادری کتاب گھر، بریلی]

بینائی واپس لانے کا بے نظیر عمل

ایک صاحب نے اعلیٰ حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ روشنی بہت کم ہے، تو آپ نے ارشاد فرمایا: آیت الکرسی شریف یاد کر لیجیے۔ ہر نماز کے بعد ایک بار پڑھیے اور پڑھتے ہوئے جب اس کلمہ پر پہنچیں:

وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا

اس وقت دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آنکھ پر رکھ کر اس کلمہ کو گیارہ بار کہیں، پھر ہاتھوں کی انگلیوں پر دم کر کے آنکھوں پر پھیر لیں۔ دوسرے یہ کہ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پر نور نور نو (9) جگہ سفید چینی کی طشتری پر اس طرح لکھیں کہ واو اور میم کے سر کھلے رہیں، اور آب زم زم شریف نہ ملے تو تازہ پانی سے دھو کر 256 بار اس پر:

يَا نُورُ

پڑھ کر دم کرے۔ اول آخر یہ درود شریف تین تین مرتبہ پڑھیں، پھر یہ پانی آنکھوں پر لگائیں اور باقی پی لیں۔ [شمع شبستان رضا: 1/ 16، 17 مطبوعہ فاروقیہ بک ڈپو، دہلی]

تاحیات دانت خراب نہ ہونے کا وظیفہ

صوفی محمد اقبال احمد نوری بیان کرتے ہیں کہ میرے ایک پیر بھائی جن کی عمر کچھ کم سو برس کی تھی، اپنے دانتوں سے گنا کھا لیتے تھے، اور فرماتے تھے کہ جب میں گنا کھاتا ہوں تو میرے دانتوں پر جوان آدمی رشک کرتے ہیں۔ میں نے ان سے دانتوں کی محفوظی اور مضبوطی کا سبب دریافت کیا تو فرمانے لگے کہ دراصل مجھے اعلیٰ حضرت عظیم المرتبت رضی اللہ عنہ نے بچپن میں یہ عمل بتایا تھا کہ عشا کے بعد وتر جب پڑھے جائیں تو پہلی رکعت میں بعد الحمد سورہ اذا جاء، دوسری میں تبت یدا، اور تیسری میں سورہ اخلاص پڑھنے سے دانت عمر بھر ہر تکلیف سے محفوظ رہتے ہیں۔ جب سے میں اسی طرح پڑھتا ہوں اور اسی عمل کی یہ برکت ہے۔ [شمع شبستان رضا: 1/ 18، مطبوعہ فاروقیہ بک ڈپو، دہلی]

حرز جاں بنا لینے والا ایک مکتوب

ایک عزیز کے برخوردار کا انتقال ہو گیا۔ جب اعلیٰ حضرت کو اس کی خبر ہوئی تو فوراً تعزیت نامہ بھیجا اور ایک بے نظیر دعا انھیں تلقین فرمائی۔ اس کا مضمون کچھ یوں ہے:

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

اللہ کا ہے جو اس نے لیا اور اس کا ہے جو اس نے دیا اور ہر چیز کی اس کے یہاں عمر مقرر ہے، اس سے کمی بیشی نا متصور ہے۔ بے صبری سے گئی چیز واپس نہیں آ سکتی، ہاں! اللہ کا ثواب جاتا ہے، جو ہر چیز سے اعز و اعلیٰ ہے اور محروم تو وہی ہے جو ثواب سے محروم رہا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ جب فرشتے مسلمان کے بچے کی روح قبض کر کے حاضر بارگاہ عزت ہوتے ہیں۔ مولیٰ عز و جل فرماتا ہے (اور وہ خوب جانتا ہے) کیا تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کر لی؟ عرض کرتے ہیں، ہاں! اے رب ہمارے۔ فرماتا ہے کیا تم نے اس کے دل کا پھل توڑ لیا؟ عرض کرتے ہیں، ہاں! اے رب ہمارے۔ پھر اس نے کیا کہا۔ عرض کرتے ہیں تیری حمد بجا لایا اور الحمد للہ کہا۔ فرماتا ہے گواہ رہو، میں نے اسے بخش دیا، اور جنت میں اس کے لیے ایک مکان تیار کرو اور اس کا نام بیت الحمد رکھو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے تین بچے نابالغی میں مر جائیں گے، آتش دوزخ سے اس کے لیے حجاب ہو جائیں گے۔ کسی نے عرض کی: اگر دو مرے ہوں؟ فرمایا: دو بھی۔ ام المومنین صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اگر کسی کا ایک ہی مرا ہو؟ فرمایا: ایک بھی۔ اسے نیک سوالوں کی توفیق دی گئی۔ اس حکم میں ماں باپ دونوں شامل ہیں۔ آپ اور آپ کے گھر میں دونوں صاحب یہ دعا پڑھیں، ان شاء اللہ العزیز نعم البدل عطا فرمایا جائے گا:

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَسَى رَبُّنَا أَنْ يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِنْهَا إِنَّا إِلَى رَبِّنَا رَاغِبُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا

صحیح حدیث میں ہے، جب حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی زوجہ مقدسہ حضرت ام سلمہ کو یہ دعا تلقین فرمائی اور ارشاد ہوا کہ جو چیز فوت ہوتی ہے اس سے بہتر ملتی ہے۔ حضرت ام سلمہ نے دعا پڑھی؛ مگر اپنے دل میں کہتی تھیں کہ ابو سلمہ سے بہتر کون ملے گا۔ عدت کے دن گزرنے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمایا۔ [شمع شبستان رضا: 1/ 98، 99 مطبوعہ فاروقیہ بک ڈپو، دہلی]

امام احمد رضا کی تحریری خدمات

امام احمد رضا نے ذکر و دعا کی اہمیت پر اپنی کتب و فتاوی میں جزوی بحثوں کے علاوہ ان موضوعات پر مستقل کتابیں بھی تصنیف فرمائی ہیں، اور اس سلسلے میں آپ کی تحقیقات بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ اور گوناگوں شبہات کا تصفیہ کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ نسیم الصبا فی ان الاذان یحول الوباء، ایذان الاجر فی اذان القبر، انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ، العروس المعطار فی زمن دعوۃ الافطار، الحرف الحسن فی الکتابۃ علی الکفن، المنۃ الممتازۃ فی دعوات الجنازۃ، اور بذل الجوائز علی الدعاء بعد صلاۃ الجنائز وغیرہ کتب میں بھی آپ نے جزوی اور ضمنی طور پر ذکر و دعا کے تعلق سے بہت سے افادات پیش فرمائے ہیں، اور مخالفین کی کج فہمیاں دور کر کے شریعت مطہرہ کی بے غبار تعلیمات کے انوار کو عام و تام فرمایا ہے۔ اب ذیل میں ہم ادعیہ و اذکار کے تعلق سے تحقیقات رضویہ کے کچھ جلوے قارئین کے روبرو پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ اور یہی مصنف اعظم نمبر کا مقصود نگارش بھی ہے۔ وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب۔

دعا نہ کرنے کی تہدید پر آیت سے استدلال

اسلام نے دعا کی بڑی اہمیت جتلائی ہے، اور کتاب و سنت میں اس کی عظمتوں کے نقوش جا بجا دیکھے جاگتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت ایک جگہ فرماتے ہیں کہ دعا سلاح ایمان ہے، دعا جالب امن و امان ہے، دعا نور زمین و آسمان ہے، اور دعا باعث رضائے رحمن ہے۔

اسلام نے جہاں دعا کرنے پر بہت زیادہ زور دیا ہے، وہیں دعا نہ کرنے پر کافی سخت سست بھی سنایا ہے۔ ترک دعا پر تہدید کے سلسلے میں کئی ایک احادیث معروف ہیں (بعضے گزشتہ سطور میں گزر چکی ہیں)؛ مگر قرآن سے اس کا ثبوت مجھ ہیچ مداں کی ظاہری نظر سے کہیں نہیں گزرا۔ لیکن اعلیٰ حضرت نے اس سلسلے میں قرآن کریم کی ایک آیت سے ترک دعا پر تہدید کا بڑا خوبصورت استشہاد کیا ہے، فرماتے ہیں:

ارشادی باری تعالیٰ ہے:

فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ [سورۃ انعام: 43]

تو کیوں نہ ہوا، جب آئی تھی ان پر ہماری طرف سے سختی، تو گڑگڑائے ہوتے، لیکن سخت ہو گئے ہیں دل ان کے۔ اس آیت سے ترک دعا پر تہدید شدید نکلی۔ [احسن الوعاء لآداب الدعاء، مولانا نقی علی خاں، و شرحہ ذیل المدعا لاحسن الوعاء، امام احمد رضا محدث بریلوی: 4، 5 مطبوعہ، جماعت سابعہ، جامعہ اشرفیہ مبارک پور 1994ء]

قبولیت دعا میں عجلت دکھانے والوں کے لیے ایک تمثیل سے تفہیم

عموماً لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ دعا کی قبولیت کے تعلق سے شاکی نظر آتے ہیں، اور دعا جلد قبول نہ ہونے پر زبان شکوہ کھول دیتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت نے اس سلسلے میں دنیوی درباروں میں ضرورت مندوں کے ساتھ ہوتے بدترین سلوک کی تمثیل پیش کر کے دعا گویوں کے لیے جو خیر خواہانہ تفہیم تعلیم فرمائی ہے، وہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے، لکھتے ہیں:

سگان دنیا کے امیدواروں کو دیکھا جاتا ہے کہ تین تین برس تک امیدواری میں گزارتے ہیں، صبح و شام ان کے دروازوں پر دوڑتے ہیں اور وہ ہیں کہ رخ نہیں ملاتے، بار نہیں دیتے، جھڑکتے، دل تنگ ہوتے، ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔ امیدواری میں لگایا تو بیگار ڈالی، یہ حضرت گرہ سے کھاتے، گھر سے منگاتے، بے کار بیگار کی بلا اٹھاتے ہیں، اور وہاں برسوں گزریں، ہنوز روز اول ہے؟ مگر نہ امید توڑیں، نہ پیچھا چھوڑیں اور احکم الحاکمین، اکرم الاکرمین عز جلالہ کے دروازے پر اول تو آتا ہی کون ہے، اور آئے بھی تو اکتاتے گھبراتے، کل کا ہوتا آج ہو جائے، ایک ہفتہ کچھ پڑھتے گزرا اور شکایت ہونے لگی، صاحب پڑھا تو تھا، کچھ اثر نہ ہوا۔ یہ احمق اپنے لیے اجابت کا دروازہ خود بند کر لیتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ يَقُولُ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي

تمھاری دعا قبول ہوتی ہے جب تک جلدی نہ کرو کہ میں نے دعا کی تھی، قبول نہ ہوئی۔ اور پھر بعض تو اس پر ایسے جامے سے باہر ہو جاتے ہیں کہ اعمال و ادعیہ کے اثر سے بے اعتقاد بلکہ اللہ عز و جل کے وعدہ و کرم سے بے اعتماد والعیاذ باللہ الکریم الجواد - ایسوں سے کہا جائے کہ اے بے حیا بے شرمو! ذرا اپنے گریبان میں منہ ڈالو، اگر کوئی تمھارا برابر والا دوست تم سے ہزار بار کچھ کام اپنے کہے اور تم اس کا ایک کام نہ کرو، تو اپنا کام اس سے کہتے ہوئے اول تو آپ لجاؤ گے کہ ہم نے تو اس کا کہنا کیا ہی نہیں، اب کس منہ سے اس سے کام کو کہیں۔ اور اگر غرض دیوانی ہوتی ہے، کہہ بھی دیا اور اس نے نہ کیا تو اصلاً محل شکایت نہ جانو گے کہ ہم نے کب کیا تھا، جو وہ کرتا۔ اب جانچو کہ تم مالک علی الاطلاق عز جلالہ کے کتنے احکام بجا لاتے ہو، اس کے حکم بجا نہ لانا، اور اپنی درخواست کا خواہی نہ خواہی قبول چاہنا کیسی بے حیائی ہے۔

او احمق! پھر فرق دیکھ، اپنے سر سے پاؤں تک نظر غور کر، ایک ایک روئیں میں ہر وقت ہر آن کتنی کتنی ہزار در ہزار صد ہزار بے شمار نعمتیں ہیں، تو سوتا ہے اور اس کے معصوم بندے تیری حفاظت کو پہرا دے رہے ہیں۔ تو گناہ کر رہا ہے اور سر سے پاؤں تک صحت و عافیت، بلاؤں سے حفاظت، کھانے کا ہضم، فضلات کا دفع، خون کی روانی، اعضا میں طاقت، آنکھوں میں روشنی، بے حساب کرم بے مانگے بے چاہے تجھ پر اتر رہے ہیں۔ پھر اگر تیری بعض خواہشیں عطا نہ ہوں، کس منہ سے شکایت کرتا ہے؟ تو کیا جانے کہ تیرے لیے بھلائی کاہے میں ہے۔ تو کیا جانے کہ کیسی سخت بلا آنے والی تھی کہ اس دعا نے دفع کی؟ تو کیا جانے کہ اس دعا کے عوض کیسا ثواب تیرے لیے ذخیرہ ہو رہا ہے؟؟؟ اس کا وعدہ سچا ہے، اور قبول کی یہ تینوں صورتیں ہیں جن میں ہر پہلی پچھلی سے اعلیٰ ہے۔ ہاں! بے اعتقادی آئی، تو یقین جان کہ مارا گیا، اور ابلیس لعین نے تجھے اپنا سا کر لیا۔ والعیاذ باللہ سبحانہ و تعالیٰ۔

اے ذلیل خاک! اے آب ناپاک!! اپنا منہ دیکھ، اور اس عظیم شرف کو غور کر کہ اپنی بارگاہ میں حاضر ہونے، اپنا پاک متعالی نام لینے، اپنی طرف منہ کرنے، اپنے پکارنے کی تجھے اجازت دیتے ہیں۔ لاکھوں مرادیں اس فضل عظیم پر نثار۔

او بے صبرے! ذرا بھیک مانگنا سیکھ۔ اس آستان رفیع کی خاک پر لوٹ جا، اور لیٹا رہ اور مشکلی بندھی رکھ کہ اب دیتے ہیں، اب دیتے ہیں بلکہ اسے پکارنے، اس سے مناجات کرنے کی لذت میں ایسا ڈوب جا کہ ارادہ و مراد کچھ یاد نہ رہے۔ یقین جان کہ اس دروازے سے ہرگز محروم نہ پھرے گا: مَنْ دَقَّ بَابَ الْكَرِيمِ انْفَتَحَ (جو کرم والے کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو وہ کھل ہی جاتا ہے) وباللہ التوفیق۔ [احسن الوعاء لآداب الدعاء، مولانا نقی علی خاں، و شرحہ ذیل المدعا لاحسن الوعاء، امام احمد رضا محدث بریلوی: 34 تا 36 مطبوعہ، جماعت سابعہ، جامعہ اشرفیہ مبارک پور 1994ء]

دعا کی زبان

یوں تو ہر زبان اور کلمہ کے ذریعہ انسان اپنی دعاؤں کو خدا تک پہنچا سکتا ہے، لیکن جہاں تک ممکن ہو دعا عربی زبان میں کرنی چاہیے کہ یہ اللہ و رسول کی پسندیدہ اور قرآن و اہل بہشت کی زبان ہے۔ لیکن دعا کا عربی زبان ہی میں کرنا از روئے شرع ہمارے لیے ضروری نہیں، جیسا کہ بعض کتب قدما مثلاً غرر الافکار وغیرہ میں یہ تصریح ملتی ہے کہ غیر عربی میں دعا مکروہ ہے۔ نیز امام ولوالجی فرماتے ہیں کہ دعا عربی میں ہونی چاہیے کہ عربی میں دعا اجابت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اعلیٰ حضرت نے اس پر افادہ فرماتے ہوئے بڑے نکتے کی بات بیان کی ہے، لکھتے ہیں:

میں کہتا ہوں: مگر جو عربی نہ سمجھتا ہو، اور معنی سیکھ کر بہ تکلف ان کی طرف خیال لے جانا مشوش خاطر و مخل حضور ہو، وہ اپنی ہی زبان میں اللہ تعالیٰ کو پکارے کہ حضور و یکسوئی اہم امور سے ہے۔ [احسن الوعاء لآداب الدعاء، مولانا نقی علی خاں، و شرحہ ذیل المدعا لاحسن الوعاء، امام احمد رضا محدث بریلوی: 41 مطبوعہ، جماعت سابعہ، جامعہ اشرفیہ مبارک پور 1994ء]

کیفیت دعا میں خلوت و جلوت کا سماں یکساں ہونا چاہیے

عموماً دیکھا گیا کہ لوگ جب خلوت میں ہوتے ہیں تو نہایت الحاح و زاری کے ساتھ دعا گو ہوتے ہیں اور جس طرح بچے ماؤں سے کچھ طلب کرنے کے لیے گڑگڑاتے اور منہ بسورتے ہیں، کچھ یہی حال ان کا بھی ہوتا ہے، لیکن جیسے ہی کوئی ان کے خلوت کدے میں آدھمکتا ہے، تو فوراً شرما کر اپنی دگرگوں کیفیت بدل کر نارمل کر لیتے ہیں۔ یہ بڑی نادانی کی بات، خالق سے مذاق اور ایک خطرناک قسم کی غلطی ہے۔ اس تعلق سے اعلیٰ حضرت نے جو ہدایات فرمائی ہیں اور اس کی علت واقعی سے جو پردہ اٹھایا ہے وہ لائق صد تحسین ہے، فرماتے ہیں:

دعا میں تکبر اور شرم سے بچے۔ مثلاً تنہائی میں دعا بہ نہایت تضرع و الحاح کر رہا ہے، اپنا منہ خوب گڑگڑانے کا بنا رہا ہے، اب کوئی آ گیا تو اس حالت سے شرما کر موقوف کر دیا، یہ سخت حماقت اور - معاذ اللہ - اللہ کی جناب تکبر سے مشابہ ہے۔ اس کے حضور گڑگڑانا موجب ہزاراں عزت ہے، نہ کہ معاذ اللہ خلاف شان و شوکت۔ [احسن الوعاء لآداب الدعاء، مولانا نقی علی خاں، و شرحہ ذیل المدعا لاحسن الوعاء، امام احمد رضا محدث بریلوی: 41 مطبوعہ، جماعت سابعہ، جامعہ اشرفیہ مبارک پور 1994ء]

تواضع للہ اور تواضع لغیر اللہ کا فرق

آداب دعا میں یہ بات بھی آتی ہے کہ بندہ ٹوٹ کر اپنے مولا کے سامنے دست سوال دراز کرے، جو کچھ مانگنا ہے اس سے مانگے اور دعا میں عجز و انکسار کا بھرپور مظاہرہ کرے۔ اس موقع پر خوش عقیدہ مسلمان اہل اللہ سے جو توسل کا سہارا لیتے ہیں وہ وہابیہ کے حلق سے نہیں اترتا اور نادانی میں دھڑلے سے وہ توسل و تواضع لغیر اللہ کو شرک سے تعبیر کر دیتے ہیں۔ اس موقع پر اعلیٰ حضرت نے بڑا خوبصورت نکتہ بیان فرمایا ہے، اگر اسے مستحضر رکھا جائے تو شاید اس تعلق سے کبھی کوئی الجھن دامن گیر نہ ہو۔ فرماتے ہیں:

علمائے کرام فرماتے ہیں کہ غیر خدا کے لیے تواضع حرام ہے۔ فتاوی ہندیہ و ملتقط و غیرہم میں ہے: التواضع لغير الله حرام [یعنی غیر اللہ کے لیے تواضع حرام ہے] حالاں کہ معظمانِ دین کے لیے تواضع قطعاً مامور بہ ہے۔ خود یہی علما اس کا حکم دیتے ہیں۔ حدیث میں ہے: تَوَاضَعُوا لِمَنْ تَعَلَّمُونَ مِنْهُ وَتَوَاضَعُوا لِمَنْ تُعَلِّمُونَهُ وَلَا تَكُونُوا جَبَابِرَةَ الْعُلَمَاءِ یعنی اپنے استاد کے لیے تواضع کرو اور اپنے شاگردوں کے لیے تواضع کرو اور سرکش عالم نہ بنو۔ نیز حدیث شریف میں ارشاد ہوا: جو کسی غنی کے لیے اس کے غنا کے سبب تواضع کرے، ذَهَبَ ثُلُثَا دِينِهِ۔ اس کا دو تہائی دین جاتا رہے۔ تو وجہ وہی ہے کہ مال دنیا کے لیے تواضع رو بخدا نہیں، یہ حرام ہوئی اور یہی تواضع لغیر اللہ ہے۔ اور علم دین کے لیے تواضع رو بخدا ہے، اس کا حکم آیا اور یہ عین تواضع للہ ہے۔ یہ نکتہ ہمیشہ یاد رکھنے کا ہے کہ اس کو بھول کر وہابیہ و مشرکین افراط و تفریط میں پڑے۔ والعیاذ باللہ رب العالمین۔ [احسن الوعاء لآداب الدعاء، مولانا نقی علی خاں، و شرحہ ذیل المدعا لاحسن الوعاء، امام احمد رضا محدث بریلوی: 14]

امتی پیغمبر کو کیسے پکارے؟

حدیث صلاۃ الحاجت بہت معروف ہے۔ جس میں ایک نابینا کے سوال پر مصطفی جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وضوئے تازہ اچھی طرح کرے، اور دو رکعت نماز نفل پڑھے، پھر سلام عرض کرنے کے بعد یہ دعا پڑھے اور اپنی حاجت ذکر کرے:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّي فَيَقْضِي حَاجَتِي

اس حدیث کو مفتی نقی علی علیہ الرحمہ احسن الوعاء کے خاتمے میں نقل کیا ہے، جس کی تشریح و توضیح کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت نے ادب و تعظیم رسول کے حوالے سے ایک بڑی ہی نفیس و دقیق بات بیان فرمائی ہے۔ لکھتے ہیں:

حدیث میں یا محمد ہے؛ مگر اس کی جگہ یا رسول اللہ کہنا چاہیے کہ صحیح مذہب میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو نام لے کر ندا کرنا ناجائز ہے۔ علما فرماتے ہیں: اگر روایت میں وارد ہو جب بھی تبدیل کر لیں۔ [احسن الدعاء لآداب الدعاء مع شرحہ ذیل المدعا لاحسن الوعاء: 117]

مقامات اجابت دعا

حضرت مولانا نقی علی خاں علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب احسن الدعاء کی فصل چہارم میں امکنہ اجابت دعا کے ضمن میں تئیس (23) مقامات ذکر فرمائے ہیں۔ جن پر اعلی حضرت نے اپنی تحقیق سے مزید اکیس مقامات کا اضافہ کیا ہے، جن میں امام اعظم ابو حنیفہ، امام موسیٰ کاظم، سیدنا معروف کرخی، امام ابوبکر مسعود کاشانی اور ان کی زوجہ فقیہ فاضلہ حضرت فاطمہ، سیدی ابو عبد اللہ محمد بن احمد قرشی، حضرت سیدی ابن رسلان، قرافہ میں امام اشہب و امام ابن قاسم، امام ابن لال محدث احمد بن علی ہمدانی، اور حضرت خواجہ غریب نواز معین الحق والدین چشتی قدس اللہ اسرارہم کے مزارات مقدسہ کو بھی دعاؤں کی قبولیت کے مقامات میں شمار کیا ہے، اور ان پر دلائل و شواہد بھی پیش کیے ہیں۔ [تفصیل کے لیے دیکھیے، احسن الوعاء لآداب الدعاء، مولانا نقی علی خاں، و شرحہ ذیل المدعا لاحسن الوعاء، امام احمد رضا محدث بریلوی: 56 تا 57 مطبوعہ، جماعت سابعہ، جامعہ اشرفیہ مبارک پور 1994ء]

دعا بعد العیدین شریعت کی نگاہ میں

اعلیٰ حضرت سے کسی نے استفتا کیا کہ کیا عیدین کے بعد دعا کرنا شرعاً جائز ہے؟ کیوں کہ وہابیہ اس سلسلے میں بڑا غل کرتے ہیں اور دعا بعد العیدین کو ناجائز کہتے ہیں، نیز سادہ لوح مسلمانوں کو اس سے منع کرتے ہیں۔ تو آپ نے اس کے جواب میں پوری ایک کتاب تصنیف فرمائی اور اس کا تاریخی نام رکھا: سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلاۃ العید (1339ھ) جس میں آپ نے بہت سی آیات و احادیث سے نفس دعا و ذکر کی بے پایاں اہمیت و فضیلت کو آشکارا کرنے کے بعد مسئلہ دعا بعد العیدین کو بالکل منفتح اور بے غبار کر کے رکھ دیا۔ اس کتاب کی چوتھی فصل میں دعا کی اہمیت و ناگزیریت کو کتاب و سنت سے ثابت کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت رقم طراز ہیں:

ان سب (یعنی دعا بعد العیدین) سے قطع نظر کیجیے تو دعا مطلقاً اعظم مندوبات دینیہ و اجل مطلوبات شرعیہ سے ہے کہ شارع صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بے تقید وقت و تخصیص ہیئت مطلقاً اس کی اجازت دی اور اس کی طرف دعوت فرمائی اور اس کی تکثیر کی رغبت دلائی اور اس کے ترک پر وعید آئی۔ مولیٰ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ [سورۃ غافر: 60]

اور تمھارے رب نے فرمایا، مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔

اور فرماتا ہے:

أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ [سورۃ بقرہ: 186]

قبول کرتا ہوں دعا کرنے والے کی دعا جب مجھے پکارے۔

حدیث قدسی میں فرماتا ہے:

أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي

رواہ البخاری و مسلم والترمذی والنسائی و ابن ماجہ عن ابی ہریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن ربہ۔

یعنی میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوں جب مجھ سے دعا کرے۔

اور فرماتا ہے:

يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ وَلَا أُبَالِي

رواہ الترمذی و حسنہ عن انس بن مالک عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن ربہ تبارک و تعالیٰ۔

یعنی اے فرزند آدم! تو جب تک مجھ سے دعا مانگے جائے گا اور امید رکھے گا تیرے کیسے ہی گناہ ہوں بخشتا رہوں گا اور مجھے کچھ پرواہ نہیں۔

اور فرماتا ہے عز و جل:

مَنْ لَا يَدْعُونِي أَغْضَبْ عَلَيْهِ

رواہ العسکری فی المواعظ بسند حسن عن ابی ہریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن ربہ تعالیٰ و تقدس۔

یعنی جو مجھ سے دعا نہ کرے گا میں اس پر غضب فرماؤں گا۔ [فتاوی رضویہ: 6/ 748 تا 749 مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی 1438ھ]

اس کے بعد اعلیٰ حضرت چند احادیث اس ہدایت کے ساتھ لے کر آتے ہیں کہ میں بخوف اطالت احادیث فضائل سے عطف عنان کر کے صرف ان بعض حدیثوں پر اقتصار کرتا ہوں جن میں دعا کی تاکید، یا اس کے ترک پر تہدید، یا اس کی تکثیر کا حکم اکید ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

عَلَيْكُمْ عِبَادَ اللَّهِ بِالدُّعَاءِ

رواہ الترمذی مستغربا والحاکم و صححہ۔ یعنی خدا کے بندو! دعا کو لازم پکڑو۔

حضرت زید بن خارجہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

صَلُّوا عَلَيَّ وَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ

رواہ الامام احمد والنسائی والطبرانی فی الکبیر وابن سعد وسمویہ والبغوی والباوردی و ابن قانع۔

یعنی مجھ پر درود بھیجو اور دعا میں کوشش کرو۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے، سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

لَا تَعْجِزُوا فِي الدُّعَاءِ فَإِنَّهُ لَنْ يَهْلِكَ مَعَ الدُّعَاءِ أَحَدٌ

رواہ ابن حبان فی صحیحہ والحاکم و صححہ۔

یعنی دعا میں تقصیر نہ کرو، جو دعا کرتا رہے گا ہرگز ہلاک نہ ہوگا، تباہ و برباد نہ ہوگا۔

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

تَدْعُونَ اللَّهَ لَيْلَكُمْ وَنَهَارَكُمْ فَإِنَّ الدُّعَاءَ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ

رواہ ابویعلی۔

یعنی رات دن خدا سے دعا مانگو کہ دعا مسلمان کا ہتھیار ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے، رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

أَكْثِرُوا الدُّعَاءَ بِالْعَافِيَةِ

رواہ الحاکم بسند حسن۔

یعنی عافیت کی دعا کثرت سے مانگا کرو۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے، سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

أَكْثِرْ مِنَ الدُّعَاءِ فَإِنَّ الدُّعَاءَ يَرُدُّ الْقَضَاءَ الْمُبْرَمَ

اخرجہ ابو الشیخ فی الثواب۔

یعنی دعا کی کثرت کرو کہ دعا قضائے مبرم کو رد کرتی ہے۔

حضرت عبادہ بن صامت و ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کی حدیثوں میں ہے، ایک بار حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی فضیلت ارشاد فرمائی، صحابہ نے عرض کی: إِذًا نُكْثِرُ ایسا ہے تو ہم دعا کی کثرت کریں گے، فرمایا: اللَّهُ أَكْثَرُ اللہ عز و جل کا کرم بہت کثیر ہے۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ اللہ بہت بڑا ہے۔ رواہ الترمذی والحاکم عن عبادۃ وصححاہ واحمد والبزار وابو یعلی باسانید جیدۃ والحاکم وقال صحیح الاسناد عن ابی سعید رضی اللہ عنہما۔

حضرت سلمان فارسی و ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما کی حدیثوں میں ہے، حضور والا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَسْتَجِيبَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَ الشَّدَائِدِ فَلْيُكْثِرْ مِنَ الدُّعَاءِ عِنْدَ الرَّخَاءِ

رواہ الترمذی عن ابی ہریرۃ والحاکم عنہ و عن سلمان و قال صحیح واقروہ۔

یعنی جسے خوش آئے کہ اللہ تعالیٰ سختیوں میں اس کی دعا قبول فرمائے وہ نرمی میں دعا کی کثرت رکھے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے، حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

مَنْ لَمْ يَسْأَلِ اللَّهَ يَغْضَبْ عَلَيْهِ

رواہ احمد و ابن ابی شیبۃ والبخاری فی الادب المفرد والترمذی و ابن ماجہ والبزار و ابن حبان والحاکم و صححہ۔

یعنی جو اللہ تعالیٰ سے دعا نہ کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر غضب فرمائے گا۔ [فتاوی رضویہ: 6/ 748 تا 749۔ امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی 1438ھ]

ایک اصولی بات

اخیر میں اعلیٰ حضرت بڑے خیر خواہانہ انداز میں مخالفین کو سمجھاتے ہوئے اور موافقین کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے نیز ایک اصولی بات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

ایھا المسلمون! تم نے اپنے مولا جل و علا اور اپنے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سنے ان میں کہیں بھی تخصیص و تقیید کی بو ہے، یہ تو بارہا فرمایا کہ دعا کرو، کہیں یہ بھی فرمایا کہ فلاں نماز کے بعد نہ کرو؟ یہ تو صاف ارشاد ہوا ہے کہ جس وقت دعا کرو گے میں سنوں گا، کہیں یہ بھی فرمایا کہ فلاں وقت کرو گے تو سنوں گا؟ یہ تو بہ تاکید بار بار حکم آیا ہے کہ دعا سے عاجز نہ ہو، دعا میں کوشش کرو، دعا کو لازم پکڑو، دعا کی کثرت رکھو، رات دن دعا مانگو، کہیں یہ بھی فرمایا ہے کہ فلاں نماز کے بعد نہ مانگو؟ یہ تو ڈر سنایا گیا ہے کہ جو دعا نہ مانگے گا اس پر غضب ہوگا، کہیں یہ بھی فرمایا ہے کہ فلاں نماز کے بعد جو مانگے گا اس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو گا؟ اور جب کہیں نہیں تو خدا اور رسول جل جلالہ وصلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز کو عام و مطلق رکھا دوسرا اسے مخصوص و مقید کرنے والا کون؟ خدا اور رسول عز مجدہ، وصلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز سے منع نہ فرمایا دوسرا اسے منع کرنے والا کون؟ قال تعالیٰ:

وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَالٌ وَهَذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ [سورۃ نحل: 116]

اور نہ کہو اسے جو تمھاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو بے شک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا۔

اصل یہ ہے کہ:

إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ [سورۃ انعام: 57]

حکم صرف خدا ہی کے لیے ہے۔

جس چیز کو اس نے کسی ہیئت خاصہ محل معین سے مخصوص اور اس پر مقصور و محصور فرمایا اس سے تجاوز جائز نہیں، جو تجاوز کرے گا دین میں بدعت نکالے گا۔ اور جس چیز کو اس نے ارسال و اطلاق پر رکھا ہرگز کسی ہیئت و محل پر مقتصر نہ ہوگی اور ہمیشہ اپنے اطلاق ہی پر رہے گی، جو اس سے بعض صور کو جدا کرے گا دین میں بدعت پیدا کرے گا، ذکر و دعا اسی قبیل سے ہیں کہ زنہار شرع مطہر نے انھیں کسی قید و خصوصیت پر محصور نہ فرمایا بلکہ عموماً و مطلقاً ان کی تکثیر کا حکم دیا۔ [فتاوی رضویہ: 6/ 750 مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی 1438ھ]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!