Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم|انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف

امام احمد رضا اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم
عنوان: امام احمد رضا اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم
تحریر: انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

تاریخِ اسلام کا ہر دور کچھ ایسی شخصیات سے ضرور مزین رہا ہے جنہوں نے فتنوں کے اندھیروں میں چراغ بن کر امت کو روشنی عطا کی۔ جب علم مٹنے لگے، فکر منتشر ہونے لگے، اور باطل نظریے سراٹھانے لگیں تو ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ اپنے کچھ چنیدہ بندوں کو ظاہر فرماتا ہے جو اپنے علم، حلم، اخلاص، استقامت اور سب سے بڑھ کر عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دنیا کو دین کی اصل راہ پر واپس لے آتے ہیں۔

اسی طرح برصغیر کے پُرفتن دور میں، جب دین پر حملے مختلف محاذوں سے ہو رہے تھے—سیاسی غلامی، ثقافتی یلغار، مذہبی گمراہی، اور فکری ابتری اپنے عروج پر تھی—ایسے وقت میں ایک نورانی شخصیت علم و عمل کا مینار بن کر اُبھری۔ وہ شخصیت نہ صرف مجددِ وقت تھی بلکہ ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت جنہوں نے علم کے ساتھ عشق کو جوڑا، فقہ کے ساتھ وفا کو، اور شریعت کے ساتھ شعلۂ محبت کو۔ ان کی زندگی صرف کتابوں کی ورق گردانی نہ تھی، بلکہ ہر لفظ، ہر عمل اور ہر سانس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے معمور تھا۔ ان کے قلم سے جو نکلا، وہ علم بھی تھا اور عشق بھی۔ ان کی زبان سے جو نکلا، وہ شریعت کی ترجمانی بھی تھی اور درِ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم پر نالہ و فریاد بھی۔

وہ جلیل القدر ہستی ایک روشن ستارہ، ایک بے مثل عالمِ دین، ایک عظیم فقیہ اور محقق، مجددِ ملت، استقامت کے پہاڑ، اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علمبردار حضرت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کی ذاتِ گرامی ہے۔ جنہوں نے اپنی عبقری فقہی بصیرت، علومِ قرآن و سنت میں کامل مہارت، اور گہرے دینی شعور کی بدولت مختصر عمر میں ایک ہزار سے زائد علمی و تحقیقی کتب تصنیف فرمائیں۔

علمی جلالت اور حق گوئی

امام احمد رضا ایک ایسی ہستی کا نام ہے کہ جن کی خدمتِ علمی میں بڑے بڑے علما و مشائخ نے زانوئے ادب تہہ کیے، لیکن آپ کبھی کسی دولت مند یا صاحبِ اقتدار کے سامنے خم نہ ہوئے۔ وہ علم کا وہ بلند مینار تھے جس سے ٹکرانا گویا اپنے انجام کو دعوت دینا تھا۔ ان کی زندگی کو جس پہلو سے دیکھا جائے، اخلاص، للہیت، دینی غیرت، شریعت پر مضبوطی، سادگی، تواضع اور فقیرانہ جاہ و جلال کی جھلک ہر لمحے جھلکتی ہے۔ آپ نے اپنی تمام تر توانائیاں دین کی خدمت، حق گوئی، تقویٰ اور تبلیغِ اسلام میں صرف کر دیں۔

آپ نے معاشرتی و فکری فتنوں اور گمراہیوں کے خلاف علم و حکمت اور دلائلِ شرعیہ سے سخت مزاحمت کی۔ خصوصاً شریعتِ مطہرہ کے دفاع میں ہمیشہ صفِ اول میں رہے۔ گستاخانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلہ کرنا آپ کا فطری جذبہ تھا۔ آپ کی علمی عظمت کا اعتراف نہ صرف برصغیر بلکہ عالمِ اسلام کے طول و عرض میں کیا گیا۔ باوجود اس کے کہ آپ کے ہم عصر علمائے کرام میں ایک سے ایک درخشاں علمی شخصیت موجود تھی، مگر بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جو مقام و مرتبہ امام احمد رضا کو حاصل ہوا، وہ کسی اور کے حصے میں نہ آیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم رب کے ہاں شرفِ قبولیت پا چکا تھا۔

امام احمد رضا خان نے کبھی شہرت یا دنیاوی مفاد کے لیے کام نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ اسلام کے جھنڈے کو بلند کرنے اور رضائے الٰہی و خوشنودیٔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سرگرم عمل رہے۔ ان کے قلبِ مقدس کی صدا ہمیشہ یہی رہی:

کام وہ لے لیجیے تم کو جو راضی کرے
ٹھیک ہو نام رضا تم پہ کروڑوں درود

باطل فرقوں کے باطل نظریات کا نہایت مؤثر اور محققانہ ردّ فرمایا، اور حق و صداقت کی علمبرداری میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج پورے برصغیر میں “اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ” کی صدائیں بلند ہیں، اور یہ اعلیٰ حضرت کی پرخلوص خدمات کا فیض ہے۔ آپ کی فقہی عظمت کا شاہکار “فتاویٰ رضویہ” ہے، جو بارہ ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے اور آج بھی علمائے اسلام اور مفتیانِ کرام کے لیے باعثِ افتخار و اعتماد ہے۔

آپ کا سورجِ علم و معرفت کل بھی آسمانِ حقیقت پر درخشاں تھا، آج بھی تابندہ ہے، اور ان شاء اللہ تاقیامت درخشاں و تابندہ رہے گا:

رہے گا یوں ہی ان کا چرچا رہے گا
پڑے خاک ہو جائیں جل جانے والے

حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ 14 جون 1856ء مطابق 10 شوال المکرم 1272ھ کو پیدا ہوئے اور 25 صفر المظفر 1340ھ، مطابق نومبر 1921ء کو وصال فرما گئے۔

عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی انمول دولت

امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی شخصیت کو جہاں ان کی علمی و فقہی عظمتوں کے آئینے میں دیکھا جاتا ہے، وہیں آپ کی سیرت کا سب سے تابندہ اور درخشندہ پہلو “عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم” ہے۔ یہ وصف آپ کی ذاتِ گرامی کا مرکز و محور تھا، جس کی بدولت آپ کو وہ مقام حاصل ہوا جو بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔

اگرچہ آپ نے بے شمار علوم و فنون پر کتب اور فتاویٰ تحریر فرمائے، لیکن آپ کا عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی تمام تر علمی و فکری خدمات پر غالب نظر آتا ہے۔ یہ عشق صرف زبانی دعوے تک محدود نہ تھا، بلکہ آپ کا قلب و روح، شعور و وجدان، اور ظاہر و باطن اسی عشق میں ڈوبا ہوا تھا۔ امام احمد رضا کی روحانی پرواز اتنی بلند تھی کہ ان کا جسم ہندوستان میں ہوتا، مگر ان کی روح دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاکساری میں مصروف رہتی۔

عشقِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت آپ کی نعتیہ شاعری، فقہی تحقیقات، اور فتاویٰ میں واضح نظر آتی ہے۔ آپ نے مدینہ منورہ کی گلیوں، اس کی خاک، ہواؤں، صبح و شام، خار و گل، سب کو اپنی محبوبیت کا مرکز سمجھا۔ آپ کے نزدیک مدینہ کے سگان کو بھی دارا و سکندر کی حکومتوں پر فوقیت حاصل تھی۔ مدینہ کے ذراتِ خاک ان کے نزدیک تخت و تاج سے کہیں بلند مرتبہ رکھتے تھے۔

امام احمد رضا خان کا یہ عالمِ عشق صرف مسلمانوں تک محدود نہ رہا، بلکہ غیر مسلم اور دیگر مسالک کے اہلِ علم بھی ان کے عشقِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ کے نزدیک دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں جھوٹے جذبات، مصنوعی دعوے، اور بے اصل نظریات کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ آپ خود کو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہر حال میں حاضر و ناظر تصور کرتے تھے۔

بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں مقبولیت

امام عبدالوہاب شعرانی نے “مِيزَانُ الشَّرِيعَةِ الْكُبْرَىٰ” میں علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ کے متعلق لکھا ہے کہ انہیں بیداری میں 75 بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ امام احمد رضا کو بھی خواب میں بارہا زیارت کا شرف نصیب ہوا۔ ایک بار دوسری حج کے موقع پر روضۂ انور پر حاضری ہوئی، لیکن مواجہہ شریف میں پہنچنے کے باوجود دیدار نصیب نہ ہوا۔ افسردگی کے عالم میں نعت کہی:

وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں

اور مقطع میں اپنے غم و فخر کو یوں بیان کیا:

کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضا
تجھ سے کتے ہزار پھرتے ہیں

یہ نعت دربارِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش کی، اور دل کی گہرائی سے شوقِ دیدار لیے منتظر رہے، یہاں تک کہ عالمِ بیداری میں زیارتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نصیب ہوئی۔ یہ منظر امام احمد رضا کے عشقِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، ان کے عرفان، اور بارگاہِ رسالت میں مقبولیت کی زبردست دلیل ہے۔ ایک شامی ولی نے خواب میں مشاہدہ کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم امام احمد رضا کے جنازے کے منتظر ہیں۔

اعلیٰ حضرت اپنے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کسوٹی پر شخصیات کے مقام و مرتبے کو پرکھتے تھے۔ جتنا زیادہ کسی میں عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہوتا، آپ کی نگاہ میں اس کا رتبہ بھی اتنا ہی بلند ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ عوام و خواص نے آپ سے سیکھا کہ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہوتا ہے، اور کیسے زندگی کو اس کی روشنی میں ڈھالا جاتا ہے۔

اکابرین کے تاثرات

  1. حضرت مفتی سید حامد علی جیلانی دہلوی لکھتے ہیں: “وہ فاضل بریلوی فنا فی الرسول کریم تھے، اپنے محبوب کی شان میں ادنیٰ گستاخی بھی برداشت نہ کرتے۔”

  2. حضرت محمد ابراہیم فاروقی مجددی (شور بازار، کابل) فرماتے ہیں: “مولانا امام احمد رضا خان قادری، حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقِ صادق تھے۔ ان کا دل عشقِ محمدی کے سوز سے معمور تھا، ان کا نعتیہ کلام مسلمانوں کے دلوں میں عشقِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی مشعل روشن کرتا ہے۔”

  3. حضرت صاحبزادہ ہارون رشید (دربارِ موہڑہ شریف) رقم طراز ہیں: “اعلیٰ حضرت کا ہر قول و فعل عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لبریز تھا، گویا انہیں آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشاق کے لیے مینارِ ہدایت بنایا گیا ہے۔”

واقعی، امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ نے عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو دین کا مرکز قرار دیا اور امت کو یہی سکھایا کہ اصل سرمایہ یہی ہے، اور کامیابی اسی میں ہے۔

ڈال دی قلب میں عظمتِ مصطفیٰ
سیدی اعلیٰ حضرت پہ لاکھوں سلام

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!