Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور علم اصول فقہ (قسط ہفتم)

امام احمد رضا اور علم اصول فقہ (قسط ہفتم)
عنوان: امام احمد رضا اور علم اصول فقہ (قسط ہفتم)
تحریر: حضرت مولانا مفتی محمد شمشاد حسین بدایونی
پیش کش: صبرین فاطمہ رضویہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

اسبابِ ستہ سے متعلق امام احمد رضا کے افادات:

ذیل میں امام احمد رضا کی تصانیف سے اخذ کر کے چند اصولی افادات درج کرتے ہیں:

(۱) تبدیلیِ احکام میں اسبابِ ستہ بڑی اہمیت کے حامل ہیں ان چھ اسباب میں سے کوئی سبب متحقق ہو تو قولِ امام بدل جاتا ہے اور قولِ ضروری پر عمل ہوتا ہے اس تعلق سے امام احمد رضا قدس سرہ افادہ فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

"مثل ذلك يقع فى اقوال الائمة اما لحدوث ضرورة او حرج او عرف او تعامل او مصلحة مهمة تجلب او مفسدة ملمة تسلب وذلک لا ن استثناء الضرورات ودفع الحرج ومراعاة المصالح الدینیة الخالیة عن مفسدة تربو علیھا ودی ء المفاسد والا خذ بالعرف والعمل بالتعامل الخ"
(فتاویٰ رضویہ کتاب الطهارة ص ۳۸۵ ج ۱)

جس کا خلاصہ خود انہیں کی زبانی ملاحظہ فرمائیں:
چھ باتیں ہیں جن کے سبب قولِ امام بدل جاتا ہے، لہٰذا قولِ ظاہر سے خلاف عمل ہوتا ہے اور وہ چھ باتیں: (۱) ضرورت (۲) دفعِ حرج (۳) عرف (۴) تعامل (۵) دینی ضروری مصلحت کی تحصیلِ کسی (۶) فسادِ موجود یا مظنونِ بظنِ غالب کا ازالہ ان سب میں بھی حقیقتہً قولِ امام ہی پر عمل ہے۔
(فتاویٰ رضویہ کتاب الطهارة، ج ۱ ص ۳۸۵)

(۲) احکامِ شرع کی ایضاح و تعیین میں شئی کے مراتب کا رول کلیدی ہوتا ہے اور انہیں مراتب کے فرق کی وجہ سے احکام میں بھی فرق پڑتا ہے ظاہر ہے کہ مرتبۂ ضرورت مرتبۂ حاجت سے مافوق ہے اور مرتبۂ حاجت مرتبۂ منفعت سے اور مرتبۂ منفعت مرتبۂ زینت سے، غرض صحیح کے یہی چار مراتب ہیں لیکن اصل چیز ان میں سے ہر ایک کے دائرۂ مفہوم اور دائرۂ اثر کا صحیح ادراک ہے اس فہم و ادراک کے بغیر فرقِ احکام بہت مشکل ہے اس تعلق سے امام احمد رضا نے جو تعارف نامہ پیش کیا ہے اور پانچوں مراتب میں سے ہر ایک کے مفہوم کی وضاحت کی ہے وہ پڑھنے اور سمجھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ہم یہاں فتاویٰ رضویہ جلد اول سے اس پورے چشم کشا اقتباس کو نقل کر رہے ہیں تاکہ کوئی خفا و پوشیدگی نہ رہ جائے آپ فرماتے ہیں: اقول وباللہ التوفیق مراتب پانچ ہیں ضرورت، حاجت، منفعت، زینت، فضول۔

(۱) ضرورت: یہ ہے کہ اس کے بغیر گزر نہ ہو سکے جیسے مکان میں جحر یتدخلہ وہ سوراخ جس میں آدمی بزور سما سکے، کھانے میں لقیمات یقمن صلبہ چھوٹے چھوٹے چند لقمے کہ سدِ رمق کریں ادائے فرائض کی طاقت دیں لباس میں خرقتہ تواری عورتہ اتنا ٹکڑا کہ ستر عورت کرے۔
(۲) حاجت: یہ کہ بے اس کے ضرر ہو جیسے مکان اتنا کہ گرمی جاڑے برسات کی تکلیفوں سے بچا سکے کھانا اتنا کہ جس سے ادائے واجبات و سنن کی قوت ملے کپڑا اتنا کہ جاڑا روکے اتنا بدن ڈھکے کہ جس کا کھولنا نماز و مجمعِ ناس میں خلافِ ادب و تہذیب ہے۔
(۳) منفعت: یہ کہ بغیر اس کے ضرر تو موجود نہیں مگر اس کا ہونا اصل مقصود میں نافع و مفید ہے جیسے مکان میں بلندی و وسعت کھانے میں سرکہ چٹنی لباسِ نماز میں عمامہ۔
(۴) زینت: یہ کہ مقصود سے محض بالائی زائد بات ہے جس سے ایک معمولی افزائشِ حسن و خوشنمائی کے سوا اور نفع و تائیدِ غرض نہیں جیسے مکان کے درون میں محرابیں، کھانے میں رنگتیں کہ قورمہ خوب سرخ ہو، فرنی نہایت سفید براق ہو، کپڑے میں بخیہ باریک ہو، قطع میں کج نہ ہو۔
(۵) فضول: یہ کہ بے منفعت چیز میں حد سے زیادہ توسع و تدقیق جیسے مکان میں سونے چاندی کے کلس، دیواروں پر قیمتی غلاف، کھانا کھانے پر میوے شیرینیاں پائنچے گٹوں سے نیچے۔

اول: مرتبۂ فرض میں ہے، دوم: واجب و سننِ مؤکدہ، سوم و چہارم سننِ غیر مؤکدہ سے مستحبات و آدابِ زائدہ تک پنجم باختلافِ مراتبِ مباح و مکروہِ تنزیہی و تحریمی سے حرام تک۔
(فتاویٰ رضویہ کتاب الطهارة ص ۱۵۸ ج ۱)

اسی مفہوم کو قدرے وضاحت کے ساتھ "جلی النص فی أماکن الرخص" میں آپ نے بایں الفاظ تحریر کیا ہے: علماء فرماتے ہیں مراتب پانچ ہیں: (۱) ضرورت (۲) حاجت (۳) منفعت (۴) زینت (۵) فضول
فاقول پانچ چیزیں ہیں جن کے حفظ کو اقامتِ شرائعِ الٰہیہ ہے دین وعقل ونفس ومال وعبث محض کے سوا تمام افعال انہیں میں دورہ کرتے ہیں اب اگر فعل (کہ ترکِ بمعنیٰ کف کو کہ وہی مقدور و زیرِ تکلیف ہے نہ بمعنیٰ عدم کما فی الغمز وغیرہ بھی شامل) اگر ان میں کسی کا موقوف علیہ ہے کہ بے اس کے یہ فوت یا قریب فوت ہو تو یہ مرتبہ ضرورت ہے جیسے دین کے لیے تعلیمِ ایمانیات و فرائضِ عین، عقل و نسب کے لیے ترکِ خمر و زنا، نفس کے لیے اکل و شرب بقدرِ قیامِ بنیہ، مال کے لیے کسب و دفعِ غصب و امثالِ ذلک اور اگر توقف نہیں مگر ترک میں لحوقِ مشقت و ضرر و حرج ہے تو حاجت ہے جیسے معیشت کے لیے چراغ کہ موقوف علیہ نہیں ابتدائے زمانہ رسالت علیٰ صاحبہا افضل الصلوٰۃ والتحیۃ میں ان مبارک مقدس مکانوں میں چراغ نہ ہوتا ام المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں والبیوت مصابیح رواہ الشیخان مگر عامہ کے لیے گھر میں بالکل روشنی نہ ہونا ضرور باعثِ مشقت و حرج ہے اور اگر یہ بھی نہ ہو مگر حصولِ مفید ہے نفسِ فائدہ مقصودہ اس سے حاصل ہوتا ہے تو منفعت جیسے مکان کے ہر دالان میں ایک چراغ اور اگر فائدہ مقصودہ کی تحصیل اس پر نہیں بلکہ ایک امرِ زائد زیب و زیبائش بقدرِ اعتدال کے لیے ہے تو زینت جیسے چراغ کی جگہ فانوس اور اگر اس سے اتنا فائدہ بھی نہیں یا اس میں افراط اور خروج عن الحد ہے تو فضول جیسے بے کسی نیتِ محمودہ کے گھر میں چراغاں"۔ (فتاویٰ رضویہ جلد دہم ص ۱۹۹)

اس تعلق سے مزید تفصیل کے لیے فقیر راقم الحروف کا رسالہ ”اسبابِ ستہ اور عمومِ بلویٰ کی توضیح و تنقیح“ کا مطالعہ فرمائیں۔

(۳) کسی اہم اعتراض کے جواب یا کسی اہم امر کی تنقیح میں امام احمد رضا کو یدِ طولیٰ حاصل تھا ان کی تنقیح و تطبیق اور تعبیر و تفہیم اس قدر دل نشین ہوتی ہے کہ قاری یہ محسوس کرتا ہے کہ گویا یہی میرے دل کی آواز ہے اور یہی حق و صحیح ولائقِ قبول ہے ان کے فتاویٰ اور حواشی میں جا بجا یہ مناظر آپ کو نظر آئیں گے سب کا احاطہ تو اس مختصر سی تحریر میں مشکل ہے۔ دو ایک مثالیں پیش کی جا رہی ہیں:
(الف) حمل اور رضاعت کی اکثر مدت اور اقل مدت کیا ہے اس سلسلے میں تفصیل یہ ہے کہ حمل کے سلسلے میں تو امامِ اعظم اور صاحبین کا اتفاق ہے اس کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال اور کم سے کم مدت چھ ماہ ہے رضاعت کی مدت کے سلسلے میں اختلاف ہے امامِ اعظم کے نزدیک اس کی کم سے کم مدت دو سال اور زیادہ سے زیادہ ڈھائی سال اور صاحبین کے نزدیک اکثر مدت صرف دو سال ہے فقہائے احناف کی طرف سے مذہبِ امامِ اعظم کی تائید میں جو استدلال پیش کیا جاتا ہے وہ قرآنِ کریم کی آیتِ کریمہ ہے:
”وحملہ وفصالہ ثلاثون شہراً“۔
اسے پیٹ میں لینا اور دودھ چھوڑنا تیس مہینہ ہے یعنی حمل کی مدت ڈھائی سال ہے اور دودھ چھوڑنے کی مدت ڈھائی سال لیکن حمل کی مدت صرف دو سال حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی اس روایت کی وجہ سے قرار پائی جس میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ بچہ پیٹ میں دو سال سے زیادہ نہیں رہتا۔
مسئلہ غیر قیاسی ہونے کی وجہ سے یہ مرفوع کے حکم میں ہے جو خبرِ واحد ہے اور آیت مؤول ہونے کی وجہ سے بلحاظِ معنی ظنی ہے لہٰذا خبرِ واحد سے اس کی تخصیص ہو سکتی ہے۔
محقق علیٰ الاطلاق امام ابنِ ہمام نے اس استدلال پر ایک تو یہ اعتراض وارد فرمایا کہ ”ثلاثون“ کے لفظ سے تیس اور چوبیس دونوں معنیٰ مراد لینا حقیقت و مجاز کو جمع کرنا ہے دوسرے یہ کہ اسمائے عدد کی حیثیت علم کی ہوتی ہے اس لیے ایک مخصوص عدد سے دوسرا عدد بطورِ مجاز بھی مراد نہیں لیا جا سکتا، علامہ رحمتی نے تو دونوں کا واضح جواب دیا یہاں دو مبتدا ہیں وہ مذکور ہیں ایک کی خبر لفظ ثلاثون ہے جو مذکور ہے اور دوسرے مبتدا کی خبر دوسرا ثلاثون ہے جو یہاں مقدر ہے ایک ثلاثون سے معنیٰ حقیقی مراد ہے یعنی تیس اور دوسرے ثلاثون سے معنیٰ مجازی یعنی چوبیس امام احمد رضا نے جد الممتار باب الرضاع میں جو جواب دیا ہے وہ ایسا جامع ہے کہ استدلال پر وارد ہونے والے سارے اعتراضات دفع ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

"قولہ: فلا جمع فی لفظ واحد، اقول: علیٰ انا لا نقول بالتاویل اعنی ارادۃ اربعۃ وعشرین من ثلثین بل بالتخصیص، و ذلک ان الآیۃ ظنیۃ فجاز تخصیصہاعجز الواحد، وحينئذ يرتفع الايراد ان من راس"۔
(جدالممتار، ج:۲، ص:۸۲۸، المجمع الاسلامی مبارکپور)

”اقول پھر یہ کہ ہم تاویل کے قائل نہیں، یعنی یہ نہیں کہتے کہ ثلاثون (تیس) سے چوبیس مراد لیا گیا بلکہ ہم تخصیص کے قائل ہیں اور آیت بلحاظ معنی چونکہ ظنی ہے اس لیے خبر واحد سے اس کی تخصیص ہوسکتی ہے۔“
اس جواب سے علامہ ابن ہمام کے دونوں اعتراضات مندفع ہو جاتے ہیں۔ اس جواب سے فقہ کے اصول پر امام احمد رضا کی وسعت نظر اور کمال استحضار عیاں ہے۔

کیا تہجد کی تیاری کے لیے عشا کی جماعت اولیٰ ترک کرنی جائز ہے؟
اس سوال کے جواب میں اکابر دیوبند نے سخت ٹھوکر کھائی جب یہی سوال امام احمد رضا سے ہوا تو آپ نے اس کا حکم اصول و جزئیات سے ایسا مبرہن کیا کہ آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں اور دل سرور و انبساط سے بھر جاتا ہے جواب تو طویل ہے مگر یہاں جو اصولی گفتگو کی گئی ہے، فقیر صرف انھیں چند جملوں کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہے۔ وہ اپنے فتویٰ میں فرماتے ہیں:
عذر مذکور فی السوال سرے سے بیہودہ و سراپا اہمال ہے وہ زعم کرتا ہے کہ سنت تہجد کا حفظ و پاس اسے تفویت جماعت پر باعث ہوتا ہے اگر تہجد بروجہ سنت ادا کرتا تو وہ خود فوت واجب سے اس کی مخالفت کرتا نہ کہ الٹا فوت کا سبب ہوتا۔
بایں ہمہ اگر اس تقدیر ضائع و فرضِ خلافِ واقع کا مان لینا ہی ضرور تو جماعتِ اولیٰ پر تہجد کی ترجیح محض باطل و مہجور اگر حسب تصریح عامہ کتب تہجد مستحب وحسب اختیار جمہور مشائخ جماعت واجب مانیے جب تو ظاہر کہ واجب و مستحب کی کیا برابری نہ کہ اس کو اس پر تفصیل و برتری اور اگر تہجد میں اعلیٰ الاقوال کی طرف ترقی اور جماعت میں ادنیٰ الاحوال کی جانب تنزل کر کے دونوں کو سنت ہی مانیے تاہم تہجد کو جماعت سے کچھ نسبت نہیں جماعت برتقدیر سنیت بھی تمام سنن حتیٰ کہ سنت فجر سے بھی اہم و آکد وا عظم ہے ولہٰذا اگر امام کو نماز فجر میں پائے اور سمجھے کہ سنتیں پڑھے گا تو تشہد نہ ملے گا تو بالاجماع سنتیں ترک کر کے جماعت میں مل جائے۔
(فتاویٰ رضویہ ج سوم ص ۳۳۲-۳۳۰)

اصول فقہ کی کتابوں میں وجوہ فاسدہ کا ذکر ملتا ہے یہ وہ وجوہ ہوتے ہیں جو نصوص کی دلالت اربعہ کے علاوہ ہوتی ہیں، استدلال اگر عبارۃ النص، اشارۃ النص، دلالۃ النص یا اقتضاء النص سے ہے، جب تو وہ استدلال درست اور احناف کے نزدیک قابل قبول ہے، لیکن ان چار کے علاوہ کسی اور امر سے استدلال فاسد و ناقابل اعتبار ہے۔ ان میں سے ایک مطلق کو مقید پر محمول کرنے کی وجہ بھی شامل ہے یعنی مطلق کو علی الاطلاق مقید پر محمول کرنا حنفیوں کے نزدیک ایک وجہ فاسد ہے ہاں اگر حکم اور واقعہ ایک ہو تو حنفیوں کے نزدیک بھی مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا لیکن اس میں بھی تفصیل ہے جس کا ذکر عام کتابوں میں تو نہیں ملتا لیکن بعض علمائے اصولین کی عبارتوں میں غور کرنے سے واضح ہو جاتا ہے امام احمد رضا قدس سرہ کی دقت نظری تھی کہ ایسے مخفی نکات کو بھی وہ کلام علماء سے برآمد فرما لیتے ہیں اس کی ایک جھلک قربانی شدہ جانور کا مسئلہ ہے کہ اس کو کُلّاً یا بعضاً کسبِ زر کے لیے بیچنا ممنوع و ناجائز ہے اور اس کی اصل یہ حدیث پاک ہے جس میں رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”کلوا وادخروا وأتجروا“ کھاؤ اور ذخیرہ رکھو اور ثواب کا کام کرو۔ کارِ ثواب عام ہے جو تمام امور خیر کو شامل ہے خاص فقراء پر صدقہ کرنا مراد نہیں ہے۔
لیکن کوئی کہہ سکتا ہے یہ حدیث عام صدقہ خاص پر محمول ہے کیونکہ بخاری و مسلم وغیرہ کتب احادیث میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک حدیث میں اتجروا کے بجائے تصدقوا کا لفظ آیا ہے دونوں حدیثوں میں تطبیق کے لیے کیوں نہ لفظ اتجروا (ثواب کا کام کرو) کو صدقہ پر محمول کیا جائے کیونکہ اصول کا مسئلہ ہے کہ جب حکم اور حادثہ و واقعہ ایک ہو تو مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا اور مسئلہ دائرہ میں ایسا ہی ہے کہ دونوں حدیثوں میں حادثہ و واقعہ قربانی کے جانور کا ہے اور حکم بھی دونوں جگہ ایک ہی ہے فرق صرف یہ ہے کہ ابو داؤد شریف کی حدیث میں صدقہ کا حکم مطلق ہے اور صحیحین بخاری ومسلم کی حدیث میں صدقہ مقید کا لہذا ابو داؤد شریف والی حدیث میں بھی مطلق کو مقید پر محمول کرتے ہوئے صدقہ فقراء ہی مراد لیا جانا چاہیے۔

اس کے جواب میں امام احمد رضا نے اپنے رسالہ ”الصافية الموحيه لحكم جلود الاضحيه“ میں بڑی چشم کشا گفتگو فرمائی ہے، وہ فرماتے ہیں:
"قلت کلا فان الامر ههنا ليس للوجوب باجماع عامة علماء الامة منهم ساداتنا الائمة الاربعة رضى الله تعالى عنهم وقد نصوا في غير ما كتاب ان لو اكله كله ولم يتصدق بشئ منه لا شئ عليه ومعلوم ان الترخيص والترغيب في مقيد لاينافى الترغيب والترخيص في مطلق فلا معنى للحمل ولا داعي اليه وسر المقام ان الحمل عندنا ضروري لا يصار اليه الا لضرورة وهو ان يتمانعا بحيث لا يمكن العمل بهما اما حيث لا تمانع فنحن نجري المطلق على اطلاقه حملا للفظ على ظاهره وعملا بالدليل بتمامه، الى آخره"۔
(فتاوی رضویہ ج ہشتم ص ۴۹۶)

اس کا حاصل یہ ہے کہ جب حکم و حادثہ واقعہ ایک ہو تو مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا مگر یہ ضابطہ عام نہیں کہ واجب، مستحب، مباح سب کو شامل ہو بلکہ یہ صرف حکم وجوبی کے ساتھ خاص ہے کہ حکم وجوبی میں جب حکم و واقعہ متحد ہو تو اس وقت مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا نہ کہ احکام مستحبات وغیرہ میں اور قربانی کے مصرف کے سلسلہ میں جو حکم ہے وہ استحبابی ہے نہ کہ وجوبی اور اس پر عام علماء وائمہ اربعہ رضی اللہ عنہم کا اجماع ہے لہذا مسئلہ قربانی میں مطلق کو مطلق اور مقید کو مقید رکھا جائے گا مطلق کو مقید پر محمول کرنے کی ضرورت نہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایک حدیث میں ائتجاء یعنی کارِ ثواب میں صرف کرنے کی ترغیب دی ہے تو اس سے جمیع وجوہ خیر مراد لیں گے اور دوسری حدیث میں تصدق کا لفظ ارشاد ہوا ہے تو اس سے تصدق علی الفقراء مراد لیں گے یعنی مطلق مطلق رہے گا اور مقید مقید۔

اس میں نکتہ یہ ہے کہ علمائے احناف کے نزدیک مطلق کو مقید پر محمول کرنے کا حکم مجبوری وضروری کی صورت میں ہے، یعنی جب مطلق اور مقید دونوں کو اپنے اپنے محمل پر عمل کرنا ممکن نہ ہو اور جہاں ممکن ہو تو مطلق کو مقید پر محمول کرنے کی ضرورت نہیں۔ مجبوری کی صورت دونوں حکموں کا باہم متعارض ہونا ہے نہ کہ حکم و حادثہ کا متحد ہونا، یہی وجہ ہے کہ مطلق و مقید اگر اسباب کے بیان میں وارد ہوں تو مطلق کو مقید پر محمول نہیں کیا جا سکتا اس لیے کہ ایک شئی کے چند اسباب ہو سکتے ہیں لہذا تعارض نہیں تو حمل کی بھی ضرورت نہیں جیسا کہ توضیح وتلویح وغیرہ میں ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر ایک ہی حادثے میں ایک حکم میں مطلق کی نفی ہو اور دوسرے میں مقید کی نفی تو مطلق کو مقید پر محمول نہیں کیا جائے گا کہ ان دونوں میں تعارض نہیں اصل مراد دونوں کی نفی ہے۔

اعلیٰ حضرت قدس سرہ علامہ ابن ہمام کے حوالے سے فرماتے ہیں حادثہ واحدہ میں مطلق کو مقید پر محمول کرنے کا حکم بضرورت ہے اگر مطلق اور مقید کے حکم میں تعارض ہو تو مطلق کو مقید پر مجبوری کے تحت محمول کیا جائے گا جیسے اللہ تعالیٰ نے کفارہ قسم میں مطلق تین روزہ رکھنے کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا: صيام ثلاثة ايام۔ لیکن حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی قراءت میں ثلاثة ايام متتابعات یعنی پے در پے تین روزہ رکھے۔ یہاں حادثہ ایک ہے یعنی کفارہ کا روزہ اور دو متعارض حکم واجب کیا گیا اہل قرأت کے پہلی قرأت کی روشنی میں حکم یہ ہوگا کہ متفرق طور پر بھی روزہ رکھ لے تو کفارہ ادا ہو جائے گا اور حضرت ابن مسعود کی قرأت کا تقاضا یہ ہے کہ پے در پے تین روزہ رکھنا واجب ہے لہذا ان دونوں حکم وجوبی متعارض میں تطبیق کی ضرورت کے پیش نظر مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا۔ بحر العلوم ملا عبد العلی فرنگی محلی علیہ الرحمہ نے فواتح الرحموت میں۔ ملا محب اللہ بہاری علیہ الرحمہ کی مسلم الثبوت کی عبارت کی روشنی میں یہ صراحت فرمائی کہ مطلق کو مقید پر محمول کرنا احکام واجبہ کے ساتھ خاص ہے، احکام مستحبہ اور مباحہ کے ساتھ نہیں اس لیے کہ مطلق اور مقید دونوں کے مباح ہونے میں کوئی تعارض نہیں، البتہ احکام واجبہ میں تعارض ہے کہ مقید کا تقاضا یہ ہوگا کہ جس نے قید پر عمل چھوڑ دیا مجرم ہوا، اور مطلق کا تقاضا یہ ہوگا کہ کوئی جرم نہیں کیا، اسی دفع تعارض کے پیش نظر مطلق کو مقید پر محمول کیا جاتا ہے۔

لہٰذا جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حنفیوں کے نزدیک اتحادِ حکم و حادثہ ہو تو مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا، یہ علی الاطلاق درست نہیں کیونکہ حمل کا دار و مدار حادثہ واحدہ پر نہیں بلکہ تعارض پر ہے۔ اگر مطلق و مقید متعارض ہیں تو دفع تعارض کی ضرورت کے پیش نظر مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا، ورنہ نہیں۔
(الصافیۃ الموحیۃ مشمولہ فتاوی رضویہ، ج ہشتم، ص ۴۹۶ / ۴۹۷)

اس قسم کے اصولی افادات امام احمد رضا کی تحریروں خاص کر ان کے فتاویٰ میں جابجا ملتے ہیں جن سے اصولِ فقہ میں بھی ان کی غیر معمولی رسوخ و مہارت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور حق تو یہ ہے کہ فردِ واحد میں اتنے علوم و فنون کی مہارتِ خداداد شئ ہے، یہ صرف کسبی نہیں بلکہ وہبی و عطیہ ربانی ہے۔ فی الحال بڑی عجلت میں یہ چند افادات نذرِ قارئین کر دیے گئے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ فرصت ملی تو اس موضوع پر طویل مقالہ تحریر کیا جائے گا جو امام احمد رضا قدس سرہ کے بیان کردہ فقہی اصول کے کثیر افادات پر مشتمل ہوگا۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!