Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

طلبہ اپنی ذمہ داریاں سمجھیں (قسط: اول)|محمد ارقم رضا نوری

طلبہ اپنی ذمہ داریاں سمجھیں (قسط: اول)
عنوان: طلبہ اپنی ذمہ داریاں سمجھیں (قسط: اول)
تحریر: محمد ارقم رضا نوری
پیش کش: غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما

اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے کرۂ ارض پر سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تک بے شمار انبیائے کرام کو مبعوث فرمایا۔ یہ تمام پیغمبرانِ رشد و ہدایت انسان کو خالقِ کائنات سے ملاتے رہے اور خاکِ گیتی پر احکامِ الٰہی کو نافذ کرتے رہے۔ یہاں تک کہ اللہ جل شانہ نے ہمارے آقا و مولیٰ، مدینے کے تاجدار، سارے عالم کے مالک و مختار، حضور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ختمِ نبوت کے تاج سے مزین کرکے، تمام کائنات کا رسول و نبی بنا کر بھیجا۔ حبیب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قصر نبوت مکمل ہوگیا، تو رب تعالیٰ نے انبیائے عظام کے مشن کی انجام دہی کے لیے علمائے کرام کی جماعت تیار فرمائی۔

اللہ العزت نے علمائے کرام کو بے شمار فضائل و کمالات سے نوازا ہے اور انہیں دیگر لوگوں پر افضلیت و برتری بخشی ہے، کبھی خشیتِ الٰہی کا انحصار اہل علم میں کیا ہے، تو کبھی اہلِ جہاں کو باور کروایا ہے کہ ان پڑھ ہرگز اہل علم کے مساوی نہیں ہو سکتے، کبھی مقام پر انہیں عطا کردہ علم و حکمت کی دولت کا تذکرہ فرما کر ان کے لیے گلِ خیر کا مژدہ سنایا ہے، تو کبھی مقام پر اپنے بندوں کو ان کی بارگاہ میں جانے کی تعلیم فرمائی ہے، کبھی اپنے کلامِ مقدس میں ان کا ذکر جمیل فرما کر ان کی عزت افزائی کی، تو کبھی اپنے محبوب کی زبانِ پاک سے ان کی فضیلت کو اجاگر فرمایا، غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے علمائے کرام پر ان گنت انعامات فرمائے اور ان کے مرتبے اعلیٰ سے اعلیٰ تر کیے اور ان کو اپنے محبوب ترین بندوں یعنی انبیائے کرام کا وارث و نائب مقرر فرمایا۔

توجہ طلب امر یہ ہے کہ علمائے کرام کو اتنے فضائل و کمالات کیوں عطا کیے گئے، اس جماعت پر اتنے زیادہ انعامات کی بارش کیوں ہوئی، اس گروہ کا مرتبہ اس قدر افضل و اعلیٰ کیوں بنایا گیا؟ کتاب و سنت کا گہرا مطالعہ کرنے سے اس سوال کا جواب یہ ملتا ہے کہ علمائے کرام کے مراتب اس قدر اس لیے بلند ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے کاندھوں پر عوام کو سیدھی راہ دکھانے کی ذمہ داری رکھی ہے اور کتاب و سنت کی تفسیر و توضیح اور دعوت و ارشاد کا فریضہ عائد کیا ہے۔ علمائے کرام حقیقی معنوں میں سماج و معاشرہ کی اصلاح کے اولین ذمہ دار اور انسانیت کے حقیقی خیر خواہ ہیں۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ قرآنِ کریم و احادیثِ نبویہ میں مذکور علماء کے فضائل ان افراد ہی کے لیے ہیں جو نیابتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور وراثتِ انبیاء کا صحیح معنی میں حق ادا کریں۔

شمس و قمر کی نگاہ میں، تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ جن علمائے کرام نے اپنی اس ذمہ داری کو نبھایا اور نیابتِ رسول کا حق ادا کیا، وہ سرخ رو ہوئے اور زمانے کے مقتدی و رہنما بن چکے۔ اور جنہوں نے اس عظیم ذمہ داری سے غفلت برتی اور جہالت و بے توجہی کا مظاہرہ کیا، وہ غائب و خاسر ہوئے اور آج ان کا کوئی نام لیوا نہیں۔

علمائے بنی اسرائیل کی اسی عدمِ توجہ و لاپرواہی اور کتاب سے روگردانی کا ذکر قرآنِ کریم نے یوں کیا:

مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا [سورۃ الجمعة: 5]

ترجمہ: ان کی مثال جن پر توریت رکھی تھی پھر انہوں نے اس کی حکم برداری نہ کی گدھے کی مثال ہے جو پیٹھ پر کتابیں اٹھائے۔

علامہ علی بن محمد خازن علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: اس آیت میں توریت پر عمل نہ کرنے والے یہودیوں کی جو مثال بیان کی گئی یہ ان لوگوں پر بھی صادق آتی ہے جو قرآنِ کریم کے معانی کو نہ سمجھیں اور اس پر عمل نہ کریں اور اس سے اعراض کریں۔ [خازن، الجمعہ تحت الآیہ: 5/265]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ سخت عذاب پانے والا وہ عالم ہو جائے گا جس کے علم نے کوئی نفع نہ دیا۔” [معجم صغیر، باب الطائی، من اسمہ: طاہر، ص: 182، الجزء الاول]

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، آپ فرماتے ہیں:

إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ: عَالِمٌ لَا يُنْتَفَعُ بِعِلْمِهِ [مشکوٰۃ شریف، حدیث نمبر: 268]

ترجمہ: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک بدترین درجے والا وہ عالم ہے جس کے علم سے نفع حاصل نہ کیا جائے۔

مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ اس حدیث شریف کی شرح میں فرماتے ہیں: یعنی لوگ اس کے علم سے فائدہ نہ اٹھائیں، نہ مسائل بیان کرے نہ دینی کتاب لکھے۔ [مراٰۃ المناجیح، ص: 209]

حضرت زیاد ابن حدیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

هَلْ تَعْرِفُ مَا يَهْدِمُ الْإِسْلَامَ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: يَهْدِمُهُ زَلَّةُ الْعَالِمِ، وَجِدَالُ الْمُنَافِقِ بِالْكِتَابِ، وَحُكْمُ الْأَئِمَّةِ الْمُضِلِّينَ. [مشکوٰۃ شریف، حدیث نمبر: 269]

ترجمہ: کیا آپ جانتے ہو کہ اسلام کو کیا چیز ڈھاتی ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کو عالم کی لغزش، منافق کا قرآن میں جھگڑنا اور گمراہ کن سرداروں کی حکومت تباہ کرے گی۔

اس حدیث کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں: یعنی علماء جب آرام طلبی کی بنا پر کوتاہیاں شروع کر دیں، مسائل کی تحقیق میں کوشش نہ کریں، اور غلط مسئلے بیان کریں، بے دین علماء کی شکل میں نمودار ہو جائیں، بدعتوں کو سنتیں قرار دیں، قرآنِ کریم کو اپنی رائے کے مطابق بنائیں، اور گمراہ لوگوں کے حاکم بنیں اور لوگوں کو اپنی اطاعت پر مجبور کریں تب اسلام کی ہیت دلوں سے نکل جائے گی، جیسا آج ہو رہا ہے۔ [مراٰۃ المناجیح، ص: 209]

علم کی لغزش سے مراد ان کا فسق و فجور میں مبتلا ہو جانا ہے، عالم کا عمل بھی تبلیغ ہونا چاہیے۔ [مراٰۃ المناجیح، ص: 209]

مذکورہ آیتِ کریمہ و احادیثِ نبویہ کی روشنی میں یہ واضح ہوگیا کہ جو عالم اپنی ذمہ داری نہیں نبھاتا ہے، جس کے علم سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا ہے، جو آرام پرست ہو جاتا ہے، جو مسائل کی تحقیق نہیں کرتا ہے، جو تبلیغ کے فرائض انجام نہیں دیتا ہے، جو اسلام کا دفاع نہیں کرتا ہے، جو عالم ہونے کا حق ادا نہیں کرتا ہے اور اپنے علم پر عمل نہیں کرتا ہے تو وہ اسلام کی عمارت کو ڈھانے میں کردار ادا کرتا ہے، روزِ قیامت وہ عذاب کا مستحق ہوگا اور عند اللہ اس کا درجہ بدتر ہوگا۔

لہٰذا جس کو اللہ رب العزت نے علم کی دولت سے نوازا ہے اور نیابتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عظیم منصب پر فائز کیا ہے اس کو چاہیے کہ وہ عالم ہونے کا حق ادا کرے، صحیح طور پر حکم الٰہی کے مطابق دینِ متین کی خدمات انجام دے اور دینِ اسلام کا دفاع کرے۔

جاری ہے۔۔۔

حوالہ: سہ ماہی الکلم (شمارہ 2)، جمادی الاخریٰ تا شعبان المعظم 1444ھ

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!