| عنوان: | میاں بیوی کا حَسین رشتہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد عارف رضا قادری امجدی |
| پیش کش: | جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی |
اسلام میں میاں بیوی کا تعلق
اسلام میں میاں بیوی کا تعلق محبت، رحمت، عزت اور باہمی اعتماد پر قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾ [سورۃ الروم: 21]
ترجمہ: اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا فرمائی۔
ایک نیک شوہر اپنی بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک، نرمی، شفقت اور عزت سے پیش آتا ہے، اور نیک بیوی اپنے شوہر کی جائز باتوں میں اطاعت، ادب اور وفاداری اختیار کرتی ہے۔ یہی اسلامی گھرانے کی بنیاد ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: "تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔" [جامع الترمذی]
دو عالم کے مالک و مختار ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: شیطان اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے، پھر اپنے لشکر بھیجتا ہے، ان لشکروں میں ابلیس کے زیادہ قریب اُس کا دَرَجہ ہوتا ہے جو سب سے زیادہ فتنے باز ہوتا ہے۔ اس کے لشکر میں سے ایک آکر کہتا ہے: میں نے ایسا ایسا کیا ہے تو شیطان کہتا ہے: ”تُونے کچھ بھی نہیں کیا۔“ پھر ایک اور لشکر آتا ہے اور کہتا ہے: ”میں نے ایک آدمی کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جُدائی نہیں ڈال دی۔“ یہ سن کر ابلیس اسے اپنے قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے: ”تُو کتنا اچھا ہے!“ اور اپنے ساتھ چمٹا لیتا ہے۔ [صحیح مسلم، حدیث: 7106]
طلاق اکثر بہت سارے فسادات کی جڑ بن جاتی ہے۔ اس لیے ابلیس اس پر خوش ہوتا ہے، جو شخص ناحق زوجین میں جدائی کی کوشش کرے وہ ابلیس کی طرح مجرم ہے۔ [مراٰۃ المناجیح، ج 1، ص 85 ملتقطاً]
حلال مگر ناپسندیدہ
رسولِ کریم، رءوفٌ رَّحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے: ”اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَى اللَّهِ تَعَالٰى اَلطَّلَاقُ“ یعنی حلال چیزوں میں خدا کے نزدیک زیادہ نا پسندیدہ طلاق ہے۔ [سنن ابی داؤد، ج 2، ص 370، حدیث: 2178]
علّامہ طِیْبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: طلاق مشروع ہے یعنی دیں گے تو ہو جائے گی مگر اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے جیسا کہ بغیر عذرِ شرعی کے فرض نماز گھر میں پڑھنا، غصب شدہ زمین میں نماز پڑھنا (کہ ان دونوں صورتوں میں نماز ہو جائے گی مگر اس طرح کرنے والا گناہ گار ہوگا)، اسی طرح جمعہ کے دن اذانِ جمعہ کے بعد خرید و فروخت کرنا (کہ یہ خرید و فروخت ہو جائے گی مگر کرنے والے گناہ گار ہوں گے)۔ [شرح الطیبی، ج 6، ص 364]
فتاویٰ رضویہ میں ہے: بلا وجہِ شرعی طلاق دینا اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند و مبغوض و مکروہ ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج 12، ص 323]
طلاقیں کیوں ہوتی ہیں؟
طلاق کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں، جن میں سے ایک وجہ کسی فرد کا میاں بیوی کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانا بھی ہے جس کی وجہ سے ان کے درمیان جھگڑے ہونے لگتے ہیں پھر بعض اوقات نوبت طلاق تک جا پہنچتی ہے۔
نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ معظم ہے: ”جو کسی شخص کی بیوی کو اس کے خلاف بھڑکائے وہ ہم میں سے نہیں۔“ [مسند احمد، ج 9، ص 16، حدیث: 23041]
حکیمُ الامت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: خاوند بیوی میں فساد ڈالنے کی بہت صورتیں ہیں، عورت سے خاوند کی برائیاں بیان کر کے دوسرے مردوں کی خوبیاں ظاہر کرے کیونکہ عورت کا دل کچی شیشی کی طرح کمزور ہوتا ہے یا ان میں اختلاف ڈالنے کے لیے جادو تعویذ گنڈے کرنا، یہ سب حرام ہے۔ [مراٰۃ المناجیح، ج 5، ص 101]
﴿وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِۚ﴾ [سورۃ النساء: 19]
ترجمۂ کنزالایمان: اور ان (یعنی عورتوں) سے اچھا برتاؤ کرو۔
حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: تم میں اچھے لوگ وہ ہیں جو عورتوں سے اچھی طرح پیش آئیں۔ [سنن ابن ماجہ، ج 2، ص 478، حدیث: 1978]
میاں بیوی محتاط رہیں
میاں بیوی کو چاہیے کہ کسی کی باتوں میں نہ آئیں، گھر کا کوئی فرد ہو یا باہر کا! جب بھی بیوی کے سامنے شوہر کی برائیاں یا شوہر کے سامنے بیوی کی برائیاں کرنے لگیں، انہیں چاہیے کہ اسے حکمتِ عملی سے روک دیں کیونکہ جس طرح غیبت کرنا گناہ ہے اسی طرح سننا بھی گناہ ہے۔ اسی طرح لگائی بجھائی کرنے والوں اور چغل خوروں سے بھی بچیں کہ یہ محبتوں کے چور ہوتے ہیں، ایسوں کو ہرگز اپنا ہمدرد نہ جانیں اور جس کے بارے میں آپ کو منفی (Negative) بات پہنچائی گئی اس پر بلا ثبوتِ شرعی یقین نہ کریں اور اس کے بارے میں اپنے دل میں میل نہ لائیں۔
حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن شہاب زُہری رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ بادشاہ سلیمان بن عبدالملک کے پاس تشریف فرما تھے کہ ایک شخص آیا، بادشاہ نے قدرے ناگواری کے ساتھ اُس سے کہا: ”مجھے پتا چلا ہے تم نے میرے خلاف فُلاں فُلاں بات کی ہے!“ اُس نے جواب دیا: میں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا۔ بادشاہ نے اصرار کرتے ہوئے کہا: جس نے مجھے بتایا ہے، وہ سچا آدمی ہے۔ تو حضرتِ سیِّدُنا امام زُہری رحمۃ اللہ علیہ نے بادشاہ کو مخاطب کر کے فرمایا: آپ کو جس نے اس طرح کی خبر دی وہ تو چغلی کھانے والا ہوا اور چغل خور کبھی سچا ہو نہیں سکتا! یہ سُن کر بادشاہ سنبھل گیا اور کہنے لگا: حضور! آپ نے بالکل بجا فرمایا۔ پھر اُس شخص سے کہا: ”اِذْھَبْ بِسَلَامٍ“ یعنی تم سلامتی کے ساتھ لوٹ جاؤ۔ [احیاء العلوم، ج 3، ص 193]
جب شوہر اپنی بیوی کے حقوق ادا کرتا ہے، اس کی عزت کرتا ہے، اس کے جذبات کا خیال رکھتا ہے اور محبت سے پیش آتا ہے، تو عموماً بیوی بھی محبت، وفاداری اور خدمت کے جذبے سے اس کا ساتھ دیتی ہے۔ اسی طرح جب بیوی شوہر کے جائز حقوق ادا کرتی ہے تو گھر سکون، محبت اور برکت کا گہوارہ بن جاتا ہے۔
بیوی کو خوش رکھنا "زن مریدی" نہیں بلکہ حسنِ معاشرت ہے، بشرطیکہ شریعت کی حدود قائم رہیں۔ اسی طرح شوہر کی اطاعت بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے بغیر ہونی چاہیے۔
آئیے! ہم اپنے گھروں کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق محبت، رحم، عفو، صبر اور باہمی احترام کا نمونہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمان میاں بیوی کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے، محبت و الفت کے ساتھ زندگی گزارنے اور دنیا و آخرت کی کامیابیاں نصیب فرمائے۔ آمین بجاہِ خاتمِ النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔
