| عنوان: | کوئی بھی شراب حلال نہیں اور سپریم کورٹ قاضی و مفتی نہیں (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | محمد ظفر الدین برکاتی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
سپریم کورٹ، مسلم پرسنل لاء اور یکساں سول کوڈ کی عملی مشکلات
اس موضوع پر اب تک قانون دانوں کے جتنے بھی بیانات آئے ہیں، ان کا خلاصہ یہی ہے کہ سپریم کورٹ مسلم پرسنل لاء میں مداخلت نہیں کر سکتا، یہ منصب اسے حاصل نہیں اور آزادی کے بعد ہماری غفلتوں، عملی اور قانونی چارہ جوئی کی کمزوریوں اور ہماری بے عملیوں کی وجہ سے کبھی ایسا گمان ضرور گزرا ہے کہ مسلم پرسنل لاء خطرے میں آ سکتا ہے لیکن دستورِ ہند میں جب تک مذہبی آزادی کا دفعہ موجود ہے اور جب تک ہندوستانی سماج میں سیکولر مزاج اور انسانیت و سماجی رواداری باقی ہے، مسلم پرسنل لاء پر کوئی آنچ نہیں آنے والا۔ چاہے آر ایس ایس اور بی جے پی کے ہم خیال و زر خرید جج وغیرہ کچھ بھی کر لیں کیوں کہ ہماری شناخت ایک دفاعی قوم کی اگرچہ ہے لیکن جب ہم اقدامی قوم ہونے کا اجتماعی مظاہرہ کریں گے تو پنگھٹ کی ہر ڈگر آسان ہو جائے گی۔
سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج صاحبان بھی انسان اور ہندوستان کے انسانی سماج کا حصہ ہوتے ہیں، انھیں کورٹ سے نکلنے کے بعد یہ ضرور احساس ہوتا ہوگا کہ بھارت بھانت بھانت کی تہذیبوں، منفرد مختلف روایات اور جذباتی مراسم کے اس دیش میں یکساں سول کوڈ (Uniform Civil Code) کا کوئی بھی قانون لولا لنگڑا ہی ہوگا۔ آخر کس مذہب کے ماننے والے کو کس مذہب کی روایت اور تہذیب و قانون کے اپنانے اور اپنی مذہبی روایت کو چھوڑنے پر مجبور کریں گے اور کون اپنی مذہبی روایت اور قانون چھوڑ کر دوسرے کی روایت کو گلے لگائے گا؟
طلاق، نشہ اور معاشرتی حقائق
دوسری بات یہ کہ جب یہ حقیقت ہے کہ ہندو مسلم کسی بھی مذہب کا آدمی، خوشی خوشی طلاق نہیں دیتا، اچھی زندگی گزارنے والی فیملی کبھی الگ نہیں ہوتی پھر غصے میں ہی طلاق دینا مانا جائے گا، اور غصے میں طلاق جبھی دیا جاتا ہے، جب بہر حال آپسی زندگی گزارنا مشکل اور اجیرن ہو جائے اور کوئی سمجھوتہ کارگر ثابت نہ ہو، تو پھر یہ فطرت اور نیچر کے مطابق ہوا۔ جج صاحبان کے ذہن و فکر اور بحث و تکرار میں یہ بات بھی ضرور آتی ہوگی کہ نشے میں آدمی کبھی اپنی بہن اور ماں کو طلاق نہیں دیتا، اپنی بیوی کو ہی دیتا ہے۔ اس کا مطلب اب بھی وہ اس قدر ہوش میں ہے کہ ماں اور بیوی میں تمیز کر سکے تو پھر نشے میں طلاق دینے کی بات بکواس ہے کہ نہیں؟ تو پھر عورت کے حقوق کی بات کرنے والے غور کریں کہ انصاف کیا ہو سکتا ہے اور سماج میں ایسا کیوں ہوتا رہا ہے؟
تیسری بات یہ کہ شراب نوشی اسلامی شریعت میں بہر حال حرام اور جرمِ عظیم ہے جب کہ دستورِ ہند میں بھی صراحت ہے کہ اس قدر نشہ کر لیا جائے اور شراب نوشی کر لی جائے کہ دوسرے کی جان خطرے میں پڑ جائے اور کسی طرح کا ظلم ہو جائے، تو یہ بھی ایک قابلِ سزا جرم ہے۔ اب سپریم کورٹ کے جج صاحبان بتائیں کہ نشے کی حالت میں طلاق پر اعتراض محض اس لیے جائز ہو سکتا ہے کہ ایک مسلم مرد نے دیا ہے؟ اور شراب کے نشے میں ایک بے قصور عورت کی زندگی پر طلاق کے ذریعہ ظلم ہوتا ہے اُس پر کوئی اعتراض نہیں؟ اعتراض تو شراب نوشی اور نشہ پر ہونی چاہیے جس کی وجہ سے جرائم ہو رہے ہیں۔
یکساں سول کوڈ کا نفاذ: چند سلگتے سوالات
تبصرہ باز حضرات یاد رکھیں کہ اسلامی شریعت میں قانونی اور غیر قانونی شراب، دو الگ الگ چیز نہیں بلکہ شراب جس میں نشہ ہو، شراب ہے اور حرام ہی ہے۔ اب یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی وکالت کرنے والا سپریم کورٹ یہ وضاحت کرے گا کہ اسلامی شریعت میں شراب حرام ہے اور مسلم پرسنل لاء کے مطابق شراب کے نشے کی حالت میں دیا گیا طلاق، طلاق ہے۔ تو کیا، اس کو دوسرے مذاہب کے لوگ بھی اپنے اوپر نافذ کرنے پر تیار ہوں گے یا کورٹ تیار کر سکے گا؟ اسلامی شریعت، بیٹی کو وراثت میں حصہ دیتی ہے، کیا ہندو سماج اس کی چرچا بھی کر سکے گا؟ اور صرف تین افراد کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرنے سے نکاح ہو جاتا ہے تو کیا اتنی سادگی سے شادی بیاہ پر ہندو سماج تیار ہو سکے گا؟ یا کورٹ کو لگتا ہے کہ مسلم سماج اپنی اس فطری سادگی سے دست بردار ہو جائے گا؟
مسلم پرسنل لاء کے تحت طلاق کے بعد عدت گزارتے ہی شوہر سے کفالت کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ اب جبری طور سے کورٹ مسلم مرد پہ گزارہ بھتہ اور بیوی نہ رہتے ہوئے بھی اس کا ماہانہ خرچ اس پر لازم کرے گا؟
آخری بات یہ کہ اسلامی شریعت میں نکاح کے بغیر لڑکا لڑکی کا ایک ساتھ رہنا، بچہ پیدا کرنا سخت حرام ہے، مسلم پرسنل لاء کے ساتھ ہندو سماج بھی اسے کلنک ہی تصور کرتا ہے پھر بھی ”لیو ان ریلیشن شپ“ (Live-in Relationship) کورٹ کی نظر میں کوئی عیب نہیں بلکہ اس کا یہ بیان تو کبھی قابلِ تسلیم نہیں ہوگا کہ ایسی اولاد ماں باپ کی دولت میں حق دار بھی ہوگی۔ کورٹ کو یہ نہیں لگتا کہ یہ بھارتیہ سنسکرتی، مشرقی تہذیب و سماج اور مسلم پرسنل لاء سے میل کھانے والی چیز نہیں کیوں کہ یہ مغرب کی بے حیا تہذیب و ثقافت کا حصہ ہے۔ کیا یہ سب ہندو مسلم سماج کو نبھا لے جانا ممکن ہے؟ کیا بی جے پی اور آر ایس ایس کی یہ منصوبہ بندی کہ بھارت کی سبھی تہذیب و ثقافت اور مذاہب کو ”ہندو کوڈ بل“ میں ضم کر دیا جائے، انتہا پسندی نہیں؟ کیا یہ کبھی ممکن ہے؟
صدر جمہوریہ کا خطاب اور زمینی حقائق
گزشتہ سال کولکاتا میں ایشیاٹک سوسائٹی کے سالانہ اندرا گاندھی میموریل لیکچر میں صدر جمہوریہ عالی جناب پرنب مکھرجی صاحب نے جو کچھ کہا، بالکل صحیح کہا لیکن جس دیش کے وہ سب سے محترم اور باعزت عہدے پر وہ فائز ہیں، اس میں رواداری، مساوات اور انسانیت کی جو خدمت سرکاری سطح پر ہو رہی ہے، وہ کس حد تک جمہوری اصولوں کے مطابق ہو رہی ہے، ہندوستانی خوب محسوس کر رہے ہیں اور بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی جو کچھ کیے جا رہی ہے، وہ آئینِ ہند، دستوری مزاج اور جمہوری روایات کے کتنا قریب اور مطابق ہے، وہ بھی جگ ظاہر ہے جس کو معمر و تجربہ کار صحافی کلدیپ نیر جیسے لوگ بھی اپنی تحریروں اور تقریروں سے آئے دن بیان کر رہے ہیں اور مودی اینڈ گروپ سے بکا ہوا میڈیا بھی اپنی زبان کھولنے لگا ہے۔
صدر جمہوریہ نے پہلی بات یہ کہی کہ ملک کی ترقی کے لئے ہم لوگ تمام شہری اور قومی پروڈکشن اور مصنوعات کو فروغ دینے کے لئے کام کریں اور ہر شہری قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دے، کبھی بھی ذاتی اور علاقائی مفادات پر قومی مفادات کو قربان کرنے کی غلطی نہ کرے اور دولت اور خدمات کی تقسیم میں مساوات کی ضرورت ہمارے دیش میں ہمیشہ ہی رہی ہے لیکن آج زیادہ ہے، اس لئے ہر شعبے میں اس بات کا خیال رکھیں۔
ہم بڑے احترام کے ساتھ صدر جمہوریہ سے کہنا چاہتے ہیں کہ دولت کی تقسیم کا حال یہ ہے کہ آج مودی جی کی بی جے پی حکومت میں چھوٹی اور بڑی ہر سطح کے صنعت و حرفت والے اور تاجر پریشان ہیں جو براہ راست ریاستوں اور مرکز کی برسر اقتدار سیاسی جماعتوں کے معاون نہیں یا جن تک حکومت کی سرکاری تو جہات پہنچ نہیں پاتیں، گھریلو کاروبار کرنے والے تو سڑکوں پر آنے والے ہیں اور بنکر بیرون ممالک بھاگنے لگے ہیں۔ خاص طور سے مودی جی نے جب سے ایکسپورٹ کا سلسلہ بند کر کے ایف ڈی اے کا وعدہ نبھانے کی ٹھانی ہے، تب سے تو ہندوستانی صنعت کاروں، تاجروں اور فن کاروں کی معاشی حالت انتہائی خراب ہونے لگی ہے۔ یقین نہ ہو تو کسی بھی بازار میں چند منٹ کے لئے کھڑے ہو جائیں، احساس ہو جائے گا کہ اس وقت ہمارے دیش میں دولت کی تقسیم میں مساوات کا خیال رکھا جا رہا ہے کہ ایف ڈی اے سے رواداری نبھائی جا رہی ہے۔ آخر جب ایکسپورٹ کا سلسلہ بند رہے گا تو ملک کے باشندے ذاتی مفادات پر قومی مفادات کو کس طرح ترجیح دیں گے؟ صدر جمہوریہ صاحب یا کسی بھی دیش بھگت کے پاس اس کے لئے کوئی نسخہ ہے کہ کسانوں، گھریلو صنعت کاروں اور چھوٹے مقامی تاجروں کا حق بھی مارا جائے اور ان کی مصنوعات بھی بازار میں فروخت نہ ہونے دیا جائے اور وہ پیٹ پر پتھر باندھ کر قومی مفادات کا وظیفہ پڑھتے رہیں۔
صدر صاحب! آپ پرانے سیاست داں اور اپنے دیش کی ریت رواج اور مزاج سے واقف ہیں اور بنیادی ضرورتوں سے بھی واقف ہیں، اس لئے صرف غریب اور مجبور دیش واسیوں کو ہی نصیحت نہ کریں اور صرف انہی کو مخاطب نہ کریں بلکہ کبھی انھیں بھی مخاطب کر کے اور نام لے کر یاد دہانی کرا دیں جن کے ہاتھوں میں اقتدار و اختیار کا وہ قلم اور کرسی ہے جن کی باتیں آپ ہندوستانی عوام کو خطاب کر کے کیے جا رہے ہیں۔
پارلیمنٹ کے 3D اور قومی خزانے کا زیاں
دوسری بات صدر جمہوریہ نے یہ کہی کہ پارلیمنٹ کی کارروائی کے لئے 3D ضروری ہے: ڈیبیٹ (Debate - بحث)، ڈسینٹ (Dissent - اختلاف) اور ڈسیزن (Decision - فیصلہ) اور 4D: ڈسٹرپشن (Disruption - رکاوٹ اور ہنگامہ) بالکل نہیں ہونا چاہئے ورنہ وقت بھی ضائع ہوگا اور قومی مفادات خطرے میں پڑ جائیں گے۔
صدر صاحب! بالکل صحیح فرمایا آپ نے اور 3D ہی آپ نے اب تک سنا ہے لیکن اب تو آپ اس دیش کے عظیم عہدے کی کرسی پر بیٹھ کر روزانہ دیکھ بھی رہے ہیں کہ قومی مفادات کی بقا و تحفظ اور تعمیر و ترقی کی خاطر منتخب ہو کر قومی اسمبلی میں پہنچے ہوئے لوگ کیا کرتے ہیں اور ملکی خزانے پر یومیہ کتنا بوجھ ڈالتے ہیں۔ اب بتائیے کہ دولت کی تقسیم میں رواداری اور مساوات کا خیال دیش کے عام لوگ رکھیں گے یا قومی خزانہ برباد کرنے والے قومی نمائندے رکھیں گے تو پھر انھیں باضابطہ خطاب کیوں نہیں کرتے؟ یہ کوئی شکایت نہیں، بس دردِ دل کا اظہار ہے، جس طرح صدر جمہوریہ براہ راست انھیں یہ باتیں نہیں کہہ سکتے جنھیں کہنا چاہئے، اسی طرح ہندوستانی بھی مجبور ہیں کہ مرتا کیا نہ کرتا۔
