Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا علیہ الرحمہ اور علم القرآن (قسط سوم)

امام احمد رضا علیہ الرحمہ اور علم القرآن (قسط سوم)
عنوان: امام احمد رضا علیہ الرحمہ اور علم القرآن (قسط سوم)
تحریر: فيضان المصطفى قادرى طاريق انور مصباحی
پیش کش: ام حبیبہ واسطی
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مراد آباد


رسم مصحف عثمانی

قرآن مقدس جس خط کتابت میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مکتوب کرایا تھا، اس میں کسی طرح کا تغیر و تبدل جائز نہیں ہے۔ یہ امت کا اجماعی مسئلہ ہے۔ جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مصاحف سے نقلیں تیار کرنے کا حکم دیا تو اس کے لیے خاص چار جلیل القدر صحابہ کرام، جن میں بعض کاتبِ وحی بھی رہ چکے تھے، ان کو حکم دیا۔

وہ چار مقدس صحابہ کرام یہ ہیں:
(۱) حضرت زید بن ثابت (۲) حضرت عبد اللہ بن زبیر (۳) حضرت سعید بن عاص (۴) حضرت عبدالرحمن بن حارث بن ہشام۔
ان میں حضرت زید بن ثابت حضور ﷺ کے کاتب وحی بھی رہ چکے تھے۔ چنانچہ آخری تینوں بزرگوں کو جو قریشی تھے، یہ حکم تھا کہ اگر زید بن ثابت سے کسی کلمہ میں کوئی اختلاف ہو تو اس کو قریش کی قرآت پر لکھنا کیونکہ قرآن قریش کی لغت میں نازل ہوا ہے۔

بخاری شریف کی روایت

بخاری شریف کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:
"فامر زيد بن ثابت وعبد الله بن الزبير وسعيد بن عاص وعبد الرحمن بن الحارث بن هشام فنسخوها المصاحف وقال عثمان للرهط القريشين الثلاثة. اذا ختلفتم وزيد بن ثابت في شئ من القرآن فاكتبوه بلسان قریش، فانما نزل بلسانهم ففعلوا." (بخاری شریف، ۴۹۸۷)

ترجمہ: تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت زید بن ثابت، عبداللہ بن زبیر، سعید بن عاص اور عبد الرحمن بن حارث بن ہشام سے فرمایا، جب تم لوگ کسی بات میں زید بن ثابت سے اختلاف کرو تو اس کو قریش کی زبان میں لکھنا؛ کیونکہ قرآن مقدس قریش ہی کی زبان میں اترا ہے۔ تو ان حضرات نے اس کو کر دیا۔

حضرت زید بن ثابت تو وحی الہی بھی لکھ چکے تھے۔ ان حضرات نے من و عن اس کو نقل کر دیا۔ تو قرآن مقدس رسم میں جو بعض کلمات مختلف طرح سے لکھے جاتے ہیں، وہ "نزل من اللہ" ہیں۔ اسی لیے جمہور علما کا مسلک یہی ہے کہ قرآن مقدس کا رسم الخط توقیفی ہے، یعنی منجانب اللہ ہے، اور ان کی خلاف ورزی درست نہیں ہے۔ (دائرۃ معارف اسلامیہ لاہور، جلد ا، صفحہ ۵۳۸)

ائمہ کرام کا مؤقف

امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ رسم عثمانی کے خلاف لکھنے کو اچھا نہیں گمان کرتے، بلکہ فرماتے تھے کہ اس کو اسی طرح لکھنا چاہیے جیسے (اصطلاح سلف میں) کاتبوں نے لکھا تھا۔ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ رسم کے خلاف لکھنے کو حرام قرار دیتے ہیں۔

ارشاد فرمایا:
"وقال الامام احمد يحرم مخالفة خط مصحف عثمان في واو ويا والف وغيره ذلك."
ترجمہ: امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا واو، یا، الف وغیرہ میں مصحف عثمانی کے خط کی مخالفت حرام ہے۔ (الاتقان للامام السیوطی ۱۶۷/۲)

امام بیہقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شعب الایمان میں فرمایا:
"من يكتب مصحفاً فينبغي أن يحافظ على الهجاء الذي كتبوا به تلك المصاحف ولا يخالفهم فيه ولا يغير مما كتبوه شيا فانهم كانوا اكثر علما وأصدق قلبا ولسانا اعظم امانة منا فلا ينبغي أن نظن بانفسنا استدراكا عليهم." (الاتقان للامام السیوطی ۱۶۷/۲)
ترجمہ: جو شخص مصحف کو لکھے تو اس کو لازم ہے کہ وہ انھیں حروف تہجی کی حفاظت کرے جن کے ساتھ صحابہ کرام نے مصاحف کو تحریر فرمایا ہے۔ اس میں ان کی مخالفت نہ کرے اور جس طرح انھوں نے لکھا ہے اس کو کچھ بھی تبدیل نہ کرے کیونکہ وہ حضرات ہماری بہ نسبت بہت زیادہ علم والے، زبان اور دل کے بہت سچے اور امانت میں ہم سے بہت زیادہ تھے، تو یہ جائز نہیں کہ ہم ان کو غلطی کرنے والا گمان کریں۔

امام عمر ودانی کا بیان

امام عمر ودانی رحمۃ اللہ علیہ مقنع میں فرماتے ہیں:
"اتفقوا على حذف الألف من جمع اسالم الكثير الدور من المذكر والمؤنث جميعا..."
ترجمہ: تمام لوگوں نے جمع مذکر سالم کثیر الدور سے الف کے حذف کرنے پر اتفاق کیا ہے جیسے صابرين، صادقين، قانتين، شياطين، ظالمون، ساحرون، طيبات، متصدقات، ثیبات، غرفات اور جو اس کے مثل ہوں، اور الف کے بعد ہمزہ یا حروف مشدد آئے۔ جیسے: سائلين، قائلين، ظانين، عادین، حافین اور اس کے مشابہ تو الف کو ثابت رکھا ہے۔ مگر میں نے اہل مدینہ اور اہل عراق کے قدیم مصاحف کا تتبع کیا تو بہت سے مقامات پر جہاں الف کے بعد ہمزہ تھا وہاں سے بھی الف حذف کر دیا ہے۔ اور ایسا اکثر جمع مؤنث میں اس کے ثقل کی وجہ سے ہوا ہے۔ اور مذکر میں زیادہ طور پر الف کا اثبات ہے۔

امام عمرو فرماتے ہیں: جہاں جمع مؤنث سالم میں دو الف جمع ہو جائیں وہاں عام طور سے دونوں الف حذف کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد ہمزہ اور حرف مشدد ہو یا نہ ہو، جیسے: حافظات، صادقات، نازعات، صافات، عادلات، صائمات، غائبات، سائحات اور اس کے اشباہ۔ (فتاوی رضویہ جدید ۹۹/۳۰)

اس طرح دخان و طور مطففین، فاکھین اور یس کے فاكهون سب کو فرمایا کہ "في بعضها بألف بغير ألف" تو مطلقاً ایک حکم کلی اثبات خواہ حذف کا لگا دینا ہر گز صحیح نہیں۔ بلکہ ہر کلمہ میں رجوع بنقل، پھر بحالت اتفاق اس کا اتباع لازم اور بحالت اختلاف اکثر و اشہر کی تقلید کی جائے۔ اور تساوی ہو تو حذف و اثبات میں اختیار ہے۔ اور احسن یہ کہ جہاں اختلاف قرأت بھی ہو، جیسے فٰکھین اور فاکھین وہاں حذف معمول بہ رکھیں "يحتمل القرآنين"۔ (فتاوی رضویہ جدید ۱۰۱/۳۰)

امام اہل سنت کی جامع تحقیق

سائل کا سوال: "للرجال نصيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ والأَقْرَبُونَ..." یہ سب مصاحف مروجہ ہندی میں الف اول موجود اور ثانی مفقود ہے۔ مگر مؤلف خلاصة الرسوم دونوں کا حذف فرماتے ہیں۔ (فتاوی رضویہ جدید ۹۷/۳۰)

امام اہل سنت کا جواب: مصحف کریم میں والد، والدين، والديه، والديك والدى، والدة، والدتي، والدتك، سب بالف بعد واؤ مرسوم ہیں۔ اور یہی مقتضائے قاعدہ فاعل ہے، حتی کہ والدات بآنکہ جمع مؤنث سالم ہے حذف بالف میں مختلف فیہ ہے، والدان میں حذف الف تثنیہ تو حسب قاعدہ مطردہ ضرور ہے، حذف اول کی کوئی وجہ ظاہر نہیں۔ عبارت نے تو حذف الف تثنیہ بتایا ہے، اور ہر دو سے مراد دونوں لفظ الوالدان کہ اس آیت کریمہ میں واقع ہیں اور بعد از واؤ الف تثنیہ کے کوئی معنی نہیں۔ ظاہراً لفظ واؤ کہ عبارت قلم ناسخ سے ہے۔ واللہ تعالی اعلم۔ (فتاوی رضویہ جدید ۱۰۴/۳۰)

امام احمد رضا قرآن مقدس میں غوطہ زن تھے۔ انھوں نے کتاب الہی کو ہر پہلو سے دیکھا، سمجھا اور عمل کیا ہے۔

ترجمانی قرآن (کنز الایمان)

امام اہل سنت کا ترجمہ "کنز الایمان" اردو تراجم میں جو درجہ رکھتا ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔ آپ نے ترجمہ میں روح قرآن منتقل کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کا ترجمہ تمام نقائص سے محفوظ ہے۔ آپ ترجمے میں بڑی باریکی سے کام لیتے ہیں کہ کلام عربی کی اپنی نزاکت اور اسلوب ہے۔ لغت کا معنی اپنی جگہ، مگر سیاق کلام سے مذکور معنی کیسے اختیار کیا جائے، اس کو آپ نے کامل طریقہ سے ادا کیا ہے۔

مثلاً "غیر المغضوب عليهم" کا یہ ترجمہ "جن پر غصہ ہوا" یا "تو نے غصہ کیا" فقیر کو سخت ناگوار ہے۔ غصہ کے اصل معنی 'اچھو' کے ہیں، یعنی کھانے کا گلے میں پھنسنا جیسے "طعاماً ذا غصة" فرمایا۔ اس سے استعارہ کر کے ایسے غضب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے جسے آدمی کسی خوف یا لحاظ سے ظاہر نہ کر سکے، گویا دل کا جوش گلے میں پھنس کر رہ گیا۔ عوام کہ دقائق کلام سے آگاہ نہیں، فرق نہ کریں۔ مگر اصل حقیقت یہی ہے کہ علما پر اس کا لحاظ لازم ہے۔ ترجمہ یوں ہوا: "نہ ان کی جن پر تیرا غضب ہوا"۔

علوم قرآنیہ کے لحاظ سے امام اہل سنت کی وسعت نظر اور دقت فکر کا حال یہ ہے جو امور علمیہ قرآن مقدس میں موجود ہیں، ان میں سے ہر ایک سے آپ کو اللہ تعالیٰ نے حصہ عطا فر مایا تھا۔ آپ کی عبقریت اہل دانش کے یہاں مسلمات سے ہے۔

وليس على الله بمستنكر
ان بجمع العالم في الواحد


(حوالہ: ماہنامہ پیغام شریعت دہلی)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!