| عنوان: | امام احمد رضا اور تقابل ادیان (قسط: تیرہویں) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفی قادری |
| پیش کش: | عرشیہ بانو عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ نے بائبل کے تنقیدی مطالعے اور "تقابلِ ادیان" کے اس طویل علمی سفر میں جن سوالات کو اٹھایا ہے، وہ دراصل مسیحی عقیدۂ کفارہ کی بنیادوں کو ہلانے کے لیے کافی ہیں۔ محدثِ بریلوی نے جس تسلسل کے ساتھ عہدِ قدیم کے احکامات اور مسیح علیہ السلام کی اپنی تعلیمات (جو کہ توریت کی پابندی پر زور دیتی ہیں) کے درمیان تضاد کو نمایاں کیا ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ مسیحی عقائد، بائبل کے ابتدائی اور اصل متون سے براہِ راست متصادم ہیں۔
تیرہویں قسط میں پیش کردہ سوالات دراصل وہ عقلی و منطقی چیلنجز ہیں جن کا سامنا ہر اس شخص کو ہے جو انسانی فطرت، عدلِ الٰہی، اور نبوت کے تصور کو سمجھتا ہے۔ امام احمد رضا بریلوی کا اسلوبِ استدلال ان نکات پر مرکوز ہے:
- تعارضِ کتب: اگر مسیح علیہ السلام توریت اور انبیاء سابقین کی کتابوں کو پورا کرنے اور ان کے ایک ایک نقطے پر عمل کرنے کا حکم دے رہے ہیں، تو پھر ان تعلیمات کو ترک کر کے "ایمان بالکفارہ" کو نجات کی واحد شرط قرار دینا، خود مسیح کے فرمان کی خلاف ورزی ہے۔
- تاریخی و جغرافیائی تعطل: مسیحی عقیدے کے مطابق اگر نجات کا دارومدار صرف مسیح کے کفارے پر ایمان لانے پر ہے، تو ہزاروں سال قبل گزر جانے والے کروڑوں انسانوں، اور دور دراز علاقوں میں رہنے والی ایسی اقوام تک، جنہیں اس عقیدے کی "اطلاع" بھی نہ ملی، یہ کیسا عدل ہے کہ انہیں صرف اس بنیاد پر جہنم کا مستحق ٹھہرایا جائے؟
- خاموشیِ کتب: اہم ترین نقطہ یہ ہے کہ عہدِ قدیم کی کسی بھی کتاب میں—جو کہ بائبل کا بنیادی حصہ ہے—عقیدۂ کفارہ کا وہ تصور موجود ہی نہیں جو آج مسیحیت کی جان بنا ہوا ہے۔ پانچ سو مرتبہ ذکر کے لائق بنیادی عقیدہ اگر بائبل میں کہیں نظر نہیں آتا، تو یہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ یہ ایک بعد کی ایجاد (Innovation) ہے۔
فتاویٰ رضویہ کا علمی افق
اس قسط کے آخر میں جس کتابیاتی حوالے (فتاویٰ رضویہ، جلد 15) کی نشاندہی کی گئی ہے، وہ امام احمد رضا کی وسعتِ علمی کا مظہر ہے۔ آپ نے محض ایک مذہب کا رد نہیں کیا، بلکہ "باب العقائد والکلام" میں عقلی و نقلی دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ توحیدِ باری تعالیٰ ہی وہ فطری مذہب ہے جس کی گواہی ہر دور میں انبیاء علیہم السلام نے دی۔ کفار کے عقائد اور ان کے تصورِ خدا پر آپ کی تنقید اس بات کو واضح کرتی ہے کہ آپ نے تقابلِ ادیان کے میدان میں صرف جذباتی بیانات نہیں دیے بلکہ ایک ایسا علمی ڈھانچہ تیار کیا جو آج بھی محققین کے لیے مینارِ نور ہے۔
