Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمدرضا اور علم سیرت و شمائل نبویہ (قسط سوم)

امام احمدرضا اور علم سیرت و شمائل نبویہ (قسط سوم)
عنوان: امام احمدرضا اور علم سیرت و شمائل نبویہ (قسط سوم)
تحریر: مولانا محمد اظہار النبی حسینی
پیش کش: آفرین فاطمہ رضویہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد


(١١) منیۃ اللبیب ان التشریع بید الحبیب (١٣١١ھ)

اپنے موضوع پر نہایت نفیس ابحاث، سینکڑوں احادیث اور امام الوہابیہ کے ردِ بلیغ پر مشتمل اس رسالے کی تعریف اعلیٰ حضرت کے الفاظ میں پڑھیے، فرماتے ہیں:

"الحمدللہ! یہ تذلیلِ جلیل اپنے باب میں فردِ کامل ہوئی، احادیثِ تحریمِ مدینہ طیبہ بھی اسی باب سے تھیں کہ امام الوہابیہ کے اس خاص حکمِ شرک کے سبب جدا شمار میں رہیں، اگر کوئی چاہے انہیں اور اس بیانِ تذلیل کو ملا کر احکامِ شرعیہ کے بارے میں سیدِ عالم ﷺ کے اقتدار و اختیار کا ظاہر کرنے والا ایک مستقل رسالہ بنائے اور بنام "منیۃ اللبیب ان التشریع بید الحبیب" ١٣١١ھ موسم ٹھہرائے۔" (ایضا، ص: ٥٦٦)

(١٢) طیب المنیہ فی وصول الحبیب الی العرش و الرویۃ معروف بہ منبۂ المنبۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرویۃ (١٣٢٠ھ)

اس رسالے میں کئی مضامین زیرِ بحث آئے ہیں: (١) معراج جسمانی تھا یا روحانی؟ (٢) دیدارِ الہی آنکھوں سے کیا یا نہیں؟ (٣) احادیثِ مرسل و معضل کے قبول و عدم قبول کا حکم۔

شبِ معراج حضور ﷺ کا دیدارِ الہی کی نعمت سے شرف یاب ہونے کا ثبوت احادیثِ مرفوعہ، آثارِ صحابہ، اخبارِ تابعین، اور مابعد تابعین ائمہ و علماء کے اقوال سے پیش کیا گیا ہے۔ پہلے اور دوسرے مسئلے کا بھی مختصر مگر مدلل بیان ہے۔

(١٣) جمال التاج فی بیان الصلوٰۃ قبل المعراج (١٣١٦ھ)

جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ اس رسالے میں معراجِ رسول ﷺ سے قبل نماز کا بیان ہے، اس میں قبلِ معراج نماز کی کیفیت کا تفصیلی اور واقعۂ معراج کا ضمنی بیان ہے، اس میں موجود سوال اور جواب کی ایک جھلک سطورِ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:

سوال: "حضرت رسول اللہ ﷺ بعدِ نبوت، قبلِ شبِ معراج جو دو وقتوں میں نماز پڑھتے تھے وہ کس طور پر ادا فرماتے تھے؟ بینوا توجروا۔"

جواب میں فرماتے ہیں: "پیش از اسراء دو وقت، یعنی قبلِ طلوعِ شمس و غروب کے نمازیں مقرر ہونے میں علماء کو خلاف ہے اور اصح یہ ہے کہ اس سے پہلے صرف قیامِ لیل کی فرضیت باقی پر کوئی دلیلِ صریح قائم نہیں۔۔۔۔۔

تاہم اس قدر یقیناً معلوم کہ معراجِ مبارک سے پہلے حضور اقدس ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نمازیں پڑھتے، نمازِ شب کی فرضیت تو خود سورۂ مزمل شریف سے ثابت اور اس کے سوا اور اوقات میں بھی نماز پڑھنا وارد، عام ازیں کہ فرض ہو یا نفل۔

بالجملہ یہ سوال ضرور متوجہ ہے کہ معراج سے پہلے حضور اکرم ﷺ نماز کس طرح پڑھتے تھے، اقوال، ملاحظۂ آیات و احادیث سے ظاہر کہ وہ نماز اسی انداز کی تھی؛ اس میں طہارتِ ثوب بھی تھی۔۔۔ وضو بھی تھا۔۔۔ استقبالِ قبلہ بھی تھا۔۔۔ تکبیرِ تحریمہ بھی تھی۔۔۔ قیام بھی تھا۔۔۔ قرأت بھی تھی۔۔۔ رکوع بھی تھا۔۔۔ سجود بھی تھا۔۔۔ جماعت بھی تھی۔۔۔ جہر بھی تھا۔" (ایضا، ج: ٥، ص: ٥٧)

(١٤) صلات الصفا فی نور المصطفیٰ (١٣٢٩ھ)

اس رسالے میں حضور پاک ﷺ کے نور ہونے کا ثبوت اور نورِ خدا ہونے کا معنی بیان کیا گیا ہے، نیز نورِ خدا ہونے پر اعتراضات کے شافی جوابات عام فہم مثالوں کی روشنی میں دیے گئے ہیں۔

(١٥) نطق الھلال بأرخ و لاد الحبیب و الوصال (١٣١٧ھ)

یہ رسالہ دو فصلوں پر مشتمل ہے:

پہلی فصل میں: استقرارِ نطفۂ زکیہ کے ماہ و تاریخ، حمل شریف کی مدت، آپ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کے دن اور قمری و شمسی ماہ و تاریخ کا مدلل بیان ہے۔

دوسری فصل میں: حضور ﷺ کی تاریخِ وفات کی بہت نفیس تحقیق ہے، ہیئت و زیج کی روشنی میں بھی صحیح تاریخِ وفات بیان کی گئی ہے اور آخر میں علامہ شبلی نعمانی کا رد بھی ہے۔

(١٦) المیلاد النبویہ فی میلاد الرضویۃ

یہ رسالہ درحقیقت بارہ ربیع الأول شریف کی شبِ میلادِ مبارک کے موقع پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کے ایک مدلل اور ایمان افروز خطاب کا مجموعہ ہے۔ اس خطاب کو سپردِ قرطاس کرنے کے بعد امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کو سنا کر باقاعدہ تصدیق کروائی گئی تھی، یہ خطاب 'حیاتِ اعلیٰ حضرت' (مصنفہ: ملک العلماء علامہ سید ظفر الدین بہاری) میں شامل ہے۔ (سرورق: المیلاد الرضویۃ)

(١٧) عروس الاسماء الحسنیٰ فیما لنبینا من الاسماء الحسنیٰ (١٣٠٦ھ)

یہ رسالہ ١٣٠٦ھ میں معرضِ وجود میں آیا، اردو زبان میں ہے، اور اس میں حضور ﷺ کے ایک ہزار سے زائد اسمائے گرامی کا بیان ہے۔ (تصانیفِ امام احمد رضا خاں، ص: ٦٣)

(١٨) الموھبۃ الجدیدۃ فی وجود الحبیب بمواضع عدیدۃ (١٣٢٠ھ)

جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ اس رسالے میں نبی کریم ﷺ کا بیک وقت متعدد مقامات میں حاضر ہونے کا بیان ہے، یہ رسالہ ١٣٢٠ھ میں لکھا گیا، قریب الذکر دونوں رسالے غیر مطبوعہ ہیں۔ (ایضا، ص: ٧٣)

(١٩) حاشیہ الخصائص الکبریٰ

(٢٠) حاشیۃ شرح شفا ملا علی قاری

(٢١) حاشیہ زرقانی شرح مواھب

اعلیٰ حضرت نے کثیر عربی کتابوں پر تعلیقات و حواشی تحریر فرمائے ہیں، یہ حواشی انہی میں سے ہیں، ان پر مزید گفتگو نہیں کی جا سکتی اس لیے کہ اب تک یہ غیر مطبوعہ ہیں، البتہ تینوں میں اول الذکر بہت جلد صد سالہ عرسِ رضوی کے موقع پر طبع ہو کر منظرِ عام پر آنے والا ہے۔


امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے کتب و فتاویٰ میں بکھرے واقعاتِ سیرت

سیرت کے مختلف موضوعات پر امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کی مستقل تصانیف اور اس کے مختصر تعارف کے بعد اب ہم آپ کے کتب و رسائل اور فتاویٰ میں مختلف مقامات پر بکھرے ہوئے چند مشہور واقعاتِ سیرتِ رسول اللہ ﷺ اور اس کے متعلق تحقیق کی چند مثالیں پیش کرتے ہیں۔

اگلے انبیاء علیہم السلام کا حضور ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی بشارت دینا:

نبی آخرالزماں ﷺ کی ولادت کی بشارت بھی سیرتِ رسول ﷺ کا ایک اہم موضوع ہے، کثیر سیرت نگار علماء کرام نے اپنی کتابوں میں ان بشارتوں کو جمع فرمایا، جب ہم کتبِ اعلیٰ حضرت کی ورق گردانی کرتے ہیں، تو ہم اس اہم موضوع پر بھی کثیر مواد پاتے ہیں جیسا کہ "جزاء اللہ عدوہ بابائہ ختم النبوۃ" میں ہے:

حضرت آدم اور حضور خاتم النبیین ﷺ

"طبرانی معجم کبیر میں اور حاکم بافادۂ تصحیح اور بیہقی دلائل النبوۃ میں امیر المومنین عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: جب آدم علیہ السّلام سے لغزش ہوئی عرض کی: یا رب اسئلک بحق محمد ان غفرت لی (الہی! میں تجھے محمد ﷺ کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میری مغفرت فرما) ارشاد ہوا: اے آدم! تو نے محمد (ﷺ) کو کیوں کر پہچانا حالانکہ میں نے ابھی اسے پیدا نہیں کیا؟ عرض کی: الہی! جب تو نے مجھے اپنی قدرت سے بنایا اور مجھ میں اپنی روح پھونکی میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو عرش کے پایوں پر لکھا پایا "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ" تو میں نے جانا تو نے اسی کا نام اپنے نامِ پاک کے ساتھ ملایا ہوگا جو تجھے جہاں سے زیادہ پیارا ہے۔ فرمایا: صدقت یا آدم انہ لا حب الخلق الی و اذا سالتنی بحقہ فقد غفرت لک ولو لا محمد ما خلقتک، زاد الطبرانی و ہو اخر الانبیاء من ذریتک۔

اے آدم! تو نے سچ کہا بیشک وہ مجھے تمام جہان سے زیادہ پیارا ہے، اور جب تو نے مجھے اس کا واسطہ دے کر سوال کیا تو میں نے تیرے لیے مغفرت فرمائی، اگر محمد ﷺ نہ ہوتا تو میں تجھے نہ بناتا، طبرانی نے یہ اضافہ کیا: وہ تیری اولاد میں سب سے پچھلا نبی ہے ﷺ۔"

"ابن عساکر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی: رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ: لما خلق اللہ آدم اخبرہ ببنیہ فجعل یری فضائل بعضہم علی بعض فرای نورا ساطعا فی اسفلہم، فقال یارب من ہذا قال ہذا ابنک احمد و ہو الاول و ہو الاخر و ہو اول شافع و اول مشفع۔

ترجمہ: جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السّلام کو پیدا کیا انہیں ان کے بیٹوں پر مطلع فرمایا، وہ ان میں ایک کی دوسرے پر فضیلتیں دیکھا کیے تو ان سب کے آخر میں بلند و روشن نور دیکھا، عرض کی، الہی! یہ کون ہے؟ فرمایا: یہ تیرا بیٹا احمد ہے، یہی اول ہے، اور یہی آخر ہے، اور یہی سب سے پیلا شفیع، اور یہی سب سے پہلے شفاعت مانا گیا ﷺ۔"

حضرت ابراہیم اور حضور ﷺ

"ابن سعد عامر شعبی سے راوی، سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحیفوں میں ارشاد ہوا؛ انہ کائن من ولدک شعوب و شعوب حتی یاتی النبی الامی الذی یکون خاتم الانبیاء۔

ترجمہ: بیشک تیری اولاد میں قبائل در قبائل ہوں گے یہاں تک کہ نبی امی خاتم الانبیاء جلوہ فرما ہوں ﷺ۔"

حضرت یعقوب اور خاتم الانبیاء

"محمد بن کعب قرظی سے راوی: اوحی اللہ تعالی الی یعقوب انی ابعث من ذریتک ملوکا او انبیاء حتی ابعث النبی الحرمی الذی تبنی امتہ ہیکل بیت المقدس، و ہو خاتم الانبیاء، و اسمہ احمد۔

ترجمہ: اللہ نے یعقوب علیہ السّلام کو وحی بھیجی میں تیری اولاد سے سلاطین و انبیاء بھیجتا رہا کروں گا، یہاں تک کہ ارسال فرماؤں، اس حرمِ محترم والے نبی ﷺ کو جس کی امت بیت المقدس کی بلند تعمیر بنائے گی، اور اس کا نام احمد ﷺ ہے۔"

اشعیاء اور احمدِ مجتبیٰ ﷺ

"ابن ابی حاتم وہب بن منبہ سے راوی: قال اوحی اللہ تعالی الی اشعیاء انی باعث نبیا امیا افتح بہ آذانا صما و قلوبا غلفا واعینا عمیا، مولدہ بمکۃ و مھاجرہ بطیبۃ و ملکہ بالشام و ساق الحدیث فیہ (الکثیر الطیب من فضائلہ و شمائلہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم الی ان قال ولاجعلن امتہ خیر امۃ اخرجت للناس) و ذکر صفاتہم الی ان قال (اختم بکتابہم الکتب بشریعتہم الشرائع و بدینہم الادیان) الحدیث الجلیل الجمیل۔

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے اشعیاء علیہ السّلام پر وحی بھیجی میں نبی امی کو بھیجنے والا ہوں، اس کے سبب بہرے کان اور غافل دل اور اندھی آنکھیں کھول دوں گا، اس کی پیدائش مکے میں اور ہجرت گاہ مدینہ اور اس کا تخت گاہ ملکِ شام، میں ضرور اس کی امت کو سب امتوں سے جو لوگوں کے لیے ظاہر کی گئیں بہتر و افضل کروں گا، میں ان کی کتاب پر کتابوں کو ختم فرماؤں گا، اور ان کی شریعت پر شریعتوں اور ان کے دین پر سب دینوں کو تمام کروں گا۔" (ایضا، ج: ١٥، ص: ٦٣٣ تا ٦٣٥)

بشارتِ میلادِ رسول ﷺ

"ابو نعیم بطریق شہر بن حوشب اور ابن عساکر بطریق مسیب بن رافع وغیرہ حضرت کعب احبار سے مروی، انہوں نے فرمایا: میرے باپ اعلم علمائے توراۃ تھے، اللہ تعالیٰ نے جو کچھ موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اتارا اس کا علم ان کے برابر کسی کو نہ تھا، وہ اپنے علم سے کوئی شئے مجھ سے نہ چھپاتے، جب مرنے لگے مجھے بلا کر کہا: اے میرے بیٹے! میں نے اپنے علم سے کوئی چیز تجھ سے نہ چھپائی مگر وہاں دو ورق رکھے ہیں، ان میں ایک نبی کا نام ہے، جس کی بعثت کا زمانہ قریب آ پہنچا میں نے اس اندیشے سے تجھے ان دو ورقوں کی خبر نہ دی کہ شاید کوئی جھوٹا مدعی نکل کھڑا ہو، تو اس کی پیروی کر لے، یہ طاق تیرے سامنے ہے میں نے اس میں وہ اوراق رکھ کر اوپر سے مٹی لگا دی ہے، ابھی ان سے تعرض نہ کرنا، نہ انہیں دیکھنا جب وہ نبی جلوہ فرما ہوں اگر اللہ تعالیٰ تیرا بھلا چاہے گا تو تو آپ ہی اس کا پیرو ہو جائے گا، یہ کہہ کر وہ مر گئے، ہم ان کے دفن سے فارغ ہوئے مجھے ان دونوں ورقوں کے دیکھنے کا شوق ہر چیز سے زیادہ تھا، میں نے طاق کھولا ورق نکالے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان میں لکھا ہے:

محمد رسول اللہ خاتم النبیین لا نبی بعدی مولدہ بمکۃ و مھاجرہ بطیبۃ (الحدیث) محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، سب انبیاء کے خاتم، ان کے بعد کوئی نبی نہیں، ان کی پیدائش مکے میں اور ہجرت مدینے کو ﷺ۔"

راہب کا استفسار

"بیہقی و طبرانی، ابو نعیم اور خرائطی کتاب الہواتف میں خلیفہ بن عبدہ سے راوی: میں نے محمد بن عدی بن ربیعہ سے پوچھا جاہلیت میں کہ ابھی اسلام نہ آیا تھا تمہارے باپ نے تمہارا نام محمد کیوں کر رکھا، کہا میں نے اپنے باپ سے اس کا سبب پوچھا، جواب دیا کہ بنی تمیم سے ہم چار آدمی سفر کو گئے تھے، ایک میں، ابو سفیان بن مجاشع بن دارم، عمر بن ربیعہ اور اسامہ بن مالک، جب ملکِ شام میں پہنچے ایک تالاب پر اترے جس کے کنارے پیڑ تھے، ایک راہب نے اپنے دیر سے ہمیں جھانکا اور کہا تم کون ہو؟ ہم نے کہا: اولادِ مضر سے کچھ لوگ ہیں، کہا: اما انہ سوف یبعث منکم وشیکاً نبی فسارعوا الیہ و خذوا بحظکم منہ ترشدوا فانہ خاتم النبیین، سنتے ہو عنقریب بہت جلد تم میں سے ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے تم اس کی طرف دوڑنا اور اس کی خدمت و اطاعت سے بہرہ یاب ہونا کہ؛ وہ سب میں پچھلا نبی ہے۔

ہم نے کہا: اس کا نامِ پاک کیا ہوگا، کہا محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، جب ہم اپنے گھروں کو واپس آئے سب کے ایک ایک لڑکا ہوا اس کا نام محمد رکھا، انتہی، واللہ أعلم حیث یجعل رسالتہ۔"

(قسط چہارم جاری ہے...)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!