Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

طلاق اور عصر جدید (قسط: دوم)|مولانا ارشاد عالم نعمانی مصباحی

طلاق اور عصرِ جدید (قسط: دوم)
عنوان: طلاق اور عصرِ جدید (قسط: دوم)
تحریر: مولانا ارشاد عالم نعمانی مصباحی
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

اسلام میں طلاق سے پہلے افہام و تفہیم

اسلام میں طلاق سے پہلے ہر مرد کے اوپر ایسے اقدامات، تدابیر اور حکمتِ عملی کو لازم کیا گیا ہے جو گھریلو معاملات کو سدھارنے میں معاون ہیں۔ ہاں البتہ ان اقدامات کو بروئے کار لانے کے بعد بھی اگر عورت اپنے اندر اصلاح نہیں لاتی اور موافقت کی تمام تدابیر ناکام ہو جاتی ہیں تو اس صورت میں اسلام بوجہ مجبوری شوہر کو خوش اسلوبی کے ساتھ طلاق و علیحدگی کی اجازت دیتا ہے اور ساتھ میں یہ ہدایت بھی دیتا ہے کہ وہ طلاق تدریجاً دے۔ اس میں بھی یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ درمیانِ طلاق بھی موافقت اور مستقل ہمدردی کے جذبے کو بروئے کار رکھا جائے۔ طلاق سے قبل کے اقدامات و ہدایات مندرجہ ذیل ہیں:

  1. اگر کسی شخص کی بیوی نافرمان یا سرکش ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کو پیار و محبت کے ساتھ سمجھائے۔

  2. اگر اس سے بھی اصلاح نہ ہو تو پھر شوہر کو چاہیے کہ وہ اس کا بستر الگ کر دے۔

  3. اگر اس سے بھی وہ اپنا طرزِ عمل نہیں بدلتی تو پھر اسے مار پیٹ کی بھی اجازت دی گئی ہے، لیکن اس سلسلے میں یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ وہ سخت جسمانی سزا نہ دے، بلکہ ہلکی پھلکی۔

ان مرحلہ وار تدابیر کے ذریعہ اگر بیوی راہِ راست پر آ جائے اور میاں کی اطاعت شروع کر دے تو اب شوہر کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ظلم و زیادتی یا پریشان کرنے کی راہ نکالنے کی کوشش نہ کرے اور اللہ کی کبریائی کو نہ بھولے۔ قرآن حکیم میں ان احتیاطی و اصلاحی تدابیر کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:

وَالّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَاهْجُرُوْهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْهُنَّۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِیْلًاؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا [سورۃ النساء: 34]

ترجمہ: ”اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آ جائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو۔“ (کنز الایمان)

  1. کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان ایسی منافرت اور ایک دوسرے سے ایسی شکایات ہوتی ہیں جسے وہ دونوں فرداً فرداً ختم یا حل نہیں کر سکتے تو اس صورت میں دونوں کے خاندان میں سے ایک ایک سنجیدہ اور معاملہ فہم دونوں کے معاملہ کا تصفیہ و اصلاح کریں۔

اس آخری راستہ کی جانب رہنمائی کرتے ہوئے قرآن کا ارشاد ہے:

وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَاۚ اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَاؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا [سورۃ النساء: 35]

ترجمہ: ”اور اگر تم کو میاں بیوی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے۔ یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں میل کر دے گا، بے شک اللہ جاننے والا، خبردار ہے۔“

یہ وہ احکام و ہدایات ہیں جو مرد کے اوپر بیوی کی اصلاح کے لیے عائد ہیں۔ اب ذیل میں ان ہدایات کو پڑھیے جو بددماغ شوہر کے لیے بیوی کی جانب سے اصلاحی تدبیر کے طور پر متعلق ہیں۔

جس طرح شوہر کو اسلام نے بیوی سے نباہ نہ ہونے کی حالت میں طلاق کا حق دیا ہے اسی طرح بیوی کو شوہر سے نباہ نہ ہونے کی حالت میں خلع کا حق بھی دیا ہے اور جس طرح شوہر کو تاکید کی گئی ہے کہ بہر صورت نباہ اور موافقت کی راہ نکالے اور اتفاق و محبت کی حتی الامکان کوشش کرے، اسی طرح بیوی کو بھی تاکید کی گئی ہے کہ وہ چھوٹی سی چھوٹی بات پر طلاق لینے کی ضد اور فسخِ نکاح کی جانب پیش قدمی نہ کرے، بلکہ شوہر کے بے جا و نامناسب رویہ پر انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے اور حکمت و دانائی کے ساتھ شوہر کی بے رخی اور سرکشی کے اسباب معلوم کرنے کی کوشش کرے اور حتیٰ المقدور ان اسباب کی تلافی کر کے شوہر کا دل جیتنے کی کوشش کرے، یہاں تک کہ گھر بسانے کے لیے عورت کو اپنے حقوق میں کچھ کمی کرنی پڑے تو اس سے بھی گریز نہ کرے۔ قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے:

وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ۚ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ [سورۃ النساء: 128]

ترجمہ: اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ کرے تو ان پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کر لیں اور صلح خوب (بہتر) ہے۔

یہ ہیں اسلام کے وہ احکام، جو اس بات کے واضح ثبوت ہیں کہ وہ آخری حد تک خاندانی نظام کو تحفظ فراہم کرتا ہے، جن پہ عمل پیرا ہونے سے گھریلو اور خانگی زندگی پُرسکون، خوشگوار اور راحت آمیز بن سکتی ہے، اور معاشرہ و سماج امن و سکون کی آماجگاہ نظر آئے گا۔

اسلام کا طریقۂ طلاق

اس سلسلے میں پہلا حکم یہ ہے کہ شوہر بیوی کو دورانِ حیض طلاق نہ دے بلکہ حالتِ طہر (پاکی) میں دے اور وہ بھی ایک طلاق دے Centered۔ طہر کی شرط اس لیے ہے کہ اس حالت میں شوہر و بیوی کے تعلقات و قربت استوار رہتے ہیں۔ لہٰذا سنجیدگی کے طور پر طلاق اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ حیض میں یہ صورت نہیں پائی جاتی کیوں کہ حیض ایک بیماری کی کیفیت ہوتی ہے جس میں شوہر و بیوی کے درمیان قدرتی طور پر کچھ دوریاں ہو جاتی ہیں، اور اس حالت میں تعلق نہ ہونے سے بیوی کے اندر غصہ، جھنجھلاہٹ اور ردِ عمل کی کیفیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے دورانِ حیض طلاق دینے پر ممانعت آئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جذبات کی رو میں اگر کوئی شخص حیض کی حالت میں بھی اپنی بیوی کو طلاق دے تو واقع ہو جائے گی۔

اس کے بعد بصورتِ عدت تین ماہ کی مدت رکھی گئی ہے تاکہ شوہر خوب اچھی طرح غور کرے کہ اگر عجلت، غصہ، یا کسی عارضی سبب کی وجہ سے اس نے طلاق دی ہے تو وہ رجوع کر کے اس کی تلافی کرے۔ قرآن کریم میں ہے:

وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ ۚ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوا ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نفْسَهُ [سورۃ البقرۃ: 231]

ترجمہ: اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی عدت پوری ہونے لگے تو بھلائی کے ساتھ روک لو یا نکونی (حسن سلوک) کے ساتھ چھوڑ دو۔ انہیں نقصان پہنچانے کے ارادے سے نہ روکو اور جو ایسا کرے گا وہ حقیقت میں اپنی جانوں پر ظلم کرے گا۔

اگر ایک طلاق واقع ہو جانے کے باوجود میاں بیوی کی حیثیت سے دونوں رہنے پر آمادہ نظر نہ آئیں، تو اسلام شوہر کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ اگلے طہر میں دوسری طلاق دے اور یہ طلاق بھی رجعی ہوگی، یعنی عدت کے درمیان شوہر رجوع کر سکتا ہے، لیکن اگر عدت گزر جائے تو یہ طلاق بائن ہوگی، اب ان کے درمیان علیحدگی ہو جائے گی، اور اس کی بیوی اس پر حرام ہو جائے گی۔ اگر اب وہ اس کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے تو اب اسے دوبارہ نئے مہر کے ساتھ نکاح کرنا پڑے گا۔

قرآن کریم کا ارشاد ہے:

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ [سورۃ البقرۃ: 229]

یہ طلاق دو بار تک ہے۔ پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکونی (حسن سلوک) کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔

اگر دو طلاق کے بعد پھر وہ دوبارہ بعدِ نکاح رہنے لگے، لیکن پھر حالات کی ستم ظریفی سے دونوں میں نباہ نہ ہو سکے تو اسلام مرد کو تلقین کرتا ہے کہ وہ خوب سوچ سمجھ کر اور غور و فکر کے بعد تیسری طلاق دے۔ ایسا نہ ہو کہ تیسری طلاق دے دے اور سوائے پچھتاوے، شرمندگی اور جھنجھلاہٹ کے کچھ بھی ہاتھ نہ آئے۔ اس کے باوجود کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے تو اب اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ والدین، قرابت دار یا سماج کے ذی اثر افراد اس کا مناسب رشتہ تلاش کر کے اس کی شادی کرا دیں۔ اب اگر پھر مزاج کی ناموافقت یا کسی بھی وجہ سے دوسرا شوہر بھی اسے طلاق دے دے یا مر جائے تو اب ان دونوں کو رشتہ زوجیت میں منسلک ہونے کی اجازت ہے۔

قرآن کریم کا ارشاد ہے:

فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّىٰ تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ۗ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۗ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ [سورۃ البقرۃ: 230]

"پھر اگر تیسری طلاق اسے دے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند (شوہر) کے پاس نہ رہے۔ پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں (پہلے شوہر و بیوی) پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں۔ اگر (یہ دونوں) سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے، جنہیں (اللہ) بیان کرتا ہے دانشمندوں کے لیے۔" (کنز الایمان)

اگر ذہن پر بار نہ ہو تو دیگر قوموں کے نظام و طریقہٴ طلاق پر بھی ایک نظر ڈال لیں، تاکہ اسلام کے طریقہٴ طلاق کی معنویت عصرِ حاضر کے تناظر میں مزید واضح ہو جائے۔ واضح رہے کہ پہلے کسی دوسری قوم میں طلاق یا خلع کا کوئی بھی طرح کا کوئی قانون نہ تھا، خواہ کچھ بھی ناگزیر حالات سامنے آ جائیں اور عورت کو بالکل شوہر کا غلام سمجھا جاتا تھا، لیکن اب دیگر اقوام میں بھی سماجی حالات کے تناظر میں 'طلاق و خلع' دونوں کا قانون بن گیا ہے۔

جرمنی: میں اگر شوہر یا بیوی ایک دوسرے کو چھوڑ کر بھاگ جائے یا فریقین میں سے کوئی پاگل ہو جائے تو طلاق بآسانی مل جاتی ہے، لیکن دوسری صورت میں بہت مشکلات پیدا کر دی گئی ہیں۔

روس: میں فریقین کے لیے یہ سہولت کر دی گئی کہ اگر نباہ نہ ہو سکے تو دونوں باہمی رضامندی سے علیحدہ ہو جائیں، اگر سال بھر علیحدہ رہ کر وہ پھر رضامند ہو جائیں تو دوبارہ نکاح کر لیں، لیکن بعد سے روس میں بالشویت قائم ہوئی ہے، شادی اور علیحدگی دونوں بہت آسان ہو گئی ہے۔

امریکہ: میں خواہ مدعی خاوند ہو یا بیوی، بدسلوکی کا عذر فسخِ نکاح کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ جن باتوں کو "بدسلوکی یا خلافِ انسانیت" کہا جاتا ہے وہ نہایت ہی معمولی باتیں ہوتی ہیں۔ مثلاً اگر بیوی شوہر کے کوٹ یا کسی اور کپڑے میں بٹن نہ ٹانکے تو یہ بھی بدسلوکی سمجھی جائے گی یا سماج میں اگر اپنے پاؤں کے ناخن نہ تراشے تو اس عذر کو بھی کافی سمجھا جائے گا اور طلاق ہو جائے گی۔ ایک بار کسی عورت نے دعویٰ کیا کہ جب سے ہماری شادی ہوئی ہے اس وقت سے اب تک میرا شوہر کبھی گاڑی میں بٹھا کر سیر کو نہیں لے گیا۔ چنانچہ اس کا یہ فعل خلافِ انسانیت قرار دیا گیا اور طلاق کی ڈگری دے دی گئی۔

سوئزر لینڈ: اگر میاں بیوی کے درمیان ناموافقت ہو جائے تو دو سال کے لیے طلاق حاصل کی جا سکتی ہے۔

ناروے: میں بھی قانونِ طلاق بہت آسان ہے۔

رومانیہ: میں بھی باہمی رضامندی کے ساتھ علیحدگی ہو سکتی ہے۔ بشرطیکہ ماں باپ اپنے مال کا نصف حصہ بچوں کو دے دیں۔ [ترغیباتِ جنسی، ص: 28 تا 32]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!