Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور اذکار و ادعیہ (قسط: ہفتم)|فیضان المصطفی قادری

امام احمد رضا اور اذکار و ادعیہ (قسط: ہفتم)
عنوان: امام احمد رضا اور اذکار و ادعیہ (قسط: ہفتم)
تحریر: فیضان المصطفی قادری
پیش کش: عائشہ امجدی کشمیر

نمازِ جنازہ کے بعد دعا کا حکم

مولوی محمد عمر الدین صاحب نے بارگاہِ رضویہ میں استفتا کیا کہ نمازِ جنازہ کے بعد صفیں توڑ کر جو دعائیں کی جاتی ہیں، کیا وہ درست ہیں؟ اس کے جواب میں اعلیٰ حضرت نے ایک تفصیلی فتاویٰ تحریر فرمایا جس میں آپ نے قرآن و حدیث کے دلائل و شواہد سے یہ ثابت کیا کہ نمازِ جنازہ کے بعد دعا کرنا ایسے ہی جائز و ثابت ہے جیسے دیگر مواقع پر، فرماتے ہیں:

امواتِ مسلمین کے لیے دعا قطعاً محبوب و شرعاً مندوب ہے، جس کی ندب و ترغیب مطلق پر آیات و احادیث بلا توقیت و تخصیص ناطق، تو بلاشبہ ہر وقت اس پر حکمِ جواز صادق، جب تک کسی خاص وقت ممانعت شرعِ مطہر سے ثابت نہ ہو۔ مطلق شرعی کو از پیشِ خویش موقت اور مرسل کو مقید کرنا، تشریع من عند النفس ہے اور نماز ہر چند اعظم و اجل طرق ہے؛ مگر اس پر اقتصار کا حکم نہ اس کے اغنا پر جزم، بلکہ شرعِ مبارک وقتاً فوقتاً بکثرت اور بار بار تعرضِ نفخاتِ رحمت کا حکم فرماتی ہے، کیا معلوم کس وقت کی دعا قبول ہو جائے۔

صحیح حدیث میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لِيُكْثِرْ مِنَ الدُّعَاءِ. [جامع الترمذي، أبواب الدعوات، رقم الحديث: 3373]

یعنی دعا کی کثرت کرو۔

مستدرک حاکم و صحیح ابن حبان میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

لَا تَعْجِزُوا فِي الدُّعَاءِ فَإِنَّهُ لَنْ يَهْلِكَ مَعَ الدُّعَاءِ أَحَدٌ. [المستدرك على الصحيحين، رقم الحديث: 1836]

یعنی دعا میں کسل و کمی نہ کرو کہ دعا کے ساتھ کوئی ہلاک نہ ہوگا۔

مسند ابو یعلی میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

تَدْعُونَ اللَّهَ تَعَالَى فِي لَيْلِكُمْ وَنَهَارِكُمْ فَإِنَّ الدُّعَاءَ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِينَ. [مسند أبي يعلى، رقم الحديث: 1812]

یعنی رات دن اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہو کہ دعا مسلمان کا ہتھیار ہے۔

ام المومنین صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، حضور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُلِحِّينَ فِي الدُّعَاءِ. [نوادر الأصول، ج: 1، ص: 220]

یعنی بیشک اللہ تعالیٰ بکثرت و بار بار دعا کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

طبرانی معجم کبیر میں حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے راوی، حضور پرنور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

إِنَّ لِرَبِّكُمْ فِي أَيَّامِ دَهْرِكُمْ نَفَحَاتٍ فَتَعَرَّضُوا لَهَا لَعَلَّ أَنْ يُصِيبَكُمْ نَفْحَةٌ مِنْهَا فَلَا تَشْقَوْنَ بَعْدَهَا أَبَدًا. [المعجم الكبير، رقم الحديث: 234]

یعنی تمہارے رب کے لیے زمانے کے دنوں میں کچھ عطائیں، رحمتیں، تجلیاں ہیں تو ان کی تلاش رکھو، تمہیں کیا معلوم کس وقت رحمتِ الٰہی کے خزانے کھولے جائیں، شاید ان میں کوئی تجلی تمہیں بھی پہنچ جائے کہ پھر بدبختی نہ آئے۔

جب دعا کی نسبت صاف حکم ہے کہ اس میں کسل نہ کرو، بکثرت مانگو، رات دن مانگو، ہر حال مانگو، تو ایک بار کی دعا پر اقتصار کیونکر مطلوبِ شرع ہو سکتا ہے! لاجرم حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم سے قبلِ نماز و بعدِ نماز دونوں وقت میت کے لیے دعا فرمانا اور مسلمانوں کو دعا کا حکم دینا ثابت ہے۔ [فتاویٰ رضویہ: 7/ 114-115]

دعا اور مردانِ غیب کی مدد

نمازِ غوثیہ کے تعلق سے کچھ کور مغزوں نے عدم جواز اور کفر و شرک کا طعنہ دینا شروع کیا تو اعلیٰ حضرت نے اس کے جواب میں دو مستقل کتابیں تصنیف فرمائیں: 'انہار الانوار فی صلوۃ الاسرار' [1305ھ] اور 'ازبار الانوار من صبا صلوۃ الاسرار' [1305ھ]۔ جس میں آپ نے بہجۃ الاسرار شریف پر اٹھائے گئے اعتراضات کا قلع قمع فرمایا۔ اس میں ضمنی طور پر آپ نے مردانِ غیب سے مدد مانگنے کی بحث بھی چھیڑی، چنانچہ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:

سنیے، ابن السنی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور بزار حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے راوی، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

إِذَا انْفَلَتَتْ دَابَّةُ أَحَدِكُمْ بِأَرْضٍ فَلَاةٍ فَلْيُنَادِ يَا عِبَادَ اللَّهِ احْبِسُوا فَإِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى عِبَادًا فِي الْأَرْضِ تَحْبِسُهُ. [المعجم الكبير، رقم الحديث: 10518]

یعنی جب تم میں کسی کا جانور جنگل میں چھوٹ جائے تو چاہیے یوں ندا کرے: اے خدا کے بندو! روک لو، کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے زمین میں ہیں جو اسے روک لیں گے۔

امام طبرانی حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ سے راوی، حضور پرنور سیدِ عالمین صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

إِذَا أَضَلَّ أَحَدُكُمْ شَيْئًا أَوْ أَرَادَ عَوْنًا وَهُوَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا أَنِيسٌ فَلْيَقُلْ يَا عِبَادَ اللَّهِ أَعِينُونِي يَا عِبَادَ اللَّهِ أَعِينُونِي يَا عِبَادَ اللَّهِ أَعِينُونِي فَإِنَّ لِلَّهِ عِبَادًا لَا يَرَاهُمْ. [المعجم الكبير، رقم الحديث: 443]

یعنی جب تم میں سے کوئی شخص سنسان جگہ میں بہکے بھولے یا کوئی چیز گم کر دے اور مدد مانگنی چاہے تو یوں کہے: اے اللہ کے بندو! میری مدد کرو، اے اللہ کے بندو! میری مدد کرو، اے اللہ کے بندو! میری مدد کرو، کہ اللہ کے کچھ بندے ہیں جنہیں یہ نہیں دیکھتا۔

ان احادیث میں جن بندگانِ خدا کو وقتِ حاجت پکارنے اور ان سے مدد مانگنے کا صاف حکم ہے وہ ابدال ہیں کہ اولیاے کرام کی ایک قسم ہے۔ اور کیسا بھی ہو، ایسے توسل و ندا کو شرک و حرام اور منافیِ توکل و اخلاص جاننا معاذ اللہ شرعِ مطہر کو اصلاح دینا ہے! [فتاویٰ رضویہ: 5/ 794-795]

اختتامیہ

الغرض اذکار و ادعیہ کے تعلق سے امام احمد رضا کی خدمات بڑی وقیع اور باوزن ہیں۔ رئیس المتکلمین علامہ مفتی نقی علی خان علیہ الرحمہ نے 'احسن الوعاء لآداب الدعاء' کے نام سے دعا کی اہمیت و فضیلت پر ایک جامع رسالہ تصنیف فرمایا ہے، اعلیٰ حضرت نے اس کتاب پر تحشیہ و شرح کے علاوہ سینکڑوں فوائد کا اپنی طرف سے اضافہ کیا، اور اسے 'ذیل المدعا لاحسن الوعاء' کے نام سے موسوم کیا۔ یونہی آپ کی جمع کردہ کتاب 'الوظیفۃ الکریمہ' بھی ذکر و دعا کے موضوع پر مختصر مگر جامع نوشتہ اور وظائف و ادعیہ کا بیش بہا خزانہ ہے۔ اہل ذوق و محبت اس سے ضرور استفادہ کریں، اپنی زندگیوں کو ان دعاؤں کا پابند بنائیں، پھر دیکھیں رب کی رحمتیں کس طرح ساون بھادوں بن کر برستی ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!