Loading...

تفریحی مواقع اور ہماری اخلاقی قدریں (قسط: دوم) | توفیق حسن برکاتی

تفریحی مواقع اور ہماری اخلاقی قدریں (قسط: دوم)
عنوان: تفریحی مواقع اور ہماری اخلاقی قدریں (قسط: دوم)
تحریر: توفیق حسن برکاتی
پیش کش: زہرہ یاسمین
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

حسد

ہر انسان ہر کام نہیں کر سکتا۔ یہ بالکل سچی اور تسلیم شدہ بات ہے، اس کا کوئی انکاری نہیں ہے، اسی لیے خدمتِ دین کے لیے تقسیمِ کار کے اصول کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ دنیا میں زندگی جینے کے مختلف میدان ہیں اور تبلیغِ دین کے بھی۔ انسانی صلاحیتیں بھی الگ الگ ہوتی ہیں اور دماغی توانائیوں میں بھی فرق ہوتا ہے۔ مگر ہم جب کسی کو اونچائی پر پہنچتے یا کامیابی حاصل کرتے دیکھتے ہیں تو اس کی حوصلہ افزائی کرنے یا اس کی محنتوں سے سبق حاصل کرنے کی بجائے حسد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک شہر یا ایک قصبے یا ایک گاؤں میں رہنے والے یا ایک ہی میدان میں کام کرنے والے اکثر اس مرض میں مبتلا دیکھے گئے ہیں، معاصرانہ چشمک بھی حسد کی کارستانی ہوتی ہے۔ ”ایک جنگل میں دو شیر نہیں رہ سکتے“ جیسا مزاج بھی حسد ہی پیدا کرتا ہے۔ ہمیں کسی کی کامیابی دیکھ کر چڑھ سی ہو جاتی ہے، وہ یہ کام کیوں کر گیا؟ وہ اتنا کیسے بڑھ گیا؟ اس نے اتنی کامیابیاں کیسے حاصل کر لیں؟ یہ بات یہیں تک محدود رہتی تو ٹھیک تھا، معاملہ اس وقت اور گمبھیر ہو جاتا ہے جب ہم اس کے درپے آزار ہو جاتے ہیں، اس کی جاسوسی کرواتے ہیں، اس کی غلطیاں نکالते ہیں، اسے بدنام کرنے کا بہانہ تلاش کرتے ہیں۔ حالانکہ اس کا آسان سا علاج تھا کہ ہم اس سے بڑی کامیابی پانے کی کوشش کرتے، اس کی کھینچی ہوئی لکیر کو کاٹنے، مٹانے کی بجائے اس سے بڑی اپنی الگ لکیر کھینچ دیتے، ہم خود اس سے ممتاز ہو جاتے، مگر ایسا بہت کم ہی ہوتا ہے، بلکہ بسا اوقات ہم اخلاقیات کی ساری حدیں ہی پار کر جاتے ہیں۔

غیبت اور چغلی

یہ بھی ہمارے سماج کا رستا ہوا ناسور ہے۔ اس مرض کا شکار ہمیشہ دھوکے میں رہتا ہے یا خود کو بہت چالاک مانता ہے۔ وہ یہ کام بسا اوقات ”حکمت“ اور ”مصلحت“ کا نام دے کر کرتا ہے اور اسے اپنا حق قرار دیتا ہے۔ جبکہ یہ دونوں برائیاں اس قدر گھناؤنی اور گندی ہیں کہ قرآن مجید میں اللہ عزوجل نے غیبت کرنے والے کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا ہے اور جاسوسی اور غیبت سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں فرمایا گیا: الغيبة أشد من الزنا، غیبت زنا سے شدید تر ہے، یعنی اس کی ہولناکی زنا سے بڑھی ہوئی ہے۔ مگر ہم نے اچھے اچھوں کو اس کارِ بد میں ملوث دیکھا ہے اور ان کی تاویلیں بھی سنی ہیں، بلکہ افسوس تو اس وقت ہوتا ہے جب یہی لوگ دنیا کو اخلاقیات کا سبق پڑھاتے نظر آتے ہیں، مگر ان کی زندگی ان قدروں سے خالی ہوتی ہے اور خود مصلح بنے پھرتے ہیں۔

الزام تراشی

حق بیانی کے نام پر الزام تراشی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہمارے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ ایسے لوگ خبطی ہوتے ہیں، انہیں اپنی جانکاری پر گھمنڈ جیسا کچھ ہوتا ہے اور دوسرا ان کی نگاہوں کو کمتر، بونا اور مجرم دکھائی دیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ساری سچائیاں انہی کی ذات کے ارد گرد منڈلاتی رہتی ہیں اور دوسروں کی پہنچ سے کوسوں دور رہتی ہیں۔ اس برے کام میں ان کی کذب بیانی، اتہام بازی اور غلط فہمی کا زیادہ دخل ہوتا ہے۔ سمجھانے پر وہ آپ ہی کو غلط نگاہ سے دیکھنے لگते ہیں اور پھر آپ پر حملے شروع ہو جاتے ہیں، نہ وہ آپ کی کسی دلیل کو خاطر میں لاتے ہیں نہ کسی بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اپنے گمانِ فاسد میں حق بیانی کرتے ہیں حالانکہ وہ سراسر افترا اور اتہام ہوتا ہے۔ کیا قرآن و احادیث میں اس جرم کی وعیدیں انہیں نظر نہیں آتیں؟

چاپلوسی

یہ حیلہ اپنانے والوں کی سوچ حصولِ زر اور چاہتِ جاہ ہوتی ہے اور دوسروں کو اذیت پہنچانے کی نیت سے بھی وہ یہ گھناؤنا کام کرتے ہیں۔ ان کی زندگی میں وقت کی فراوانی ہوتی ہے، کام بالکل بھی نہیں ہوتا، اب وہ کیا کریں؟ ان کی زندگی کی گاڑی کیسے چلے؟ سو وہ اہلِ ثروت، سیاست دانوں اور چال بازوں کے آگے پیچھے لگے رہتے ہیں، ان کی ہاں میں ہاں ملانا ان کا شیوہ ہوا کرتا ہے۔ ان کے ہر غلط اور صحیح اقدام کی تعریف و ثنا خوانی ان کا مشغلہ ہوتا ہے۔ وہ کئی کئی گھنٹے ان کے انتظار میں گزار دیتے ہیں، ممبئی شہر میں کچھ مولوی نما چہرے بھی اس میں ملوث دیکھے جاتے ہیں۔ ان کے پاس کوئی شرعی مسئلہ ہوتا ہی نہیں، وہ اپنے ہر مسئلے کا سیاسی حل ہی ڈھونڈते ہیں، یہ اپنی طبیعت کے پرچارک ہوتے ہیں اور یہی ان کی زندگی ہوتی ہے۔ ہاں دوسروں کے روبرو اپنی پہچان یا پہنچ کا دھونس جمانا نہیں بھولते، بلکہ اسے اپنی شان سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا سماج میں کوئی وقار نہیں ہوتا، ہر کوئی ان سے بچنا چاہتا ہے۔ ان کے پاس اخلاقیات نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، بس تملق اور تصنع، چاپلوسی اور چاپلوسی۔

فحش گوئی

دشنام طرازی اور گالیوں بھرا منہ کس قدر گندا اور بدبودار ہوتا ہے کہ اخلاقیات کو ان کے قریب جانے سے بھی گھن محسوس ہوتی ہے۔ یہ لوگ یا تو جاہل محض ہوتے ہیں یا رعب جمانے کی غرض سے اپنی زبان ہمیشہ گندی کیے رکھتے ہیں۔ بسا اوقات مذاق مذاق میں دوستوں کے درمیان ایسی حرکتیں کرتے रहते ہیں اور ذرہ برابر شرمسار نہیں ہوتے، یہ فحش گوئی ان کا تکیہ کلام بھی بن جاتی ہے اور پھر کوئی بات اس کے بغیر زبان سے نہیں نکلتی۔ کیا یہ عمل اخلاق باختگی کے زمرے میں نہیں آتا؟

کینہ پروری

یہ دل کی ایسی بیماری ہے جو بیمار کو ہر آن بے چین کیے رکھتی ہے، اسے کسی پل چین نہیں آتا۔ یہ مرض حسد سے ملتا جلتا ہے اور ہمیشہ دل جلائے رکھتا ہے۔ ہر آن کڑھना، جلنا اس کا مقدر بن جاتا ہے، اپنی ذات پر خطرہ بھی محسوس کرتا ہے، مگر اس فعل سے باز نہیں آتا، اور انتہائی بداخلاق ہوتا ہے۔

انتقام

هل جزاء الاحسان الا الاحسان (کیا احسان کا بدلہ احسان کے سوا کچھ ہے؟) میں تو ہم کافی پیچھے ہیں، لیکن انتقام کے معاملے میں بہت جلد باز واقع ہوئے ہیں۔ ہم فوری طور پر ناانصافی یا ظلم کا بدلہ لینا چاہتے ہیں، محض شک کی بنیاد پر بھی اتنے بڑے بڑے فیصلے لے لیتے ہیں کہ دنیا ہماری جلد بازی پر تعجب کرنے لگتی ہے۔ انتقامی کارروائیاں بسا اوقات بغاوت پر آمادہ کر دیتی ہیں اور پھر الزام بھی اسی کو جھیلنا ہوتا ہے، گویا یہ دودھ کے دھلے ہیں۔ تعجب تو اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب ایسے ہی لوگ اخلاقیات کا مطالبہ کرتے ہیں اور سخت تیور دکھانے والے کو بداخلاق کہنے سے نہیں چوکتے۔

وعدہ خلافی

یہ چیز مسلم معاشرے میں بھی ایک فیشن کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ اس میں ہر چھوٹا بڑا ملوث ہے؛ تجارت کے معاملات ہوں یا قرض کی ادائیگی کا مسئلہ، کسی سے ملاقات کی بات ہو یا اور دوسری جگہیں، یہ بیماری اپنا وجود درج کراتی ہے۔ حالانکہ اس کی ہولناکی اور اس کے مضر نتائج زیادہ چھپے ہوئے نہیں ہیں کہ اس کا اندازہ نہ لگایا جا سکے، یہ زہر اعتماد کو مردہ بنا دیتا ہے، بھروسہ توڑ دیتا ہے، بسا اوقات کسی بڑے خسارے سے دوچار کر دیتا ہے۔ موبائل کی وبا نے تو اس برے کام کے کئی راستے دکھا دیے ہیں اور جھوٹ، وعدہ خلافی، دھوکہ دہی، فریب کاری جیسی برائیاں جنم لے رہی ہیں، یہ بھی اخلاق سوز بات ہے۔

مثال کے طور پر یہ گیارہ امور بیان کیے گئے ہیں جہاں اخلاقیات کا جنازہ نکلتا دکھائی دیتا ہے، کردار سسکیاں لیتا ہے، اور ہم مزے لوٹتے ہیں، بہانے تلاش کرتے ہیں۔ ہماری بداخلاقی اور بے مروتی کی بنیاد پر لوگ ہم سے دور بھاگते ہیں، نہ ہماری بات سنते ہیں، نہ ہم سے متاثر ہوتے ہیں۔ ہم اپنا دینی نقصان بھی کرتے ہیں اور دنیوی خسارہ بھی مول لیتے ہیں، سماجی شناخت بھی کھو بیٹھते ہیں اور ہمارا منہ کسی لائق نہیں رہتا۔ کیا ہم اس پر غور کرنے کے لیے خود کو آمادہ پاتے ہیں؟

اگر آپ غور کریں تو یہ حقائق سامنے آئیں گے کہ قرآنی آیات اور احادیثِ نبویہ میں اخلاقیات کے زریں اصولوں کا ایک جہاں موجود ہے۔ مذہبِ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو قدم قدم پر اچھے اخلاق و کردار سے آراستہ ہونے کا سبق دیا ہے اور بداخلاقی سے سختی سے روکا ہے۔ حقوقُ اللہ و حقوقُ العباد کی کامل ادائیگی، امانت داری، صداقت شعاری، حسنِ خلق، عفو و درگزر، معاملہ فہمی، غیبت و چغلی سے اجتناب، الزام تراشی، حسد، کذب بیانی، کینہ پروری، اور انتقامی کارروائیوں سے سخت پرہیز کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ رواداری، صلح جوئی، صلہ رحمی، معافی، احسان، اور تعاونوا على البر والتقوى کے احکام اسی لیے دیے گئے تاکہ ہم اخلاقیات کی اعلیٰ قدروں سے آشنا ہوں اور اپنی زندگیوں میں اس کا رنگ و آہنگ پیدا کریں۔ شراب اور نشے کی حرمت میں بھی یہی حکمت ملاحظہ کی جا سکتی ہے کہ اس کا استعمال شرابی یا نشہ خور کو بدترین حالات کا شکار بنا دیتا ہے، نہ اس کی زبان قابو میں رہتی ہے اور نہ اس کے اعضا کنٹرول میں ہوتے ہیں، ایسا شخص کسی کو کچھ بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے مسلم نوجوان بھی اس کارِ بد میں ملوث ہو کر اپنا سب کچھ داؤ پر لگا رہے ہیں اور انہیں اپنی زندگی کے مستقبل کی کوئی فکر نہیں۔ لہٰذا میری گزارش ہے کہ متذکرہ بالا امور پر سنجیدہ غور کر کے ہر فرد اپنے اخلاقیات کو سنبھالا دے اور قطعاً ان برائیوں کے قریب نہ جائے جو اس کے کردار کو زنگ آلود کرنے والی ہیں اور جس سے اس کے اخلاق تباہ ہو رہے ہیں، اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔

(ماہنامہ اشرفیہ، مبارک پور - مئی 2026ء | صفحات: 35 تا 38)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!