Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اسلام کا نظام طلاق (قسط: دوم) | محمد مبشر حسن مصباحی

اسلام کا نظام طلاق (قسط: دوم)
عنوان: اسلام کا نظام طلاق (قسط: دوم)
تحریر: محمد مبشر حسن مصباحی
پیش کش: صبرین فاطمہ رضویہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

خلع کی شرعی حیثیت

ارکانِ خلع

ارکانِ خلع پانچ ہیں:

  1. ملتزمِ عوض، اس سے مراد جو مال کا التزام کرے خواہ وہ بیوی ہو یا اس کے علاوہ ہو۔

  2. بضع: جس سے شوہر مستفید ہوتا ہے، وہ بیوی کا بضع ہے۔ جب شوہر طلاقِ بائن دے دے تو ملکِ بضع زائل ہو جاتا ہے، پھر خلع صحیح نہیں ہوتا。

  3. عوض: وہ مال جو عصمت کے مقابلے میں شوہر کے لیے خرچ کیا جاتا ہے۔

  4. زوج:

  5. عصمت:

یہ خلع کے ارکان ہیں، ان کے بغیر خلع نہیں ہوتا ہے، پھر ہر رکن کے ساتھ کچھ شرائط ہیں۔

شرائطِ خلع

ہر ملتزمِ عوض میں شرط ہے کہ وہ تصرف کا اہل ہو، ملتزمِ عوض میں تصرفِ مالی اور شوہر میں طلاق کی اہلیت ضروری ہے، پھر وہ عاقل اور مکلف ہو۔ چنانچہ صغیرہ، مجنونہ اور سفیہہ (بے وقوف) کے لیے مال کے بدلے اپنے شوہر سے خلع کرنا صحیح نہیں ہے، جس طرح صغیر، پاگل کے لیے طلاق دینا صحیح نہیں ہے لیکن بے وقوف کا طلاق دینا صحیح ہے۔

خلع کا عوض

اس میں کئی شرائط ہیں:

  1. ایسا مال ہو جس کی کوئی قیمت ہو۔ لہٰذا جس مال کی قیمت نہیں ہے اس سے خلع صحیح نہیں ہوتا ہے، جیسے گیہوں کا دانہ。

  2. مالِ طاہر قابلِ انتفاع ہو۔ جیسے شراب، خنزیر، مردار اور خون سے خلع صحیح نہیں ہوتا ہے، چونکہ ان چیزوں کی شریعتِ اسلامیہ میں کوئی قیمت نہیں ہے۔

صیغۂ خلع

اس کے لیے کسی صیغہ کا ہونا ضروری ہے۔ یہ معاطاۃ کے ذریعہ صحیح نہیں ہوتا ہے۔ عوض کا موجود ہونا شرط نہیں ہے بلکہ خلع معدوم سے جس کے وجود کا انتظار ہو صحیح ہو جاتا ہے۔ مثلاً اونٹنی وغیرہ کے حمل پر خلع کر لیا تو یہ صحیح ہے۔ بیوی کی جانب سے نفرت و ناپسندیدگی کا اظہار ہو، عوض بیوی ادا کرتی ہے اس لیے بیوی کی رضامندی ضروری ہے۔ [کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ، ج: 4، ص: 352]

خلع کے الفاظ

خلع کے الفاظ پانچ ہیں:

  1. خَالَعْتُكِ

  2. بَارَأْتُكِ

  3. فَارَقْتُكِ

  4. بَايَنْتُكِ

  5. طَلِّقِي نَفْسَكِ عَلَى أَلْفٍ

۱۔ جو خلع سے مشتق ہو۔ جیسے خَالَعْتُكِ، اخْتَلِعِي، اخْلَعِي نَفْسَكِ، اخْلَعْتُكِ۔ خلع ان سے بغیر نیت کے ہو جاتا ہے، اس لیے کہ یہ طلاق میں زیادہ مستعمل ہونے کی وجہ سے صریح کی طرح ہو چکا ہے تو جب شوہر نے اپنی بیوی سے کہا میں نے تجھ سے اتنے مال کے بدلے خلع کیا تو معاملہ ظاہر ہے اور جب مال کا ذکر نہ کیا تو اسے طلاق واقع ہوگی، خواہ نیت کرے یا نہ کرے۔

۲۔ بارأتکِ: جب شوہر نے بیوی سے کہا میں بیس روپے پر تم سے جدا ہو گیا، وہ قبول کر لے تو طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی اور بیس روپے لازم اور مہر بالاتفاق ساقط ہو جائے گا اور اس نے قبول نہ کیا تو طلاق واقع نہ ہوگی۔ صورتِ مذکورہ میں مال کا ذکر نہ ہوا تو بغیر نیت طلاق واقع نہ ہوگی。

۳۔ فارقتکِ: جب مال کا ذکر ہوا اور عورت قبول کر لے تو خلع صحیح اور مال لازم ہوگا۔ مال کا ذکر نہ ہوا اور عورت نے اسے قبول کر لیا تو خلع سے جو حقوق ساقط ہوتے ہیں وہ ساقط ہو جائیں گے جب کہ شوہر نے طلاق کی نیت کی ہو یا قرینہ طلاق موجود ہو اور اگر بیوی نے قبول نہ کیا اور شوہر نے طلاق کی نیت کی ہو تو طلاقِ بائن واقع ہوگی اس لیے کہ یہ کنایہ ہے۔

۴۔ باینتکِ: یہ خلع کے لیے موضوع ہے، اگر مال کا ذکر نہ ہوا اور عورت نے قبول کر لیا تو عورت کے حقوق ساقط ہو جاتے ہیں، جب شوہر نے اس سے طلاق کی نیت کر لی تو طلاق واقع ہو جائے گی اگرچہ بیوی نے قبول نہ کیا ہو۔ جب شوہر نے کہا میں نے تجھے بیس ریال پر جدا کیا تو بیوی کے عدمِ قبول پر قولِ واحد میں نہ طلاق پڑے گی نہ بدل لازم ہوگا۔

۵۔ طلاق مال پر ہو، مثلاً کہا تم خود کو ایک ہزار روپے پر طلاق دے دے۔ بولی میں نے قبول کیا، یا اتنے پر میں نے خود کو طلاق دے دیا تو طلاقِ بائن واقع ہوگی اور ایک ہزار روپے لازم ہوں گے اور جب مال کا ذکر نہ کیا تو یہ تملیکِ طلاق ہے، خلع نہیں ہے۔ یہ پانچ مشہور خلع کے الفاظ ہیں اور فقہاء نے دو مزید، بیع اور شراء کا اضافہ کیا ہے۔ [کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ، ج: 4، ص: 352]

عوض کی مقدار

وقوعِ خلع کی مقدار میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عورت سے عطا کردہ سے زائد لینا جائز نہیں ہے۔ یہی حسن بصری، عطا اور سعید بن جبیر کی رائے ہے اور سعید بن مسیب نے کہا کہ عطا کردہ سے کم لیا جائے تاکہ عورت پر مرد کا فضل ہو جائے اور امام ابو حنیفہ، زفر، ابو یوسف، اور محمد علیہم الرحمہ نے کہا، جب ناپسندیدگی عورت کی جانب سے ہو تو دیا ہوا مال واپس لینا حلال ہے اور اس پر زائد نہ کرے اور اگر سختی و ناپسندیدگی مرد کی جہت سے ہو تو عورت سے کچھ لینا حلال نہیں ہے، اگر کیا تو قضاءً جائز کیا۔ دلیلِ حدیث مذکور ہے:

أَنَّ ثَابِتًا لَمَّا طَلَبَ مِنْ جَمِيلَةَ أَنْ تَرُدَّ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ فَقَالَتْ: وَأَزِيدُهُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا، حَدِيقَتَهُ فَقَطْ.

ثابت نے جمیلہ سے اپنا باغ واپس کرنے کا مطالبہ کیا، بولی، کیا میں اسے اور دوں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نہیں اس کا باغ صرف، ظاہرِ آیت کو انہوں نے اسی کے ساتھ خاص کیا ہے۔

حضرت عمر، عثمان، ابن عمر اور مجاہد سے مروی ہے کہ عطا کردہ سے زائد پر خلع کرنا جائز ہے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نافرمان عورت کا معاملہ خدمت میں آیا تو آپ نے اسے پکڑ کر گوبر کے گھر میں دو رات بند کر دیا۔ پھر اسے کہا، خیریت ہے؟ بولی میں نے ان دو راتوں سے بہتر رات کبھی نہ گزاری۔ تو حضرت عمر نے فرمایا:

اقْلَعْهَا وَلَوْ بِقُرْطِهَا

اس کی بالی سمیت اس کا خلع کر لے اور حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ ایک عورت آئی جو اپنی ساری چیزوں کے ساتھ خلع کر چکی تھی، تو آپ نے اس پر انکار نہ کیا۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک ربیع عورت خدمت میں حاضر ہوئی اور بولی میں نے اپنے شوہر سے کہا:

لَكَ كُلُّ شَيْءٍ وَفَارِقْنِي

تم مجھے جدا کر دے ساری چیزیں تمہارے لیے ہیں۔ میں نے ایسا کیا۔ بخدا اس نے میرا سارا بچھونا لے لیا تو حضرت عثمان نے کہا شرط نے اسے مالک بنا دیا۔ اے شخص! تم اس کی ساری چیزیں لے لو یہاں تک کہ اس کی چوٹی بھی۔

امام مالک نے کہا میں نے کسی مقتدی کو یہ منع کرتے ہوئے نہ دیکھا لیکن یہ مکارمِ اخلاق سے نہیں ہے۔

شافعیہ اور سارے فقہاء کے نزدیک قلیل و کثیر دونوں لینا جائز ہے اگرچہ مہر پہ زائد ہو جائے۔ ان کی دلیل یہ قولہ تعالیٰ ہے:

فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ [سورۃ البقرة: 229]

قلیل و کثیر دونوں کو عام ہے اور ابو سعید خدری سے مروی ہے کہا میری بہن ایک انصاری آدمی کے تحت تھی، دونوں رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے عورت سے کہا، کیا تم اس کا باغ واپس کروگی؟ بولی میں اس پر زیادہ کروں گی، پھر خلع کیا اور اس نے باغ کے علاوہ مزید دی، عورت کے قول “میں اس پر زیادہ کروں گی” کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی جوازِ زیادت کی وضاحت ہے۔ مزید نکاح جب مہرِ مثل سے زائد پر جائز ہے یہ بضع کا بدل ہے، تو اس میں بھی یہ جائز ہے کہ عورت کو مہرِ مثل سے زائد دے چونکہ یہ دونوں حالتوں میں بضع کا بدل ہے۔

خلع کے مسائل

خلع درحقیقت ایک طرح کا معاہدہ ہے جس میں شوہر کسی عوض کے مقابلے نکاح سے ملے ہوئے اپنے اختیارات ختم کر دیتا ہے۔ عورت کا قبول کرنا شرط ہے۔ بغیر قبول کے خلع نہیں ہو سکتا، اور اس کے الفاظ معین ہیں، ان کے علاوہ اور لفظوں سے خلع نہ ہوگا۔

مسئلہ: اگر شوہر کی طرف سے زیادتی ہو تو خلع پر مطلقاً عوض لینا مکروہ ہے اور اگر عورت کی طرف سے ہو تو جتنا مہر میں دیا ہے اس سے زیادہ لینا مکروہ ہے۔ پھر بھی اگر زیادہ لے لے گا تو قضاءً جائز ہے۔

مسئلہ: خلع شوہر کے حق میں طلاق کو عورت کے قبول کرنے پر معلق کرنا ہے کہ عورت نے مال دینا قبول کر لیا تو طلاقِ بائن ہو جائے گی۔ لہٰذا اگر شوہر نے خلع کے الفاظ کہے اور عورت نے ابھی قبول نہ کیا تو شوہر کو رجوع کا اختیار نہیں، نہ شوہر کو شرطِ خیار حاصل ہے اور نہ شوہر کی مجلس بدلنے سے خلع باطل ہے۔ [خانیہ]

مسئلہ: خلع عورت کی جانب سے اپنے کو مال دے کر چھڑانا ہے تو اگر عورت کی جانب سے ابتداء ہوئی مگر ابھی شوہر نے قبول نہیں کیا تو عورت رجوع کر سکتی ہے اور اپنے لیے اختیار بھی لے سکتی ہے اور یہاں تین دن سے زیادہ کا بھی اختیار لے سکتی ہے، بخلاف بیع کے۔ بیع میں تین دن سے زیادہ کا اختیار نہیں اور دونوں میں سے ایک کی مجلس بدلنے کے بعد عورت کا کلام باطل ہو جائے گا۔ [خانیہ]

مسئلہ: شوہر نے کہا میں نے تجھ سے خلع کیا، اور مال کا ذکر نہ کیا تو خلع نہیں بلکہ طلاق ہے اور عورت کے قبول کرنے پر موقوف نہیں۔ [بدائع]

مسئلہ: شوہر نے کہا میں نے تجھ سے اتنے پر خلع کیا، عورت نے جواب میں کہا ہاں! تو اسے کچھ نہیں ہوگا جب تک یہ نہ کہے میں راضی ہوئی یا جائز کیا، یہ کہا تو صحیح ہو گیا۔ یوں ہی اگر عورت نے کہا مجھے ہزار روپے کے بدلے میں طلاق دے دے، شوہر نے کہا ہاں! تو یہ بھی کچھ نہیں اور اگر عورت نے کہا مجھ کو ہزار روپے کے بدلے طلاق ہے، شوہر نے کہا ہاں! تو ہو گئی۔ [عالمگیری]

مسئلہ: عورت کا جو مہر شوہر پر ہے اس کے بدلے میں خلع ہوا پھر معلوم ہوا کہ عورت کا کچھ مہر شوہر پر نہیں ہے تو عورت کو مہر واپس کرنا ہوگا۔

مسئلہ: شراب، خنزیر و مردار وغیرہ ایسی چیز پر خلع ہوا جو مال نہیں تو طلاقِ بائن پڑ گئی اور عورت پر کچھ واجب نہیں اور اگر ان چیزوں کے بدلے میں طلاق دی تو رجعی واقع ہوگی۔ [بہارِ شریعت]

مسئلہ: خلع کا معاملہ میاں بیوی یا ان کے خاندان کے درمیان باہمی افہام و تفہیم سے طے نہ ہو سکے تو عورت شرعی عدالت کی طرف رجوع کرے، اگر شوہر طلاق نہ دے تو شرعی عدالت نکاح فسخ کرنے کا حکم جاری کر سکتی ہے؛ قولہ تعالیٰ:

الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ [سورۃ البقرة: 229]

یہ طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔ اور تمہیں روا نہیں کہ جو کچھ عورت کو دیا ہے اس میں سے کچھ واپس لو مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ کریں گے۔ پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہی حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے۔ [کنز الایمان]

مسئلہ: بلا وجہ خلع لینے والی عورت منافق ہے۔

عَنْ ثَوْبَانَ رضی اللہ عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: الْمُخْتَلِعَاتُ هُنَّ الْمُنَافِقَاتُ. [رواہ ترمذی]

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بلا وجہ) خلع حاصل کرنے والی عورتیں منافق ہیں۔

مسئلہ: مرد اپنی بیوی سے جماع کے قابل نہ ہو تو علاج کے لیے ایک سال کی مہلت دینے کے بعد بیوی حسبِ خواہش خلع کر سکتی ہے۔

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ رضی اللہ عنه أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَمَسَّهَا، فَإِنَّهُ يُضْرَبُ لَهُ أَجَلُ سَنَةٍ، فَإِنْ مَسَّهَا وَإِلَّا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا. [رواہ مالک]

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور اسے جماع کی قدرت نہ رکھتا ہو تو اس مرد کو ایک سال مہلت (علاج کے لیے) دی جائے گی۔ اگر اس عرصہ میں وہ جماع پر قادر ہو جائے تو بہتر، ورنہ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی۔

مسئلہ: خلع حاصل کرنے والی عورت کی عدت ایک حیض ہے۔ عدت کے بعد مرد و عورت دونوں آپس میں نکاح کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!