| عنوان: | اسلام کا نظامِ طلاق (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد اسحاق مصباحی |
| پیش کش: | رافعہ ریاض |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
طلاق سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ
اسلام ایک ایسا مذہب ہے کہ اس میں زندگی کے تمام شعبوں کا احاطہ ہے۔ سیاست، عبادت، معاملات، عائلی احوال، ہر میدان کی تفصیل موجود ہے اور یہ تفصیل مکمل ہے، ہر دور کے لیے، ہر قوم، ہر علاقہ اور ہر ذہن کے لیے۔ اس کی وسعت، اس کی خوبی سمجھنا صرف ایک دور میں ممکن نہیں۔
طلاق، نکاح، یعنی مرد اور بیوی کے تعلقات کیسے بنیں اور اگر بگڑیں تو وہ دونوں کس قانون کے تحت اپنے آپ کو پابند رکھیں، اس کے سلسلے میں مرد و عورت کے اختیار، ضرورت اور جملوں، حتیٰ کہ الفاظ و کلمات کو بھی محدود کیا گیا ہے۔ ایک ضابطہ اور قانون کے تحت لایا گیا ہے۔ اس کی حقیقت اور خوبی کو جاننے کے لیے تاریخ، سماجیات، علومِ شریعت، سائنس کا مکمل اعلیٰ علم چاہیے اور ساتھ میں علمِ قانون بھی، مگر افسوس کی بات ہے کہ آئے دن صحافت میں کوئی فلمی ستارہ، کوئی سماج سدھارک، کوئی نیتا یا کوئی غیر مقلد اس موضوع پر بیان دے کر سوادِ اعظم اہلسنت و جماعت یعنی مسلمانوں کو ذہنی طور پر بے چین کرتے رہتے ہیں۔
شریعت کے اصول چار ہیں:
-
اللہ تعالیٰ کی کتاب
-
رسولِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثِ پاک
-
علمائے کرام کا متفقہ فیصلہ یا اجماع
-
کسی عظیم ہستی کے علم کا قیاس جس کی اصل کتاب و سنت ہو
انہی چار اصولوں پر تمام مسلمانوں کی زندگی گھومتی ہے۔ مسلمان ہونے کا مطلب ہے قانون کا پابند ہونا۔ مسلم سماج کا ہر فرد ایک قانون کے تحت پرویا ہوا ہے۔ وہ شتر بے مہار نہیں ہے۔ جو لوگ ان کو اس لائن سے ہٹانا چاہتے ہیں گویا وہ انہیں اس ایمان سے خالی کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا اگر آپ مسلمان ہیں تو آپ کو اصول علمائے امت کے ذریعے حاصل ہوں، آپ اس پر عمل کریں:
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا [سورۃ الحشر: 7]
ترجمہ: (اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لے لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو)۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا [سورۃ النساء: 59]
ترجمہ: اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا، اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں۔ پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو، اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو، یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا۔
طلاق کا اصل مسئلہ
طلاق اپنی ضرورت اور اپنی کیفیت کے لحاظ سے چند قسم پر ہوتی ہے۔ طلاق کبھی ضروری ہوتی ہے، جس کو قاضی یا مفتیِ شرع نافذ کرتا ہے۔ اس کی بھی چند علتیں ہیں:
-
مرد عنین (نامرد) ہے۔
-
مرد نان و نفقہ پر قادر نہیں ہے۔
-
مرد جان بوجھ کر عورت سے الگ رہتا ہے، جس سے عورت اگر نکاحِ ثانی نہ کرے تو وہ گناہ میں مبتلا ہو سکتی ہے۔
-
یا عورت کسی گناہ کا ارتکاب کرتی ہے جو کبیرہ ہے۔ مثلاً نماز چھوڑنا اور توبہ بھی نہ کرنا。
-
یا عورت اخلاقاً ایسی بدچلن ہے کہ اس کی اولاد فسق و فجور میں مبتلا ہو سکتی ہے۔
پہلی اور دوسری صورت میں قاضی ثبوت پر فوراً جدائی کا حکم نافذ کرے گا، اور باقی صورتوں میں پہلے افہام و تفہیم کا سلسلہ شروع کرے گا اور اگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا تو وہ مرد کو طلاق کے لیے حکم دے گا اور مرد اپنا حق استعمال کرے گا، کتبِ فقہ میں موجود ہے۔
أَسْبَابُ الطَّلَاقِ الَّتِي تَعْرِضُ لِلتَّلَاقِ بَعْضُهَا يَرْجِعُ إِلَى الزَّوْجِ وَبَعْضُهَا إِلَى الزَّوْجَةِ. وَهِيَ أَنْ يَعْجِزَ عَنْ إِعْفَافِ الْمَرْأَةِ بِأَنْ كَانَ عَنِينًا بِحَسَبِ خِلْقَتِهِ أَوْ عَرَضَ لَهُ مَا أَقْعَدَهُ عَنْ إِتْيَانِهَا بِسَبَبِ مَرَضٍ أَوْ كِبَرٍ، وَأَنْ يَعْجِزَ عَنْ الْإِنْفَاقِ عَلَيْهَا، وَهَذِهِ الْحَالَةُ أَسْوَأُ مِنَ الْأُولَى. بَلِ الْحَنَفِيَّةُ يَقُولُونَ إِنَّ مَنْ لَمْ يُنْفِق|ْ وَلَمْ يُسَرِّحْ زَوْجَتَهُ بِالْمَعْرُوفِ يُعَزِّرُهُ الْقَاضِي بِالْحَبْسِ وَنَحْوِهِ حَتَّى يُرْغِمَهُ إِلَى الطَّلَاقِ أَوْ الْإِنْفَاقِ. مُلْتَقَطًا [الفقه على المذاهب الأربعة، ج: 4، ص: 77]
طلاق کے اسباب جو طلاق سے متعلق ہیں، کچھ کا تعلق شوهر سے ہے اور کچھ کا بیوی سے، اور وہ یہ ہیں کہ اگر عورت کو ذی عفت بنانے سے قاصر رہے کہ نامرد مکمل ہو۔ پیدائشی طور پر کسی مرض سے کہ جماع پر قادر نہ ہو یا کبر کی وجہ سے، یا نان و نفقہ پر قدرت نہ رکھے اور یہ حالت دونوں حالتوں سے خطرناک ہے۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ وہ شخص جو نان و نفقہ نہ دے اور بیوی کو نیکی کے ساتھ رہا بھی نہ کرے، قاضی اس کو مناسب سزا دے گا۔ قید یا اور کچھ جو اس کو طلاق یا انفاق پر مجبور کر دے۔
فَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْتَابُ فِي سُلُوكِ الزَّوْجَةِ كَأَنْ اعْتَقَدَ أَنَّهَا زَانِيَةٌ بِالْفِعْلِ أَوْ كَانَت|ْ فَاسِقَةً بِتَرْكِ الصَّلَاةِ وَنَحْوِهَا مِنَ الْفَرَائِضِ فَإِنَّهُمْ أَجْمَعُوا أَنَّهُ لَا يَجُوزُ لِلرَّجُلِ أَنْ يُمْسِكَ مَتَى عَجَزَ عَنْ تَقْوِيمِهَا وَتَرْبِيَتِهَا. [الفقه على المذاهب الأربعة، ج: 4، ص: 78]
اسبابِ زوجہ یعنی بیوی سے متعلق اسبابِ طلاق میں سے چند یہ ہیں کہ مرد کو اس کے کردار میں پریشانیِ قلبی ہو کہ اسے یقین ہو چکا ہو کہ وہ عورت اب بھی زانیہ ہے۔ یا یہ کہ وہ فسق میں مبتلا ہو۔ ترکِ صلوٰۃ یا اور کسی گناہِ کبیرہ سے، تو فقہاء نے بالاتفاق کہا ہے کہ مرد کے لیے ایسی عورت کا رکھنا جائز نہیں۔ جبکہ وہ اس کو راہِ راست پر لانے اور تربیت سے عاجز ہو۔ پھر فقہاء کرام نے طلاق کی تین اور قسمیں کی ہیں: (۱) حسن، (۲) احسن، (۳) بدعی۔
طلاقِ بدعت دو طرح سے ہوتی ہے: (۱) ایامِ حیض میں دینے سے، (۲) تین طلاقوں کو یکدم دینے سے۔
اسلام نے عدت کا قانون مدخولہ کے لیے بنا کر اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ اگر رحمِ مادر میں کوئی جانِ معصوم ہے تو اس کا مستقبل کیا ہوگا؟ جبکہ دنیا کے دوسرے مذاہب اور قوانین میں ایسی تفصیل موجود نہیں تھی۔ انہوں نے سیکھیں تو اسلام سے، اور دوسرے ایک عقد کے ساتھ مرد کے اختیار کو محدود کر دیا ہے کہ وہ صرف تین بار اس کا استعمال کر سکتا ہے، تاکہ عورت کو بار بار پریشانی نہ ہو۔
طلاق کے بعد عورت کا خرچہ اور اولاد کی کفالت
طلاق کے بعد صرف مدتِ عدت تک عورت کا خرچ مرد پر واجب ہے، اور اولاد کی مکمل کفالت و خرچ مرد کے ذمہ، اور اسی طرح چھوٹے بچے کو جتنے دنوں بیوی دودھ پلائے گی اور سنبھالے گی اس دور کا خرچہ بھی شوہر پر لازم ہے۔ اگر اس کو نہیں کرتا تو قاضی اس کو مجبوراً دلوائے گا کیونکہ قاضی ہر حقِ واجب کے لیے دباؤ ڈال سکتا ہے۔ [فتح القدیر، النھر الفائق، الفتاویٰ الرضویۃ، الفتاویٰ الھندیہ، البدائع والصنائع، الفقہ علی المذاھب الاربعۃ، الدر المختار، وغیرھا]
جدید جاہل کے دو بڑے اعتراض
یہاں پر دو بڑے اعتراض کیے جاتے ہیں کہ طلاق کے بعد اگر مرد خرچ نہ دے تو عورت بیچاری کہاں سے کھائے گی اور دوسرا یہ کہ تین طلاق کو اگر تین مان کر تفریق کر دی تو خواہ مخواہ ایک خاندان کی بربادی لازم آئے گی۔ اس لیے تین طلاق کو ایک مرتبہ میں ایک ہی مانا جائے۔ اس مسئلہ کو کچھ اسلام کے دعویدار غیر مقلد اور شیعہ حضرات بھی لیے ہوئے ہیں۔
جواب
پہلی بات تو آپ حضرات یہ سمجھیں کہ مسلمان جب مسلمان ہوتا ہے تو وہ ان تمام احکام پر ایمان لاتا ہے جو اللہ اور رسول سے ملتے ہیں۔ لہٰذا اپنے قانون میں آپ کی عقل اور فیصلوں کا پابند نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ہر دور کے عقل پرست اپنے فیصلوں کو آخری سمجھتے رہے ہیں۔ کسی زمانہ میں یورپ اور اس کے ہم نوا ہم سے مطالبہ کر رہے تھے کہ آپ عورت کو انسان نہ سمجھیں اور ایک زمانہ تک کلیسا یہ مطالبہ کرتا رہا کہ عورت کو شیطان۔
