Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا خان بریلوی اور ترجمہ قرآن

امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اور ترجمہ قرآن (قسط آخر)
عنوان: امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اور ترجمہ قرآن (قسط آخر)
تحریر: علامہ ڈاکٹر زرقانی قادری
پیش کش: مصباح صدف
منجانب: مدرسۃ الفاطمہ قادریہ للبنات گلبرگہ شریف


ج: سورہ مدثر کی یہ آیات دیکھیے:

"يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (1) قُمْ فَأَنْذِرْ (2) وَرَبَّكَ فَکَبِّرْ (3) وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ (4) وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ (5) وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ (6) وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ" (قرآن کریم، سورہ مدثر، آیات: ۱ تا ۷)

اے بالا پوش اوڑھنے والے۔ کھڑے ہو جاؤ۔ اور اپنے رب ہی کی بڑائی بولو۔ اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔ اور بتوں سے دور رہو۔ اور زیادہ لینے کی نیت سے کسی پر احسان نہ کرو۔ اور اپنے رب کے لیے صبر کیے رہو۔ (کنز الایمان، ص: ۸۳۷)

د: سورہ واللیل کی یہ آیت کریمہ پڑھیے:

"وَٱلَّيۡلِ إِذَا يَغۡشَىٰ (1) وَٱلنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ (2) وَمَا خَلَقَ ٱلذَّکَرَ وَٱلۡأُنثَىٰٓ (3) إِنَّ سَعۡيَکُمۡ Lَشَتَّىٰ" (قرآن کریم، سورہ واللیل، آیات: ۱ تا ۴)

اور رات کی قسم جب چھائے۔ اور دن کی قسم جب چمکے۔ اور اس کی قسم جس نے نر و مادہ بنائے ۔ بے شک تمہاری کوشش مختلف ہے۔ (کنز الایمان، ص: ۸۶۸)

اگر خوفِ طوالت دامن گیر نہ ہوتا تو اس طرح کی دسیوں مثالیں پیش کی جا سکتی تھیں، جن سے یہ حقیقت دوپہر کی دھوپ کی طرح عیاں ہو جاتی کہ فاضلِ بریلوی رضی اللہ عنہ نے صوتی نغمگی پر مشتمل آیاتِ قرآنیہ کے ترجمے میں کوشش کی ہے کہ حسن و ترنم کسی حد تک قائم رہ جائے۔ اس طرح انہوں نے ایک جانب مفہومِ قرآن کی وضاحت بھی کر دی اور دوسری جانب دلوں میں کیف و سرور پیدا کرنے والے مترجم اسلوب کے تقاضے بھی سلامت رکھے۔

اختصار و جامعیت

زبان و بیان کی نزاکتوں کے پیمانے متعین کرتے ہوئے اہلِ عرب یہ کہتے ہیں کہ "خیر الكلام ماقل ودل" یعنی سب سے بہترین بیان وہ ہے، جو مختصر بھی ہو اور جامع بھی۔ اس حوالے سے کنز الایمان پر ویسے تو بہتوں نے روشنی ڈالی ہے، تاہم والدِ گرامی علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ نے جس انداز میں سیر حاصل بحث کی ہے، وہ انہیں کا حصہ ہے۔ جی چاہتا ہے کہ حصولِ خیر و برکت کے لیے بھی اور اس لیے بھی کہ گو وہ ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن ان کے علمی فیضان کی جھلک کسی طرح "پیغامِ شریعت" کے مصنفِ اعظم نمبر میں شامل ہو جائے، تو میرے خیال میں یہ قبر میں ان کے لیے سامانِ فرحت و انبساط بن جائے گا کہ بریلی کی جس ذاتِ گرامی کے دینی سرمایہ کے تحفظ کے لیے ساری زندگی وہ جد و جہد کرتے رہے، وصال کے بعد بھی ان کی بارگاہ میں خراجِ عقیدت پیش کرنے کی ایک سبیل نکل آئی ہے۔

والدِ گرامی علیہ الرحمہ نے یہ مقالہ کراچی میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی امام احمد رضا کانفرنس میں پڑھا تھا۔ آپ لکھتے ہیں:

"اس رخ سے اب تک کنز الایمان کے محاسن کا جائزہ نہیں لیا گیا تھا، آج پہلی بار میں اس رخ سے نقاب اٹھا رہا ہوں۔ آنے والی مثالوں سے آپ اچھی طرح اندازہ لگا لیں گے کہ امام احمد رضا فاضلِ بریلوی کو تعبیر پر حیرت انگیز قدرت کے ساتھ ساتھ ایجاز کے فن میں بھی کتنی دسترس حاصل ہے۔ اس سلسلے میں کنز الایمان سے ہم نے پچیس آیتوں کا انتخاب کیا ہے، جن میں امام احمد رضا فاضلِ بریلوی کے ترجمے کے ساتھ مولانا تھانوی کے ترجمے کا بھی ایک تقابلی خاکہ پیش کیا ہے تاکہ آپ اس آئینے میں امام احمد رضا کے خداداد ہنر کا جلوہ دیکھ سکیں۔" (تجلیاتِ رضا، ص: ۵۴)

خیال رہے کہ مصنفِ اعظم نمبر کے صفحات محدود ہیں، لہذا یہ مناسب نہیں کہ تمام پچیس مثالیں یہاں پیش کی جا سکیں، اس لیے متذکرہ محاسن کی ایک جھلک دکھانے کے لیے صرف پانچ مثالیں پیش کر رہا ہوں ۔ جو لوگ مزید مثالیں دیکھنا چاہیں، ان سے درخواست ہے کہ وہ والدِ گرامی قائدِ اہل سنّت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کا مقالہ پڑھنے کی سعادت حاصل کریں، جو میری ترتیب شدہ کتاب "تجلیاتِ رضا" میں شامل ہے۔

حروف کی تعداد (تقابلی جائزہ)

۱۔ "أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ" (قرآن کریم، سورہ بقرہ، آیت: ۲۷)
ترجمۂ رضویہ: وہی نقصان میں ہیں۔ (۱۴ حروف)
ترجمۂ تھانویہ: پس یہی لوگ پورے خسارے میں پڑنے والے ہیں۔ (۳۶ حروف)

۲۔ "وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ" (قرآن کریم، سورہ بقرہ، آیت: ۱۵۷)
ترجمۂ رضویہ: اور یہی لوگ راہ پر ہیں۔ (۱۷ حروف)
ترجمۂ تھانویہ: اور یہی لوگ ہیں، جن کی حقیقت تک رسائی ہوگئی۔ (۳۳ حروف)

۳۔ "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ" (قرآن کریم، سورہ بقرہ، آیت: ۱۵۳)
ترجمۂ رضویہ: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو۔ (۳۰ حروف)
ترجمۂ تھانویہ: اے ایمان والو صبر اور نماز سے سہارا حاصل کرو۔ (۳۵ حروف)

۴۔ "وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ" (قرآن کریم، سورہ بقرہ، آیت: ۲۱۲)
ترجمۂ رضویہ: اور خدا جسے چاہے بے گنتی دے۔ (۲۱ حروف)
ترجمۂ تھانویہ: اور رزق تو اللہ تعالیٰ جسے چاہتے ہیں بے اندازہ دیتے ہیں۔ (۴۳ حروف)

۵۔ "وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ" (قرآن کریم، سورہ بقرہ، آیت: ۲۱۳)
ترجمۂ رضویہ: اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے۔ (۲۸ حروف)
ترجمۂ تھانویہ: اور اللہ جس کو چاہتے ہیں راہِ راست بتاتے ہیں۔ (۳۴ حروف)

آپ محسوس کر رہے ہیں کہ فاضلِ بریلوی رضی اللہ عنہ نے نہایت ہی مختصر کلمات میں ترجمہ کیا ہے، تاہم اس کے باوجود مفہومِ قرآن آفتابِ نیم روز کی طرح پورے طور پر اجالے میں آگیا ہے۔ اسے کہتے ہیں تعبیر و بیان پر خداداد قدرت و صلاحیت، جس کے سہارے فاضلِ بریلوی رضی اللہ عنہ پورے ترجمۂ قرآن میں عرفان و آگہی، علم و حکمت اور فکر و تدبر کے موتی لٹاتے رہے۔

معنویت و مقصدیت

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نزولِ قرآنِ کریم کا اولین نشانہ ہی یہ ہے کہ دنیا و آخرت کی واقعی حقیقت سے لوگوں کو روشناس کرا دیا جائے، تاکہ وہ اپنے خالقِ حقیقی سے اچھی طرح واقف ہو جائیں اور اس کے احکامات کی روشنی میں شب و روز گزاریں۔ اس طرح آپ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کریم کی ہر ایک آیت سے مطلوب یہ ہے کہ معنویت و مقصدیت پورے طور پر واضح ہو جائے۔

اب ذرا آئیے، اس پس منظر میں کنز الایمان پر ایک اچٹتی ہوئی نگاہ ڈال لیتے ہیں۔

سورہ بقرہ کی ابتدا میں اللہ رب العزت فرماتا ہے: "ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ" (قرآن کریم، سورہ بقرہ، آیت: ۲)

یہاں "ذلک الکتاب" کا ترجمہ کچھ اردو مترجمین نے "وہ کتاب" کیا ہے۔ جیسے محدثِ اعظم کچھوچھوی سید احمد علیہ الرحمہ ترجمہ کرتے ہیں: "وہ کتاب کسی قسم کا شک نہیں جس میں" (معارف القرآن، محدث اعظم کچھوچھوی، ص: ۳، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، پاکستان)

یہ درست ہے کہ لفظِ 'ذلک' ایک ضابطۂ عربی کے مطابق اشارۂ بعید کے لیے ہے، جس کا مفہوم ہے 'وہ'۔ یہی وجہ ہے کہ عام اردو مترجمین نے اس آیتِ کریمہ کا ترجمہ کرتے ہوئے "وہ کتاب" لکھا ہے، جو لغت کی روشنی میں غلط نہیں ہے، تاہم یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اس سے مراد قرآنِ کریم ہے اور وہ دور بھی نہیں، بلکہ نہایت ہی قریب ہے، تو پھر اس کا استعمال کیوں کر درست ہو سکتا ہے؟

اس بدیہی اعتراض سے بچنے کے لیے بعض اردو مترجمین نے اس کا ترجمہ "اس کتاب" یا "یہ کتاب" کیا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ کیجیے:

مولوی ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں: "یہ اللہ کی کتاب ہے اس میں کوئی شک نہیں" (تفہیم القرآن، ج: ۱، ص: ۴۹)
مولوی محمود الحسن ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "اس کتاب میں کچھ شک نہیں" (تفسیرِ عثمانی، ص: ۳)
مولوی اشرف علی تھانوی کہتے ہیں: "یہ کتاب ایسی ہے، جس میں کوئی شک نہیں" (بیان القرآن، ص: ۳)

توجہ رہے کہ خواہ "وہ کتاب" کہیے یا "یہ کتاب"، دونوں صورتوں میں قباحت لازم آتی ہے؛ پہلی صورت میں لغت کے اعتبار سے کوئی نقص نہیں، تاہم معنوی مراد میں جوڑ دکھائی نہیں دیتا، جبکہ دوسری صورت لغت کے مفہوم و معنی سے صریح متصادم ہے۔ یہاں پہنچ کر بارگاہِ فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ میں سجودِ نیاز لٹانے کو جی چاہتا ہے کہ آپ نے ایسی درمیانی راہ نکالی ہے، جس سے دونوں قباحتیں دور ہو جاتی ہیں۔ یقین نہیں آتا تو عبقریتِ رضا کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیے، آپ ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"وہ بلند رتبہ کتاب کوئی شک کی جگہ نہیں" (کنز الایمان، ص: ۳)

سورہ بقرہ کی یہ آیت ملاحظہ کیجیے: "إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ" (قرآن کریم، سورہ بقرہ، آیت: ۶)

مولوی اشرف علی تھانوی نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے: "بے شک جو کافر ہو چکے ہوں، برابر ہے ان کے حق میں خواہ آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، وہ ایمان نہیں لائیں گے" (بیان القرآن، ص: ۴)
مولوی ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں: "جن لوگوں نے ان باتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ان کے لیے یکساں ہے خواہ تم acrobat انہیں خبردار کرو یا نہ کرو، بہرحال وہ ماننے والے نہیں ہیں" (تفہیم القرآن، ج: ۱، ص: ۵۲)
مولوی فتح محمد جالندھری کہتے ہیں: "جو لوگ کافر ہیں، انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو، ان کے لیے برابر ہے، وہ ایمان نہیں لانے کے" (ترجمہ قرآن، ص: ۲، تاج کمپنی، کراچی)

آپ ماتھے کی آنکھ سے مشاہدہ کر رہے ہیں کہ متذکرہ مترجمین نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں، اس کا نچوڑ یہ ہے کہ کافروں کو خبردار کیا جائے یا نہ کیا جائے، وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ کافر پیغامِ اسلام کو قبول نہیں کریں گے، جبکہ ہم آئے دن دیکھتے ہیں کہ لوگ دعوتِ اسلام کے نتیجے میں حلقۂ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ اندازہ لگائیے کہ متذکرہ ترجمہ کے نتیجے میں قرآن پر کس قدر صریح تضاد لازم آ رہا ہے۔ اور پھر یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ جب دعوتِ اسلام کے نتیجے میں کفار صراطِ مستقیم سے آشنا ہو ہی نہیں سکتے، تو پھر پیغمبرِ اسلام کی آمد کیوں ہو رہی ہے اور کیوں ہم پر پیغامِ اسلام کی نشر و اشاعت کی ذمہ داری ڈالی جا رہی ہے؟

اب آئیے ذرا فاضلِ بریلوی رضی اللہ عنہ کی زبانی سنتے ہیں:

"بے شک وہ جن کی قسمت میں کفر ہے، انہیں برابر ہے چاہے تم انہیں ڈراؤ یا نہ ڈراؤ، وہ ایمان لانے کے نہیں" (کنز الایمان، ص: ۵)

دل پر ہاتھ رکھ کر غور کیجیے کہ فاضلِ بریلوی رضی اللہ عنہ کے ترجمہ کے بعد دونوں اعتراضات ہوا ہو گئے، نہ تو کروڑوں خوش نصیبوں کے حلقۂ اسلام میں داخل ہونے کی وجہ سے قرآنِ کریم کی تکذیب لازم آئی اور نہ ہی دعوت و تبلیغ کے نظام پر کوئی حرف آیا۔ جو لوگ مشرف بہ اسلام ہو گئے، وہ اس لیے کہ ان کی قسمت میں کفر پر مرنا نہیں تھا اور جو ہزار فہمائش و نصیحت کے باوجود نورِ اسلام سے اپنے دلوں کو منور نہ کر سکے، وہ اس لیے کہ ان کی قسمت میں کفر و ضلالت کا اندھیرا ہی تھا۔

سورۃ الاعلیٰ کی یہ آیتِ کریمہ دیکھیے: "وَالَّذِي أَخْرَجَ الْمَرْعَىٰ ، فَجَعَلَهُ غُثَاءً أَحْوَىٰ" (قرآن کریم، سورہ اعلیٰ، آیات: ۴-۵)

مولوی امین احسن اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں: "اور جس نے نباتات اگائیں، پھر ان کو گھنی سرسبز و شاداب بنا دیا" (تدبرِ قرآن، ج: ۹، ص: ۳۱۱)۔ پھر اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ "غثاء احوى کا ترجمہ عام طور پر لوگوں نے کالا کوڑا یا سیاہ و خس و خاشاک کیا ہے لیکن عربی میں غثاء تو بے شک جھاگ اور خس و خاشاک کے معنی میں بھی آتا ہے لیکن احوی ہرگز ان سیاہی کے لیے نہیں آتا جو کسی شئی میں اس کی کہنگی، بوسیدگی اور پامالی کے سبب سے پیدا ہوتی ہے، بلکہ یہ اس سیاہی مائل سرخی یا سبزی کے لیے آتا ہے جو کسی شئی پر اس کی تازگی، شادابی، زرخیزی اور جوشِ نمو کے سبب سے نمایاں ہوتی ہے" (نفسِ مصدر)
مولوی شاہ رفیع الدین دہلوی کہتے ہیں: "اور جس نے نکالا چارہ پس کر دیا اس کو کوڑا سیاہ" (رفیع الشان، ص: ۷۱۹)
مولوی نواب وحید الزماں لکھتے ہیں: "اور جس نے جانوروں کے لیے چارہ نکالا پھر اس کو سکھا کر کوڑا بنا دیا کالا کر دیا" (تبویب القرآن، ص: ۶۱۶)
مولوی عبد الماجد دریا بادی کہتے ہیں: "اور جس نے چارہ زمین سے نکالا پھر اسے سیاہ کوڑا کر دیا" (ترجمہ قرآن، ص: ۵۰۵)

امہاتِ تفاسیر پر نگاہ رکھنے والوں سے یہ حقیقت چھپی نہیں رہتی کہ متذکرہ بالا آیات سے مقصود جانوروں کے لیے خشک غذا کی فراہمی ہے، جبکہ پہلے ترجمہ سے یہ مفہوم ظاہر ہی نہیں ہو رہا ہے۔ رہے دوسرے ترجمے، تو گو کہ ان سے مدعائے سخن کی کسی حد تک وضاحت ہو رہی ہے، تاہم تعبیر کے لیے نہایت ہی بازاری زبان استعمال کی گئی ہے۔ کیا یہ بھی کہنے کی بات ہے کہ ایک دوسرے کے لیے "کوڑا کر دیا" جیسے جملے ہماری تہذیب میں ادب و احترام سے گرے ہوئے سمجھے جاتے ہیں، چہ جائے کہ اس کی نسبت خالقِ کائنات کی طرف کی جائے!

اب آئیے اور فاضلِ بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خوبصورت تعبیر میں اسے سنتے ہیں:

"اور جس نے چارہ نکالا پھر اسے خشک سیاہ کر دیا" (کنز الایمان، ص: ۸۶۲)

آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہاں سیاق و سباق کی رعایت بھی ہے، شانِ الوہیت کا پاس بھی، فکر و نظر کی گہرائی بھی اور خیال کی بلندی بھی اور اسلوبِ بیان کی چاشنی بھی اور زبان کی برجستگی بھی۔

سورہ جن کی یہ آیتِ کریمہ دیکھیے: "فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا" (قرآن کریم، سورہ جن, آیت: ۱۸)

متذکرہ آیتِ کریمہ میں 'تدعوا' کا مادہ 'دعا يدعو' ہے، جس کے لغوی معنی عبادت کرنے کے भी آتے ہیں اور ایک دوسرے کو پکارنے کے بھی، تاہم اکثر مترجمین نے یہاں پر "پکارنے" کا لفظ استعمال کیا ہے، جو لغوی اعتبار سے بھلے ہی درست کہا جا سکتا ہے، تاہم سیاق و سباق اور معنوی اعتبار سے بہت ہی بے جوڑ ہے۔

مثال کے طور پر مولوی محمود الحسن لکھتے ہیں: "سو مت پکارو اللہ کے ساتھ کسی کو" (ترجمہ قرآن، ص: ۷۶۰)
مولوی شاہ رفیع الدین لکھتے ہیں: "پس مت پکارو ساتھ اللہ کے کسی کو" (ترجمہ قرآن، ص: ۶۹۲)

آپ غور کریں تو محسوس ہوگا کہ یہاں پر لفظ "پکارنے" کی تعبیر سے بات ناقابلِ فہم ہوگئی ہے، اس لیے کہ کسی کو پکارنا اسلامی شریعت کی روشنی میں غلط نہیں ہے۔ ہم آئے دن ایک دوسرے کو پکارتے رہتے ہیں اور روئے زمین کا بڑے سے بڑا عالم بھی اسے ناجائز و حرام نہیں کہتا۔ پھر کسی کو پکارنا علیحدہ ہو، یا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو، بہرحال کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ کیا ہم یہ نہیں کہتے کہ "خدارا خالد میری بات سنو"؛ اب یہاں دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خالد کو بھی پکارا جا رہا ہے اور یہ تعبیر بھی ناجائز و حرام نہیں ہے۔

اب ذرا سیاق و سباق پر غور کریں تو سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ یہاں 'تدعوا' سے مراد پکارنا نہیں ہے، بلکہ عبادت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فاضلِ بریلوی رضی اللہ عنہ نے دانستہ طور پر اس سے عبادت مراد لیا ہے، تاکہ قرآنِ کریم کی معنویت اور مقصدیت بھی فوت نہ ہونے پائے اور مفہوم بھی اچھی طرح واضح ہو جائے۔

"تو اللہ کے ساتھ کسی کی بندگی نہ کرو" (کنز الایمان، ص: ۸۳۴)

ضابطۂ اسلامی

قرآنِ کریم میں جگہ جگہ فقہی مسائل کی طرف بھی رہنمائی کی گئی ہے۔ اس لیے اگر ترجمۂ قرآن کرنے والا فقہی اسرار و رموز سے پوری طرح واقفیت نہ رکھے، تو فقہی مسائل سے متعلق آیاتِ قرآنیہ کے مفاہیم و مطالب کی دوسری زبان میں درست منتقلی ممکن نہیں ہے۔ اس پس منظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ امام احمد رضا فاضلِ بریلوی رضی اللہ عنہ نے شرعی ضابطوں کی وضاحت کا بہت خیال رکھا ہے۔

متذکرہ حوالے سے چند مثالیں ملاحظہ کیجیے:

الف: سورہ معارج کی یہ آیتِ کریمہ پڑھیے: "فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ" (قرآن کریم، سورہ معارج، آیت: ۳۱)

مولوی اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں: "ہاں، جو اس کے علاوہ طلب گار ہو، ایسے ہی لوگ حد سے نکلنے والے ہیں" (بیان القرآن، ص: ۸۶۵)
مولوی محمود الحسن لکھتے ہیں: "پھر جو کوئی ڈھونڈے اس کے سوائے سو وہی ہیں حد سے بڑھنے والے" (ترجمہ قرآن، ص: ۸۵۴)
اور امام احمد رضا فاضلِ بریلوی لکھتے ہیں: "تو جو ان دو کے سوا اور چاہے، وہی حد سے بڑھنے والے ہیں" (کنز الایمان، ص: ۸۲۸)

خیال رہے کہ اللہ رب العزت نے متذکرہ بالا آیت سے پہلے دو طرح کی عورتوں سے ہم بستری جائز قرار دی ہے؛ پہلی منکوحہ عورتیں اور دوسری باندیاں۔ اس سے متصل یہ آیتِ کریمہ ہے۔ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں کہ دونوں مترجمین نے اس ڈھنگ سے ترجمہ کیا ہے، جس سے قطعی واضح نہیں ہوتا کہ یہ کس پس منظر میں ہے اور کس بات سے منع کیا جا رہا ہے، تاہم فاضلِ بریلوی رضی اللہ عنہ نے اپنے ترجمہ میں "دو" کا اضافہ کر کے ایک جانب پوری وضاحت کے ساتھ حصر کر دیا ہے اور دوسری طرف اشارہ بھی کر دیا ہے کہ مؤمنین کو کس بات سے روکا جا رہا ہے۔ نیز خموش لب و لہجے میں یہ اشارہ بھی ہو رہا ہے کہ ازدواجی زندگی کے لیے "نکاحِ متعہ" کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

ب: سورہ بقرہ کی یہ آیتِ کریمہ پڑھیے: "وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ" (قرآن کریم، سورہ بقرہ، آیت: ۱۷۳)

مولوی محمود الحسن لکھتے ہیں: "اور جس جانور پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا" (ترجمہ قرآن، ص: ۳۲)
مولوی اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں: "اور ایسے جانور کو جو غیر اللہ کے نامزد کر دیا گیا ہو" (بیان القرآن، ص: ۵۲)
مولوی ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں: "اور کوئی ایسی چیز نہ کھاؤ، جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو" (تفہیم القرآن، ج: ۱، ص: ۱۳۵)

آگے بڑھنے سے پہلے از راہِ کرم غیر جانبداری کے ساتھ ذرا تینوں ترجموں پر غور کر لیجیے ۔ مولوی محمود الحسن کے ترجمہ کے مطابق جس جانور پر اللہ کے علاوہ کسی اور کا نام لے لیا جائے، وہ کھانے کے لیے حلال نہیں ہے۔ اس وضاحت سے تو پھر پالتو جانوروں کے نام نہیں رکھے جا سکتے۔ اس لیے کہ نام رکھ لینے کے بعد اسے پکارا بھی اسی نام سے جائے گا۔ تو کیا معاذ اللہ اسے اللہ کہہ کر پکارا جائے؟ اسی طرح دوسرے ترجمہ سے بھی مستفاد ہوتا ہے کہ جو مویشی ہم قربانی کے لیے گھر لائیں اور کسی کے استفسار پر کہہ پڑیں کہ "یہ ابو کا بکرا ہے"، تو وہ ہم پر حرام ہو جائے گا، اس لیے کہ ہم نے اسے غیر اللہ سے نامزد کر دیا ہے۔ اور موصوف کی وضاحت کے مطابق غیر اللہ سے نامزد کر دینے پر وہ جانور حرام ہو جاتا ہے۔

اور تیسرے ترجمہ میں تو مولوی ابو الاعلیٰ مودودی موضوعِ بحث سے ہی دور ہو گئے ہیں۔ اب اگر دستر خوان پر کھانا رکھا ہو اور سامنے کھڑے ہو کر یہ کہہ دیا جائے کہ "یہ فلاں کا کھانا ہے"، تو از روئے ترجمہ یہ کھانا حرام ہو جائے گا، خواہ سبزی، دال اور چاول ہی کیوں نہ ہو؟

اب آئیے فاضلِ بریلوی رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں:

"اور وہ جانور جو غیر خدا کا نام لے کر ذبح کیا گیا" (کنز الایمان، ص: ۳۸)

خدارا ایمان سے بتائیے کہ فاضلِ بریلوی رضی اللہ عنہ کی عبارت میں کیا متذکرہ بالا کوئی قباحت دکھائی دے رہی ہے؟ اسے کہتے ہیں مفہومِ قرآن کی درست ترین تعبیر۔ یقین نہیں آتا تو یہ آیتِ کریمہ بھی پڑھیے اور اس سے اگلی پچھلی بھی، آپ محسوس کریں گے کہ سیاق و سباق سے اچھی طرح واضح ہو رہا ہے کہ یہاں جانوروں کے گوشت کی حرمت و حلت کے حوالے سے بات ہو رہی ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ مردار جانور، خون، خنزیر اور ایسے جانور جن پر غیر اللہ کا نام لیا جائے۔ ظاہر ہے کہ اللہ کا نام کسی جانور پر لے لیا جائے اور اسے ذبح نہ کیا جائے، تو وہ ہمارے لیے حلال نہیں ہو سکتا ہے۔ اس لیے چار و ناچار تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہاں بات عام حالات میں اللہ یا غیر اللہ کے نام لینے کی نہیں ہو رہی ہے، بلکہ ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لے کر کسی اور کا نام لے کر ذبح کرنے کے بارے میں ہی ہو رہی ہے۔ اتنی وضاحت کے بعد اس اعترافِ حقیقت سے کوئی نہیں روک سکتا کہ دنیائے فقہ میں امام احمد رضا فاضلِ بریلوی رضی اللہ عنہ کے ترجمۂ قرآن کا علمی تفوق دوپہر کی دھوپ کی طرح روشن و تابناک دکھائی دیتا ہے۔

خیال تو تھا کہ کچھ دیر مزید اسی نورانی سائے میں اوقات گزر جاتے، تاہم ایک طرف تو اشاعت "مصنفِ اعظم نمبر" کی تاریخ قریب ہوتی جا رہی ہے اور دوسری جانب گوناگوں مصروفیات دامن گیر ہیں، اس لیے اب قلم روکنے کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں۔ اس کے ساتھ یہ اعتراف بھی ہے کہ گر چہ یہ چند صفحات محاسنِ کنز الایمان اور اس کی خصوصیات و امتیازات کی نشاندہی کا حق ادا نہیں کر سکتے، تاہم یہ تو ہے کہ اس طرح مجھے بارگاہِ فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ میں اپنی عقیدت و محبت کا خراج پیش کرنے کی سعادت نصیب ہوگئی۔ میرے لیے یہ توشۂ آخرت بھی کسی طور کم نہیں۔


(مضمون مکمل ہوا)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!