| عنوان: | مستشرقین کے قرآن پر اعتراضات اور ان کا رد |
|---|---|
| تحریر: | غلام غوث مصباحی ثقافتی |
| پیش کش: | نوری کرن |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
جب ہم قرآنی متن کی تحقیق و تفتیش اور اس کی توثیق کے حوالے سے مستشرقین کے علمی کارناموں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ درحقیقت وہ روحِ وحی کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔ اس کی وجوہات میں یا تو پہلے سے طے شدہ مقاصد کارفرما تھے، یا اسلام کے مصادر کی حقیقی فہم سے دوری تھی، یا پھر یہ کہ وہ اسلام کے کٹر مخالف تھے اور اسلام کی ترقی دیکھی نہ جاتی تھی۔ بہرحال، وہ یہی چاہتے تھے کہ اہل ایمان کے ذہن و فکر میں شکوک و شبہات اور لایعنی خیالات بھر کر ان کے ایمان کا پوسٹ مارٹم کر دیں اور ان کے سینے سے قرآن کی عظمت و رفعت، اس کی شانِ اعزاز و اکرام کو بالکل مٹا دیں اور مسلمان کو روحِ ایمان سے اتنا دور کر دیں کہ وہ کما حقہ خوراک نہ ملنے کے سبب خود نیست و نابود اور تباہ و برباد ہو جائیں۔
مستشرقین کو اس بات کا بخوبی احساس تھا کہ مسلمانوں کے نزدیک قرآن کی کیا حیثیت اور قدر و وقعت ہے، اور جب تک یہ کتاب روئے زمین پر رہے گی، فوز و فلاح کے راستے ان کے لیے کھلے رہیں گے۔ وہ کسی وقت بھی اس کی راہنمائی میں پوری دنیا کو مغلوب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے اس مصدر کو اس انداز اور پیرایہ میں دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی کہ یہ اپنی صحت و حفاظت کے معیار کے لحاظ سے دیگر کتبِ سماویہ ہی کے ہم پلہ نظر آنے لگے۔
یہ ایک واحد راستہ تھا جس سے امتِ مسلمہ کے قلوب و اذہان میں گندگی بھری جا سکتی تھی، چنانچہ انہوں نے اس پر منظم طریقے سے کام کرنا شروع کر دیا اور طرح طرح کے اعتراضات قائم کر کے امتِ محمدیہ کے بیچ افتراق و انتشار پھیلانے کی ہر ممکن کوشش کی۔
مستشرقین کے دو بنیادی اعتراضات
مستشرقین نے مسلمانوں کے ذہنوں میں قرآن کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی غرض سے دو بنیادی قسم کے اعتراضات کو اپنی تحقیقات کا مرکز و محور بنایا:
- قرآن کی جمع و تدوین۔
- قرآن کی قراءات کا اختلاف۔
قرآنی متن کی توثیق و عدمِ توثیق کے حوالے سے یہ دونوں اعتراضات بالکل اساسی اہمیت کے حامل ہیں، کیونکہ ان کا تعلق قرآنی متن اور الفاظ سے ہے۔ اگر الفاظ ہی کی صحت میں تذبذب پیدا ہو جائے تو معنی و مراد کی قطعیت ایک بے معنی چیز بن کر رہ جاتی ہے۔
اعتراضات کی نوعیت
مستشرقین نے حفاظتِ قرآن سے متعلق بیسیوں سوالات اٹھائے، مثلاً:
- قرآن کی حفاظت کے لیے اختیار کردہ تدابیر پر شکوک۔
- زمانۂ نبوت میں تدوینِ قرآن کی راہ میں حائل رکاوٹیں (مبینہ طور پر)۔
- مصحفِ صدیقی کا دیگر صحابہ کے قرآنی نسخوں سے اختلاف۔
- حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مصحف پر اعتماد کے اسباب۔
- بعض حلقوں کی طرف سے مصحفِ عثمانی کا انکار۔
- قرآن کی جمع و تدوین کا کام حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے سپرد کرنے پر سوالات۔
- عبدالملک بن مروان کے دور میں نصِ قرآنی میں مبینہ ترامیم۔
حفاظتِ قرآن پر غیر معقول اعتراضات
مستشرقین نے قرآنِ کریم کی حفاظت کے وعدہ الٰہی “إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ” پر یہ اعتراض کیا کہ ابتدائی زمانے میں قرآن پر اعراب نہیں تھے، پھر اعراب کیوں لگائے گئے؟ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ قرآن پر زیادتی ہے جو حفاظت کے منافی ہے۔ اسی طرح آیات و سور کی توقیفی ترتیب، رسمِ عثمانی کی پیروی، اور قراءات کے اختلاف کو انہوں نے اپنی تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ بھی اعتراض کیا کہ کہیں کوئی آیت احاد تک تو محدود نہیں رہ گئی؟
علماے اہل سنت کا ردِ عمل
مستشرقین کے ان گندے نظریات اور نجس خیالات کا صفایا وقت کا اہم تقاضا تھا۔ علماے اہل حق نے آگے بڑھ کر علمی زاویوں سے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ جب تک علماے اہل سنت و جماعت اس خاکِ گیتی پر ہیں، اس دین کے ساتھ کوئی کھیلواڑ نہیں کر سکتا۔
اللہ امتِ مسلمہ اور دینِ متین کو مستشرقین کے دجل و فریب اور ان کے مکر سے محفوظ رکھے اور علماے اہل سنت کی حفاظت فرمائے۔ آمین!
