| عنوان: | طلاق اور عصرِ جدید (قسط: ششم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا ارشاد عالم نعمانی مصباحی |
| پیش کش: | فاطمہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
اسلامی اور مغربی معاشرہ میں شرح طلاق و اعداد طلاق کا جائزہ ہمیں یہ پتہ دیتا ہے کہ طلاق کی شرح اسلامی معاشرہ کی بہ نسبت مغربی معاشرہ میں زیادہ ہے اور حیرت انگیز بھی اور مغربی سماج کا خاندانی نظام بالکل تباہ ہو چکا ہے۔ جیسا کہ جاپانی نژاد امریکی دانشور فرانسس فوکویاما نے اپنی کتاب ”ایک ضابطے کا خاتمہ“ میں اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے:
⭐ مغرب میں خاندانی نظام بالکل تباہ ہو چکا ہے۔ نکاح کے بغیر زندگی بسر کرنے کے رجحان نے سماجی سطح پر احساسِ ذمہ داری کو بالکل ختم کر دیا ہے۔ مغربی معاشرے نے عورتوں کو مردوں کے برابر روزگار کی مارکیٹ میں لا کر اور شادی شدہ خواتین کے مقابلے میں سنگل ماؤں (نکاح کے بغیر باپ بننے والا مرد سنگل فادر اور نکاح کے بغیر ماں بننے والی عورت سنگل مدر کہلاتی ہے) کو زیادہ سہولتیں دے کر شادی کی افادیت کا احساس ہی ختم کر دیا ہے۔ [ہفت روزہ تکبیر کراچی، 30 اکتوبر 1997ء]
⭐ امریکی ہفت روزہ "نیوزویک" کی رپورٹ کے مطابق "یورپ میں سنگل ماؤں کا تناسب بڑھ رہا ہے۔ شادی کے بغیر بننے والی بیویوں میں اکثر نو عمر لڑکیاں ہوتی ہیں جنہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ بغیر کسی پلاننگ (یعنی نکاح) کے ماں بن جانا کتنی بڑی غلطی ہے۔"
⭐ نیوز ویک کے مطابق سویڈن میں پیدا ہونے والے آدھے بچوں کا تعلق غیر شادی شدہ والدین سے ہوتا ہے۔
⭐ فرانس اور برطانیہ میں ہر تیسرا بچہ اپنے والدین کی ناجائز اولاد ہوتا ہے۔ یہی حال آئرلینڈ، ڈنمارک میں ہے۔ سنگل فادرز اور سنگل مدرز کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے وہاں کا روایتی خاندانی نظام آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے اور یہاں کی نئی نسل خاندانی نظام میں پھوٹ کے سبب جرائم، منشیات اور پھر تشدد کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ اس طرح ڈنمارک بھی امریکہ بنتا جا رہا ہے۔ [ہفت روزہ تکبیر کراچی، 4 ستمبر 1997ء]
⭐ چرچ آف انگلینڈ کے 44 رہنماؤں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب وہ اس بات پر بالکل یقین نہیں رکھتے کہ اکٹھے رہنے والے غیر شادی شدہ جوڑے گناہ کرتے ہیں۔ شادی پر زیادہ زور دینا اب پرانی بات ہو چکی ہے۔ اگر لوگ نکاح کے بغیر اکٹھے رہنے پر مصر ہیں تو پھر چرچ کو انہیں نہیں روکنا چاہیے۔
⭐ مانچسٹر کے "بشپ کرسٹوفر شیلڈ" کا کہنا ہے کہ بن بیاہے جوڑوں پر گناہ کا لیبل لگانے سے اب کوئی فائدہ نہیں۔
⭐ نامہ نگار کے مطابق مغربی معاشروں میں عورتوں کو جنسی آزادی کے نام پر کھلی چھوٹ دی گئی، انہیں فراوانی اور آسانی کے ساتھ مانع حمل ادویات ریاست کی طرف سے مفت فراہم کی گئیں جس کے نتیجے میں شادی کا ادارہ (خاندان) سب سے زیادہ متاثر ہوا۔
⭐ ہر گزرنے والے سال میں طلاق یافتہ افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ نکاح کے بغیر بن بیاہے اکٹھے رہنے والے جوڑوں نے ”خاندان“ کی جگہ لے لی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ مستحکم خاندانوں کی بجائے ٹوٹے ہوئے گھروں سے نکلنے والے بچوں کی ایک فوج محلوں اور گلیوں میں چھوٹے بڑے جرائم کرتی پھرتی ہے۔ [ہفت روزہ تکبیر، 30 اکتوبر 1997ء]
امریکہ میں طلاق کی شرح دنیا کے تمام ملکوں سے زیادہ بڑھی ہوئی ہے۔ 1960ء کے دہے میں وہاں ایک ہزار 14 شادیوں پر دس طلاقیں ہوتی تھیں۔ 1970ء میں دفعتاً اس میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ ایک ہزار میں 14 تک پہنچ گئیں اس کے بعد اس میں برابر اضافہ ہوتا رہا۔
فیملی پالیسیز اسٹڈیز سینٹر کے ذریعہ کیے گئے ایک ”پول“ (Poll) میں بتایا گیا کہ 122 ملکوں پر مشتمل یورپی کمیونٹی میں برطانیہ کی شرح طلاق سب سے بڑھی ہوئی ہے اور ناجائز ولادتوں میں اس کا تیسرا نمبر ہے۔ یہاں کی شرح طلاق ایک ہزار شادیوں پر 12.9 ہے۔ دوسرے نمبر پر ڈنمارک 12.8 اور تیسرے نمبر پر سوئزرلینڈ 8.7 ہے۔ ناجائز ولادتوں کی سب سے بڑھی ہوئی شرح ڈنمارک کی ہے 43.8 فیصدی اور اس کے بعد فرانس 12.9 فیصدی اور برطانیہ 20.9 فیصدی کا نمبر آتا ہے۔
جرمنی میں طلاق کے واقعات کثرت سے ہو رہے ہیں اور ایک غور طلب امر یہ ہے کہ عورتیں بڑی تعداد میں چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ تقریباً 58 فیصدی طلاق کے مقدمات عورتوں کی طرف سے دائر کیے جاتے ہیں اور نو سال تک ساتھ رہنے کے بعد علیحدگی کی نوبت آ جاتی ہے۔ تقریباً ہر چوتھے کیس میں طلاق کی کارروائی دوسرے فریق زیادہ تر شوہر کی رضامندی کے خلاف ہوتی ہیں۔
⭐ سویڈن میں گزشتہ دس سال کے عرصہ میں طلاقوں کی تعداد دگنی ہو گئی اور شادی کے چند سال بعد ہی 10 فیصدی شادیاں ٹوٹ جاتی ہیں اور شادی کے چند سال بعد ہی 60 فیصدی شادیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔ بلغاریہ میں 45.4 فیصد طلاقیں فریقین کی بدچلنی کے باعث ہوتی ہیں۔
ہنگری میں طلاق کی شرح امریکہ اور رومانیہ کے بعد سب سے زیادہ بڑھی ہوئی ہے۔
چیکوسلوواکیہ کے علاقوں میں ہر تیسری شادی طلاق پر ختم ہو جاتی ہے۔
جاپان میں بھی شادیاں بڑی سرعت سے ٹوٹ رہی ہیں۔ 1982ء میں وہاں طلاق کے واقعات دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے زیادہ بڑھ گئے۔ ہر تین منٹ پر ایک طلاق یعنی وہاں پانچ نئی شادیاں ہوتی تھیں تو ایک طلاق واقع ہوتی تھی۔ 1994ء میں کیے گئے ایک سروے میں بھی جاپان کی 40 فیصد عورتوں نے بتایا کہ وہ طلاق حاصل کرنے کے لیے سوچتی رہتی ہیں۔ حالاں کہ انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ اپنی شادی سے مطمئن ہیں۔
کینیڈا کے محکمہ اعداد و شمار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک کے طول و عرض میں طلاقیں کثرت سے واقع ہو رہی ہیں۔
آسٹریلیا میں تقریباً 40 فیصد شادیاں طلاق پر ختم ہو جاتی ہیں اور بڑی تعداد میں فریقین صرف علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں۔ باضابطہ طلاق کی کارروائی بھی نہیں ہوتی۔ [مغربی تہذیب انحطاط کی شاہراہ پر، ص: 289 تا 205]
لیکن اس کے برعکس اسلامی سماج میں ایسا نہیں ہے۔ اسلامی معاشرہ میں خاندانی نظام کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ اسلامی معاشرہ میں خدائی قانون کا دور دورہ ہوتا ہے۔ اس میں یہ احساس ہمہ وقت بیدار ہوتا ہے کہ ہر اچھے برے عمل کا جواب انہیں اللہ کے حضور دینا ہے۔ تصورِ آخرت پہ کامل یقین کی وجہ سے مسلمان اپنے ہر عمل سے پہلے اس کے نفع و نقصان پہ ٹھنڈے دل سے غور کرتے ہیں۔ تاہم کچھ لوگوں کے جذبات کا شکار ہونے سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا جس کی وجہ سے اسلامی معاشرہ میں بھی آئے دن کوئی نہ کوئی طلاق کا واقعہ ہوتا ہی رہتا ہے جس کے تدارک اور حل کے لیے بھی ہمارے پاس آسان و قابلِ عمل لائحہ و تدابیر ہیں۔
