Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور علم اصول فقہ (قسط ہشتم)

امام احمد رضا اور علم اصول فقہ (قسط ہشتم)
عنوان: امام احمد رضا اور علم اصول فقہ (قسط ہشتم)
تحریر: حضرت مولانا مفتی محمد شمشاد حسین بدایونی
پیش کش: صبرین فاطمہ رضویہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

اصولِ افتاء سے متعلق امام احمد رضا کے افادات:

ماضی قریب میں حنفی فقہ و افتاء اور ان کے اصول کو نئی جلا بخشنے والوں میں امام احمد رضا کا نام سرِ فہرست آتا ہے، جنہوں نے امام الائمہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مسلکِ مہذب کو اردو اور عربی زبان میں اپنی کتب و رسائل و فتاویٰ و تعلیقات کے ذریعہ ایسا منقح فرمایا کہ آنے والی کئی صدی تک کے لیے مسلکِ حنفیت کے متبعین کو رسمِ افتاء اور فقہ و اصول کے اکثر ابواب کے حل سے بے نیاز کر دیا۔ اصولِ افتاء بھی ایک طویل الذیل موضوع ہے لیکن ہم یہاں اجمال و اختصار کے ساتھ امام احمد رضا کے چند افادات کا ذکر کر رہے ہیں۔

افتاء کا معنیٰ و مفہوم:

امام احمد رضا نے افتاء کا مفہوم ان الفاظ میں بیان فرمایا:
"انما الافتاء ان تعتمد علی شئ و تبین لسائلک ان هذا حکم الشرع فی ما سئلت"

افتاء کے معنیٰ یہ ہیں کہ ہم کسی چیز پر اعتماد کریں اور سائل کو بتائیں کہ تم نے جو سوال کیا ہے اس میں شرع کا یہ حکم ہے۔ حکمِ شرع پر جزم کے متعدد طریقے ہیں۔ جن میں سے ایک طریقہ افتاء کے اصول کو مدنظر رکھنا بھی ہے۔ اور اسی کا بیان یہاں مقصود ہے متقدمین فقہاء واصولیین نے فتویٰ دینے کے لیے درجہ اجتہاد پر فائز ہونا شرط قرار دیا ہے کیوں کہ جب تک فتویٰ دینے والے کو حکم کی دلیل کا علم نہ ہواسے فتویٰ دینے کی اجازت نہیں۔ لیکن کیا اس زمانے میں بھی یہ شرط ہے؟ امام احمد رضا اس کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

میں کہتا ہوں یہ شرطِ عصام کے زمانے میں تھی اب ہمارے زمانے میں صرف امام ابو حنیفہ کے اقوال کو یاد کر لینا کافی ہے جیسا کہ قنیہ وغیرہ میں ہے، امام کے قول پر فتویٰ دینا حلال بلکہ واجب ہے اگرچہ اس کی دلیل معلوم نہ ہو۔
(فتاویٰ رضویہ، جدید ۱ / ۹۸)

مزید اس کی توضیح کرتے ہوئے رقم فرماتے ہیں:
فتویٰ کی دو قسمیں ہیں، عرفی اور حقیقی، حقیقی یہ ہے کہ دلیلِ تفصیلی کی معرفت کے بعد فتویٰ دیا جائے یہی وہ لوگ ہیں جن کو اصحابِ فتویٰ کہا جاتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے۔ یہی فتویٰ دیا ہے۔ فقیہ ابو جعفر اور فقیہ ابو اللیث اور ان کے امثال نے۔ عرفی فتویٰ یہ ہے کہ عالم لوگوں کو اقوال بتا دے، وہ خود دلیل کو نہ جانتا ہو محض تقلید کے طور پر ایسا کرے، جیسے کہا جاتا ہے کہ فتاویٰ ابن نجیم، غزی، طوری، اور فتاویٰ خیریہ وغیرہ اور بعد کے زمانے میں فتاویٰ رضویہ ہے۔
(اجلی الاعلام فتاویٰ رضویہ ۱ / ۱۰۹)

بحث و گفتگو کے بعد بطورِ نتیجہ ارشاد فرمایا:
حاصلِ کلام یہ ہے کہ طبعِ سلیم جو انصاف سے کہتی ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں مفتی کا کام صرف یہ ہے کہ جو ہمارے مشائخ نے لکھا ہے اس کو نقل کر دے۔
(ایضاً ۱/۱۰۱)

مجتہد کے لیے دلیل شرعی اصول اربعہ ہیں، اور ہمارے لیے قولِ مجتہد۔ صرف ایسی ہی جگہ علماء کرام بالجرام لکھتے ہیں۔ اس کے سوا اگر کسی عالم مجتہد نے کسی امر کی بحث کی تو ہرگز اس مسئلے کو یونہی نہیں لکھ جاتے کہ حکم یہ ہے، صراحتہً بتاتے ہیں کہ یہ فلاں یا بعض کی بحث ہے، تاکہ منقول فی المذہب نہ معلوم ہو، اور جس کا خیال ہے اس کے ذمہ ہے۔
(فتاویٰ رضویہ ۸/۴۱۷)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!