| عنوان: | امام احمد رضا اور علم اصول فقہ (قسط ششم) |
|---|---|
| تحریر: | حضرت مولانا مفتی محمد شمشاد حسین بدایونی |
| پیش کش: | صبرین فاطمہ رضویہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
دلائل شرعیہ کی تقسیم و تفصیل:
امام احمد رضا کی عبارتوں سے اشارہ ملتا ہے کہ احکام سے متعلق جانب طلب میں دلائل شرعیہ کی کل ستائیس صورتیں ہیں دلائل کی صرف ایک قسم سے فرض ثابت ہوتا ہے، تین سے وجوب، چار سے سنت مؤکدہ، اور اُنیس سے استحباب و سنت غیر مؤکدہ۔ اسی طرح جانب منع و کف میں بھی ستائیس صورتیں ہیں جن میں صرف ایک سے حرام ثابت ہوتا ہے تین سے مکروہ تحریمی چار سے اساءت اور اُنیس سے مکروہ تنزیہی اور خلاف اولیٰ۔
اجمالاً پہلے یہ ملاحظہ کر لیں کہ یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی نص قطعی ہو مگر جو حکم مجتہد اس سے ثابت کرنا چاہتا ہے وہ صراحتاً اور قطعاً اس سے ثابت نہیں ہوتا بلکہ ظن یا شک کے طور پر اس کا ثبوت حاصل ہوتا ہے، اسی طرح یہ ہو سکتا ہے کہ حکم تو قطعاً اس نص سے ثابت ہوتا ہے۔مگر خود وہ نص قطعی نہیں بلکہ ظنی ہے یا اس سے بھی کم درجہ ہے مثلاً خبرِ واحد صحیح یا حسن ہے یا اس سے فروتر مثلاً حدیثِ ضعیف ہے جو فضائل اعمال میں کارآمد ہے اور ایک گونہ شک کے طور پر اس سے وہ بات معلوم ہوتی ہے جو اس میں بیان ہوئی۔
پہلی صورت کی مختصر تعبیر یہ ہے کہ نص اثباتِ حکم میں قطعی نہیں دوسری صورت کی تعبیر یہ ہوگی کہ خود نص کا ثبوت قطعی نہیں بلکہ ظنی یا شکی ہے۔ اسی طرح یہ بھی جان لینا چاہیے کہ کبھی مطالبہ قطعی ہوتا ہے، یعنی یوں کہ تمہیں یہ ضرور کرنا ہے کبھی یوں کہ کرو تو اچھا ہے پھر اسے یا تو بلا تاکید چھوڑ دیا جاتا ہے یا اس کی تاکید ہوتی ہے یہ میں نے بطورِ تفہیم عرض کیا ان ہی باتوں کو اصطلاحی طور پر یوں کہا جاتا ہے کہ اس چیز کا مطالبہ قطعی و جزمی ہے یا اس کا مطالبہ غیر جزمی مگر مؤکد ہے یا اس کا مطالبہ محض ترغیبی طور پر ہے۔
اب وہ ستائیس صورتیں امام احمد رضا کے بہت ہی مختصر اور جامع الفاظ میں (میرے ترجمہ کے بعد) ملاحظہ ہوں پھر میں ان کی کچھ توضیح کروں گا۔
نصوصِ ظنی کی تین قسمیں ہیں: (۱) وہ جن میں محض طلب ترغیب ہو ۔ (۲) جن میں طلب مع تاکید ہو، (۳) جن میں طلبِ جازم (قطعی) ہو۔ ان میں سے ہر ایک کی نو (۹) قسمیں ہیں تو کل ستائیس قسمیں ہوئیں، صرف ایک قسم سے فرض کا ثبوت ہوتا ہے، یہ وہ ہے جس کا ثبوت و اثبات دونوں یقینی ہو اور طلب بھی جزمی و قطعی ہو۔ تین سے وجوب کا افادہ ہوتا ہے، وہ جس کا ثبوت یا اثبات یا دونوں ظنی ہو اور بہر صورت طلب جزمی ہو۔ چار سے سنیت کا افادہ ہوتا ہے، یہ ثبوت و اثبات میں تو ان ہی صورتوں کی طرح ہیں جو فرضیت و وجوب کا افادہ کرتی ہیں مگر ان میں طلب تاکیدی غیر قطعی ہوتی ہے۔ باقی انیس صورتیں مندوبیت کا افادہ کرتی ہیں، یہ وہ ہیں جن کے ثبوت یا اثبات کسی ایک میں شک ہو اگرچہ طلبِ جازم و قطعی ہو یا وہ جن میں صرف طلب ترغیبی ہو اگرچہ ثبوت واثبات قطعی ہوں اسی پر کف (باز رہنے) کی جانب میں حرام، مکروہِ تحریمی، مکروہِ تنزیہی اور خلافِ اولیٰ کو قیاس کر لینا چاہیے۔
اب ذیل میں اس اجمال کی تفصیل ملاحظہ ہو:
فرضیت:
(۱) جس کا ثبوت واثبات دونوں یقینی ہو اور طلبِ جازم ہو۔
وجوب:
(۲) ثبوت قطعی ہو اثبات ظنی اور طلبِ جازم
(۳) ثبوت ظنی ہو، اثبات قطعی، اور طلبِ جازم
(۴) ثبوت واثبات دونوں ظنی ہو اور طلبِ جازم۔
سنتِ مؤکدہ:
(۵) ثبوت واثبات دونوں قطعی اور طلبِ مؤکد غیر جازم
(۶) ثبوت قطعی، اثبات ظنی اور طلبِ صرف مؤکد غیر جازم
(۷) ثبوت ظنی، اثبات قطعی اور طلبِ مؤکد غیر جازم۔
(۸) ثبوت واثبات دونوں ظنی اور طلبِ مؤکد غیر جازم۔
استحباب اور سنتِ غیر مؤکدہ کی ۱۹ صورتیں:
(۹) ثبوت قطعی، اثبات شکی، اور طلبِ جازم
(۱۰) ثبوت شکی، اثبات قطعی، اور طلبِ جازم
(۱۱) ثبوت ظنی، اثبات شکی اور طلبِ جازم
(۱۲) ثبوت شکی، اثبات ظنی، اور طلبِ جازم
(۱۳) ثبوت شکی، اثبات شکی اور طلبِ جازم
(۱۴) ثبوت قطعی، اثبات شکی، اور طلبِ مؤکد
(۱۵) ثبوت شکی، اثبات قطعی اور طلبِ مؤکد
(۱۶) ثبوت ظنی، اثبات شکی اور طلبِ مؤکد
(۱۷) ثبوت شکی اثبات ظنی اور طلبِ مؤکد
(۱۸) ثبوت شکی، اثبات شکی اور طلبِ مؤکد
(۱۹) ثبوت قطعی، اثبات قطعی اور، طلبِ محض ترغیبی
(۲۰) ثبوت قطعی اثبات ظنی اور، طلبِ محض ترغیبی
(۲۱) ثبوت قطعی، اثبات شکی، اور، طلبِ محض ترغیبی
(۲۲) ثبوتِ ظنی اثباتِ قطعی اور، طلبِ محضِ ترغیبی
(۲۳) ثبوتِ ظنی اثباتِ ظنی اور، طلبِ محضِ ترغیبی
(۲۴) ثبوتِ ظنی اثباتِ شکی اور، طلبِ محضِ ترغیبی
(۲۵) ثبوتِ شکی اثباتِ قطعی اور، طلبِ محضِ ترغیبی
(۲۶) ثبوتِ شکی اثباتِ ظنی اور، طلبِ محضِ ترغیبی
(۲۷) ثبوتِ شکی، اثباتِ شکی اور، طلبِ محضِ ترغیبی
جانبِ ممانعت کی ستائیس صورتیں حسبِ ذیل ہیں:
حرام:
(۱) وہ دلیل جس کا ثبوت و اثبات دونوں قطعی ہوں اور طلب کفِ جازم ہو۔
مکروہِ تحریمی:
(۲) ثبوتِ قطعی اثباتِ ظنی اور طلبِ کفِ جازم
(۳) ثبوتِ ظنی اثباتِ قطعی اور طلبِ کفِ جازم
(۴) ثبوت و اثبات دونوں ظنی اور طلبِ کفِ جازم
اساءت:
(۵) ثبوت و اثبات دونوں قطعی اور طلبِ کفِ مؤکد غیر جازم
(۶) ثبوتِ قطعی اثباتِ ظنی اور طلبِ کفِ مؤکد غیر جازم
(۷) ثبوتِ ظنی اثباتِ قطعی اور طلبِ کفِ مؤکد غیر جازم
(۸) ثبوت و اثبات دونوں ظنی اور طلبِ کفِ مؤکد غیر جازم
مکروہِ تنزیہی و خلافِ اولیٰ:
(۹) ثبوتِ قطعی، اثباتِ شکی اور طلبِ کفِ جازم
(۱۰) ثبوتِ شکی، اثباتِ قطعی، اور طلبِ کفِ جازم
(۱۱) ثبوتِ ظنی اثباتِ شکی اور طلبِ کفِ جازم
(۱۲) ثبوتِ شکی اثباتِ ظنی اور طلبِ کفِ جازم
(۱۳) ثبوتِ شکی اثباتِ شکی اور طلبِ کفِ جازم
(۱۴) ثبوتِ قطعی اثباتِ قطعی اور طلبِ کفِ مؤکد
(۱۵) ثبوتِ شکی اثباتِ قطعی اور طلبِ کفِ مؤکد
(۱۶) ثبوتِ ظنی اثباتِ شکی اور طلبِ کفِ مؤکد
(۱7) ثبوتِ شکی اثباتِ ظنی اور طلبِ کفِ مؤکد
(۱۸) ثبوتِ شکی اثباتِ شکی اور طلبِ کفِ مؤکد
(۱۹) ثبوتِ قطعی اثباتِ قطعی اور طلبِ کفِ محضِ ترغیبی
(۲۰) ثبوتِ قطعی اثباتِ ظنی اور طلبِ کفِ محضِ ترغیبی
(۲۱) ثبوتِ قطعی، اثباتِ شکی اور طلبِ کفِ محضِ ترغیبی
(۲۲) ثبوتِ ظنی اثباتِ قطعی اور طلبِ کفِ محضِ ترغیبی
(۲۳) ثبوتِ ظنی اثباتِ ظنی اور طلبِ کفِ محضِ ترغیبی
(۲۴) ثبوتِ ظنی اثباتِ شکی اور طلبِ کفِ محضِ ترغیبی
(۲۵) ثبوتِ شکی اثباتِ قطعی اور طلبِ کفِ محضِ ترغیبی
(۲۶) ثبوتِ شکی اثباتِ ظنی اور طلبِ کفِ محضِ ترغیبی
(۲۷) ثبوتِ شکی اثباتِ شکی اور طلبِ کفِ محضِ ترغیبی
مجھے صرف نمونہ پیش کرنا تھا جس کے لیے مذکورہ ابحاث کو کافی سمجھتا ہوں ورنہ ان کی تصانیف خصوصاً "فتاویٰ رضویہ" میں کتبِ فقہ اور اقوالِ علما پر ان کا کلام پھر مباحث کی تحقیق و تنقیح اور واضح و قوی دلائل سے اپنے مدعا کی توضیح اس کثرت سے موجود ہے کہ سب کو جمع کیا جائے تو کئی جلدوں پر مشتمل کتاب تیار ہو جائے اور ایک محقق کے لیے برسوں کا کام ہو۔ تاہم مضمون میں جو چند نمونے پیش کیے گئے ہیں ان سے امام احمد رضا کی جودتِ قلم، سرعتِ فکر، دقتِ نظر، کمالِ استحضار اور فقاہت میں رسوخ و تبحر عیاں ہے۔
