Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

پردہ یا فیشن

پردہ یا فیشن
عنوان: پردہ یا فیشن
تحریر: فرحین فاطمہ

حیا زینت ہے، حیاء وقار ہے، حیاء حسن اخلاق ہے، حیاء ایمان کا جزء ہے، حیاء عقلمندی کی نشانی ہے، حیاء ایمان کی ساتھی ہے، حیاء خلد میں جانے کا سبب ہے، بلکہ آقا علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: الحیاء خیر کله (حیاء ساری کی ساری خیر ہے)۔ اس کے برعکس جس کے اندر حیا نہیں اس کا کوئی دین نہیں، بے حیائی نار کا دروازہ کھولتی ہے، بے حیائی بے ہودگی لاتی ہے، جس کے اندر حیا نہیں اسے وہ ضرور عیب دار بنا دیتی ہے۔ امام احمد بن صاوی رحمت اللہ علیہ تفسیر جلالین کے حاشیہ میں فرماتے ہیں: حیا وہ تبدیلی اور انکساری ہے جو انسان کو اس فعل سے روکتی ہے جو عیب ناک ہو۔

حیا اور پردے کا گہرا رشتہ

حیا کا پردہ سے گہرا ربط منسلک ہے، حیاء کا اظہار سب سے پہلے لباس کے ذریعے ہوتا ہے، اس لیے کہ عمدہ اخلاقیات، اعلیٰ نظریات تو گفت و شنید سے پتہ چلتا ہے، لیکن لباس پر نگاہ پڑتے ہی یہ بات آشکار ہو جاتی ہے کہ وہ کتنی حیاء دار ہے۔ حیا عورت کا بیش قیمتی زیور ہے، عورت سے علم چھین لیا جائے تو جہالت نسلوں میں سفر کرے گی، اور اگر علم کے نام پر عورت سے پردہ چھین لیا جائے تو بے حیائی نسلوں میں سفر کرے گی۔ آقا علیہ الصلاۃ والسلام ارشاد فرماتے ہیں: إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ (جب تمھارے اندر حیا نہ ہو تو جو چاہو کرو - بخاری شریف)۔

فیشن زدہ حجاب اور موجودہ المیہ

لیکن فی زمانہ حیا کا معیار گھٹتا جارہا ہے، عورتوں نے حیا کے زیور کو کہیں اُتار کر رکھ دیا ہے، اور ذلت و رسوائی، بے حیائی کے زیور کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ جو حجاب خواتین کے لیے حفاظتی طور پر بنایا گیا تھا، وہ آج اپنے مقصد سے کوسوں دُور نظر آتا ہے، بلکہ یوں کہہ لیجیے کہ وہ اپنے مقاصد سے خالی ہو چکا ہے۔ آج حجاب حجاب نہیں رہ گیا، فیشن بن چکا ہے۔ قدیم زمانے میں لوگ برقعے ڈھیلے ڈھالے، بلیک رنگ کے، نہ کوئی چمک، نہ کوئی دمک، دبیز کپڑوں کے، ثخین دوپٹے، آنکھوں کے پاس جالی نما کپڑا استعمال کرتے تھے، اور پردہ تو اسی کا نام ہے۔ لیکن فی زمانہ برقع کے نام پر چھپی ہوئی شی کو مزید ظاہر کر کے دکھایا جا رہا ہے، رنگ برنگ کے بھڑکیلے برقعے اور بالشت بھر کا دوپٹہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

قرآنی حکم اور پردے کا مقصد

اللہ رب العزت قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا
(اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور ایمان والی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے اوپر لٹکا لیا کریں۔ یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے، کہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ایذا نہ دی جائے، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ - سورۃ الأحزاب: ۵۹)

لیکن فی زمانہ کثیر تعداد اُن خواتین کی ہے جو اپنے چہرے کو کھول کر نمائش کرواتی ہیں، آنکھوں کو عمدہ طریقے سے مزین کرتی ہیں۔ کیا آپ نے پردے کے معنیٰ اور مقاصد کو ملحوظ رکھا؟ یہ تو خود آپ کی حفاظت کے لیے تھا، لیکن آپ نے اپنے حفاظتی حصار کو خود پامال کر دیا۔

خواتین کے نام ایک پرخلوص پیغام

اے پردہ نشیں خواتین! آئیں قدم بڑھائیں؛ اپنی عزت و آبرو کو پامال نہ کریں، اپنی ذات کی عزت کریں، آباء واجداد کی دی ہوئی میراث کی حفاظت کریں، کیوں کہ آپ کی نسلیں نصیحت سے نہیں؛ بلکہ آپ کے کردار اور اعمال سے سیکھیں گی۔ پردے میں بھلائی ہے، عزت ہے، اور اِسی میں اللہ و رسول کی رضا مندی بھی ہے۔

حیاء نہیں ہے، زمانے کے آنکھ میں باقی،
خدا کرے کہ جوانی رہے، تیری بے داغ
-- علامہ اقبال

اللہ ربّ العزّت سے دعا گو ہوں کہ مولیٰ ہمارے کردار کو بہتر بنانے کی توفیق عمل بخشے، اور ہمیں مکمل پردے میں رہنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!