Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

طلاق کی تفہیم اور ہماری عدالت( قسط اول)

طلاق کی تفہیم اور ہماری عدالت (قسط اول)
عنوان: طلاق کی تفہیم اور ہماری عدالت (قسط اول)
تحریر: عبد الرحیم قریشی
پیش کش: صبرین فاطمہ رضویہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی


طلاق سے پہلے تحکیم (ثالثی) کے مرحلے سے گزرے بغیر طلاق دی جائے تو طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ اس پر جس فیصلہ کے نتیجہ میں انتہائی پیچیدہ اور تشویشناک صورت حال یہ سامنے آتی ہے کہ عورت جو طلاق کے بعد بیوی کی حیثیت کھو چکی ہے، قانونی اعتبار سے وہ طلاق دینے والے شخص کی بیوی ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس بحرالاسلام کا ہے جو انہوں نے 1978ء میں دیا تھا اور جو 1981ء کے گوہاٹی لاء رپورٹس میں شائع ہوا۔

جسٹس بحرالاسلام اس وقت آسام گوہاٹی کے جج تھے، بعد میں سپریم کورٹ کے بھی جج بنے۔ انہوں نے اپنے اس فیصلے میں لکھا ہے کہ 'طلاق کے مسئلہ پر قرآن مجید کی متعلقہ آیات کا حوالہ ضروری ہے کہ قرآن مجید اسلامی قانون کا بنیادی سرچشمہ ہے اور یہ آیتیں شوہر اور بیوی کے درمیان تعلق کی نوعیت اور شوہر کی جانب سے بیوی کو طلاق دینے سے متعلق ہیں'۔ اس کے بعد اس فیصلے میں قرآن کی مختلف آیات کا ترجمہ کیا گیا ہے جو یوسف علی کے ترجمۃ القرآن سے لیا گیا ہے۔ ذیل میں ان آیات کا اردو ترجمہ کیا جا رہا ہے۔

سورہ نساء (آیات ۱۲۸ تا ۱۳۰)

آیت ۱۲۸: اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ ہو تو میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی قرار داد پر صلح کرلیں۔ اور صلح خوب چیز ہے۔ اور طبیعتیں تو بخل کی طرف مائل ہوتی ہیں اور اگر تم نیکوکاری اور پرہیزگاری کروگے تو خدا تمہارے کاموں سے واقف ہے۔

آیت ۱۲۹: اور تم خواہ کتنا ہی چاہو عورتوں میں ہرگز برابری نہیں کر سکو گے تو ایسا بھی نہ کرنا کہ ایک ہی طرف ڈھل جاؤ اور دوسری کو ایسی حالت میں چھوڑ دو کہ گویا ادھر میں لٹک رہی ہو اور اگر آپس میں موافقت کر لو اور پرہیزگاری کرو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

آیت ۱۳۰: اور اگر میاں بیوی میں موافقت نہ ہو سکے اور ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں تو خدا ہر ایک کو اپنی دولت سے غنی کر دے گا اور خدا بڑی کشائش والا اور حکمت والا ہے۔

سورہ بقرہ (آیات ۲۲۹ تا ۲۳۲)

آیت ۲۲۹: طلاق صرف دو بار ہے (یعنی جب دو دفعہ طلاق دے دی جائے تو) پھر عورتوں کو یا تو طریقہ شائستہ نکاح میں رہنے دینا یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دو اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکے ہو اس میں واپس لے لو۔ (یہاں عبداللہ یوسف علی نے یہ ترجمہ کیا ہے کہ یہ تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم نے جو بھی تحفے دئے ہوں ان میں سے کچھ واپس لو) ہاں اگر زن و شوہر کو خوف ہو کہ وہ خدا کی حدوں کو قائم نہیں رہ سکیں گے تو اگر عورت (خاوند کے ہاتھ سے) رہائی پانے کے بدلے کچھ دے ڈالے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ خدا کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں، ان سے باہر نہ نکلو اور جو لوگ خدا کی حدوں سے باہر نکل جائیں گے وہ گناہ گار ہوں گے۔

آیت ۲۳۰: پھر اگر شوہر (دو طلاق کے بعد تیسری) طلاق عورت کو دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے اس سے پہلے شوہر پر حلال نہ ہوگی۔ ہاں اگر دوسرا خاوند بھی طلاق دے دے اور عورت اور پہلا خاوند ایک دوسرے کی طرف رجوع کر لیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ دونوں یقین کریں کہ خدا کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ خدا کی حدیں ہیں، ان کو وہ لوگوں کے لیے بیان فرماتا ہے جو دانش رکھتے ہیں۔

آیت ۲۳۱: اور جب تم عورتوں کو دو دفعہ طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہو جائے تو انہیں یا تو حسن سلوک سے نکاح میں رہنے دو یا بہ طریق شائستہ رخصت کر دو اور اس نیت سے ان کو نکاح میں نہ رہنے دینا چاہیے کہ انہیں تکلیف دو اور ان پر زیادتی کرو اور جو ایسا کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ خدا کے احکام کو ہنسی اور کھیل نہ بنالو اور خدا نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور جو تم پر کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں جن سے وہ تم سے نصیحت فرماتا ہے، ان کو یاد رکھنا اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

آیت ۲۳۲: اور جب عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہو جائے تو ان کو دوسرے شوہر کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہو جائیں نکاح کرنے سے مت روکو۔ اس حکم سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں خدا اور آخرت کے روز یقین رکھتا ہے یہ تمہارے لیے نہایت خوب اور پاکیزگی کی بات ہے اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

عبداللہ یوسف علی کے فٹ نوٹس (حواشی)

جسٹس بحرالاسلام کے فیصلے میں ان آیات کے بعد عبداللہ یوسف علی کے ترجمہ میں دیے گئے فٹ نوٹس موجود ہیں۔ یہ فٹ نوٹس درج ذیل ہیں:
"دو طلاق کے بعد ملاپ کی اجازت ہے۔" "تیسری دفعہ کی طلاق نا قابلِ تنسیخ ہے تا آنکہ عورت کسی مرد سے شادی کرے اور وہ اس کو طلاق دے دے، یہ تقریباً ممکن نوعیت کی شرط ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اگر ایک مرد عورت سے محبت کرتا ہے تو وہ زود رنجی، تنگ مزاجی اور اچانک غصہ کو یہ اجازت نہ دے کہ وہ عجلت میں یہ قدم اٹھائے۔ اگر دو طلاق کے بعد ایک مرد اپنی بیوی واپس لیتا ہے تو یہ عمل بھی عادلانہ انداز میں ہونا چاہیے۔ مثلاً اس کو عورت پر اپنے کسی حق کو کسی انداز میں چھوڑنے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے اور ان کو ایک دوسرے کی شخصیت کا احترام کرتے ہوئے پاکیزہ اور باعزت زندگی گزارنا چاہیے۔"

"رشتۂ مناکحت کا ٹوٹنا خاندان اور سماجی زندگی کے لیے ایک انتہائی اہم معاملہ ہے۔ ہر جائز طریقہ کو مستحسن قرار دیا گیا ہے جو عادلانہ طریقے پر ان کو واپس لے آئے جو پہلے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزار چکے ہیں۔ بشرطیکہ ان میں مفاہمت و محبت ہو اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ باعزت شرائط پر زندگی گزار سکیں، اگر ان شرائط کی تکمیل ہوتی ہے تو کسی باہر والے کو دوبارہ ملاپ کو روکنے میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ (مخالفت کرنے پر) جائیداد کی وجہ سے یا کسی دوسرے احساسات کی بنا پر مائل ہو سکتے ہیں۔"

آیتِ تحکیم (ثالثی) اور عدالتی اصول

عبداللہ یوسف علی کے ان حاشیوں کے بعد جسٹس بحرالاسلام نے سورۂ نساء کی ۳۵ ویں آیت کا حوالہ دیا ہے:
آیت ۳۵: "اور اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں ان بن ہے تو ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو۔ وہ اگر صلاح کرا دینا چاہیں گے تو خدا ان میں موافقت پیدا کر دے گا، کچھ شک نہیں کہ خدا سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے خبردار ہے۔"

اس آیت پر عبداللہ یوسف علی کا حاشیہ درج ذیل ہے: "یہ حکم خاندانی تنازعات کو زیادہ تشہیر، ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اور قانونی موشگافیوں کا سہارا لیے بغیر طے کرنے کا ایک عمدہ منصوبہ ہے۔ لاطینی ممالک نے اس منصوبے کو اپنے قانونی نظام میں تسلیم کیا ہے۔ یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ مسلمانوں نے جس طرح قبول کرنا چاہیے تھا عام طور پر قبول نہیں کیا۔ کیا ہر خاندان کا حکم فریقین کی طبیعت اور مزاج کی خصوصیات سے واقف ہوگا اور اللہ کی مدد سے صحیح مفاہمت کرا سکے گا۔"

جسٹس بحرالاسلام نے ان کے بعد شقاق اور طلاق کے موضوع پر مولانا محمد علی، جسٹس عبدالرحیم، اے، اے، فیضی کے حوالے دینے کے بعد جسٹس کرشنا ایر کے ایک فیصلے کا حوالہ بھی دیا ہے جو انہوں نے کیرالا ہائیکورٹ کے جج کی حیثیت میں دیا ہے۔ اس فیصلے میں جسٹس کرشنا ایر نے بھی قرآن کی شقاق والی آیت اور اس کی تشریح نقل کی ہے۔

جسٹس بحرالاسلام نے بحیثیت چیف جسٹس گوہاٹی ہائی کورٹ طلاق کے مسئلہ پر قرآن کی سورۂ نساء کی آیت نمبر ۳۵ کا ترجمہ ایک اور کیس میں دیا اور آیتِ شقاق کو بنیاد بناتے ہوئے یہ اصول اخذ کیا کہ طلاق دینے کے لیے کوئی معقول سبب ہونا چاہیے اور طلاق سے پہلے حکم یا مفاہمت ضروری ہے، اس کے بغیر طلاق کے واقع ہونے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ (شمیم آرا کیس)

سپریم کورٹ نے "شمیم آرا بنام ریاست اتر پردیش و دیگر" میں یہی فیصلہ دیا۔ جسٹس آر، سی، لاہوتی نے اپنے فیصلے میں مسلم پرسنل لاء پر ملّا اور ڈاکٹر طاہر محمود کی کتابوں کے حوالوں کے بعد جسٹس کرشنا یر اور جسٹس بحرالاسلام کے متذکرہ صدر فیصلوں کو بنیاد بنایا ہے اور یہ فیصلہ دیا ہے کہ طلاق کسی معقول سبب کی بنیاد پر دی جائے، اور طلاق سے پہلے بیوی اور شوہر کے درمیان دو حکم صاحبان کے ذریعہ تحکیم یا مفاہمت کو تسلیم کیا جائے گا تبھی طلاق مؤثر ہوگی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک کی ہر عدالت قانون کی اسی تشریح کی روشنی میں فیصلے دینے کی پابند ہے۔

نفقہ اور ماضی کی تاریخ پر طلاق کا عذر

طلاق کے سلسلہ میں ایک اور مسئلہ عدالتوں میں زیرِ بحث آتا رہا ہے۔ وہ یہ ہے کہ بیوی کی جانب سے نفقہ (خرچہ) دلانے کے لیے عدالت میں پیش کی گئی درخواست کے جواب میں شوہروں کی طرف سے یہ عذر دیا جاتا رہا ہے کہ وہ کچھ عرصہ پہلے کسی گزری ہوئی تاریخ پر طلاق دے چکا ہے اور اس لیے وہ عورت بیوی باقی نہ رہی، لہذا وہ نفقہ کی مستحق نہیں ہے۔ بیوی کی طرف سے قطعاً لاعلمی کا اظہار کیا جاتا رہا اور یہ کہا جاتا رہا کہ نہ طلاق دی گئی اور نہ طلاق دینے کی کوئی اطلاع ملی۔

اس تعلق سے ہائی کورٹ کے کئی فیصلوں میں یہ رجحان رہا کہ مرد کی جانب سے طلاق دیئے جانے کی بات کو اس تاریخ سے تسلیم کیا جائے گا جس تاریخ پر طلاق دینے کا اس نے ادعا پیش کیا ہے مگر اس کے جواب کی نقل بیوی کو ملنے کی تاریخ سے یا جواب کی تاریخ سے طلاق کو تسلیم کیا جائے گا۔ ہائی کورٹ نے بعض فیصلوں میں جوابِ دعوے کی تاریخ کو بھی تاریخِ طلاق تسلیم کرنے سے انکار کیا اور یہ فیصلہ دے دیا کہ جب تک مرد معتبر شہادت کے ذریعہ طلاق دینے کے اعلان کو ثابت نہ کرے، طلاق کے واقع ہونے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا اور متعلقہ عورت اس شخص کی زوجہ رہے گی اور بحیثیت زوجہ تمام حقوق کی مستحق رہے گی۔ ایسا ہی فیصلہ بمبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ کے اجلاسِ کاملہ نے "دگڈو پٹھان بنام رحیم بی پٹھان و دیگر" میں دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے متذکرہ صدر شمیم آراء کیس میں بھی یہ نکتہ زیرِ بحث آیا اور عدالت نے یہ فیصلہ سنایا کہ طلاق کا اعلان ضروری ہے اور اس اعلان کو عدالت میں ثابت کرنا بھی ضروری ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ہندوستان کا کوئی ہائی کورٹ اور تحت کی عدالت شوہر کی طرف سے اس کے خلاف نفقہ کی کاروائی میں ماضی کی کسی تاریخ پر طلاق دینے کے عذر کو تسلیم نہیں کرے گی اور یہی فیصلہ دے گی کہ طلاق نہیں ہوگی اور اگر طلاق کا اعلان کیا گیا تھا تو اس کو عدالت کے سامنے ثابت کیا جائے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!