Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

یہودیت اور شیعیت (قسط: اول)|مفتی محمد آصف اقبال مدنی

یہودیت اور شیعیت (قسط: اول)
عنوان: یہودیت اور شیعیت (قسط: اول)
تحریر: مفتی محمد آصف اقبال مدنی
پیش کش: رافعہ ریاض
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

مسلمانوں کے دشمنوں کو ہم چار طبقات میں تقسیم کر سکتے ہیں: (۱) یہود، (۲) نصاریٰ، (۳) مشرکین اور (۴) منافقین۔ مگر ان میں مسلمانوں کے ہر دور میں سب سے بڑے دشمن یہودی و مشرک رہے ہیں۔ قرآنِ کریم اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے:

لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا [سورۃ المائدۃ: 82]

ترجمہ: ضرور تم مسلمانوں کا سب سے بڑھ کر دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پاؤ گے۔

اس آیت کے مصداق یہودیوں نے ایسا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جس میں مسلمانوں کو ضرر و نقصان نہ پہنچایا ہو۔ اگر ہم اسلام سے قبل یہودیت کا جائزہ لیں تب بھی ان کی نافرمانیوں، ناشکریوں، شرانگیزیوں، فتنہ پروریوں اور شرارتوں کی لمبی فہرست مرتب ہو سکتی ہے۔ ثبوت کے لیے قرآنِ کریم کی سورۃ بقرہ سے آیت نمبر 132 کا مطالعہ کافی ہے۔ آسمانی کتب میں تحریف کا معاملہ ہو یا ملتوں کے ٹکڑے کرنا، جنگوں کی آگ بھڑکانا ہو یا اقوام کو باہم دشمن بنانا، خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قتل کا مشورہ ہو یا خلیفہ ثالث حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خلاف بے بنیاد باتیں گھڑنا اور ان کو ہوا دینا، یا پھر آج کے دور میں نائن الیون جیسا واقعہ ہو؛ الغرض دنیا کے ہر بڑے فتنہ و فساد یا سانحے کے پیچھے یہودی ہی ملیں گے۔

دراصل یہودیوں کے دماغ میں یہ خناس بھرا ہوا ہے کہ اس کائنات میں حکومت کرنے کا حق صرف انہیں کو ہے، جبکہ دیگر اقوام اور ملتیں ان کی خدمت گاری کے لیے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے دنیا کے حساس، عالمی اور مالیاتی اداروں اور مراکز پر قبضہ کر رکھا ہے۔ کتاب "الْيَهُودِيَّةُ وَالْمَاسُونِيَّةُ" (مطبوعہ: دارالسنہ 1992ء) کے مصنف کے بقول اس وقت دنیا کے 27 عالمی اداروں پر ان کی حکمرانی ہے، ان تمام اداروں کے چیئرمین اور انچارج یہودی ہیں۔ ان کے علاوہ یہودیوں کی ماضی قریب اور موجودہ دور میں دو خطرناک سازشیں "تحریک استشراق" اور "فرقان الحق" ہیں۔

1. تحریکِ استشراق

اہلِ مغرب بالعموم اور یہودی بالخصوص، جو مشرقی اقوام خصوصاً اسلامی مذاہب، زبانوں، تہذیب و تمدن، تاریخ، ادب، انسانی قدروں، ملی خصوصیات، وسائلِ حیات اور امکانات کا مطالعہ معروضی تحقیق کے لبادے میں اس غرض سے کرتے ہیں کہ ان اقوام کو اپنا ذہنی غلام بنا کر ان پر اپنا مذہب اور اپنی تہذیب مسلط کر سکیں اور ان پر سیاسی غلبہ حاصل کر کے ان کے وسائلِ حیات کا استحصال کر سکیں، ان کو مستشرقین کہا جاتا ہے اور جس تحریک سے وہ لوگ منسلک ہیں وہ تحریک استشراق کہلاتی ہے۔ [ضیاء النبی، ج: 6، ص: 123]

عموماً تحریک استشراق کو عیسائیوں کی ایک تنظیم خیال کیا جاتا ہے، استشراق کے ذکر کے وقت یہودیت کی طرف ذہن بہت کم مائل ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ استشراق کی تحریک میں جس طرح عیسائی سرگرمِ عمل نظر آتے ہیں، اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ یہودی سرگرمِ عمل ہیں۔ گولڈ زیہر (Goldziher) مشہور مستشرق ہے، دوسرے مستشرق تحریک استشراق کے لیے اس کی تعریف کرتے ہیں اور اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اس نے عربی اسلامی علوم کے مطالعے کو ایک نیا رنگ عطا کیا ہے۔ یہ شخص ایک یہودی تھا۔ تحریک استشراق میں بے شمار ایسے لوگ موجود ہیں جو دراصل یہودی تھے لیکن ان کو شہرت ایک یہودی عالم کے طور پر نہیں بلکہ صرف ایک مستشرق کے طور پر حاصل ہوئی۔ علی بن ابراہیم النملہ نے اپنی کتاب "الِاسْتِشْرَاقُ فِي الْأَدَبِيَّاتِ الْعَرَبِيَّةِ" (صفحہ 93 تا 100) میں ایسے 42 مستشرقین کے نام گنوائے ہیں جو یہودی تھے۔ لیکن انہوں نے یہودی مستشرق کے طور پر نہیں بلکہ یورپ یا اپنے متعلقہ ممالک کے حوالے سے اپنے آپ کو متعارف کرایا۔ ان لوگوں میں گولڈ زیہر کے علاوہ غرونباوم، سلیمان مونگ، ایڈورڈ غلامز، اے، ای، فنسک، ڈیوڈ سموئیل، مارگولیتھ، اے، شادہ، کارل بروکلمان، لیفی بروفنال، لوئی ماسینون، جوزف شاخت، کسم روڈنسن اور برنارڈ لیوس جیسے لوگ شامل ہیں جنہوں نے تحریک استشراق کے کام کو آگے بڑھانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔

مذکورہ تفصیلات سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ یہودی بھی استشراق کی تحریک میں عیسائیوں کی طرح پورے زور و شور سے شریک تھے، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ تحریک استشراق کے مقاصد بعینہ وہی تھے جو یہودیوں کے تھے۔ مستشرقین مسلمانوں کا رشتہ اپنے دین سے توڑنا چاہتے تھے اور ان کا یہ مقصد یہودیوں کے دل کی آواز تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہودیوں کی تاریخ اسلام دشمنی سے بھری پڑی ہے۔ ان کی اسلام دشمنی کو ربِ قدوس نے خود ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:

لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا [سورۃ المائدۃ: 82]

اس لیے جب یہودیوں کو مسلمانوں کی مخالفت کے لیے ایسا پلیٹ فارم ملا جو ان کے دشمن عیسائیوں نے قائم کیا تھا تو انہوں نے اسلام کے شجرۂ طیبہ کی بیخ کنی کے لیے اپنے دشمنوں سے تعاون کرنے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ یہ سچ ہے کہ:

الْكُفْرُ مِلَّةٌ وَاحِدَةٌ [ضیاء النبی، ج: 7، ص: 170]

یعنی سارا عالمِ کفر ایک ہی ملت ہے۔ ان میں باہم کتنی دشمنیاں ہوں، انہوں نے ایک دوسرے پر کتنے مظالم کیے ہوں، لیکن جب اسلام کی باری آتی ہے تو وہ سارے ایک جان ہو جاتے ہیں۔

2. فرقانِ الحق

مسلمانوں کی فکر اور تہذیب کی بنیاد، قرآنِ مجید فرقانِ حمید کو صفحۂ ہستی سے مٹانے اور اس کے مقابل اکیسویں صدی کا نیا قرآن لانے کا منصوبہ بھی اہلِ یہود کی حکمتِ عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کے دو مصنفین میں سے ایک کا کوڈ نام "الصافی" اور دوسرے کا نام "مہدی" ہے۔ مہدی اصلاً عربی ہے اور فلسطین میں پیدا ہوا، اس کا اصل نام ڈانٹ انیس سورس (Anis Shorrosh) ہے۔ اس نے ایک کتاب "Islam Revealed: A Christian Arabic's View of Islam" تصنیف کی جس میں اس نے لکھا ہے: "اسلام دنیا میں ہر پانچویں آدمی کا قاتل ہے، اسلام دہشت گردوں کا دین ہے۔ یہ لڑائی اور خون خرابے کی دعوت دیتا ہے، اسلام کا ماخذ قرآن ہے۔ تمام مسلمانوں کو اپنا قرآن چھوڑ کر میری کتاب فرقان الحق (The True Quran) کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔" انیس سورس نے 11 ستمبر 2001ء کے واقعہ کے دو روز بعد امریکن یونیورسٹی ہوسٹن میں اسلام کے متعلق لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ "دہشت گردی کا بنیادی منبع قرآن ہے، لہذا دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے قرآن کا خاتمہ ضروری ہے۔" اپنے مکروہ عزائم کو روبہ کار لانے کے لیے ان کفار کا سب سے اہم اور بڑا ہدف شعبہ تعلیم ہے۔ تعلیم خواہ قدیمی مدارس میں ہو رہی ہو یا تعلیمِ جدید درسگاہوں میں، ان سب کے نصاب کو بدلوانے کا پروگرام ہے۔ پاکستان میں جدید درسگاہوں کا نصاب تو بدل بھی دیا گیا ہے۔ اس بدلے ہوئے نصاب میں جہاں اللہ تعالیٰ کی ذات، انبیاء علیہم السلام اور قرآنِ کریم پر ایمان کو متزلزل کیا گیا ہے، وہاں صحابہ کرام اور صحابیات پر اعتقاد کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ "فرقان الحق" یعنی The True Quran نامی یہ کتاب 336 صفحات اور 77 سورتوں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کو دو امریکی اشاعتی اداروں "امیگا 2001ء" اور "وائن پریس" نے شائع کیا ہے۔ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہوگی اور ابھی صرف ایک جلد شائع ہوئی ہے۔ کتاب میں جہاد کو حرام اور وحدانیت کے تصور پر زبردست حملہ کیا گیا ہے۔ ہر سورت کی ابتداء "بسم اللہ الرحمن الرحیم" کی بجائے "باپ، بیٹا اور روح القدس" سے کی گئی ہے۔ اس کا مصنف الصافی لکھتا ہے:

  1. حالاتِ حاضرہ نے واضح کر دیا ہے اور اب وہ وقت بھی آ گیا ہے کہ جس میں مسلمانوں کے قرآن کے خلاف کھلے عام جنگ لڑی جائے اور اس جنگ میں یہودی و عیسائی کا ہر بچہ، نوجوان، بوڑھا، عورت اور مرد شریک ہوں۔

  2. سب سے پہلے اسلامی ممالک کا کئی مہینوں تک محاصرہ کیا جائے یہاں تک کہ وہ اپنے آپ کو ہمارے حوالے کرنے کا اعلان کریں اور ہمارے وہ تمام مطالبات پورے کر دیں جو ہم نے فرقان الحق کتاب میں بیان کیے ہیں۔ [بڑے عذاب کا ڈر، ص: 89]

قارئینِ کرام! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہودی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کس قدر مکروہ عزائم رکھتے ہیں۔ اور مختلف سازشوں کا سہارا لے کر اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ راقم الحروف اب آپ کی توجہ یہودیوں کی سب سے بڑی اور خطرناک سازش کی طرف مبذول کرواتا ہے، اور یہ سازش آج کے دور کی نہیں بلکہ اسلام کے ابتدائی دور میں کی گئی تھی۔ اس سازش کا ماسٹر مائنڈ عبداللہ بن سبا یہودی تھا۔ محققِ اسلام، شیخ الحدیث، علامہ محمد علی نقشبندی علیہ الرحمہ عبداللہ بن سبا کا تعارف یوں کرتے ہیں: "عبداللہ بن سبا علماء یہود میں سے ایک سربر آوردہ عالم تھا اور جب سے سیدنا حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کو مدینہ منورہ سے نکال کر فلسطین کی طرف دھکیل دیا تھا، اس وقت سے اس کے دل میں مسلمانوں سے انتقام لینے کی آگ سلگ رہی تھی۔ وہ اندر ہی اندر ایسی ترکیب سوچتا رہتا تھا جن کے ذریعہ مسلمانوں سے بغض و عداوت کی وجہ سے کوئی نہ کوئی مصیبت کھڑی کی جا سکے۔ ان ترکیبوں میں سے ایک ترکیب اسے یہ سوجھی کہ مسلمان ہو کر پھر ان کے راز و نیاز سے واقفیت حاصل کی جائے، اور کچھ ساتھی ڈھونڈے جائیں تاکہ مستقل گروہ بن جانے پر اسلام کے خلاف آواز بلند کی جائے۔"

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!