Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ایمان، تقویٰ اور ولایت

موضوع: ایمان، تقویٰ اور ولایت
عنوان: موضوع: ایمان، تقویٰ اور ولایت
تحریر: مفتی محمد علی قاضی مصباحی، جمالی
پیش کش: عرشیہ بانو عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

فکر و عمل کی اصلاح و فلاح کے لیے ایک عشق انگیز اور مدلل تحریر

وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق ۶۲ آیت ۲)
ترجمہ: اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے راستہ پیدا کرتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی عطا کرتا ہے جہاں سے اس کا گمان نہ ہو۔

اہل ایمان واهل تقویٰ پر اس قدر فضلِ ربانی و فیضانِ رحمانی کی برسات ہوتی ہے کہ ان پر آسمانوں اور زمین کے دروازے کھول دیئے جاتے۔ بشارتِ قرآنی کا یہ جلوہ، نورانی دیکھئیے۔ ارشاد ہوتا ہے:
وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰى اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ (الاعراف ۷ آیت ۹۶)
ترجمہ: اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور ڈرتے تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے (شہرِ مکہ یا کہیں کے رہنے والے ایمان و تقویٰ اختیار کرلیں ان پر بارش کی کثرت، رزق کی کثرت اور امن و سلامتی نازل ہو)۔ سر دست خوفِ خدا کے حوالے سے ہم یہاں چند منتخب واقعاتِ اسلامی قارئین کی ضیافتِ طبع کے لیے پیش کریں گے جو ہم سب کے لیے درسِ عمل ہیں۔

خوفِ خدا کے ایمانی واقعات

واقعہ: حضرت احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کے خوف کا یہ عالم تھا کہ جب صبح کو اٹھتے تھے تو آئینہ لے کر اس میں اپنا چہرہ دیکھتے تھے جب لوگ پوچھتے تھے کہ آپ یہ کیا کرتے ہیں؟ فرماتے بھائی میں ڈرتا ہوں کہ گناہوں کی وجہ سے کہیں میرا چہرہ سیاہ نہ ہو گیا ہو.
واقعہ: ایک مرتبہ امام احمد حنبل رضی اللہ عنہ کسی دعوت میں تشریف لے گئے وہاں دیکھا کہ ایک سرمہ دانی رکھی ہوئی ہے پوچھا یہ کس چیز کی بنی ہوئی ہے لوگوں نے بتایا کہ یہ چاندی کی ہے فرمایا حضور ﷺ نے سونے اور چاندی کے برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا ہے اور یہاں چاندی کی سرمہ دانی استعمال ہوتی ہے اس لیے اس گھر میں دعوت نہیں کھاتا واپس جاتا ہوں یہ کہہ کر اٹھ گئے اور نکل گئے۔ (تعمیر حیات لکھنؤ ۲۵ مئی ۲۰۰۹)
واقعہ: امامِ اعظم ﷺ ایک دن بازار سے گزر رہے تھے کہ ناخن بھر کپڑا اڑا کر آپ کے لباس پر پڑا۔ آپ اسی وقت دجلہ کے کنارے گئے اور اسے خوب خوب مل کر دھوہا۔ لوگوں نے کہا حضور! اس قدر نجاست کو آپ جائز بتاتے ہیں جب کہ خود اس قدر مٹی کو دھوتے ہیں؟ آپ نے کہا تم سچ کہتے ہو وہ فتویٰ ہے اور یہ تقویٰ ہے۔ (سچی حکایات ج ۲ از ابو النور محمد بشیر)

ولایت کی تعریف اور شان

أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ . الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ (یونس ۱۰ آیت ۶۲)
ترجمہ: سن لو بے شک اللہ والوں کو نہ کسی بات کا خوف ہے اور نہ کسی بات کا غم (یعنی وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگار ہوئے۔ معلوم ہوا کہ ولایت کی اساس و بنیاد ایمان و تقویٰ ہے، لہٰذا ایمانِ کامل و خشیتِ صادق کے بغیر کسی کے ولی ہونے یا کسی کے لیے ولایت حاصل ہو جانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ ایمان و پرہیز گاری کے ساتھ توفیق و فضلِ الٰہی ولایت کا سبب ہیں۔

ولی کی تعریف: اولیٰ وہ مومنِ صالح جس کو معرفت (علمِ پہچان) و قربِ الٰہیٰ کا ایک خاص درجہ ملا ہو۔ اکثر شریعت کے مطابق ریاضت و عبادت کرنے کے بعد ولایت کا درجہ ملتا ہے اور کبھی ابتدائی بلاریاضت و مجاہدہ بھی مل جاتا ہے۔ تمام اولیا میں سب سے بڑا درجہ حضراتِ خلفائے اربعہ یعنی حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی (رضی اللہ عنہم) کا ہے۔ اولیاء ہر زمانے میں ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے لیکن ان کا پہچاننا آسان نہیں۔ حضراتِ اولیاء کو اللہ تعالیٰ نے بڑی طاقت دی ہے جو ان سے مدد مانگے ہزاروں کوس کی دوری سے اس کی مدد فرماتے ہیں۔

ولی یا ولایت کی کرامت: ایک صاحبِ اولیاء میں سے تھے دو عالم ان کی ملاقات و زیارت کو پہنچے۔ ان کی اقتدا میں نماز پڑھی۔ قراءت و تلاوت میں کچھ قواعد مستحبہ میں کمی رہ گئی۔ ان کے دل میں خطرہ گذرا کہ یہ ولی ہیں مگر ٹھیک سے قرآن پڑھنا نہیں آتا۔ اس بزرگ نے اس وقت کچھ نہ کہا۔ ادھر ان کے گھر کے قریب ایک نہر بہتی تھی یہ دونوں عالم صاحبان نہانے کے لیے کپڑے اتار کر نہر میں لنگوٹی لگائے اتر گئے۔ کہیں قریب کے جنگل سے ایک شیر نکل آیا اور ان کے کپڑوں پر قبضہ جما کر بیٹھ گیا۔ شیر کے خوف سے شام گئی یہ پانی ہی میں رہے۔ ادھر اس بزرگ نے دریافت کیا کہ ہمارے دو مہمان صبح آئے تھے وہ کہاں ہیں؟ کسی نے ان کی مشکل حالت کا ذکر کیا یہ پہونچے شیر کو ایک طمانچہ لگایا اور کہا ہم نے نہ کہا تھا کہ ہمارے مہمانوں کو نہ ستانا۔ شیر اٹھ کر چلا گیا اب ان دونوں عالموں سے اس بزرگ نے کہا آپ نے ابھی زبان سیدھی کی ہے اور ہم نے اپنا دل سیدھا کیا ہے (ملفوظات اعلیٰ حضرت ج ۳ ص ۸۰ بحوالہ الرسالة القشریہ باب کرامات الاولیا)۔

ولی میں چار باتوں کا ہونا ضروری

علمائے اسلام فرماتے ہیں کسی سے مرید ہونے یا اس سے بیعت کرنے سے پہلے اس میں چار باتوں کا چھان بین کر لے کیوں کہ یہ دارین میں بھلائی، برکت اور سعادت کا ذریعہ ہے۔
اول: پھر سنی صحیح العقیدہ ہو ورنہ ایمان بھی ہاتھ سے جائے گاات۔
دوم: وہ اتنا علم رکھتا ہو کہ اپنی ضرورت کے مسائل کتابوں سے نکال لے۔ نہیں تو حرام حلال، جائز و ناجائز کا فرق نہ کر سکے گا۔
سوم: فاسق معلن (وہ شخص جو کھلم کھلا گناہ کرتا ہو) نہ ہو کہ فاسق کی توہین واجب ہے۔ اور پیر کی تعظیم ضروری۔
چہارم: اس کا سلسلہ نبی کریم ﷺ تک متصل ہو ورنہ اوپر سے فیض نہ پہنچے گا (قانونِ شریعت)۔
*(ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور، مئی 2026، صفحہ 16 تا 19)*

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!